- ہوم
- کتابیں
- اَنْوارُ الحَدِیْثْ
- کتاب الصلوٰۃ
- حدیث نمبر 16
اذان و اقامت کا بیان - اَنْوارُ الحَدِیْثْ - حدیث نمبر: 16
کتاب الصلوٰۃ
حدیث مبارکہ
حدیث 1:
عَنْ مُعَاوِیَۃَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ الْمُؤَذِّنُونَ أَطْوَلُ النَّاسِ أَعْنَاقًا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔
حدیث 2:
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ أَذَّنَ سَبْعَ سِنِینَ مُحْتَسِبًا کُتِبَتْ لَہُ بَرَاءَ ۃٌ مِنْ النَّارِ۔
حدیث 3:
عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لِبِلَالٍ: إِذَا أَذَّنْتَ فَتَرَسَّلْ و أَقَمْتَ فَاحْدُرْ وَاجْعَلْ بَیْنَ أَذَانِکَ وَإِقَامَتِکَ قَدْرَ مَا یَفْرُغُ الْآکِلُ مِنْ أَکْلِہِ وَالشَّارِبُ مِنْ شُرْبِہِ وَالْمُعْتَصِرُ إِذَا دَخَلَ لِقَضَاءِ حَاجَتِہِ وَلَا تَقُومُوا حَتَّی تَرَوْنِی۔
حدیث 4:
عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ وَقَّاصٍ قَالَ إِنِّی لَعِنْدَ مُعَاوِیَۃَ إِذْ أَذَّنَ مُؤَذِّنُہُ فَقَالَ مُعَاوِیَۃُ کَمَا قَالَ مُؤَذِّنُہُ حَتَّی إِذَا قَالَ حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ قَالَ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہ فَلَمَّا قَالَ حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ قَالَ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ وَقَالَ بَعْدَ ذَلِکَ مَا قَالَ الْمُؤَذِّنُ ثُمَّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ ذَلِکَ۔
حدیث 1:
عن معاویۃ قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول المؤذنون اطول الناس اعناقا یوم القیامۃ۔
حدیث 2:
عن ابن عباس قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من اذن سبع سنین محتسبا کتبت لہ براء ۃ من النار۔
حدیث 3:
عن جابر ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال لبلال: إذا اذنت فترسل و اقمت فاحدر واجعل بین اذانک وإقامتک قدر ما یفرغ الآکل من اکلہ والشارب من شربہ والمعتصر إذا دخل لقضاء حاجتہ ولا تقوموا حتی ترونی۔
حدیث 4:
عن علقمۃ بن وقاص قال إنی لعند معاویۃ إذ اذن مؤذنہ فقال معاویۃ کما قال مؤذنہ حتی إذا قال حی علی الصلاۃ قال لا حول ولا قوۃ إلا باللہ فلما قال حی علی الفلاح قال لا حول ولا قوۃ إلا باللہ العلی العظیم وقال بعد ذلک ما قال المؤذن ثم قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال ذلک۔
حدیث ترجمہ
ترجمہ حدیث 1:حضرت معاویہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ میں نے رسول علیہ الصلوۃ و التسلیم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مؤذنوں کی گردنیں قیامت کے دن سب سے زیادہ دراز ہوں گی۔ (مسلم)ترجمہ حدیث 2:حضرت ابنِ عباسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ حضورﷺنے فرمایا کہ جوشخص صرف ثواب کی غرض سے سات برس اذان کہے اس کے لیے دوزخ سے نجات لکھی جاتی ہے ۔ (ترمذی، ابن ماجہ)ترجمہ حدیث 3:حضرت جابر رضیاللّٰہعنہ سے روایت ہے کہ رسولِ کریمﷺنے حضرت بلالرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے فرمایا کہ جب اذان کہو توٹھہر ٹھہر کر کہو اور جب تکبیرکہو توجلدی جلدی کہو اور اذان و تکبیر کے درمیان اتنا فاصلہ رکھو کہ فارغ ہوجائے کھانے والا اپنے کھانے سے اور پینے والا اپنے پینے سے اور قضائے حاجت کرنے والا اپنی حاجت کو رفع کرنے سے اور تاوقتیکہ مجھے دیکھ نہ لو نماز کے لیے کھڑے نہ ہو۔ (ترمذیترجمہ حدیث 4:حضرت علقمہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا کہ میں حضرت معاویہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکے پاس بیٹھا تھا کہ ان کے مؤذن نے اذان پڑھی۔ حضرت معاویہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے بھی وہی الفاظ کہے جو مؤذن نے کہے ۔ یہاں تک کہ جب مؤذن نےحَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِکہا تو حضرت معاویہ نےلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہکہا اور جب مؤذن نےحَیَّ عَلَی الْفَلَاحِکہا تو حضرت معاویہ نےلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَإِلَّا بِاللّٰہ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِکہا اور اس کے بعد حضرت معاویہ نے وہی کہا جو مؤذن نے کہا۔ پھر حضرت معاویہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا کہ میں نے حضورﷺسے سنا کہ آپ اسی طرح فرماتے تھے ۔ (احمد ، مشکوۃ)
شرح حدیث
شرح حدیث 1:حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلویرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِاس حدیث کے تحت فرماتے ہیں کہ:
’’کنایت ست از بزرگی وگردن فرازی ایشاں دراں رُوز‘‘(1)(اشعۃ اللمعات،جلد اول،ص۳۱۲)
یعنی اِس حدیث میں قیامت کے دن مؤذنوں کی بزرگی اور اعلیٰ منصبی سے کنایہ کیا گیا ہے ۔
------------------
∞[1] ’’اشعۃ اللمعات‘‘،کتاب الصلاۃ،باب فضل الأذان،الفصل الأول،ج۱،ص۳۳۴.انتباہ:
(۱)… اذان مئذنہ پر یا خارج مسجد پڑھی جائے ۔ داخل مسجد اذان پڑھنا مکروہ ومنع ہے ۔ خواہ اذان پنچ وقتی نماز کے لیے ہو یا خطبہ جمعہ کے لیے دونوں کا حکم ایک ہے ۔ (1) (عالمگیری، فتح القدیر، بحرالرائق، طحطاوی، وغیرہ)
(۲)…ناسمجھ بچے ، جُنب اور فاسق اگرچہ عالم ہی ہو ان کی اذان مکروہ ہے لہذا ان سب کی اذان کا اعادہ کیا جائے ۔ (2)(درمختار، بہارشریعت)
(۳)…اذان میں حضور پُر نور شافع یوم النشورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا نام مبارک سُن کر انگوٹھے چومنا اور آنکھوں سے لگانا مستحب ہے ۔
طحطاوی علی مراقی الفلاح مصری ص ۱۲۲، اور ردالمحتار جلد اول مصری ص:۲۷۹میں ہے :یُسْتَحَبُّ أَنْ یُقَالَ عِنْدَ سَمَاعِ الْأُولَی مِنْ الشَّہَادَۃِ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْک یَا رَسُولَ اللّٰہ،وَعِنْدَ الثَّانِیَۃِ مِنْہَا قَرَّتْ عَیْنِی بِک یَا رَسُولَ اللّٰہ،ثُمَّ یَقُولُ أَللَّہُمَّ مَتِّعْنِی بِالسَّمْعِ وَالْبَصَرِ بَعْدَ وَضْعِ ظُفْرَیْ الْإِبْہَامَیْنِ عَلَی الْعَیْنَیْنِ فَإِنَّہُ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَکُونُ قَاءِدًا لَہُ إلَی الْجَنَّۃِ،کَذَا فِی’’کَنْزِ الْعِبَادِ‘‘’’قُھُسْتَانِی‘‘وَنَحوِہِ فِی’’الْفَتَاوَی الصُّوْفِیَّۃ‘‘(3)
یعنی مستحب ہے کہ جب اذان میں پہلی باراَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّداً رَّسُوْل اللّٰہسُنے توصَلَّی اللّٰہ عَلَیْک یَا رَسُولَ اللّٰہکہے اور جب دوسری بار سنے توقَرَّتْ عَیْنِی بِک یَا رَسُولَ اللّٰہاور پھر کہےاللّٰہمَّ مَتِّعْنِی بِالسَّمْعِ وَالْبَصَرِاور یہ کہنا انگوٹھوں کے ناخن آنکھوں پر رکھنے کے بعد ہو۔ نبی اکرمصلی اللّٰہ تعالی علیہ وآلہ وسلماپنی رکابِ ا قدس میں اسے جنت لے جائیں گے ایسا ہی کنزالعباد میں ہے ۔ یہ مضمون جامع الرموز علامہ قہستانی کا ہے اور اسی کے مثل فتاوی صوفیہ میں ہے ۔
(۴)…اذان و اقامت کے درمیان صلوۃ پڑھنا یعنی بلند آواز سےالصَّلَوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہجائز ومستحب ہے ۔ اس صلاۃ کا نام اصطلاح شرح میںتثویبہے اورتثویبکو فقہائے اسلام نے نماز مغرب کے علاوہ باقی نمازوں کے لیے مستحسن قر ار دیا ہے جیسا کہ فتاویٰ عالمگیری جلد اول مصری ص:۵۳میں ہے ’’وَالتَّثْوِیبُ حَسَنٌ عِنْدَ الْمُتَأَخِّرِینَ فِی کُلِّ صَلَاۃٍ إلَّا فِی الْمَغْرِبِ ہَکَذَا فِی شَرْحِ النُّقَایَۃِ لِلشَّیْخِ أَبِی الْمَکَارِمِ وَہُوَ رُجُوعُ الْمُؤَذِّنِ إلَی الْإِعْلَامِ بِالصَّلَاۃِ بَیْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَۃِ.وَتَثْوِیبُ کُلِّ بَلْدَۃٍ عَلَی مَا تَعَارَفُوہُ إمَّا بِالتَّنَحْنُحِ أَوْ بِالصَّلَاۃَ الصَّلَاۃَ أَوْ قَامَتْ قَامَتْ؛ لِأَنَّہُ لِلْمُبَالَغَۃِ فِی الْإِعْلَامِ وَإِنَّمَا یَحْصُلُ ذَلِکَ بِمَا تَعَارَفُوہُ.کَذَا فِی الْکَافِی‘‘.(4)
مراقی الفلاح شرح نور الایضاح میں ہے ۔وَیُثَوِّبُ بَعْدَ الْأَذَانِ فِی جَمِیْعِ الْأَوْقَاتِ لِظُھُوْرِ التَّوَانِی فِی الْأُمُوْرِ الدِّیْنِیِِّۃِ فِی الْأَصَحِّ وَتَثْوِیْبُ کلِّ بلَدٍ بِحَسَبِ مَاتَعَارَفَہُ أَھلُھَا‘‘.(5)
اور مرقاۃ شرح مشکوۃ لملا علی قاریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ البَارِیجلد اول ص:۴۱۸میں ہےوَاسْتَحْسَن الْمُتَأَخِّرَوْنَ التَّثْوِیْبَ فِی الصَّلَوَاتِ کُلِّھَا۔ (6)
اور درمختار مع ردالمحتار جلد اول ص:۲۷۳ میں اذان کے بعد خاص صلاۃ وسلام پڑھنے کے متعلق تصریح فرماتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’’التَّسْلِیمُ بَعْدَ الْأَذَانِ حَدَثَ فِی رَبِیعٍ الْآخَرِ سَنَۃَ سَبْعِ مِءَۃٍ وَإِحْدَی وَثَمَانِینَ وَہُوَ بِدْعَۃٌ حَسَنَۃٌ اھ مُلخَّصاً‘‘یعنی اذان کے بعدأَلصَّلَوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہ‘‘ پڑھنا ماہِ ربیع الاخر ۷۸۱ھ میں جار ی ہوا اور یہ بہترین ایجاد ہے ۔ (7)
(۵)… اقامت کے وقت کوئی شخص آیا تو اسے کھڑے ہو کر انتظار کرنا مکروہ ہے بلکہ بیٹھ جائے اور مکبّر جبحَیَّ عَلَی الصَّلَوۃ حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِپر پہنچے تو اس وقت کھڑا ہو۔
فتاویٰ عالمگیری جلد اول مصری ص:۵۳میں ہے ۔ ’’إذَا دَخَلَ الرَّجُلُ عِنْدَ الْإِقَامَۃِ یُکْرَہُ لَہُ الِانْتِظَارُ قَاءِمًا وَلَکِنْ یَقْعُدُ ثُمَّ یَقُومُ إذَا بَلَغَ الْمُؤَذِّنُ قَوْلَہُ حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ کَذَا فِی الْمُضْمَرَاتِ‘‘۔ (8)
اور ردالمحتار جلد اول ص:۳۸۰میں ہے : ’’وَیُکْرَہُ لَہُ الانْتِظَارُ قَاءِمًا،وَلَکِنْ یَقْعُدُ ثُمَّ یَقُومُ إذَا بَلَغَ الْمُؤَذِّنُ حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ‘‘۔ (9)
(۶)…جو لوگ تکبیر کے وقت مسجد میں موجود ہیں بیٹھے رہیں جب مکبّرحَیَّ عَلَی الصَّلَوۃِ حَیَّ عَلَی الْفَلاَحِپر پہنچے تو اٹھیں اور یہی حکم امام کے لیے بھی ہے ۔
فتاویٰ عالمگیری جلد اول مصری ص:۵۳میں ہے :
’’یَقُومُ الْإِمَامُ وَالْقَوْمُ إذَا قَالَ الْمُؤَذِّنُ حَیَّ عَلَی الْفَلاَحِ عِنْدَ عُلَمَاءِنَا الثَّلَاثَۃِ وَہُوَ الصَّحِیحُ‘‘. (10)
یعنی علمائے ثلاثہ حضرت امام اعظم ، امام ابو یوسف اور امام محمدرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِم کے نزدیک امام اور مقتدی اس وقت کھڑے ہوں جب کہ مکبرحَیَّ عَلَی الْفَلاَحِکہے اور یہی صحیح ہے ۔
اور شرح وقایہ جلد اول مجیدی ص:۱۳۶ میں ہے :یَقُومُ الْإِمَامُ وَالْقَوْمُ عَنْد حَیَّ عَلَی الصَّلَوۃِ. (11)
یعنی امام اور مقتدیحَیَّ عَلَی الصَّلَوۃکہنے کے وقت کھڑے ہوں۔
اور مرقاۃ شرح مشکوۃ جلد اول ص:۴۱۹ میں ہے ۔یَقُومُ الْإِمَامُ وَالْقَوْمُ عَنْد حَیَّ عَلَی الصَّلَوۃِ۔ (12)
اور شیخ عبدالحق محدث دہلویرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِاشعۃ اللمعات جلد اول ص:۳۲۱ میں فرماتے ہیںکہ:فقہا گفتہ اند مذہب آن ست کہ نزد حی علی الصلوۃ باید برخاست۔ (13)
یعنی فقہائے کرام نے فرمایا کہ مذہب یہ ہےحَیَّ عَلَی الصَّلَوۃِکے وقت اُٹھنا چاہیے ۔
------------------
∞[1] ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الصلاۃ،الفصل الثانی فی کلمات الأذان إلخ،ج۱،ص۵۵، ’’فتح القدیر‘‘،کتاب الصلاۃ،باب الأذان،ج۱،ص۲۵۰،حاشیۃ الطحطاوی،باب الأذان وغیرہ،ص۱۹۷.[2] ’’الدر المختار‘‘،کتاب الصلاۃ،باب الأذان،مطلب فی المؤذن إذا کان غیر محتسب فی أذانہ،ج۲،ص۷۵.’’بہار شریعت‘‘، ج۱، ص۴۶۶.[3] ’’حاشیۃ الطحطاویعلی مراقی الفلاح‘‘،کتاب الصلاۃ،باب الأذان،ص۲۰۵.’’رد المحتار‘‘،کتاب الصلاۃ،باب الأذان،مطلب فی کراھۃ تکرار الجماعۃ فی المسجد،ج۲،ص۹۸۴.[4] ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الصلاۃ،الباب الثانی،الفصل الثانی فی کلمات الأذان إلخ،ج۱،ص۵۶.[5] ’’مراقی الفلاح شرح نور الإیضاح‘‘،ص۱۱۹.[6] ’’مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح‘‘،باب الأذان،الحدیث:۶۴۶،ج۲،ص۳۳۸.[7] ’’الدر المختار ورد المحتار‘‘،باب الأذان،مطلب فی أول من بنی المنائر للأذان،ج۲،ص۷۰.[8] ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الصلاۃ،الباب الثانی،الفصل الثانی فی کلمات الأذان إلخ،ج۱،ص۵۷.[9] ’’ردالمحتار‘‘،کتاب الصلاۃ،باب الأذان،مطلب فی کراھۃ تکرار الجماعۃ إلخ،ج۲،ص۸۸.[10] ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الصلاۃ،الباب الثانی،الفصل الثانی فی کلمات الأذان إلخ،ج۱،ص۵۷.[11] ’’شرح الوقایۃ‘‘،کتاب الصلاۃ،ص۱۵۵.[12] ’’مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح‘‘،کتاب الصلاۃ،باب الأذان،ج۲،ص۳۳۹.[13] ’’اشعۃ اللمعات‘‘،کتاب الصلاۃ،الفصل الأول،ج۱،ص۳۴۴.
ماخذ و مراجع
کتاب: اَنْوارُ الحَدِیْثْ جلد: 1 , حدیث نمبر: 16