- ہوم
- کتابیں
- اَنْوارُ الحَدِیْثْ
- کتاب الصوم
- حدیث نمبر 46
شب قدر کا بیان - اَنْوارُ الحَدِیْثْ - حدیث نمبر: 46
کتاب الصوم
حدیث مبارکہ
حدیث 1:
’’ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ دَخَلَ رَمَضَانُ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِنَّ ہَذَا الشَّہْرَ قَدْ حَضَرَکُمْ وَفِیہِ لَیْلَۃٌ خَیْرٌ مِنْ أَلْفِ شَہْرٍ مَنْ حَرُمَہَا فَقَدْ حُرِمَ الْخَیْرَ کُلَّہُ وَلَا یُحْرَمُ خَیْرَہَا إِلَّا مَحْرُوم‘‘۔
حدیث 2:
’’ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ تَحَرَّوْا لَیْلَۃَ الْقَدْرِ فِی الْوِتْرِ مِنَ الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ‘‘۔
حدیث 3:
’’ عَنْ عَائِشَۃَ قُلْتُ یَا رَسُولَ اللّٰہ أَرَأَیْتَ إِنْ عَلِمْتُ أَیُّ لَیْلَۃٍ لَیْلَۃُ الْقَدْرِ مَا أَقُولُ فِیہَا قَالَ قُولِی اللّٰہمَّ إِنَّکَ عُفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّی‘‘۔
حدیث 4:
’’ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَجْتَہِدُ فِی الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مَا لَا یَجْتَہِدُ فِی غَیْرِہِ‘‘۔
حدیث 5:
’’ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِذَا کَانَ لَیْلَۃُ الْقَدْرِ نَزَلَ جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّلَامُ فِی کُبْکُبَۃٍ مِنَ الْمَلَاءِکَۃِ یُصَلُّوْنَ عَلَی کُلِّ عَبْدٍ قَاءِمٍ أَوْ قَاعِدٍ یَذْکُرُ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ فَإِذَا کَانَ یَوْمُ عِیْدِہِمْ یَعْنِیْ یَوْمَ فِطْرِہِمْ بَاہَی بِہِمْ مَلَاءِکَتَہُ فَقَالَ یَا مَلَاءِکَتِیْ مَا جَزَاءُ أَجِیْرٍ وَفَّی عَمَلَہُ ؟ قَالُوْا رَبَّنَا جَزَاؤُہُ أَنْ یُوَفَّی أَجْرُہُ قَالَ مَلَاءِکَتِی عَبِیْدِیْ وَإِمَاءِی قَضَوْا فَرِیْضَتِیْ عَلَیْہِمْ ثُمَّ خَرَجُوْا یَعِجُّوْنَ إِلَی الدُّعَاءِ وَعِزَّتِیْ وَجَلَالِی وَکَرَمِیْ وَعُلُوِّیْ وَارْتِفَاعِ مَکَانِی لَأُجِیْبَنَّہُمْ فَیَقُوْلُ اِرْجِعُوْا فَقَدْ غَفَرْتُ لَکُمْ وَبَدَّلْتُ سَیِّءَاتِکُمْ حَسَنَاتٍ قَالَ فَیَرْجِعُوْنَ مَغْفُوْرًا لَّہُمْ ‘‘۔
حدیث 6:
’’ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ شَدَّ مِئْزَرَہُ وَأَحْیَا لَیْلَہُ وَأَیْقَظَ أَہْلَہُ ‘‘۔
حدیث 1:
’’ عن انس بن مالک قال دخل رمضان فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إن ہذا الشہر قد حضرکم وفیہ لیلۃ خیر من الف شہر من حرمہا فقد حرم الخیر کلہ ولا یحرم خیرہا إلا محروم‘‘۔
حدیث 2:
’’ عن عائشۃ قالت قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تحروا لیلۃ القدر فی الوتر من العشر الاواخر من رمضان‘‘۔
حدیث 3:
’’ عن عائشۃ قلت یا رسول اللہ ارایت إن علمت ای لیلۃ لیلۃ القدر ما اقول فیہا قال قولی اللہم إنک عفو تحب العفو فاعف عنی‘‘۔
حدیث 4:
’’ عن عائشۃ قالت کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یجتہد فی العشر الاواخر ما لا یجتہد فی غیرہ‘‘۔
حدیث 5:
’’ عن انس قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إذا کان لیلۃ القدر نزل جبریل علیہ السلام فی کبکبۃ من الملاءکۃ یصلون علی کل عبد قاءم او قاعد یذکر اللہ عز وجل فإذا کان یوم عیدہم یعنی یوم فطرہم باہی بہم ملاءکتہ فقال یا ملاءکتی ما جزاء اجیر وفی عملہ ؟ قالوا ربنا جزاؤہ ان یوفی اجرہ قال ملاءکتی عبیدی وإماءی قضوا فریضتی علیہم ثم خرجوا یعجون إلی الدعاء وعزتی وجلالی وکرمی وعلوی وارتفاع مکانی لاجیبنہم فیقول ارجعوا فقد غفرت لکم وبدلت سیءاتکم حسنات قال فیرجعون مغفورا لہم ‘‘۔
حدیث 6:
’’ عن عائشۃ قالت کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إذا دخل العشر شد مئزرہ واحیا لیلہ وایقظ اہلہ ‘‘۔
حدیث ترجمہ
ترجمہ حدیث 1:حضرت انس بن مالکرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا کہ جب رمضان کا مہینہ شروع ہوا تو حضورﷺنے فرمایا کہ یہ مہینہ تم میں آیا ہے ۔ اور اس میں ایک رات ایسی ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے ۔ تو جو شخص اس کی برکتوں سے محروم رہا وہ تمام بھلائیوں سے محروم رہا اور نہیں محروم رکھا جاتا اس کی بھلائیوں سے مگر وہ جو بالکل بے نصیب ہو۔ (ابن ماجہ)ترجمہ حدیث 2:حضرت عائشہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُا نے کہا کہ حضورﷺنے فرمایا کہ رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں شب قدر کو تلا ش کرو۔ (بخاری)ترجمہ حدیث 3:حضرت عائشہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُا نے فرمایا کہ میں نے حضورﷺسے پوچھا کہ یارسولاللّٰہ! اگر مجھ کو شبِ قدر معلوم ہوجائے تو میں اس میں کیا کروں؟ آپ نے فرمایا کہ یہ دعا پڑھو۔ ’’أَللَّھُمَّ إِنَّکَ عَفُو تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّی‘‘۔ (ترمذی)ترجمہ حدیث 4:حضرت عائشہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُا نے فرمایا کہ حضورﷺجس قدر رمضان کے آخری عشرہ میں (طاعت و عبادت کے لیے ) کوشش فرماتے تھے ، اتنی کسی دوسرے عشرہ میں نہ فرماتے تھے ۔ (مسلم)ترجمہ حدیث 5:حضرت انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا کہ حضورعلیہ الصلاۃ والتسلیمنے فرمایا کہ جب شبِ قدر آتی ہے تو جبرئیلعلیہ السلامفرشتوں کی جماعت کے ساتھ آتے ہیں اور ہر اس بندہ کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہیں جو کھڑے ہوکر یا بیٹھ کر خدائے تعالیٰ کے ذکر میں مشغول رہتا ہے پھر جب انہیں عید الفطر کا دن نصیب ہوتا ہے تو خدائے تعالیٰ اپنے ان بندوں پر اپنے فرشتوں کے سامنے اپنی خوشنودی کا اظہار کر تا ہے اور فرماتا ہے کہ اے میرے فرشتو! اس مزدور کی اجرت کیا ہے جو اپنا کام پورا کردے ، فرشتے عرض کرتے ہیں کہ اے میرے پروردگار اس کی اجرت یہ ہے کہ ا سکو پورا معاوضہ دیا جائے ۔ خدائے تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے میرے فرشتو! میرے بندوں اور میری لونڈیوں نے ( میرے مقرر کیے ہوئے ) فرض کو ادا کردیا اب وہ گھر وں سے دعا کے لیے عیدگاہ کی طرف نکلے ہیں۔ قسم ہے اپنی عزت، اپنے جلال، اپنی بخشش و رحمت اپنی عظمت شان اور اپنی رفعت مکان کی کہ میں ان کی دعاؤں کو قبول کروں گا۔ پھر خدائے تعالیٰ فرماتا ہے اے میرے بندو ! اپنے گھروں کو لوٹ جاؤ میں نے تم کو بخش دیا اور تمہاری برائیوں کو نیکیوں میں تبدیل کردیا۔ فرمایا حضورﷺنے کہ پس مسلمان واپس ہوتے ہیں۔ عیدگاہ سے اس حال میں کہ ان کے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔ (بیہقی)ترجمہ حدیث 6:حضرت عائشہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُا نے فرمایا کہ جب رمضان کا آخری عشرہ آتا تو حضورﷺاپنے تہبند کو مضبوط باندھ لیتے ( یعنی عبادت میں بہت کوشش فرماتے ) راتوں کو جاگتے اور اپنے گھر والوں کو جگاتے ۔
شرح حدیث
شرح حدیث 6:حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلویرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ شَدَّ مِئْزَرَہُکے تحت فرماتے ہیں: ’’کنایت ست از اجتہاد در عبادات زیادہ بر عادت یاکنایت از گوشہ گرفتن از زناں‘‘۔ ([1])(اشعۃ اللمعات،جلد دوم،ص۱۱۵)انتباہ :بعض جگہ شب قدر میں عشاء کی نماز کے لیے سات باراذان کہتے ہیں یہ بے اصل ہے جس کا کوئی ثبوت نہیں۔
وہ معزز تھے زمانے میں مسلمان ہو کر
اور ہم خوار ہوئے تارک قرآن ہو کر
------------------
∞[1] ’’اشعۃ اللمعات‘‘،کتاب الصوم،باب لیلۃ القدر،الفصل الأول،ج۲،ص۱۲۳.
ماخذ و مراجع
کتاب: اَنْوارُ الحَدِیْثْ جلد: 1 , حدیث نمبر: 46