- ہوم
- کتابیں
- اَنْوارُ الحَدِیْثْ
- کتاب الطہارۃ
- حدیث نمبر 14
استنجا کا بیان - اَنْوارُ الحَدِیْثْ - حدیث نمبر: 14
کتاب الطہارۃ
حدیث مبارکہ
حدیث 1:
عَنْ أَنَسٍ قَالَ کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْخَلَاء نَزَعَ خَاتَمَہُ۔
حدیث 2:
عَنْ أَنَسٍ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْخَلَاءَ یَقُولُ أَللَّہُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنْ الْخُبُثِ وَالْخَبَاءِثِ۔
حدیث 3:
عَنْ أَبِی أَیُّوبَ الْأَنْصَارِیِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَیْتُمْ الْغَاءِطَ فَلَا تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَۃَ وَلَا تَسْتَدْبِرُوہَا۔
حدیث 4:
عَنْ أَنَسٍ قَالَ کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ الْحَاجَۃَ لَمْ یَرْفَعْ ثَوْبَہُ حَتَّی یَدْنُوَ مِنْ الْأَرْضِ۔
حدیث 5:
عَنْ عَبْدِ اللّٰہ بْنِ سَرْجِسَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا یَبُولَنَّ أَحَدُکُمْ فِی جُحْرٍ۔
حدیث 6:
عَنْ عُمَرَ قَالَ رَآنِی النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبُولُ قَاءِمًا فَقَالَ یَا عُمَرُ لَا تَبُلْ قَاءِمًا فَمَا بُلْتُ قَاءِمًا بَعْدُ۔
حدیث 1:
عن انس قال کان النبی صلی اللہ علیہ وسلم إذا دخل الخلاء نزع خاتمہ۔
حدیث 2:
عن انس قال کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إذا دخل الخلاء یقول اللہم إنی اعوذ بک من الخبث والخباءث۔
حدیث 3:
عن ابی ایوب الانصاری قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إذا اتیتم الغاءط فلا تستقبلوا القبلۃ ولا تستدبروہا۔
حدیث 4:
عن انس قال کان النبی صلی اللہ علیہ وسلم إذا اراد الحاجۃ لم یرفع ثوبہ حتی یدنو من الارض۔
حدیث 5:
عن عبد اللہ بن سرجس قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لا یبولن احدکم فی جحر۔
حدیث 6:
عن عمر قال رآنی النبی صلی اللہ علیہ وسلم وانا ابول قاءما فقال یا عمر لا تبل قاءما فما بلت قاءما بعد۔
حدیث ترجمہ
ترجمہ حدیث 1:حضرتِ انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا کہ نبی کریمعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْمجب استنجاء خانہ میں جاتے تواپنی انگوٹھیاتار دیتے ( اس لیے کہ اس پر’’مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ‘‘نقش تھا)۔ (ابوداود، ترمذی)ترجمہ حدیث 2:حضرت انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا کہ رسولِ کریمعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْمجب استنجاء خانہ میں داخل ہوتے توأَللَّھُمَّ إِنِّی أَعُوذ بِکَ مِنَ الخُبثِ والخبَائث۔ترجمہ حدیث 3:حضرت ابو ایوب انصاریرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ رسولِ کریمعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْمنے فرمایا کہ جب تم پاخانہ ( یا پیشاب) کے لیے جاؤ تو قبلہ کی طرف منہ نہ کرو اور نہ اس کی جانب پیٹھ کرو۔ (بخاری، مسلم)ترجمہ حدیث 4:حضرت انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا کہ رسولِ کریمعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْمجب قضائے حاجت کا ارادہ فرماتے تو جب تک بیٹھتے ہوئے زمین کے قریب نہ پہنچ جاتے کپڑا نہ اٹھاتے ۔ (ترمذی، ابوداود)ترجمہ حدیث 5:حضرت عبداللّٰہبن سرجسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ رسولِ کریمعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْمنے فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص سوراخ کے اندر ہر گز پیشاب نہ کرے ۔ (ابوداود، نسائی)ترجمہ حدیث 6:حضرت عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا کہ نبی کریمعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْمنے مجھے اس حال میں دیکھا کہ میں کھڑے ہوکر پیشاب کرر ہا تھا تو حضورصلیاللّٰہ تعالی علیہ وسلمنے فرمایا کہ اے عمرکھڑے ہو کر پیشاب نہ کرو اس کے بعد میں نے کھڑے ہو کر کبھی پیشاب نہ کیا ۔ (ترمذی، ابن ماجہ)
شرح حدیث
شرح حدیث 1:حضرتِ شیخ عبدالحق محدث دہلویرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِاس حدیث شریف کے تحت فرماتے ہیں کہ:
’’از یں جا معلوم شد کہ داخل متوضا رابایدکہ چیز ے را کہ دروے نامِ خدا ورسول خدا وقرآن ست باخود نبرد ودر بعض شروح گفتہ کہ ایں شامل،ست اسمائے تمام انبیاء را صلوت اللّٰہ وتسلیماتہ علیہم اجمعین‘‘(1)
یعنی اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بیت الخلاء میں داخل ہونے والے کو چاہیے کہ ایسی چیز کہ اس میں خدا اور رسول کا نام یا قرآن کا کوئی کلمہ ہو تو اسے اپنے ہمراہ نہ لے جائے اور بعض شروح میں کہا گیا ہے کہ یہ حکم انبیاء کرامعلیہم الصلوۃ والسلامکے اسماء کو بھی شامل ہے ۔ (اشعۃ اللمعات، جلد اول ، ص ۲۰۱)
------------------
∞[1] ’’اشعۃ اللمعات‘‘،کتاب الطھارۃ،باب آداب الخلاء،الفصل الأول،ج۱،ص۲۱۷.شرح حدیث 3:حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلویرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِاسی باب الاستنجاء میں فرماتے ہیں کہ:
’’مذہب امام اعظم ابوحنیفہ آن ست کہ استقبال قبلہ واستدبار آں در بول و غائط حرام ست چہ در صحراء و چہ در خانہا‘‘(1)
یعنی حضرت امام اعظم ابوحنیفہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکا مذہب یہ ہے کہ پیشاب و پاخانہ کرنے میں قبلہ کی جانب منہ یا پیٹھ کرنا حرام ہے خواہ جنگل میں ہو یا گھروں میں۔ (اشعۃ اللمعات جلد اول ص۱۹۸)
------------------
∞[1] ’’اشعۃ اللمعات‘‘،کتاب الطھارۃ،باب آداب الخلاء،الفصل الأول،ج۱،ص۲۱۳.انتباہ:
(۱)… طہارت کے بچے ہوئے پانی سے وضو کرسکتے ہیں اسے پھینک دینا اسراف ہے ۔ (1)(بہارشریعت)
(۲)… تہبند اور لنگی پہننے والے پیشاب کرنے کے لیے لوگوں کے سامنے ران اور گھٹنا کھول کر بیٹھ جاتے ہیں یہ ناجائز و حرام ہے ۔ اس لیے کہ لو گوں کے سامنے ستر بالا جماع فرض ہے ۔ (2)(بہار شریعت)
اور جیسا کہ ردالمحتار جلد اول ص:۲۸۲میں ہے : ’’إذَا کَانَ خَارِجَ الصَّلَاۃِ یَجِبُ السَّتْرُ بِحَضْرَۃِ النَّاسِ إجْمَاعًا‘‘ (3)
اور درمختار میں ہے : ’’ہِیَ لِلرَّجُلِ مَا تَحْتَ سُرَّتِہِ إلَی مَا تَحْتَ رُکْبَتِہِ‘‘(4)
اور فتاویٰ عالمگیری جلد اول مصری ص:۵۴میں ہے ’’رُکْبَتُہُ عَوْرَۃٌ عِنْدَ عُلَمَاءِنَا جَمِیعًا ہَکَذَا فِی الْمُحِیطِ‘‘(5)
ٍ اور بہارِ شریعت جلد سوم ص:۲۵۰ میں ہے کہ بعض بے باک ایسے ہیں کہ لوگوں کے سامنے گھٹنے بلکہ ران تک کھولے رہتے ہیں یہ بھی حرام ہے اور اس کی عادت ہے تو فاسق ہے ۔ (6)
------------------
∞[1] ’’بہارِ شریعت‘‘، ج۱، ص۴۱۳.[2] ’’بہار شریعت‘‘، ج۱، ص ۴۷۹.[3] ’’رد المحتار‘‘،کتاب الصلاۃ،باب شروط الصلاۃ،مطلب فی سترالعورۃ،ج۲،ص۹۳.[4] ’’الدر المختار‘‘،کتاب الصلاۃ،باب شروط الصلاۃ،مطلب فی سترالعورۃ،ج۲،ص۹۳.[5] ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الصلاۃ،الفصل الأول فی الطھارۃ وستر العورۃ،ج۱،ص۵۸.[6] ’’بہارِ شریعت‘‘، ج۱، ص۴۸۱.
ماخذ و مراجع
کتاب: اَنْوارُ الحَدِیْثْ جلد: 1 , حدیث نمبر: 14