- ہوم
- کتابیں
- اَنْوارُ الحَدِیْثْ
- کتاب الجنائز
- حدیث نمبر 28
بیماری کا بیان - اَنْوارُ الحَدِیْثْ - حدیث نمبر: 28
کتاب الجنائز
حدیث مبارکہ
حدیث 1:
’’ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا یُصِیبُ الْمُسْلِمَ مِنْ نَصَبٍ وَلَا وَصَبٍ وَلَا ہَمٍّ وَلَا حُزْنٍ وَلَا أَذًی وَلَا غَمٍّ حَتَّی الشَّوْکَۃِ یُشَاکُہَا إِلَّا کَفَّرَ اللّٰہ بِہَا مِنْ خَطَایَاہُ‘‘۔ (بخاری، مسلم)
حدیث 2:
’’ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ یُصِیبُہُ أَذًی مِنْ مَرَضٍ فَمَا سِوَاہُ إِلَّا حَطَّ اللّٰہ بِہِ سَیِّءَاتَہٗ کَمَا تَحُطُّ الشَّجَرَۃُ وَرَقَہَا‘‘۔ (بخاری، مسلم)
حدیث 3:
’’ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ ذُکِرَتِ الْحُمَّی عِنْدَ رَسُولِ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَسَبَّہَا رَجُلٌ فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا تَسُبَّہَا فَإِنَّہَا تَنْفِی الذُّنُوبَ کَمَا تَنْفِی النَّارُ خَبَثَ الْحَدِیدِ‘‘۔
حدیث 4:
’’ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدِنِ السلَمِیّ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا سَبَقَتْ لَہُ مِنَ اللّٰہ مَنْزِلَۃٌ لَمْ یَبْلُغْہَا بِعَمَلِہِ ابْتَلاہُ اللّٰہ فِی جَسَدِہِ أَوْ فِی مَالِہِ أَوْ فِی وَلَدِہِ ثُمَّ صَبَّرَہُ عَلَی ذَلِکَ حَتَّی یُبْلِغَہُ الْمَنْزِلَۃَ الَّتِی سَبَقَتْ لَہُ مِنَ اللّٰہ‘‘۔
حدیث 5:
’’ عَنْ عَائشَۃَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِذَا کَثُرَتْ ذُنُوبُ الْعَبْدِ وَلَمْ یَکُنْ لَہُ مَا یُکَفِّرُہَا مِنَ الْعَمَلِ ابْتَلاہُ اللّٰہ بِالْحُزْنِ لِیُکَفِّرَہَا عَنْہُ ‘‘۔
حدیث 6:
’’عَنْ سَعْدٍ قَالَ سُءِلَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَيُّ النَّاسِ أَشَدُّ بَلاءً قَالَ الْأَنْبِیَاءُ ثُمَّ الْأَمْثَلُ فَالْأَمْثَلُ یُبْتَلَی الْعَبْدُ عَلَی حَسَبِ دِینِہِ فَإِنْ کَانَ فِی دِینِہِ صُلْبًا اشْتَدَّ بَلَاؤُہُ وَإِنْ کَانَ فِی دِینِہِ رِقَّۃ ہُوِّنَ عَلَیْہِ فَمَا زَالَ کَذَلِکَ حَتَّی یَمْشِی عَلَی الْأَرْضِ مَا لَہُ ذَنْبٌ‘‘۔
حدیث 7:
’’ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَتِیکٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الشَّہَادَۃُ سَبْعٌ سِوَی الْقَتْلِ فِی سَبِیلِ اللّٰہ الْمَطْعُونُ شَہِیدٌ وَالْغَرِیْقُ شَہِیدٌ وَصَاحِبُ ذَاتِ الْجَنْبِ شَہِیدٌ وَالْمَبْطُونُ شَہِیدٌ وَصَاحِبُ الْحَرِیقِ شَہِیدٌ وَالَّذِی یَمُوتُ تَحْتَ الْہَدْمِ شَہِیدٌ وَالْمَرْأَۃُ تَمُوتُ بِجُمْعٍ شَہِیدٌ‘‘۔
حدیث 1:
’’ عن ابی سعید الخدری عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال ما یصیب المسلم من نصب ولا وصب ولا ہم ولا حزن ولا اذی ولا غم حتی الشوکۃ یشاکہا إلا کفر اللہ بہا من خطایاہ‘‘۔ (بخاری، مسلم)
حدیث 2:
’’ عن عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ما من مسلم یصیبہ اذی من مرض فما سواہ إلا حط اللہ بہ سیءاتہ کما تحط الشجرۃ ورقہا‘‘۔ (بخاری، مسلم)
حدیث 3:
’’ عن ابی ہریرۃ قال ذکرت الحمی عند رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فسبہا رجل فقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم لا تسبہا فإنہا تنفی الذنوب کما تنفی النار خبث الحدید‘‘۔
حدیث 4:
’’ عن محمد بن خالدن السلمی عن ابیہ عن جدہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إن العبد إذا سبقت لہ من اللہ منزلۃ لم یبلغہا بعملہ ابتلاہ اللہ فی جسدہ او فی مالہ او فی ولدہ ثم صبرہ علی ذلک حتی یبلغہ المنزلۃ التی سبقت لہ من اللہ‘‘۔
حدیث 5:
’’ عن عائشۃ قالت قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إذا کثرت ذنوب العبد ولم یکن لہ ما یکفرہا من العمل ابتلاہ اللہ بالحزن لیکفرہا عنہ ‘‘۔
حدیث 6:
’’عن سعد قال سءل النبی صلی اللہ علیہ وسلم اي الناس اشد بلاء قال الانبیاء ثم الامثل فالامثل یبتلی العبد علی حسب دینہ فإن کان فی دینہ صلبا اشتد بلاؤہ وإن کان فی دینہ رقۃ ہون علیہ فما زال کذلک حتی یمشی علی الارض ما لہ ذنب‘‘۔
حدیث 7:
’’ عن جابر بن عتیک قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الشہادۃ سبع سوی القتل فی سبیل اللہ المطعون شہید والغریق شہید وصاحب ذات الجنب شہید والمبطون شہید وصاحب الحریق شہید والذی یموت تحت الہدم شہید والمراۃ تموت بجمع شہید‘‘۔
حدیث ترجمہ
ترجمہ حدیث1:حضرت ابو سعید خدریرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ نبی کریمعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْمنے فرمایا کہ مسلمان کو کوئی رنج، کوئی دکھ، کوئی فکر، کوئی تکلیف، کوئی اذیت اور کوئی غم نہیں پہنچتا یہاں تک کہ کانٹا جو اسے چبھے مگراللّٰہتعالیٰ ان کے سبب اس کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے ۔ترجمہ حدیث2:حضرت عبداللّٰہبن مسعودرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ رسولِ کریمعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْمنے فرمایا کہ نہیں پہنچتی مسلمان کو کوئی اذیت مرض یا اس کے سوا کچھ اور لیکناللّٰہتعالیٰ اس کے سبب اس کے (صغیرہ) گناہوں کوساقط کردیتا ہے ، جیسے درخت سے پتے جھڑتے ہیں۔ترجمہ حدیث3:حضرت ابوہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا کہ رسولِ کریمعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْمکے حضور میں بخارکا ذکر کیا گیاتو ایک شخص نے بخار کو بُرا کہا۔ حضور نے فرمایا بخار کو بُرا نہ کہو اس لیے کہ وہ ( مومن کو) گناہوں سے اس طرح پاک کردیتا ہے جیسے آگ لوہے کی میل کو صاف کردیتی ہے ۔ (ابن ماجہ ، مشکوۃ)ترجمہ حدیث4:حضرت محمد بن خالد سلمی اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے دادا نے کہا کہ حضورﷺنے فرمایا کہ بندہ کے لیے علمِ الہٰی میں جب کوئی مرتبہ کمال مقدر ہوتا ہے اور وہ اپنے عمل سے اس مرتبے کو نہیں پہنچا تو خدائے تعالیٰ اس کے جسم یا مال یا اولاد پر مصیبت ڈالتا ہے پھر اس پر صبر عطا فرماتا ہے یہاں تک کہ اسے اس مرتبہ تک پہنچا دیتا ہے جو اس کے لیے علمِ الہٰی میں مقدر ہوچکا ہے ۔ (احمد، ابوداود)ترجمہ حدیث5:حضرت عائشہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُا نے کہا کہ رسولِ کریمعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْمنے فرمایا کہ جب بندہ کے گناہ زیادہ ہوجاتے ہیں اور اس کے عمل میں کوئی ایسی چیز نہیں ہوتی جو گناہوں کا کفارہ بن سکے تواللّٰہتعالیٰ اس کو غم اور پریشانی میں مبتلا کردیتا ہے تاکہ اس کے گناہوں کا کفارہ بن جائے ۔ (احمد، مشکوۃ)ترجمہ حدیث6:حضرت سعدرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا کہ نبی کریمعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْمسے دریافت کیا گیا کہ کون لوگ سخت بلاؤں میں مبتلا ہوتے ہیں؟ حضور نے فرمایا ( سب سے پہلے )انبیاء کرام پھر ان کے بعد جو افضل ہیں پھران کے بعد جو افضل ہیں یعنی حسب مر اتب آدمی میں دین کے ساتھ جیسا تعلق ہوتا ہے اسی اعتبار سے بلا میں مبتلا کیا جاتا ہے اگر دین میں سخت ہے تو بلا بھی اس پر سخت ہوگی۔ اور اگر دین میں کمزور ہے تو اس پر آسانی کی جاتی ہے ۔ یہی سلسلہ ہمیشہ رہتا ہے ۔ یہاں تک کہ زمین پر وہ یوں چلتا ہے کہ اس پر کوئی گناہ نہیں رہتا۔ (ترمذی، ابن ماجہ، دارمی)ترجمہ حدیث7:حضرت جابر بن عتیکرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ رسولِ کریمعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْمنے فرمایا کہ خدائے تعالیٰ کی را ہ میں قتل کے علاوہ سات شہادتیںا ورہیں۔ جو طاعون میں مرے شہید ہے ۔ جو ڈوب کر مرے شہید ہے ۔ جو ذات الجنب(نمونیہ)میں مرے شہید ہے ۔ جو پیٹ کی بیماری میں مرے شہید ہے ۔ جو آگ میں جل جائے شہیدہے ۔ جو عمارت کے نیچے دب کر مرجائے شہیدہے ۔ اور جو عورت بچہ کی پیدائش کے وقت مرجائے شہید ہے ۔ (مالک، ابوداود، مشکوۃ)
شرح حدیث
الحاصل :بیماری سے بظاہر تکلیف پہنچتی ہے لیکن حقیقت میں وہ بہت بڑی نعمت ہے جس سے مومن کو ابدی راحت و آرام کا بہت بڑا ذخیرہ ہاتھ آتا ہے اس لیے کہ یہ ظاہری بیماری حقیقت میں رُوحانی بیماریوںکا ایک بڑا زبردست علاج ہے ۔ بشرطیکہ آدمی مومن ہو اور سخت سے سخت بیماری میں صبر و شکر سے کام لے اگر صبر نہ کرے بلکہ جزع فزع کرے تو بیماری سے کوئی معنوی فائدہ نہ پہنچے گا یعنی ثواب سے محروم رہے گا۔ بعض نادان بیماری میں نہایت بے جا کلمات بول اٹھتے ہیں اور بعض خدائے تعالیٰ کی جانب ظلم کی نسبت کرکے کفر تک پہنچ جاتے ہیں۔ یہ ان کی انتہائی شقاوت اوردنیا و آخرت کی ہلاکت کا سبب ہے ۔العیاذ باللّٰہ تعالیٰ۔
ماخذ و مراجع
کتاب: اَنْوارُ الحَدِیْثْ جلد: 1 , حدیث نمبر: 28