- ہوم
- کتابیں
- اَنْوارُ الحَدِیْثْ
- کتاب الحج
- حدیث نمبر 51
انبیائے کرام زندہ ہیں - اَنْوارُ الحَدِیْثْ - حدیث نمبر: 51
کتاب الحج
حدیث مبارکہ
حدیث 1:
’’ عَنْ أَبِی الدَّرْدَاءِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللّٰہ حَرَّمَ عَلَی الْأَرْضِ أَنْ تَأْکُلَ أَجْسَادَ الْأَنْبِیَاءِ فَنَبِیُّ اللّٰہ حَیٌّ یُرْزَقُ‘‘۔
حدیث 2:
’’عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللّٰہ حَرَّمَ عَلَی الْأَرْضِ أَجْسَادَ الْأَنْبِیَاءِ‘‘۔
حدیث 1:
’’ عن ابی الدرداء قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إن اللہ حرم علی الارض ان تاکل اجساد الانبیاء فنبی اللہ حی یرزق‘‘۔
حدیث 2:
’’عن اوس بن اوس قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إن اللہ حرم علی الارض اجساد الانبیاء‘‘۔
حدیث ترجمہ
ترجمہ حدیث 1:حضرت ابودرداءرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ رسولِ کریمعلیہ الصلاۃ والتسلیمنے فرمایا کہ خدائے تعالیٰ نے زمین پر انبیائے کرامعلیہم السلامکے جسموں کو کھانا حرام فرمادیا ہے لہذااللّٰہکے نبی زندہ ہیں۔ رزق دیئے جاتے ہیں۔ (رواہ ابن ماجہ، مشکوۃ ص۱۲۱)ترجمہ حدیث 2:حضرت اوس بن اوسرضی ا للہ تعالیٰ عنہنے کہا کہ سرکارِ اقدسصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا کہ خدائے تعالیٰنے انبیائے کرامعلیہم السلامکے جسموں کو زمین پر (کھانا) حرام فرمادیا ہے ۔
شرح حدیث
شرح حدیث 1:حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلویرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِاس حدیث کے تحت فرماتے ہیں کہ:
’’پیغمبر خدا زندہ است بہ حقیقت حیات دنیاوی‘‘۔ ([1])
یعنی خدائے تعالیٰ کے نبی دنیوی زندگی کی حقیقت کے ساتھ زندہ ہیں۔ (اشعۃ اللمعات، جلد اول ص۶۷۵)
اورحضرت مُلا علی قاریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ البَارِیاس حدیث کے تحت فرماتے ہیں کہ:
’’لَا فَرقَ لَھُمْ فِی الْحَالَیْنِ وَلِذَاقِیْلَ أَوْلِیَاءُ اللّٰہلَایَمُوْتُوْنَ وَلٰکِنْ یَنْتَقِلُوْنَ مِنْ دَارٍ إِلَی دَارٍ‘‘۔ ([2])
یعنی انبیائے کرام کی دنیوی اور بعد وصال کی زندگی میں کوئی فرق نہیں۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ اولیائے کرام مرتے نہیں بلکہ ایک دار سے دوسرے دار کی طرف منتقل ہوجاتے ہیں۔ (مرقاۃ جلد دوم مطبوعہ بمبئی ص۲۱۲)
------------------
∞[1] ’’اشعۃ اللمعات‘‘،کتاب الصلاۃ،باب الجمعۃ،الفصل الثالث،ج۱،ص۶۱۵.[2] ’’مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح‘‘،کتاب الصلاۃ،الحدیث:۱۳۶۶،ج۳،ص۴۵۹.شرح حدیث 2:حضرت مُلَّا علی قاریرضی عنہ ربّہ الباریاس حدیث کے تحت فرماتے ہیں کہ:
’’إِنَّ الْأَنْبِیَاء فِی قُبُوْرِھِمْ أَحْیَاء‘‘۔ ([1])
یعنی انبیائے کرامعلیہم السلاماپنی قبروں میں زندہ ہیں۔ (مرقاۃ، جلد دوم ص ۲۰۹)
اور حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی بخاریرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِاسی حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں کہ:
’’حیات انبیاء متفق علیہ است ہیچ کس را دروے خلافے نیست حیات جسمانی دنیاوی حقیقی نہ حیات معنوی روحانی چنانکہ شہدا راست‘‘۔ ([2])
یعنی انبیائے کر امعلیہم السلامزندہ ہیں اور ان کی زندگی سب مانتے آئے ہیں۔ کسی کو اس میں اختلاف نہیں ہے ۔ ان کی زندگی جسمانی حقیقی دنیاوی ہے ۔ شہیدوں کی طرح صرف معنوی اور روحانی نہیں ہے ۔ (اشعۃ اللمعات، جلد اول ص ۵۷۴)انتباہ :(۱)… انبیائے کرامعلیہم السلامبعد وفات دنیوی زندگی کی حقیقت کے ساتھ زندہ رہتے ہیں اسی لیے شبِ معراج جب سرکارِ اقدسصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمبیت المقدس پہنچے تو انبیائے
کرامعلیہم السلامکو وہاں نماز پڑھائی۔ اگر انبیائے کرامعلیہم السلامبعد وفات زندہ نہ ہوتے تو بیت المقدس میں نماز پڑھنے کے لیے کیسے آتے ۔
(۲)…انبیائے کرامعلیہم السلامکی زندگی جسمانی حقیقی دنیوی ہے ۔ شہیدوں کی طرح صرف معنوی اور رُوحانی نہیں ہے اسی لیے انبیائے کرامعلیہم السلامکا ترکہ نہیں تقسیم کیا جاتا اور نہ ان کی بیویاں دوسرے سے نکاح کرسکتی ہیں۔ اور شہیدوں کا ترکہ تقسیم ہوتا ہے اور ان کی بیویاں عدت گزارنے کے بعد دوسرے سے نکاح کر سکتی ہیں۔
(۳)…انبیائے کرامعلیہم السلامکی زندگی برزخی نہیں بلکہ دنیوی ہے بس فرق صرف یہ ہے کہ ہم جیسے لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل ہیں۔
جیسا کہ حضرت شیخ حسن بن عمار شرنبلالیرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِاپنی مشہور کتاب ’’نورالایضاح ‘‘کی شرح ’’مراقی الفلاح ‘‘میں فرماتے ہیں:
’’وَمِمَّا ھُوَ مُقَرَّرٌ عِنْدَ الْمُحَقِّقِیْنَ أَنَّہُ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَیٌّ یُرْزَقُ مُمَتّعٌ بِجَمِیْعِ الملاذِّ وَالْعِبَادَاتِ غَیْرَ أَنَّہُ حجبَ عَنْ أَبْصَارِ الْقَاصِرِیْنَ عَنْ شَرِیْف المقَامَاتِ‘‘۔ ([3])
یعنی یہ بات اربابِ تحقیق علماء کے نزدیک ثابت ہے کہ سرکارِ اقدسصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ(حقیقی دنیوی زندگی کے ساتھ) زندہ ہیں۔ ان پر روزی پیش کی جاتی ہے تمام لذت والی چیزوں کا مزا اور عبادتوں کا سرور پاتے ہیں۔ لیکن جو لوگ کہ بلند درجوں تک پہنچنے سے قاصر ہیں ان کی نگاہوں سے اوجھل ہیں۔ (مع طحطاوی مصری ص۴۴۷)
اور نسیم الریاض شرح شفا قاضی عیاض جلد اول، ص:۱۹۶میں ہے :
’’اَلأَنْبِیَاءُ عَلَیْھِمُ السَّلَامُ أَحْیَائٌ فِی قُبُوْرِھِمْ حَیَاۃً حَقِیْقَۃً‘‘۔ ([4])
یعنی انبیائے کرامعلیہم السلامحقیقی زندگی کے ساتھ اپنی قبروں میں زندہ ہیں۔
اور مرقاۃ شرح مشکوۃ جلد اول ص: ۲۸۴میں ہے :
’’إِنَّہُ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَیٌّ یُرْزَقُ وَیُسْتَمَدُّ مِنْہُ الْمَدَدُ الْمُطْلَقُ‘‘۔ ([5])
یعنی بے شک حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمباحیات ہیں انہیں روزی پیش کی جاتی ہے اور ان سے ہرقسم کی مدد طلب کی جاتی ہے ۔
اور حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی بخاریرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِنے اپنے مکتوب سلوکأقرب السبل بالتوجہ إلی سید الرسل مع أخبار الأخیارمطبوعہ رحیمیہ دیوبند ص ۱۶۱ میں فرمایا کہ:
’’باچندیں اختلاف و کثرت مذاہب کہ در علمائے امت ست یک کس رادریں مسئلہ خلافے نیست کہ آں حضرت صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم بحقیقتِ حیات بے شائبہ مجاز و توہم تاویل دائم و باقی ست وبراعمال اُمت حاضرو ناظر و مرطالبان حقیقت راو متوجہان آں حضرت رامضیض و مربی‘‘۔
یعنی علمائے امت میں اتنے اختلافات و کثرت مذاہب کے باوجود کسی شخص کو اس مسئلہ میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ آنحضرتصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمحیاتِ ( دنیوی) کی حقیقت کے ساتھ قائم اور باقی ہیں۔ اس حیات نبوی میں مجاز کی آمیزش اور تاویل کا وہم نہیں ہے اور امت کے اعمال پر حاضر و ناظر ہیں۔ نیز طالبانِ حقیقت کے لیے اور ان لوگوں کے لیے کہ آنحضرت کی جانب توجہ رکھتے ہیں حضور ان کو فیض بخشنے والے اور ان کے مربی ہیں۔
(۴)…پارہ ۲۳ آخری رکوع کی آیت کریمہ ’’إِنَّکَ مَیِّتٌ‘‘میں جو حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے لیے موت آنا ذکر فرمایا تو اس سے مراد اس عالم دنیا سے منتقل ہونا ہے اور ان احادیث کریمہ میں حیات سے بعد وصال کی حقیقی زندگی مراد ہے ۔
تو زندہ ہے واللّٰہتو زندہ ہے واللّٰہمیری چشم عالم سے چھپ جانے والے
(اعلی حضرت بریلوی)
------------------
∞[1] ’’مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح‘‘،کتاب الصلاۃ،الحدیث:۱۳۶۱،ج۳،ص۴۵۲۔ ۴۵۴.[2] ’’اشعۃ اللمعات‘‘،کتاب الصلاۃ،باب الجمعۃ،الفصل الثانی،ج۱،ص۶۱۳.[3] ’’مراقی الفلاح شرح نور الإیضاح‘‘،کتاب الحج،باب زیارۃ النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم،ص۴۳۰.[4] ’’نسیم الریاض شرح شفا القاضی عیاض‘‘،ج۱،ص۱۷۴.[5] ’’مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح‘‘،کتاب المناسک،الحدیث:۲۷۵۶،ج۵،ص۶۳۲.
ماخذ و مراجع
کتاب: اَنْوارُ الحَدِیْثْ جلد: 1 , حدیث نمبر: 51