Main Icon

قبروں کی زیارت کا بیان - اَنْوارُ الحَدِیْثْ - حدیث نمبر: 38

کتاب الجنائز

حدیث مبارکہ

حدیث 1:
’’عَنْ بُرَیْدَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَہَیْتُکُمْ عَنْ زِیَارَۃِ الْقُبُورِ فَزُورُوہَا‘‘۔
حدیث 2:
’’عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ کُنْتُ نَہَیْتُکُمْ عَنْ زِیَارَۃِ الْقُبُورِ فَزُورُوہَا فَإِنَّہَا تُزَہِّدُ فِی الدُّنْیَا وَتُذَکِّرُ الْآخِرَۃَ‘‘۔

حدیث 1:
’’عن بریدۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہیتکم عن زیارۃ القبور فزوروہا‘‘۔
حدیث 2:
’’عن ابن مسعود ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال کنت نہیتکم عن زیارۃ القبور فزوروہا فإنہا تزہد فی الدنیا وتذکر الآخرۃ‘‘۔

حدیث ترجمہ

ترجمہ حدیث 1:حضرت بریدہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ رسولِ کریمعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْمنے فرمایا کہ میں نے تم لوگوں کو قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا ( اب میں تمہیں اجازت دیتا ہوں کہ) ان کی زیارت کرو۔ (مسلم)ترجمہ حدیث 2:حضرت ابن مسعودرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضورنے فرمایا کہ میں نے تم لوگوں کو قبروں کی زیارت سے روکا تھا تو اب میں تمہیں اجازت دیتا ہوں کہ انکی زیارت کرو اس لیے کہقبروں کی زیارت کرنا دنیا سے بیزار کرتا ہے ۔ اور آخرت کی یاد دلاتا ہے ۔ (ابن ماجہ)

شرح حدیث

اِنتباہ :(۱)…قبروں کی زیارت کا بہتر طر یقہ یہ ہے کہ پائنتی کی جانب سے جا کرمیت کے منہ کے سامنے کھڑا ہو اور یہ کہے : ’’السَّلَامُ عَلَیْکُمْ أَہْلَ دَارِ قَوْمٍ مُؤْمِنِینَ أَنْتُمْ لَنَا سَلَفٌ وَإِنَّا إنْ شَاءَ اللّٰہ بِکُمْ لَاحِقُونَ نَسْأَلُ اللّٰہ لَنَا وَلَکُمْ الْعَفْوَ وَالْعَافِیَۃَ‘‘ پھر تین یا پانچ یا سات یا گیارہ بار درود شریف پڑھے بعدہٗ جس قدر ہوسکے قرآن شریف کی سورتیں اور آیتیں تلاوت کرے مثلاً سورۂ یس، سورۂ ملک ، چاروں قُل ، سورۂ فاتحہ،الٓمسےمُفْلِحُوْنَتک،آیۃ الکرسیاوراٰمَنَ الرَّسُوْلُوغیرہ پھر آخر میں درود شریف پڑھ کر ایصالِ ثواب کرے اور افضل یہ ہے کہ ایصالِ ثواب میں سب مؤمنین و مؤمنات کو شامل کرے کہ ہر ایک کو پورا پورا ثواب ملے گا اورکسی کے اجر میں کچھ کمی نہ ہوگی۔ ([1])(رد المحتار)
(۲)… اولیائے کرام کے مزارات مقدسہ کی زیارت کے لیے سفر کرنا جائز ہے ۔ ([2]) (بہارشریعت بحوالہ رد المحتار)
(۳)… اولیائے کرام کی زیارت کرنا خدائے تعالیٰ سے محبت کی دلیل ہے اور زائرین کو کافر و بدعتی کہنا کھلی ہوئی گمراہی اور بدعقیدگی ہے ۔ تفسیر صاوی جلد اول ص :۲۴۵ ، آیت ِکریمہ:{
ابْتَغُوا إِلَیْہِ الْوَسِیلَۃَ}کے تحت ہے کہ:
’’
مِنَ الضَّلَالِ الْبَیِّنِ وَالْخُسْرَانِ الظَّاھِرِ تَکْفِیْرُ الْمُسْلِمِیْنَ بِزِیَارَۃِ أَوْلِیَاءاللّٰہ زَاعِمِیْنَ أَنَّ زِیَارَتَھُمْ مِنْ عِبَادَۃِ غَیْرِ اللّٰہ کَلَّا بَلْ ھِیَ مِنْ جمْلَۃِ الْمَحَبَّۃِ فِیْ اللّٰہ‘‘۔ ([3])
یعنی اولیاء
اللّٰہکی زیارت کے سبب مسلمانوں کو اس خیال سے کافر کہنا کہ ان کی زیارت عبادتِ غیراللّٰہہے کھلی ہوئی گمراہی اور خسارے کا سبب ہے ۔ (اولیاء کی زیارت عبادت غیراللّٰہ) ہر گز نہیں ہے ۔ بلکہ یہالحبُّ فِی اللّٰہمیں سے ہے ۔
(۴)… منکرات ِشرعیہ اگر ایامِ عرس میں پائے جائیں تو ان کی وجہ سے زیارت ترک نہ کرے اس لیے کہ ایسی باتوں سے نیک کام ترک نہیں کیا جاتا بلکہ اسے بُرا جانے اور اصلاح کی جدوجہد کرے ۔ جیسا کہ ردالمحتار جلد اول ص:۶۳۱ میں ہے : ’’
قَالَ ابْنُ حَجَرٍ فِی فَتَاوِیہِ وَلَا تُتْرَکُ لِمَا یَحْصُلُ عِنْدَہَا مِنْ مُنْکَرَاتٍ وَمَفَاسِد کَاخْتِلَاطِ الرِّجَالِ بِالنِّسَاء وَغَیْرِ ذَلِکَ لِأَنَّ الْقُرُبَاتِ لَا تُتْرَکُ لِمِثْلِ ذَلِکَ بَلْ عَلَی الْإِنْسَانِ فِعْلُہَا وَإِنْکَارُ الْبِدَع بَلْ وَإِزَالَتُہَا إنْ أَمْکَنَ ا ہـ۔قُلْت وَیُؤَیِّدُ مَا مَرَّ مِنْ عَدَمِ تَرْکِ اتِّبَاعِ الْجِنَازَۃِ وَإِنْ کَانَ مَعَہَا نِسَاء وَنَاءِحَاتٌ تَأَمَّلْ‘‘۔ ([4])
(۵)…عورتوں کو عزیزوں کی قبروں پر جانا ممنوع ہے اس لیے کہ وہ جزع فزع کر یں گی۔
(۶)…اولیائے کرام کے مزاراتِ مقدسہ پر برکت کے لیے حاضر ہونے میں بوڑھی عورتوں کے لیے حرج نہیں اور جوانوں کے لیے ناجائز ہے ۔ جیسا کہ ردالمحتار جلد اول ص:۶۳۱ میں ہے : ’’
وَالتَّبَرُّک بِزِیَارَۃِ قُبُورِ الصَّالِحِینَ فَلَا بَأْسَ إِذَا کُنَّ عَجَاءِزَ وَیُکْرَہُ إِذَا کُنَّ شَوَابَّ کَحُضُورِ الْجَمَاعَۃِ فِی الْمَسَاجِدِ‘‘۔ ([5])
اور علامہ طحطاوی
رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِاسی کے مثل لکھنے کے بعد فرماتے ہیں کہ :
’ ’
حَاصِلُہ أَنَّ مَحَلَّ الرُّخْصَۃِ لَھُنَّ إِذَا کَانَتِ الزِّیَارَۃُ عَلَی وَجْہٍ لَیْسَ فِیْہِ فِتْنَۃٌ‘‘ ۔ ([6])
یعنی حاصل یہ ہے کہ عورتوں کے لیے اجازت صرف اس صورت میں ہے جب کہ زیارت ایسے طریقے پرہو کہ اس میں کوئی فتنہ نہ ہو۔ (طحطاوی، ص ۳۷۶)
اور حضرت صدر الشریعہ
رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِنے تحریر فرمایا ہے کہ اسلم یہ ہے کہ عورتیں مطلقاً ( یعنی جوان ہوں یا بوڑھی سب) منع کی جائیں۔ ([7])(بہار شریعت ، جلد چہارم ص ۵۴۹)
(۷)…مزاراتِ مقدسہ پر ہاتھ پھیرنا ، بوسہ دینا، ان کے سامنے جھکنا اور زمین پر چہرہ ملنا منع ہے اس لیے کہ یہ چیزیں عاداتِ نصاریٰ میں سے ہیں۔ جیسا کہ اشعۃ اللمعات، جلد او ل، باب زیارت القبور، ص:۷۱۶ میں ہے : ’’
مسح نہ کند قبر را وبوسہ ندہد آنرا ومنخی نہ شود وروئے بہ خاک نہ مالدکہ ایں عادت نصاریٰ ست‘‘۔ ([8])
اور فتاویٰ عالمگیری جلد پنجم مصری ص:۳۰۴میں ہے :
’’
وَلَا یَمْسَحُ الْقَبْرَ وَلَا یُقَبِّلُہُ فَإِنَّ ذَلِکَ مِنْ عَادَۃِ النَّصَارَی‘‘ ۔ ([9])
یعنی قبر پر ہاتھ نہ پھیرے اور نہ اسے بوسہ دے اس لیے کہ وہ عاداتِ نصاریٰ میں سے ہے ۔
اور فتاویٰ رضویہ جلد چہارم ، ص: ۸ میں ہے ۔ مزارات کو بوسہ نہ دینا چاہیے ([10])۔
(۸)… قبر کو سجدہ ([11])
کرنا حرام ہے اور عبادت کی نیت سے ہو تو کفر ہے ۔
------------------
∞[1] ’’
رد المحتار‘‘،کتا الصلاۃ،باب صلاۃ الجنائز،مطلب فی زیارۃ القبور،ج۳،ص۱۷۸۔ ۱۷۹.[2] ’’بہارِ شریعت‘‘، ج۱، ص ۸۴۸، ’’رد المحتار‘‘،کتاب الصلاۃ،مطلب فی زیارۃ القبور،ج۳،ص۱۷۷.[3] ’’تفسیر الصاوی‘‘،سورۃ المائدۃ،ج۱،ص۴۹۷.[4] ’’رد المحتار‘‘،کتاب الصلاۃ،باب صلاۃ الجنازۃ،مطلب فی زیارۃ القبور،ج۳،ص۱۷۸.[5] ’’رد المحتار‘‘،کتاب الصلاۃ،باب صلاۃ الجنازۃ،مطلب فی زیارۃ القبور،ج۳،ص۱۷۸.[6] ’’حاشیۃ الطحطاوی‘‘،کتاب الصلاۃ،باب أحکام الجنائز،فصل فی زیارۃ القبور،ص۶۲۰.[7] ’’بہارِ شریعت‘‘، ج۱، ص ۸۴۹.[8] ’’اشعۃ اللمعات‘‘،کتاب الجنائز،باب زیارۃ القبور،الفصل الأول،ج۱،ص۷۶۳.[9] ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الکراہیۃ،الباب السادس عشر فی زیارۃ القبور إلخ،ج۵،ص۳۵۱.[10] ’’الفتاوی الرضویۃ‘‘،ج۹،ص۵۲۸.[11] شرح فقہ اکبر صفحہ نمبر ۲۳۰ میں ہے :’’اَلسَّجْدَۃُ حَرَامٌ لِغَیْرِہِ سُبْحَانَہ‘‘ یعنی غیراللّٰہکے لیے سجدہ حرام ہے ۔ (’’شرح الفقہ الأکبر‘‘،ص۱۸۷)اور فتاویٰ عالمگیری جلد پنجم مصری صفحہ نمبر ۲۳۱میں جواہر الاخلاطی سے ہے ۔ ’’قَالَ الْفَقِیہُ أَبُو جَعْفَرٍ رَحِمَہُ اللّٰہ تَعَالَی وَإِنْ سَجَدَ لِلسُّلْطَانِ بِنِیَّۃِ الْعِبَادَۃِ أَوْ لَمْ تَحْضُرْہُ النِّیَّۃُ فَقَدْ کَفَرَ‘‘یعنی فقیہ ابو جعفر رحمۃاللّٰہتعالیٰ علیہ نے فرمایا کہ اگر عبادت کی نیت سے بادشاہ کو سجدہ کیا یا کوئی نیت اس وقت نہ تھی تو کافر ہوگیا۔ (’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الکراھیۃ،ج۵،ص۳۶۸)

ماخذ و مراجع

کتاب: اَنْوارُ الحَدِیْثْ جلد: 1 , حدیث نمبر: 38