- ہوم
- کتابیں
- اَنْوارُ الحَدِیْثْ
- کتاب الزکاۃ
- حدیث نمبر 42
سخی اور بخیل کا بیان - اَنْوارُ الحَدِیْثْ - حدیث نمبر: 42
کتاب الزکاۃ
حدیث مبارکہ
حدیث 1:
’’عَنْ أَبِی سَعِیدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَأَنْ یَتَصَدَّقَ الْمَرْءُ فِی حَیَاتِہِ بِدِرْہَمٍ خَیْرٌ لَہُ مِنْ أَنْ یَتَصَدَّقَ بِمِءَۃٍ عِنْدَ مَوْتِہِ‘‘۔
حدیث 2:
’’عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ السَّخِیُّ قَرِیبٌ مِنْ اللّٰہ قَرِیبٌ مِنَ الْجَنَّۃِ قَرِیبٌ مِنْ النَّاسِ بَعِیدٌ مِنَ النَّارِ وَالْبَخِیلُ بَعِیدٌ مِنَ اللّٰہ بَعِیدٌ مِنَ الْجَنَّۃِ بَعِیدٌ مِنَ النَّاسِ قَرِیبٌ مِنَ النَّارِ وَلَجَاہِلٌ سَخِیٌّ أَحَبُّ إِلَی اللّٰہ مِنْ عَابِدٍ بَخِیلٍ‘‘۔
حدیث 3:
’’عَنْ أَبِی بَکْرِنِ الصِّدِّیقِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ خِبٌّ وَلَا بَخِیلٌ وَلَا مَنَّانٌ‘‘۔
حدیث 4:
’’عَنْ أَبِی سَعِیدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خَصْلَتَانِ لَا تَجْتَمِعَانِ فِی مُؤْمِنٍ اَلْبُخْلُ وَسُوءُ الْخُلُقِ‘‘۔
حدیث 5:
’’عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّہُ سَمِعَ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ إِنَّ ثَلاثَۃً فِی بَنِی إِسْرَاءِیلَ أَبْرَصَ وَأَقْرَعَ وَأَعْمَی فَأَرَادَ اللّٰہ أَنْ یَبْتَلِیَہُمْ فَبَعَثَ إِلَیْہِمْ مَلَکًا فَأَتَی الْأَبْرَصَ فَقَالَ أَیُّ شَیْئٍ أَحَبُّ إِلَیْکَ قَالَ لَوْنٌ حَسَنٌ وَجِلْدٌ حَسَنٌ وَیَذْہَبُ عَنِّی الَّذِی قَدْ قَذِرَنِی النَّاسُ قَالَ فَمَسَحَہُ فَذَہَبَ عَنْہُ قَذَرُہُ وَأُعْطِیَ لَوْنًا حَسَنًا وَجِلْدًا حَسَنًا قَالَ فَأَیُّ الْمَالِ أَحَبُّ إِلَیْکَ قَالَ الْإِبِلُ أَوْ قَالَ الْبَقَرُ شَکَّ إِسْحَقُ إِلَّا أَنَّ الْأَبْرَصَ أَوِ الْأَقْرَعَ قَالَ أَحَدُہُمَا الْإِبِلُ وَقَالَ الْآخَرُ الْبَقَرُ قَالَ فَأُعْطِیَ نَاقَۃً عُشَرَاءَ فَقَالَ بَارَکَ اللّٰہ لَکَ فِیہَا قَالَ فَأَتَی الْأَقْرَعَ فَقَالَ أَیُّ شَیْئٍ أَحَبُّ إِلَیْکَ قَالَ شَعَرٌ حَسَنٌ و َیَذْہَبُ عَنِّی ہَذَا الَّذِی قَدْ قَذِرَنِی النَّاسُ قَالَ فَمَسَحَہُ فَذَہَبَ عَنْہُ قَالَ وَأُعْطِیَ شَعرًا حَسَنًا قَالَ فَأَیُّ الْمَالِ أَحَبُّ إِلَیْکَ قَالَ الْبَقَرُ فَأُعْطِیَ بَقَرَۃً حَامِلًا قَالَ بَارَکَ اللّٰہ لَکَ فِیہَا قَالَ فَأَتَی الْأَعْمَی فَقَالَ أَیُّ شَیْئٍ أَحَبُّ إِلَیْکَ قَالَ أَنْ یَرُدَّ اللّٰہ إِلَیَّ بَصَرِی فَأُبْصرَ بِہِ النَّاسَ قَالَ فَمَسَحَہُ فَرَدَّ اللّٰہ إِلَیْہِ بَصَرَہُ قَالَ فَأَیُّ الْمَالِ أَحَبُّ إِلَیْکَ قَالَ الْغَنَمُ فَأُعْطِیَ شَاۃً وَالِدًا فَأُنْتِجَ ہَذَانِ وَوَلَّدَ ہَذَا قَالَ فَکَانَ لِہَذَا وَادٍ مِنَ الْإِبِلِ وَلِہَذَا وَادٍ مِنَ الْبَقَرِ وَلِہَذَا وَادٍ مِنَ الْغَنَمِ قَالَ ثُمَّ إِنَّہُ أَتَی الْأَبْرَصَ فِی صُورَتِہِ وَہَیْءَتِہِ فَقَالَ رَجُلٌ مِسْکِینٌ قَدْ انْقَطَعَتْ بِیَ الْحِبَالُ فِی سَفَرِی فَلَا بَلَاغَ لِی الْیَوْمَ إِلَّا بِاللّٰہ ثُمَّ بِکَ أَسْأَلُکَ بِالَّذِی أَعْطَاکَ اللَّوْنَ الْحَسَنَ وَالْجِلْدَ الْحَسَنَ وَالْمَالَ بَعِیرًا أَتَبَلَّغُ عَلَیْہِ فِی سَفَرِی فَقَالَ الْحُقُوقُ کَثِیرَۃٌ فَقَالَ لَہُ کَأَنِّی أَعْرِفُکَ أَلَمْ تَکُنْ أَبْرَصَ یَقْذَرُکَ النَّاسُ فَقِیرًا فَأَعْطَاکَ اللّٰہ فَقَالَ إِنَّمَا وَرِثْتُ ہَذَا الْمَالَ کَابِرًا عَنْ کَابِرٍ فَقَالَ إِنْ کُنْتَ کَاذِبًا فَصَیَّرَکَ اللّٰہ إِلَی مَا کُنْتَ قَالَ وَأَتَی الْأَقْرَعَ فِی صُورَتِہِ فَقَالَ لَہُ مِثْلَ مَا قَالَ لِہَذَا وَرَدَّ عَلَیْہِ مِثْلَ مَا رَدَّ عَلَی ہَذَا فَقَالَ إِنْ کُنْتَ کَاذِبًا فَصَیَّرَکَ اللّٰہ إِلَی مَا کُنْتَ قَالَ وَأَتَی الْأَعْمَی فِی صُورَتِہِ وَہَیْءَتِہِ فَقَالَ رَجُلٌ مِسْکِینٌ وَابْنُ سَبِیلٍ انْقَطَعَتْ بِیَ الْحِبَالُ فِی سَفَرِی فَلَا بَلَاغَ لِی الْیَوْمَ إِلَّا بِاللّٰہ ثُمَّ بِکَ أَسْأَلُکَ بِالَّذِی رَدَّ عَلَیْکَ بَصَرَکَ شَاۃً أَتَبَلَّغُ بِہَا فِی سَفَرِی فَقَالَ قَدْ کُنْتُ أَعْمَی فَرَدّ اللّٰہ إِلَیَّ بَصَرِی فَخُذْ مَا شِئْتَ وَدَعْ مَا شِئْتَ فَوَاللّٰہ لَا أَجْہَدُکَ الْیَوْمَ شَیْءًا أَخَذْتَہُ لِلَّہِ فَقَالَ أَمْسِکْ مَالَکَ فَإِنَّمَا ابْتُلِیتُمْ فَقَدْ رضِیَ عَنْکَ وَسخِطَ عَلَی صَاحِبَیْکَ‘‘۔
حدیث 1:
’’عن ابی سعید قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لان یتصدق المرء فی حیاتہ بدرہم خیر لہ من ان یتصدق بمءۃ عند موتہ‘‘۔
حدیث 2:
’’عن ابی ہریرۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم السخی قریب من اللہ قریب من الجنۃ قریب من الناس بعید من النار والبخیل بعید من اللہ بعید من الجنۃ بعید من الناس قریب من النار ولجاہل سخی احب إلی اللہ من عابد بخیل‘‘۔
حدیث 3:
’’عن ابی بکرن الصدیق قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لا یدخل الجنۃ خب ولا بخیل ولا منان‘‘۔
حدیث 4:
’’عن ابی سعید قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خصلتان لا تجتمعان فی مؤمن البخل وسوء الخلق‘‘۔
حدیث 5:
’’عن ابی ہریرۃ انہ سمع النبی صلی اللہ علیہ وسلم یقول إن ثلاثۃ فی بنی إسراءیل ابرص واقرع واعمی فاراد اللہ ان یبتلیہم فبعث إلیہم ملکا فاتی الابرص فقال ای شیئ احب إلیک قال لون حسن وجلد حسن ویذہب عنی الذی قد قذرنی الناس قال فمسحہ فذہب عنہ قذرہ واعطی لونا حسنا وجلدا حسنا قال فای المال احب إلیک قال الإبل او قال البقر شک إسحق إلا ان الابرص او الاقرع قال احدہما الإبل وقال الآخر البقر قال فاعطی ناقۃ عشراء فقال بارک اللہ لک فیہا قال فاتی الاقرع فقال ای شیئ احب إلیک قال شعر حسن و یذہب عنی ہذا الذی قد قذرنی الناس قال فمسحہ فذہب عنہ قال واعطی شعرا حسنا قال فای المال احب إلیک قال البقر فاعطی بقرۃ حاملا قال بارک اللہ لک فیہا قال فاتی الاعمی فقال ای شیئ احب إلیک قال ان یرد اللہ إلی بصری فابصر بہ الناس قال فمسحہ فرد اللہ إلیہ بصرہ قال فای المال احب إلیک قال الغنم فاعطی شاۃ والدا فانتج ہذان وولد ہذا قال فکان لہذا واد من الإبل ولہذا واد من البقر ولہذا واد من الغنم قال ثم إنہ اتی الابرص فی صورتہ وہیءتہ فقال رجل مسکین قد انقطعت بی الحبال فی سفری فلا بلاغ لی الیوم إلا باللہ ثم بک اسالک بالذی اعطاک اللون الحسن والجلد الحسن والمال بعیرا اتبلغ علیہ فی سفری فقال الحقوق کثیرۃ فقال لہ کانی اعرفک الم تکن ابرص یقذرک الناس فقیرا فاعطاک اللہ فقال إنما ورثت ہذا المال کابرا عن کابر فقال إن کنت کاذبا فصیرک اللہ إلی ما کنت قال واتی الاقرع فی صورتہ فقال لہ مثل ما قال لہذا ورد علیہ مثل ما رد علی ہذا فقال إن کنت کاذبا فصیرک اللہ إلی ما کنت قال واتی الاعمی فی صورتہ وہیءتہ فقال رجل مسکین وابن سبیل انقطعت بی الحبال فی سفری فلا بلاغ لی الیوم إلا باللہ ثم بک اسالک بالذی رد علیک بصرک شاۃ اتبلغ بہا فی سفری فقال قد کنت اعمی فرد اللہ إلی بصری فخذ ما شئت ودع ما شئت فواللہ لا اجہدک الیوم شیءا اخذتہ للہ فقال امسک مالک فإنما ابتلیتم فقد رضی عنک وسخط علی صاحبیک‘‘۔
حدیث ترجمہ
ترجمہ حدیث 1:حضرت ابوسعیدرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکہتے ہیں کہ حضورﷺنے فرمایا کہ انسان کا اپنی زندگی کے ایام میں ایک درہم صدقہ کرنا مرنے کے وقت سو درہم صدقہ کرنے سے بہتر ہے ۔ (ابوداود)ترجمہ حدیث 2:حضرت ابوہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکہتے ہیں کہ حضورﷺنے فرمایا کہ سخیاللّٰہتعالیٰ سے قریب ہے جنت سے قریب ہے لوگوں سے قریب ہے اور دوزخ سے دور ہے اور بخیلاللّٰہتعالیٰ سے دور ہے جنت سے دور ہے لوگوں سے دور ہے اور جہنم سے قریب ہے اور جاہل سخی خدا کے نزدیک عبادت گزار بخیل سے کہیں بہتر ہے ۔ (ترمذی)ترجمہ حدیث 3:حضرت ابوبکر صدیقرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکہتے ہیں کہ حضورﷺنے فرمایا کہ مکار اور بخیل جنت میں داخل نہ ہوں گے اور نہ وہ شخص جو خیرات دے کر احسان جتائے ۔ (ترمذی)ترجمہ حدیث 4:حضرت ابو سعیدرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکہتے ہیں کہ حضورﷺنے فرمایا کہ مومن میں دو باتیں یعنی بخل اور بدخلقی جمع نہیں ہوتی۔ (ترمذی)ترجمہ حدیث 5:حضرت ابوہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکہتے ہیں کہ انہوں نے حضورﷺکو یہ فرماتے ہوئے سُنا ہے کہ بنی اسرائیل میں تین شخص تھے ایک کوڑھی دوسرا گنجا اور تیسرا اندھا ،اللّٰہتعالیٰ نے ان کا امتحان لینا چاہا اور ان کی طرف ایک فرشتہ کو بھیجا۔ فرشتہ سب سے پہلے کوڑھی کے پاس آیا۔ اور پوچھا تجھے سب سے زیادہ کون سی چیز پسند ہے اس نے کہا اچھا رنگ اور خوبصورت جلد اور اس عیب کا دور ہوجانا جس کے سبب لوگ مجھ سے نفرت کرتے ہیں۔ حضور نے فرمایا کہ یہ سن کر فرشتے نے اس کے جسم پر ہاتھ پھیرا اور اس کا کوڑھ زائل ہوگیا اور اس کے جسم کا ر نگ نکھر گیا اور جلد خوش رنگ ہوگئی اس کے بعد فرشتہ نے کہا تجھ کو کس قسم کا مال پسند ہے ؟ اس نے اونٹ کہا یا گائے ( حدیث کے راوی حضرت اسحاق کو شک ہے کہ اس نے اونٹ کہا یا گائے ) بہرحال کوڑھی اور گنجے میں سے ایک نے اونٹ بتلائے اور دوسرے نے گائیں۔ حضور نے فرمایا کہ اس کی خواہش کے مطابق اس کو حاملہ اونٹنیاں دی گئیں اور فرشتہ نے اس کو یہ دعا دی کہ خدا تیرے لیے ان میں برکت عطا فرمائے ۔ حضور نے فرمایا کہ اس کے بعد فرشتہ گنجے کے پاس آیا اور پوچھا تجھ کو کون سی چیز زیادہ پسند ہے اس نے کہا خوبصورت بال اور اس عیب کا دور ہوجانا جس کے سبب سے لوگ مجھ سے نفرت کرتے ہیں یعنی گنجا پن۔ حضور نے فرمایا کہ فرشتہ نے اس کے سر پر ہاتھ پھیر ا اس کا گنجا پن زائل ہوگیا اور خوبصورت بال اسے عطا کیے گئے ۔ پھر فرشتہ نے اس سے پوچھاتجھ کو کون سا مال پسند ہے اس نے کہا گائیں ، چنانچہ اس کو حاملہ گائیں عطا کردی گئیں اور فرشتہ نے اس کو دعا د ی کہ خدا تیرے اس مال میں برکت دے ۔ حضور فرماتے ہیں کہ اس کے بعد فرشتہ اندھے کے پاس گیا اور پوچھاتجھ کو کون سی چیز بہت پسند ہے ؟ اس نے کہا کہاللّٰہتعالیٰ میری بینائی مجھ کو واپس کردے تاکہ میں اپنی آنکھوں سے لوگوں کو دیکھوں ۔ حضور فرماتے ہیں کہ فرشتہ نے اس کی آنکھوں پر ہاتھ پھیرا اور خدا نے اس کی بینائی اس کو مرحمت فرمادی پھر فرشتہ نے اس سے پوچھاکس قسم کا مال تجھ کو پسند ہے ؟ اس نے کہا بکریاں چنانچہ اس کو زیادہ بچے دینے والی بکریاں دے دی گئیں۔ پس ان تینوں کے مال میں خدا نے برکت دی ا ور کوڑھی اور گنجے کے اونٹوں اور گائیوں سے جنگل بھر گئے ۔ اور اندھے کی بکریوں کے ریوڑ وادیوںمیں نظر آنے لگے ۔ حضور فرماتے ہیں کہ اس کے بعد فرشتہ کوڑھی کی صورت میں اس کوڑھی کے پا س پہنچا؟۔ اور کہا کہ میں ایک مسکین آدمی ہوں، میرا وسیلہ سفر مفقود ہے اب منزل مقصود تک پہنچنا خدا کی مہربانی اور تیری مدد سے ہوسکتا ہے ۔ پس میں تجھ سے اس کی ذات کا وسیلہ دے کر جس نے تجھ کو اچھا ر نگ اچھی جلد اور مال دیا ہے ایک اونٹ مانگتا ہوں کہ اس کے ذریعہ منزل مقصود تک پہنچ جاؤں۔ کوڑھی نے اس کے جواب میں کہا میرے اوپر بہت سے حقوق ہیں ( اتنی گنجائش نہیں ہے کہ میں تیری کچھ مدد کرسکوں) فرشتے نے اس کے جواب میں کہا میں گویا تجھ کو پہچانتا ہوں تو وہی کوڑھی ہے جس سے لوگ نفرت کرتے تھے اور تو فقیر تھا۔ خدا نے تجھے مال دیا ۔ کوڑھی نے کہا یہ مال مجھ کونسلاً بعد نسل ٍ اپنے خاندان سے (وراثت) میں ملا ہے ۔ فرشتہ نے کہا اگر تو جھوٹا ہے تو خدا تجھ کو پھر ویسا ہی کردے جیسا کہ تو پہلے تھا اس کے بعد حضور نے فرمایا کہ پھر فرشتہ گنجے کی صورت میں اُسی گنجے کے پاس آیا اور اس سے بھی وہی کہا جو کوڑھی سے کہا تھا اور اس نے بھی وہی جواب دیا جو کوڑھی نے جواب دیا تھا تو فرشتے نے کہا اگر تو جھوٹا ہے تو خدا تجھ کو ویسا ہی کردے جیسا کہ تو پہلے تھا۔ پھر حضور نے فرمایا کہ اس کے بعد فرشتہ اندھے کے پاس آیا اور کہا کہ میں ایک مرد مسکین اور مسافر ہوں میرا سامانِ سفر جاتا رہا، بس اب منزل مقصود تک پہنچنا خدا کی عنایت سے پھر تیرے ذریعہ ممکن ہے تو میں تجھ سے اس ذات کا واسطہ دے کر جس نے تجھ کو دوبارہ بینائی بخشی ہے ایک بکری مانگتا ہوں کہ اس کے ذریعہ اپنا سفر پورا کرلوں۔ اندھے نے یہ سن کر کہا بے شک میں اندھا تھا خدا نے میری بینائی مجھ کو واپس بخشی پس تجھ کو جس قدر چاہیے لے جا اور جس قدر تیرا جی چاہے چھوڑ جا۔ قسم ہے خدا کی آج میں تجھ کو تکلیف نہیں دوں گا اس چیز کو واپس کرنے کی جو تو لے گا۔ فرشتے نے یہ سن کر کہا تو اپنا مال اپنے پاس رکھ تم لوگوں کا امتحان لیا گیا تھا۔ خدا تجھ سے راضی اور خوش ہوا۔ اور تیرے ساتھیوں سے خدائے تعالیٰ نار اض ہوا۔ (بخاری، مسلم)
شرح حدیث
*****
ماخذ و مراجع
کتاب: اَنْوارُ الحَدِیْثْ جلد: 1 , حدیث نمبر: 42