Main Icon

عید اور بقرہ عید کا بیان - اَنْوارُ الحَدِیْثْ - حدیث نمبر: 27

کتاب الصلوٰۃ

حدیث مبارکہ

حدیث 1:
عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَدِمَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْمَدِینَۃَ وَلَہُمْ یَوْمَانِ یَلْعَبُونَ فِیہِمَا فَقَالَ مَا ہَذَانِ الْیَوْمَانِ قَالُوا کُنَّا نَلْعَبُ فِیہِمَا فِی الْجَاہِلِیَّۃِ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ أَبْدَلَکُمُ اللّٰہ بِہِمَا خَیْرًا مِنْہُمَا یَوْمَ الْأَضْحَی وَیَوْمَ الْفِطْرِ‘‘ ۔
حدیث 2:
’’ عَنْ أَبِی الْحَوَیْرَثِ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَتَبَ إِلَی عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ وَہُوَ بِنَجْرَانِ عَجِّلِ الْاَضْحَی وَأَخِّرِ الْفِطْر وَذَکِّرِ النَّاسَ ‘‘۔
حدیث 3:
’’عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ قَالَ صَلَّیْتُ مَعَ رَسُولِ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْعِیدَیْنِ غَیْرَ مَرَّۃٍ وَلَا مَرَّتَیْنِ بِغَیْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَۃٍ ‘‘ ۔
حدیث 4:
’’ عَنْ أَنَسٍ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا یَغْدُو یَوْمَ الْفِطْرِ حَتَّی یَأْکُلَ تَمَرَاتٍ وَیَأْکُلُہُنَّ وِتْرًا‘‘۔
حدیث 5:
’’ عَنْ بُرَیْدَۃَ قَالَ کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا یَخْرُجُ یَوْمَ الْفِطْرِ حَتَّی یَطْعَمَ وَلَا یَطْعَمُ یَوْمَ الْأَضْحَی حَتَّی یُصَلِّیَ‘‘ ۔
حدیث 6:
’’ عَنْ جَابِرٍ قَالَ کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِذَا کَانَ یَوْمُ عِیدٍ خَالَفَ الطَّرِیقَ‘‘ ۔

حدیث 1:
عن انس قال قدم النبی صلی اللہ علیہ وسلم المدینۃ ولہم یومان یلعبون فیہما فقال ما ہذان الیومان قالوا کنا نلعب فیہما فی الجاہلیۃ فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قد ابدلکم اللہ بہما خیرا منہما یوم الاضحی ویوم الفطر‘‘ ۔
حدیث 2:
’’ عن ابی الحویرث ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کتب إلی عمرو بن حزم وہو بنجران عجل الاضحی واخر الفطر وذکر الناس ‘‘۔
حدیث 3:
’’عن جابر بن سمرۃ قال صلیت مع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم العیدین غیر مرۃ ولا مرتین بغیر اذان ولا إقامۃ ‘‘ ۔
حدیث 4:
’’ عن انس قال کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لا یغدو یوم الفطر حتی یاکل تمرات ویاکلہن وترا‘‘۔
حدیث 5:
’’ عن بریدۃ قال کان النبی صلی اللہ علیہ وسلم لا یخرج یوم الفطر حتی یطعم ولا یطعم یوم الاضحی حتی یصلی‘‘ ۔
حدیث 6:
’’ عن جابر قال کان النبی صلی اللہ علیہ وسلم إذا کان یوم عید خالف الطریق‘‘ ۔

حدیث ترجمہ

ترجمہ حدیث 1:حضرت انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا کہ نبی کریمعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْمجب ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف لائے تو حضور کو معلوم ہوا کہ یہاں کے لوگ سال میں دو دن کھیل کود کرتے ہیں، خوشی مناتے ہیں اس پر حضور نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ دو دن کیسے ہیں؟ لوگوں نے عرض کیا ان دنوں میں ہم لوگ زمانہ جاہلیت کے اندر خوشیاں مناتے اور کھیل کود کرتے تھے حضورنے فرمایا کہاللّٰہتعالیٰ نے تمہارے لیے ان دو دنوں کو ان سے بہتر دنوں میں تبدیل کردیا ہے ان میں سے ایک دن عید الفطر اور دوسرا دن عیدالاضحٰی ہے ۔ (ابوداود، مشکوۃ)ترجمہ حدیث 2:حضرت ابوالحویرثرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ رسولِ کریمعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْمنے عمرو بن حزم کو جب کہ وہ نجران میں تھے لکھا کہ بقر عید کی نماز جلد پڑھو اور عید الفطر کی نماز دیر سے پڑھو۔ اور لوگوں کو وعظ سناؤ۔ (مشکوۃ)ترجمہ حدیث 3:حضرت جابر بن سمرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا کہ میں نے رسولِ کریمعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْمکے ساتھ عیدین کی نماز بغیر اذان و اقامت کے پڑھی ہے ۔ ایک بار نہیں بلکہ کئی بار۔ (مسلم)ترجمہ حدیث 4:حضرت انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا کہ عیدا لفطر کے دن جب تک حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمچند کھجوریں نہ کھا لیتے عیدگاہ کو تشریف نہ لے جاتے اور آپ طاق کھجوریں تناول فرماتے ۔ (بخاری)ترجمہ حدیث 5:حضرت بریدہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا کہ عیدالفطر کے دن جب تک حضورکچھ کھا نہ لیتے عیدگاہ کو تشریف نہ لے جاتے اور عید الاضحی کے دن اس وقت تک کچھ نہ کھاتے جب تک کہ نماز نہ پڑھ لیتے ۔ (ترمذی، ابن ماجہ)ترجمہ حدیث 6:حضرت جابررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا کہ حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمعید کے دن دو مختلف راستوں سے آتے جاتے تھے ۔ (بخاری)

شرح حدیث

انتباہ:
(۱)…عیدین کی نماز کے بعد مصافحہ و معانقہ کرنا جیسا کہ عموما ً مسلمانوں میں رائج ہے بہتر ہے اس لیے کہ اس میں اظہارِ مسرت ہے ۔ ([1])(بہار شریعت)
(۲)…عورتوں کے لیے عیدین کی نماز جائز نہیں اس لیے کہ عیدگاہ میں مردوں کے ساتھ اختلاط ہوگا اور اسی لیے اب عورتوں کو کسی نماز میں جماعت کی حاضری جائز نہیں دن کی نماز ہو یا رات کی ، جمعہ ہو یا عیدین ، خواہ وہ جوان ہوں یا بڑھیا جیسا کہ تنویر الابصار و درمختار میں ہے : ’’
یُکْرَہُ حُضُورُہُنَّ الْجَمَاعَۃَ وَلَوْ لِجُمُعَۃٍ وَعِیدٍ وَوَعْظٍ مُطْلَقًا وَلَوْ عَجُوزًا لَیْلًا عَلَی الْمَذْہَبِ الْمُفْتَی بِہِ لِفَسَادِ الزَّمَانِ‘‘۔ ([2])
اور اگر صرف عورتیں جماعت کریں تو یہ بھی ناجائز ہے ۔ اس لیے کہ صرف عورتوں کی جماعت ناجائز و مکروہ تحریمی ہے ۔ جیسا کہ فتاویٰ عالمگیری جلد اول مصری ص:۸۰ میں ہے : ’’
یُکْرَہُ إمَامَۃُ الْمَرْأَۃِ لِلنِّسَاءِ فِی الصَّلَوَاتِ کُلِّہَا مِنَ الْفَرَاءِضِ وَالنَّوَافِلِ إلَّا فِی صَلَاۃِ الْجَنَازَۃِ ہَکَذَا فِی النِّہَایَۃِ‘‘۔ ([3])
اور جیسا کہ درمختار میں ہے : ’’
وَیُکْرَہُ تَحْرِیمًا جَمَاعَۃُ النِّسَاء وَلَوْ فِی التَّرَاوِیح فِی غَیْرِ صَلاۃِ جِنَازَۃٍ‘‘۔ ([4])
اور اگر فرداً فرداً پڑھیں تو بھی نماز جائز نہ ہوگی اس لیے کہ عیدین کی نماز کے لیے جماعت شرط ہے ۔ ’’
وَاِذَا فَاتَ الشَّرْطُ فَاتَ الْمَشْرُوْطُ‘‘۔ ہاں عورتیں اس دن اپنے اپنے گھروں میں فرداً فرداً نفل نمازیں پڑھیں تو باعثِ ثواب و برکت اور سبب ازدیادِ نعمت ہے ۔
------------------
∞[1] ’’بہارِ شریعت‘‘، ج۱، ص ۷۸۴.
[2] ’’الدر المختار‘‘،کتاب الصلاۃ،باب الإمامۃ،ج۲،ص۳۶۷.[3] ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الصلاۃ،الباب الخامس،الفصل الثالث فی بیان من یصلح إماما لغیرہ،ج۱،ص۸۵.[4] ’’الدر المختار‘‘،کتاب الصلاۃ،باب الإمامۃ،ج۲،ص۳۶۵.

ماخذ و مراجع

کتاب: اَنْوارُ الحَدِیْثْ جلد: 1 , حدیث نمبر: 27