- ہوم
- کتابیں
- اَنْوارُ الحَدِیْثْ
- کتاب الطہارۃ
- حدیث نمبر 13
وضو توڑنے والی چیزیں - اَنْوارُ الحَدِیْثْ - حدیث نمبر: 13
کتاب الطہارۃ
حدیث مبارکہ
حدیث 1:
عَنْ عَلِیِّ بْنِ طَلْقٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِذَا فَسَا أَحَدُکُمْ فَلْیَتَوَضَّأْ۔
حدیث 2:
عَنْ عَلِیٍّ قَالَ سَءَلْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَذْیِ فَقَالَ مِنَ الْمَذْیِ اَلْوَُضُوْء۔
حدیث 3:
عَن ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْوُضُوءَ عَلَی مَنْ نَامَ مُضْطَجِعًا فَإِنَّہُ إِذَا اضْطَجَعَ اسْتَرَخَتْ مَفَاصِلُہُ۔
حدیث 1:
عن علی بن طلق قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إذا فسا احدکم فلیتوضا۔
حدیث 2:
عن علی قال سءلت النبی صلی اللہ علیہ وسلم عن المذی فقال من المذی الوضوء۔
حدیث 3:
عن ابن عباس قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إن الوضوء علی من نام مضطجعا فإنہ إذا اضطجع استرخت مفاصلہ۔
حدیث ترجمہ
ترجمہ حدیث 1:حضرت علی بن طلقرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ رسول کریمعلیہ الصلاۃ والتسلیمنے فرمایا کہ جب تم میں سے کسی کی ہوا خارج ہو تو وہ وضو کرے ۔ (ترمذی، ابوداود)ترجمہ حدیث 2:حضرت علی کرماللّٰہتعالیٰ وجہہ نے فرمایا کہ میں نے نبی کریمعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْمسے مذی کے متعلق دریافت کیا توحضورصلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلمنے فرمایا کہ مذی نکلنے سے وضو واجب ہو جاتا ہے ۔ (یعنی وضو ٹوٹ جاتا ہے )۔ (ترمذی)ترجمہ حدیث 3:حضرت ابن عباسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ حضورعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْمنے فرمایا کہ جو شخص لیٹ کر نیند سے سو جائے اس پر وضو واجب ہے اس لیے کہ جب آدمی لیٹتا ہے تو اس کے جوڑ ڈھیلے پڑ جاتے ہیں۔ (ترمذی ، ابوداود)
شرح حدیث
انتباہ:(۱)… انبیائے کرامعلیہم الصلوۃ والسلامکا سونا ناقض وضو نہیں اس لیے کہ ان کی آنکھیں سوتی ہیں اور دل بیدار رہتا ہے ۔ (1) (بہار شریعت ، جلد دوم ص ۱۰۷)
درمختار نیز ردالمحتار جلد اول ص:۱۰۱ ، اور بحرالرائق جلد اول ص:۳۹میں ہے ’’وَاللَّفْظُ لِلبَحْرِ الرَّاءِقِ أَنَّ النَّوْمَ مُضْطَجِعًا نَاقِضٌ إلَّا فِی حَقِّ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَرَّحَ فِی الْقُنْیَۃِ‘‘۔ (2)
اور سعایہ جلد اوّل ص: ۲۳۶ میں ہے ’’أَنَّ نَوْمَہُ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَیْسَ بِنَاقِضٍ لِقَوْلِہِ تَنَامُ عَیْنَای وَلَا یَنَامُ قَلْبِیْ کَمَا نَصَّ عَلَیْہِ جَمْعٌ مِمَّن صَنَّفُوْا عَلَیْہِ فِی الْخَصَائصِ اھـ‘‘(3)
اور بخاری شریف جلد اول ص:۵۰۴میں ہے ’’الْأَنْبِیَاءُ تَنَامُ أَعْیُنُہُمْ وَلَا تَنَامُ قُلُوبُہُمْ‘‘(الحدیث) یعنی انبیائے کر ام علیہم السلام کی آنکھیں سوتی ہیں اور ان کے قلوب بیدار رہتے ہیں۔ (4)
(۲)… عوام میں جومشہور ہے کہ گھٹنا یا ستر کھلنے اپنا یا پرایا ستر دیکھنے سے وضو جاتا رہتا ہے تو صحیح نہیں ہے ۔ (5) (بہار شریعت، جلد دوم)
(۳)…مندرجہ ذیل چیزوں سے وضو ٹوٹ جاتا ہے ۔
پا خانہ، پیشاب ، ودی ، مذی، منی، کیڑا، پتھری مرد یا عورت کے آگے یا پیچھے سے نکلنا۔ مرد یا عورت کے پیچھے سے ہوا خارج ہونا۔ خون یا پیپ یا زرد پانی کا کہیں سے نکل کر ایسی جگہ بہنا جس کا وضو یا غسل میں دھونا فرض ہے ۔ کھانا یا پانی یا صفرا کی منہ بھر قے آنا۔ اس طرح سوجانا کہ جسم کے جوڑ ڈھیلے پڑجائیں۔ بے ہوش ہونا، جنون ہونا، غشی ہونا، کسی چیز کا اتنا نشہ ہونا کہ چلنے میں پاؤں لڑکھڑائیں۔ بالغ آدمی کا رکوع و سجود والی نماز میں اتنی زور سے ہنسنا کہ آس پاس والے سنیں۔ دھکتی آنکھ سے آنسو بہنا، ( اور یہ آنسو ناپاک ہے ) مباشرت فاحشہ یعنی مرد اپنے آلہ کو تندی کی حالت میں عورت کی شرمگاہ یا کسی مرد کی شرمگاہ سے ملائے ۔ یا عورت عورت باہم ملائیں بشرطیکہ کوئی شے حائل نہ ہو نا قض وضو ہے ۔ (6) (بہار شریعت)
------------------
∞[1] ’’بہارِ شریعت‘‘، ج۱، ص ۳۰۸.[2] ’’الدر المختار وردالمحتار‘‘،کتاب الطھارۃ،مطلب نوم الأنبیاء غیر ناقض،ج۱،ص۲۹۸، ’’البحر الرائق‘‘،کتاب الطھارۃ،باب نواقض الوضوء،ج۱،ص۷۵.[3] ’’سعایہ‘‘ج۱،ص۲۳۶.[4] ’’صحیح البخاری‘‘،کتاب المناقب،باب کان النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم تنام عیناہ ولا ینام قلبہ،الحدیث:۳۵۷۰، ۲،ص۴۹۲.[5] ’’بہار ِ شریعت‘‘، ج۱، ص ۳۰۹.[6] ’’بہارِ شریعت‘‘، ج۱، ص ۳۰۳۔ ۳۰۷.
ماخذ و مراجع
کتاب: اَنْوارُ الحَدِیْثْ جلد: 1 , حدیث نمبر: 13