Main Icon

رفع یدین کا بیان - اَنْوارُ الحَدِیْثْ - حدیث نمبر: 21

کتاب الصلوٰۃ

حدیث مبارکہ

حدیث 1:
’’ عَنْ عَلْقَمَۃَ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللّٰہ بْنُ مَسْعُودٍ أَلا أُصَلِّی بِکُمْ صَلَاۃَ رَسُولِ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَصَلَّی فَلَمْ یَرْفَعْ یَدَیْہِ إِلَّا فِی أَوَّلِ مَرَّۃٍ قَالَ أَبُو عِیسَی حَدِیثُ ابْنِ مَسْعُودٍ حَدِیثٌ حَسَنٌ وَبِہِ یَقُولُ غَیْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَہْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِینَ‘‘ ۔
حدیث 2:
عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ قَالَ کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إذَا کَبَّرَ لِافْتِتَاحِ الصَّلَاۃِ، رَفَعَ یَدَیْہِ حَتَّی یَکُونَ إبْہَامَاہُ قَرِیبًا مِنْ شَحْمَتَیْ أُذُنَیْہِ، ثُمَّ لَا یَعُودُ۔
حدیث 3:
’’ عَنْ الْأَسْوَدِ قَالَ رَأَیْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ یَرْفَعُ یَدَیْہِ فِی أَوَّلِ تَکْبِیرَۃٍ ثُمَّ لَا یَعُودُ‘‘۔
حدیث 4:
’’ عَنْ مُجَاہِدٍ قَالَ صَلَّیْتُ خَلْفَ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُم ا فَلَمْ یَکُنْ یَرْفَعُ یَدَیْہِ إلَّا فِی التَّکْبِیرَۃِ الْأُولَی مِنْ الصَّلَاۃِ‘‘ ۔

حدیث 1:
’’ عن علقمۃ قال قال عبد اللہ بن مسعود الا اصلی بکم صلاۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فصلی فلم یرفع یدیہ إلا فی اول مرۃ قال ابو عیسی حدیث ابن مسعود حدیث حسن وبہ یقول غیر واحد من اہل العلم من اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم والتابعین‘‘ ۔
حدیث 2:
عن البراء بن عازب رضی اللہ عنہ قال کان النبی صلی اللہ علیہ وسلم إذا کبر لافتتاح الصلاۃ، رفع یدیہ حتی یکون إبہاماہ قریبا من شحمتی اذنیہ، ثم لا یعود۔
حدیث 3:
’’ عن الاسود قال رایت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ یرفع یدیہ فی اول تکبیرۃ ثم لا یعود‘‘۔
حدیث 4:
’’ عن مجاہد قال صلیت خلف ابن عمر رضی اللہ عنہم ا فلم یکن یرفع یدیہ إلا فی التکبیرۃ الاولی من الصلاۃ‘‘ ۔

حدیث ترجمہ

ترجمہ حدیث 1:حضرت علقمہ نے کہا کہ حضرت عبداللّٰہبن مسعودرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا کہ میں تمہارے سامنے حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی نماز نہ پڑھوں پس آپ نے نماز پڑھی اور صرف شروع نماز میں اپنے ہاتھوں کو اٹھایا، امام ترمذی نے فرمایا کہ ابن مسعودرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکی حدیث حسن ہے اور بہت سے علمائے صحابہ اور علمائے تابعین یہی فرماتے ہیں (کہ شروع نماز کے علاوہ رفع یدین نہ کیا جائے )۔ (ترمذی جلد اول ص۳۵)ترجمہ حدیث 2:حضرت براء بن عازبرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا کہ نبی کریمعلیہ الصلاۃ والتسلیمجب نماز شروع فرمانے کے لیے تکبیر کہتے تو اپنے دست ِ مبارک کو اٹھاتے یہاں تک کہ حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے انگوٹھے کانوں کی لو کے قریب ہوجاتے پھر حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمآخر نماز تک رفع یدین نہ فرماتے ۔ (طحاوی ص۱۱۰)ترجمہ حدیث 3:حضرت اسودرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا کہ میں نے فاروقِ اعظم حضرت عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکو دیکھا کہ پہلیتکبیر میں ہاتھ اُٹھاتے تھے پھر آخر نماز تک ایسا نہیں کرتے تھے ۔ (طحاوی ۱۱۱)ترجمہ حدیث 4:حضرت مجاہدرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا کہ میں نے حضرت ابن عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُما کی اقتداء میں نماز پڑھی تو وہ صرف تکبیراولیٰ میں رفع یدین کرتے تھے ۔ (طحاوی ۱۱۰)

شرح حدیث

ان احادیثِ کریمہ سے واضح طور پرمعلوم ہوا کہ حضور سیدعالمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، حضرت فاروقِ اعظم، حضرت عبداللّٰہبن مسعود ، حضرت ابن عمر اور صحابہ و تابعین کے دیگر جلیل القدر علماء رضواناللّٰہعلیہم اجمعین صرف تکبیر تحریمہ کے لیے رفع یدین کرتے تھے پھرآخر نماز تک ایسا نہیں کر تے تھے ۔ اور بعض روایتوں سے جو رکوع کے پہلے اور بعد میں رفع یدین ثابت ہے تو وہ حکم پہلے تھا۔ بعد میں منسوخ ہوگیا۔
جیسا کہ عینی شار ح بخاری نے حضرت عبد
اللّٰہبن زبیررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کی ہے :
’’
أَنَّہُ رَای رَجُلًا یَرْفَعُ یَدَیْہِ فِی الصَّلَوۃِ عِنْدَ الرَّکُوعِ وَعِنْدَ رَفْعِ رَأْسِہِ مِنَ الرَّکُوعِ فَقَالَ لَہُ لَا تَفْعلْ فَاِنَّہُ شَیئٌ فَعَلَہُ رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ثُمَّ تَرَکَہَ‘‘ ۔ ([1])
یعنی حضرت عبد
اللّٰہبن زبیررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے ایک شخص کو رکوع میں جاتے ہوئے اور رکوع سے اٹھتے وقت رفع یدین کرتے ہوئے دیکھا تو آپ نے اس سے فرمایا کہ ایسا نہ کرو اس لیے کہ یہ ایسی چیز ہے کہ جس کو حضورنے پہلے کیا تھا پھر بعد میں چھوڑ دیا۔
------------------
∞[1] ’’
عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری‘‘،ج۴،ص۳۸۰.

ماخذ و مراجع

کتاب: اَنْوارُ الحَدِیْثْ جلد: 1 , حدیث نمبر: 21