Main Icon

مہر کا بیان - اَنْوارُ الحَدِیْثْ - حدیث نمبر: 59

کتاب النکاح

حدیث مبارکہ

حدیث 1:
’’عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَحَقُّ الشُّرُوطِ أَنْ تُوَفُّوْا بِہِ مَا اسْتَحْلَلْتُمْ بِہِ الْفُرُوجَ‘‘َ۔
حدیث 2:
’’عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَۃَ کَمْ کَانَ صَدَاقُ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَتْ کَانَ صَدَاقُہُ لِأَزْوَاجِہِ ثِنْتَیْ عَشْرَۃَ أُوقِیَّۃً وَنَشَّ قَالَتْ أَتَدْرِی مَا النَّشُّ؟ قُلْتُ لَا قَالَتْ نِصْفُ أُوقِیَّۃٍ فَتِلْکَ خَمْسُ مِءَۃِ دِرْہَمٍ‘‘۔

حدیث 1:
’’عن عقبۃ بن عامر قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احق الشروط ان توفوا بہ ما استحللتم بہ الفروج‘‘۔
حدیث 2:
’’عن ابی سلمۃ قال سالت عائشۃ کم کان صداق النبی صلی اللہ علیہ وسلم ؟ قالت کان صداقہ لازواجہ ثنتی عشرۃ اوقیۃ ونش قالت اتدری ما النش؟ قلت لا قالت نصف اوقیۃ فتلک خمس مءۃ درہم‘‘۔

حدیث ترجمہ

ترجمہ حدیث 1:حضرت عقبہ بن عامررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ رسولِ کریمنے فرمایا کہ ( نکاح کی) شرطوں میں سے جس شرط کا پورا کرنا تمہارے لیے سب سے زیادہ اہم ہے وہ وہی شرط ہے جس کے ذریعہ تم نے عورتوں کی شرمگاہوں کو اپنے لیے حلال کیا ہے ۔ (یعنی دین مہر)۔ (بخاری، مسلم)ترجمہ حدیث 2:حضرت ابو سلمہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ میں نے حضرت عائشہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُا سے دریافت کیا کہ نبی کریمعلیہ الصلاۃ والتسلیمکا مہر کتنا تھا؟ انہوں نے فرمایا کہ حضور کا مہر آپ کی (ا کثر) بیویوں کے لیے بارہ اوقیہ اور ایک نش تھا۔ پھر حضرت عائشہ نے فرمایا جانتے ہو نش کیا ہے ؟ میں نے کہا نہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ نصف اوقیہ۔ تو سب مل کر پانچ سو درہم ہوئے ۔ (مسلم)

شرح حدیث

شرح حدیث 2:ایک اوقیہ چالیس درہم کا اور ایک نش بیس درہم کا ہوتا ہے ، لہذا بارہ اوقیہ اور ایک نش کا ۵۰۰ درہم ہوا۔ تفصیل یہ ہے ۱۲ اوقیہ ×۴۰ درہم = ۴۸۰ درہم + ۲۰ درہم = ۵۰۰ درہم پھر ایک درہم ساڑھے تین ماشہ کا ہوتا ہے تو پانچ سو درہم کا ساڑھے سترہ سو ماشہ ( ۵۰۰ درہم ×ـــ۱ ۲ ۳ماشہ =۰ ۱۷۵ ماشہ) اوربارہ ماشہ کا تولہ ہوتا ہے تو ساڑھے سترہ سو ماشہ کا ایک سو پینتالیس تولہ دس ماشہ ہوا (۱۷۵۰ ماشہ ÷۱۲ ماشہ = ۱۴۵ تولہ ۱۰ ماشہ) جس کی قیمت فی تولہ پانچ روپیہ کے حساب سے تقریباً سوا سات سو روپیہ ہوا۔ خلاصہ یہ ہے کہ چاندی کے مذکورہ بھاؤ اور سکۂ رائج الوقت کے حساب سے حضورکی ( اکثر) بیویوں کا مہر تقریباً سوا سات سو روپیہ تھا۔
٭…٭…٭…٭
مہر فاطمہ رضی اللّٰہ تعالی عنہاحضرت سیدہ فاطمہ زہراءرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُا کا مہر چار سو درہم([1])یعنی ایک سو ساڑھے سولہ تولہ چاندی تھی جس کی قیمت فی تولہ پانچ روپیہ کے حساب سے پانچ سو ساڑھے بیاسی روپیہ ہوئی۔
مرقاۃ شرح مشکوۃ جلد سوم ص: ۴۴۷ میں ہے :
’’
نَقَلَ ابْنُ الْہُمَام أَنَّ صَدَاقَ فَاطِمَۃَ کَانَ أَرْبَعَ مِءَۃ دِرْہَمٍ‘‘ ۔ ([2])
یعنی امام ابن الہمام صاحبِ فتح القدیر نے نقل فرمایا کہ حضرت فاطمہ
رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُا کا مہر چار سو درہم تھا ۔
اور حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی بخاری
رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِنے فرمایا کہ:’’مہر فاطمہ زہراء رضی اللّٰہ تعالی عنہا چہار صد درہم بود‘‘ملخصاً۔ ([3])(اشعۃ اللمعات،جلد ثالث،ص۱۳۷)اِنتباہ :(۱)…مہر کم سے کم یعنی ابتدائی مہر دس درہم ہے ۔ در مختار باب المہر میں ہے : ’’أَقَلُّہُ عَشَرَۃُ دَرَاھِم‘‘یعنی مہر کی مقدار کم از کم دس درہم ( ۲ تولہ _۷۲۱ ماشہ چاندی) ہے ۔ ([4])
جس کی قیمت پانچ روپیہ فی تولہ کے حساب سے چودہ روپیہ اٹھاون پیسہ ہوئی۔ اور اگر چاندی کا بھاؤ چھ روپیہ ہوجائے تو دس درہم کا ساڑھے سترہ روپیہ ہوجائے گا ، خلاصہ یہ کہ چاندی کے نرخ کی کمی بیشی پر روپیہ سے ابتدائی مہر کی مقدار کی کمی بیشی ہوتی رہے گی۔ لہذا اس گرانی کے زمانہ میں مہر کی کم سے کم مقدار تین روپیہ ساڑھے دس آنہ سمجھنا غلطی ہے ۔
(۲)…زیادتی کی جانب مہر کی کوئی مقدار معین نہیں ہزار دس ہزار بلکہ چالیس پچاس ہزار اور اس سے زیادہ مہر مقرر کرسکتے ہیں لیکن بہت زیادہ مہر باندھنا بہتر نہیں۔
(۳)…مہر کی تین قسمیں ہیں ۔ (۱) معجل (۲) مؤجل (۳) مطلق ۔ مہر معجل وہ مہر ہے کہ خلوت سے پہلے دینا قرار پایا ہو ۔ اور مؤجّل و ہ مہر ہے کہ جس کی ادائیگی کے لیے کوئی میعاد مقرر ہو۔ او رمطلق وہ مہر ہے کہ نہ خلوت سے پہلے دینا قرار پایا ہواور نہ کوئی میعاد مقرر ہو اور یہی ہمارے ہندوستان میں عام طور سے رائج ہے ۔
(۴)…مہر معجل وصول کرنے کے لیے عورت اپنے کو شوہر سے روک سکتی ہے اور مؤجل میں میعاد پوری ہونے کے بعد روک سکتی ہے پہلے نہیں روک سکتی۔ اور مہر مطلق وصول کرنے کے لیے کبھی نہیں روک سکتی۔
(۵)…ہندوستان میں عام دستور ہے کہ عورت جب مرنے لگتی ہے تو اس سے مہر معاف کراتے ہیں حالانکہ مرض الموت میں معافی دیگر ورثہ کی اجازت کے بغیر معتبر نہیں([5])یعنی بیوی نے معاف بھی کردیا تو ایسی حالت میں ورثہ کی اجازت کے بغیر معاف نہیں ہوگا۔
------------------
∞[1] یہ مسئلہ ائمۂ محققین کے نزدیک مختلف فیہ ہے ، انوار الحدیث کے چھٹے ایڈیشن سے ہم نے بھی حضرت فاطمہ زہراء رضی
اللّٰہتعالی عنہا کا مہر اعلی حضرت امام احمد رضا بریلویعلیہ الرحمۃ والرضوانکی تحقیق کے مطابق کر دیا ہے ۔ واللّٰہاعلم بحقیقۃ الحال (فتاوی فیض الرسول۱/۷۱۶)نوٹ: ∞اعلی حضرت علیہ رحمۃ رب العزۃ فرماتے ہیں: چار سو مثقال چاندی مہرِ خاتونِ جنت رضیاللّٰہتعالی عنہاتھا، یہاںکے سکّے سے ایک سو ساٹھ روپے بھر چاندی۔ (فتاوی رضویہ مخرجہ ۱۲/۱۷۲)[2] ’’مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح‘‘،کتاب النکاح،الحدیث:۳۳۰۴،ج۶،ص۳۵۹۔ ۳۶۰.[3] ’’اشعۃ اللمعات‘‘،ج۳،ص۱۳۷.[4] ’’الدر المختار‘‘،کتاب النکاح،باب المھر،ج۴،ص۲۲۰.[5] درمختار باب المہرکی عبارت ’’صَحَّ حَطُّہَا‘‘کے تحت ردالمحتار میں ہے ۔وَلَا بُدَّ مِنْ رِضَاہَا وَأَنْ لَا تَکُونَ مَرِیضَۃً مَرَضَ الْمَوْتِ. ملخصاً۔
(’’
الدر المختار ورد المحتار‘‘،کتاب النکاح،مطلب فی حط المھر إلخ،ج۴،ص۲۳۹۔ ۲۴۰)
اور فتاوی عالمگیری جلد اول مصری ص۲۹۳ میں ہے ۔
لَا بُدَّ فِی صِحَّۃِ حَطِّہَا مِنَ الرِّضَا حَتَّی لَوْ کَانَتْ مُکْرَہَۃً لَمْ یَصِحَّ وَمِنْ أَنْ لَا تَکُونَ مَرِیضَۃً مَرَضَ الْمَوْتِ ہَکَذَا فِی الْبَحْرِ الرَّاءِقِ۔ ۱۲منہ۔ (’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب النکاح،الفصل السابع فی الزیادۃ إلخ،ج۱،ص۳۱۳)

ماخذ و مراجع

کتاب: اَنْوارُ الحَدِیْثْ جلد: 1 , حدیث نمبر: 59