Main Icon

زنا لواطت کا بیان - اَنْوارُ الحَدِیْثْ - حدیث نمبر: 65

کتاب النکاح

حدیث مبارکہ

حدیث 1:
’’ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا یَزْنِی الزَّانِی حِینَ یَزْنِی وَہُوَ مُؤْمِنٌ‘‘۔
حدیث 2:
’’عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ مَا مِنْ قَوْمٍ یَظْہَرُ فِیہِمْ الزِّنَا إِلَّا أُخِذُوْا بِالسَّنَۃِ وَمَا مِنْ قَوْمٍ یَظْہَرُ فِیہِمْ الرّشَا إِلَّا أُخِذُوا بِالرُّعْبِ‘‘۔
حدیث 3:
’’ عَنْ جَابِرٍأَنَّ رَجُلًا زَنَی بِامْرَأَۃٍ فَأَمَرَ بِہِ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَجُلِدَ الْحَدُّ ثُمَّ أُخْبِرَ أَنَّہُ مُحْصنٌ فَأَمَرَ بِہِ فَرُجِمَ‘‘۔
حدیث 4:
’’عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ وَجَدْتُمُوہُ یَعْمَلُ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ فَاقْتُلُوا الْفَاعِلَ وَالْمَفْعُولَ بِہِ‘‘۔
حدیث 5:
’’ عَنْ اِبْنِِ عَبّاسٍ وَأَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّ رَسُول اللّٰہصَلَّی اللّٰہعَلیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ مَلْعُوْنٌ مَنْ عَمِلَ عَمَلَ قَوْمِ لُوْطٍ رَوَاہُ رَزِیْن وَفِیْ رِوَایَۃٍ لَہُ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ عَلِیًا اَحْرَ قَھُمَا وَاَبَابَکْرٍ ھََدَمَ عَلَیْھِمَا حَاءِطاً‘‘۔

حدیث 1:
’’ عن ابی ہریرۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لا یزنی الزانی حین یزنی وہو مؤمن‘‘۔
حدیث 2:
’’عن عمرو بن العاص قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول ما من قوم یظہر فیہم الزنا إلا اخذوا بالسنۃ وما من قوم یظہر فیہم الرشا إلا اخذوا بالرعب‘‘۔
حدیث 3:
’’ عن جابران رجلا زنی بامراۃ فامر بہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم فجلد الحد ثم اخبر انہ محصن فامر بہ فرجم‘‘۔
حدیث 4:
’’عن ابن عباس قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من وجدتموہ یعمل عمل قوم لوط فاقتلوا الفاعل والمفعول بہ‘‘۔
حدیث 5:
’’ عن ابن عباس وابی ھریرۃ ان رسول اللہصلی اللہعلیہ وسلم قال ملعون من عمل عمل قوم لوط رواہ رزین وفی روایۃ لہ عن ابن عباس ان علیا احر قھما وابابکر ھدم علیھما حاءطا‘‘۔

حدیث ترجمہ

ترجمہ حدیث 1:حضرت ابوہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ حضورنے فرمایا کہ زنا کرنے والا جس وقت زنا کرتا ہے ( اس وقت) مومن نہیں رہتا یعنی مومن کی صفات سے محروم ہوجاتا ہے ۔ (بخاری شریف)ترجمہ حدیث 2:حضرت عمرو بن العاصرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ میں نے حضورکو فرماتے ہوئے سنا کہ جس قوم میں زنا پھیل جاتا ہے وہ قوم قحط سالی میں ضرور مبتلا کی جاتی ہے اور جس قوم میں رشوت عام ہوتی ہے وہ (اپنے دشمن کے ) خوف و ہراس میں مبتلا رہتی ہے ۔ (احمد، مشکوۃ)ترجمہ حدیث 3:حضرت جابررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ ایک مرد نے ایک عورت سے زنا کیا تو حضورنے اسے کوڑے لگوائے پھر خبر دی گئی وہ محصن(یعنی شادی شدہ) ہے تو حضور نے اسے سنگسار کرادیا یعنی لوگوں نے پتھروں سے مار مار کر اسے ہلاک کردیا۔ (ابوداود)ترجمہ حدیث 4:حضرت ابن عباسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمانے کہا کہ حضورنے فرمایا کہ جس شخص کو تم(حضرت) لوطعلیہ السلامکی قوم کا عمل کرتے ہوئے پاؤ تو فاعل اور مفعول دونوں کو قتل کردو۔ (ترمذی)ترجمہ حدیث 5:حضرت ابن عباس و ابوہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُما سے روایت ہے کہ حضورنے فرمایا کہ جو شخص قومِ لوط کا عمل کرے وہ ملعون ہے ۔ (رزین) اور انہیں کی ایک روایت میں حضرت ابن عباسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُما سے ہے کہ حضرت علی رضیاللّٰہعنہ نے فعلِ بد کرنے والے اور کرانے والے دونوںکو جلا دیا اور حضرت ابوبکر صدیقرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے ان دونوں پر دیوار گرادی۔

شرح حدیث

اِنتباہ:(۱)… یہاں اگر حکومت اسلامیہ ہوتی تو زانی کو سو کوڑے مارے جاتے یا سنگ سار کیا جاتا یعنی اس قدر پتھر مارا جاتا کہ وہ مرجاتا مگر اس حال میں زانی اور زانیہ کے لیے یہ حکم ہے کہ مسلمان ان کا پورے طور پر بائیکاٹ کریں ان کے ساتھ کھانا پینا ، اُٹھنا، بیٹھنا، سلام و کلام اور ہر قسم کے اسلامی تعلقات ختم کردیں تاوقتیکہ توبہ کرکے وہ اپنے گناہ سے باز نہ آجائیں۔ اگر مسلمان ایسانہیں کریں گے تو وہ بھی گنہ گار ہوں گے ۔
(۲)…لواطت کرنے والے جسمانی طور پر بھی سخت سزا کے مستحق ہیں کہ حضرت علی
رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے انہیں جلادیا۔ حضرت ابوبکر صدیقرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے ان پر دیوار گرادی اور ایک روایت کے مطابق حضورنے حکم دیا کہ انہیں قتل کردو۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ فعل نہایت خبیث ہے بلکہ زنا سے بھی بدتر ہے ۔
زمانۂ موجودہ میں لواطت کرنے والے اور کرانے والے کے متعلق یہ حکم ہے کہ مسلمان ان سے پورے طور پر قطع تعلق کریں اور اس خبیث فعل سے باز آجانے کے لیے ان پر اپنی طاقت بھر اتنی سختی کریں کہ وہ اپنے اس گندے خلافِ فطرت فعل سے باز آجائیں اگر مسلمان اپنی غفلت سے کام لے کر خاموشی اختیار کریں گے تو گنہ گار ہوں گے ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: اَنْوارُ الحَدِیْثْ جلد: 1 , حدیث نمبر: 65