- ہوم
- کتابیں
- اَنْوارُ الحَدِیْثْ
- کتاب الجنائز
- حدیث نمبر 35
دفن میت کا بیان - اَنْوارُ الحَدِیْثْ - حدیث نمبر: 35
کتاب الجنائز
حدیث مبارکہ
حدیث 1:
’’عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ قَالَ کَانَ بِالْمَدِینَۃِ رَجُلَانِ أَحَدُہُمَا یَلْحَدُ وَالْآخَرُ لَا یَلْحَدُ فَقَالُوا أَیُّہُمَا جَاءَ أَوَّلًا عَمِلَ عَملَہُ فَجَاءَ الَّذِی یَلْحَدُ فَلَحَدَ لِرَسُولِ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ‘‘۔
حدیث 2:
’’عَنْ عَلِیٍّ أَنَّہُ قَالَ شَہِدَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ جِنَازَۃَ رَجُلٍ فَقَالَ یَا عَلِیُّ اسْتَقْبِلْ بِہِ اسْتِقْبَالًا وَقُولُوا جَمِیعًا بِاسْمِ اللّٰہ وَعَلَی مِلَّۃِ رَسُولِ اللّٰہ وَضَعُوہُ لِجَنْبِہِ وَلَا تَکُبُّوہُ لِوَجْہِہِ وَلَا تُلْقُوہُ لِظَہْرِہِ‘‘۔
حدیث 3:
’’عَنْ سُفْیَانَ التَّمَّار أَنَّہُ رَأَی قَبْرَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مُسَنَّمًا‘‘۔
حدیث 4:
’’ عَنْ جَابِرٍ قَالَ رُشَّ قَبْرُ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَکَانَ الَّذِیْ رَشَّ الْمَاءَ عَلَی قَبْرِہِ بِلالُ بْنُ ربَاحٍ بِقِرْبَۃٍ بَدَأَ مِنْ قِبَلِ رَأَسِہِ حَتَّی اِنْتَھَی إِلَی رِجْلَیْہِ‘‘۔
حدیث 1:
’’عن عروۃ بن الزبیر قال کان بالمدینۃ رجلان احدہما یلحد والآخر لا یلحد فقالوا ایہما جاء اولا عمل عملہ فجاء الذی یلحد فلحد لرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘۔
حدیث 2:
’’عن علی انہ قال شہد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنازۃ رجل فقال یا علی استقبل بہ استقبالا وقولوا جمیعا باسم اللہ وعلی ملۃ رسول اللہ وضعوہ لجنبہ ولا تکبوہ لوجہہ ولا تلقوہ لظہرہ‘‘۔
حدیث 3:
’’عن سفیان التمار انہ رای قبر النبی صلی اللہ علیہ وسلم مسنما‘‘۔
حدیث 4:
’’ عن جابر قال رش قبر النبی صلی اللہ علیہ وسلم وکان الذی رش الماء علی قبرہ بلال بن رباح بقربۃ بدا من قبل راسہ حتی انتھی إلی رجلیہ‘‘۔
حدیث ترجمہ
ترجمہ حدیث 1:حضرت عروہ بن زبیررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایاکہ مدینہ شریف میں دو آدمی قبر کھودا کرتے تھے ۔ ایک ان میں سے (حضرت ابوطلحہ انصاریرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُتھے جو) لحد یعنی بغلی کھودتے تھے ۔ اور دوسرے (حضرت ابوعبیدہ بن الجراحرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُتھے جو) بغلی نہیں کھودتے تھے ۔ ( بلکہ شق یعنی صندوقی قبر بناتے تھے ) حضورﷺکے وصال پر ) صحابہ نے آپس میں طے کیا کہ جو ان دونوں میں سے پہلے آئے گا وہ اپنا کام کرے گا۔ تو پہلے وہ صحابی آئے جو لحد کھودا کرتے تھے تو انہوں نے حضورﷺکے لیے بغلی قبر تیار کی۔ (شرح السنۃ، مشکوۃ)ترجمہ حدیث 2:حضرت علیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا کہ رسولِ کریمﷺنے ایک آدمی کے جنازہ میں شرکت کی تو فرمایا اے علی مردہ کو قبلہ کی جانب متوجہ کرو اور سب لوگبِاسْمِ اللّٰہ وَعَلَی مِلَّۃِ رَسُوْلِ اللّٰہ( )پڑھو۔ اور اس کو کروٹ پر رکھو۔ منہ کے بل اوندھا نہ کرو اور نہ پیٹھ کے بل چت لٹاؤ۔ (بدائع الصنائع)ترجمہ حدیث 3:حضرت سفیان تمّاررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ انہوں نے حضورﷺکی قبر شریف کو دیکھا جو اُونٹ کے کوہان کی طرح (اُٹھی ہوئی) تھی۔ (بخاری)ترجمہ حدیث 4:حضرت جابررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا کہ نبی کریمعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْمکی قبر شریف پرپانی چھڑکا گیا۔ اور پانی چھڑکنے والے حضرت بلال بن رُباح تھے ۔ انہوں نے مشک سے پانی چھڑکا اور سرہانے سے چھڑکنا شروع کیا اور قدموں تک چھڑکا۔ (بیہقی، مشکوۃ)
شرح حدیث
شرح حدیث 2:اس حدیث شریف سے واضح طور پر معلوم ہوا کہ میت کو داہنی کروٹ پر لِٹایا جائے ۔ اور یہی صحیح ہے جیسا کہ بہارِ شریعت جلد چہارم ص:۵۴۵ میں ہے :’’ میت کو داہنی کروٹ پر لِٹائیں۔ ‘‘([1])
اور فتاویٰ عالمگیری جلد اول مصری ص:۱۵۵میں ہے : ’’وَیُوضَعُ فِی الْقَبْرِ عَلَی جَنْبِہِ الْأَیْمَنِ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَۃِ کَذَا فِی الْخُلَاصَۃِ‘‘۔ ([2])
اور درمختار مع ردالمحتار جلد اول ، ص:۶۲۶میں ہے : ’’ وَیَنْبَغِی کَوْنُہُ عَلَی شِقِّہِ الْأَیْمَنِ‘‘۔ ([3])
اور بحرالرائق جلد ثانی ص :۱۹۴ میں ہے :’’یَکُونُ عَلَی شِقِّہِ الْأَیْمَنِ‘‘۔ ([4])
اور بدائع الصنائع جلد اول ، ص:۳۱۹ میں ہے : ’’وَیُوضَعُ عَلَی شِقِّہِ الْأَیْمَنِ مُتَوَجِّہًا إِلَی الْقِبْلَۃِ‘‘۔ ([5])
اور مراقی الفلاح میں ہے : ’ ’یُوَجَّہُ اِلَی الْقِبْلَۃِ‘ ‘۔ ([6])
ان عبارتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ میت کو قبر میں داہنے پہلو پر لِٹانا بہتر ہے ۔
فتح القدیر جلد ثالث ص:۹۵پر ہے :
’’إِنَّہُ عَلَیْہِ السَّلَامُ فِی الْقَبْرِ الشَّرِیفِ الْمُکَرَّمِ عَلَی شِقِّہِ الْأَیْمَنِ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَۃِ‘‘۔ ([7])
یعنی حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمعظمت والی قبر شریف میں قبلہ رُو اپنے داہنے پہلو پر (رونق افروز) ہیں۔
اور طحطاوی ص: ۲۶۹میں ہے :
’’وَیُسْنَدُ الْمَیِّتُ مِنْ وَرَاءِہِ بِنَحْوِ تُرَابٍ لِءَلاَّ یَنْقَلِبَ‘‘۔ ([8])
یعنی میت کو کروٹ پر لِٹانے میں اس کی پیٹھ کی جانب مٹی وغیرہ کی ٹیک لگادی جائے تاکہ وہ پلٹ نہ جائے ۔
------------------
∞[1] ’’بہارِ شریعت‘‘، ج۱، ص ۸۴۴، ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الصلاۃ،ج۱،ص۱۶۶.[2] ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الصلاۃ،الفصل السادس فی القبر والدفن إلخ،ج۱،ص۱۶۶.[3] ’’الدر المختار ورد المحتار‘‘،باب صلاۃ الجنازۃ،مطلب فی دفن المیت،ج۳،ص۱۶۷.[4] ’’البحرالرائق‘‘،کتاب الجنائز،فصل السلطان أحق بصلاتہ،ج۲،ص۳۳۹.[5] ’’بدائع الصنائع‘‘،کتاب الصلاۃ،فصل فی سنۃ الدفن،ج۲،ص۶۳.[6] ’’مراقی الفلاح‘‘،باب أحکام الجنائز،فصل فی سنۃ الدفن،ص۳۴۳.[7] ’’فتح القدیر‘‘،کتاب الحج،باب مسا ئل منثورہ،ج۳،ص۱۶۹.[8] ’’حاشیۃ الطحطاوی‘‘،کتاب الصلاۃ،باب أحکام الجنائز،فصل فی حملھا ودفنھا،ص۶۰۹.انتباہ :(۱) …مستحب یہ ہے کہ سرہانے کی طرف دونوں ہاتھ سے تین بار مٹی ڈالیں۔ پہلی بارمِنْہَا خَلَقْنَاکُمْدوسری باروَفِیہَا نُعِیدُکُمْاور تیسری باروَمِنْہَا نُخْرِجُکُمْ تَارَۃً أُخْرَیپڑھیں۔ ([1])(طحطاوی، بہارشریعت)
(۲) … شجرہ یا عہد نامہ قبر میں رکھنا جائز ہے اور بہتر یہ ہے کہ میت کے منہ کے سامنے قبلہ کی جانب طاق کھود کر اس میں رکھیں۔ ([2])(بہارشریعت)
(۳) …میت کی پیشانی یا کفن پر عہد نامہ لکھنا بہتر ہے ۔ درمختار مع ردالمحتار جلد اول ص:۶۳۳میں ہے ۔ ’’کُتِبَ عَلَی جَبْہَۃِ الْمَیِّتِ أَوْ عِمَامَتِہِ أَوْ کَفَنِہِ عَہْدُ نَامَہْ یُرْجَی أَنْ یَغْفِرَ اللّٰہ لِلْمَیِّتِ‘‘۔ ([3])
(۴) …پیشانی پربِسْمِ اللّٰہشریف یا سینہ پر کلمہ طیبہ لکھنا بھی جائز ہے ۔ مگر نہلانے کے بعد کفن پہنانے سے پہلے کلمہ کی انگلی سے لکھیں روشنائی سے نہ لکھیں۔ ([4]) (رد المحتار، جلد اول، ۶۳۴)
(۵) … دفن کے بعد قبر کے سرہانے اذان پڑھنا جائز بلکہ مستحسن ہے ۔
(۶) …علماء سادات اور مشائخ کرام کی قبروں پر قبہ یا عمارت بنانا جائز ہے ۔ ردالمحتار جلداول ص:۶۲۷ میں ہے : ’’قِیلَ لَا یکْرَہُ الْبِنَاءُ إذَا کَانَ الْمَیِّتُ مِنَ الْمَشَایِخِ وَالْعُلَمَاءِ وَالسَّادَاتِ‘‘۔ ([5])
نیز درمختار ، باب الدفن اور طحطاوی ص: ۳۷۰ میں ہے : ’’لَا یُرْفَعُ عَلَیْہِ بِنَائٌ وَقِیلَ لَا بَأْسَ بِہِ وَہُوَ الْمُخْتَارُ‘‘۔ ([6])
(۷) …اولیائے کرام کی اظہارِ عظمت کے لیے ان کے مزارات پر چادر ڈالنا ، پھول رکھنا اور ان کے مزارات کے قریب چراغ روشن کرناجائز ہے ۔ ([7])(رد المحتار، عالمگیری، حدیقہ ندیہ)
------------------
∞[1] ’’حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح‘‘،کتاب الصلاۃ،باب أحکام الجنائز،فصل فی حملھا ودفنھا،ص۶۱۱، ’’بہارشریعت‘‘، ج۱، ص ۸۴۵، ’’الجوھرۃ النیرۃ‘‘،کتاب الصلاۃ،باب الجنائز،ص۱۴۱.[2] ’’بہارشریعت‘‘، ج۱، ص۸۴۸،الدر المختار،کتاب الصلاۃ،باب صلاۃ الجنازۃ،ج۳،ص۱۸۵.[3] ’’الدر المختار ورد المحتار‘‘،کتاب الصلاۃ،باب صلاۃ الجنازۃ،ج۳،ص۱۸۵.[4] ’’رد المحتار‘‘،کتاب الصلاۃ،باب صلاۃ الجنازۃ،ج۳،ص۱۸۶.[5] ’’رد المحتار‘‘،کتاب الصلاۃ،باب صلاۃ الجنازۃ،مطلب فی دفن المیت،ج۳،ص۱۷۰.[6] ’’الدر المختار‘‘،باب الد فن،ج۳،ص۱۶۹۔ ۱۷۰، ’’حاشیۃ الطحطاوی‘‘،کتاب الصلاۃ،ص۶۱۱.[7] ’’رد المحتار‘‘،کتاب الحظر والاباحۃ،فصل فی اللبس،ج۹،ص۵۹۹، ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الکراھیۃ،الباب السادس عشر فی زیارۃ إلخ،ج۵،ص۳۵۱، ’’الحدیقۃ الندیۃ‘‘،ج۲،ص۶۳۰.
ماخذ و مراجع
کتاب: اَنْوارُ الحَدِیْثْ جلد: 1 , حدیث نمبر: 35