- ہوم
- کتابیں
- اَنْوارُ الحَدِیْثْ
- کتاب الصوم
- حدیث نمبر 48
تلاوت قرآن مجید کا بیان - اَنْوارُ الحَدِیْثْ - حدیث نمبر: 48
کتاب الصوم
حدیث مبارکہ
حدیث 1:
’’ عَنْ عُثْمَانَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خَیْرُکُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَہُ‘‘۔
حدیث 2:
’’عَنْ مُعَاذن الْجُہَنِیِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ وَعَمِلَ بِمَا فِیہِ أُلْبِسَ وَالِدَاہُ تَاجًا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ضَوْءُ ہُ أَحْسَنُ مِنْ ضَوْءِ الشَّمْسِ فِی بُیُوتِ الدُّنْیَا لَوْ کَانَتْ فِیکُمْ فَمَا ظَنُّکُمْ بِالَّذِی عَمِلَ بِہَذَا‘‘۔
حدیث 3:
’’ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ قَرَأَ حَرْفًا مِنْ کِتَابِ اللّٰہ فَلَہُ بِہِ حَسَنَۃٌ وَالْحَسَنَۃُ بِعَشْرِ أَمْثَالِہَا لَا أَقُولُ الم حَرْفٌ أَلِفٌ حَرْفٌ وَلَامٌ حَرْفٌ وَمِیمٌ حَرْفٌ‘‘ ۔
حدیث 4:
’’ عَنْ الْبَرَاءِ قَالَ کَانَ رَجُلٌ یَقْرَأُ سُورَۃَ الْکَہْفِ وَإِلَی جَانِبِہِ حِصَانٌ مَرْبُوطٌ بِشَطَنَیْنِ فَتَغَشَّتْہُ سَحَابَۃٌ فَجَعَلَتْ تَدْنُو وَتَدْنُو وَجَعَلَ فَرَسُہُ یَنْفِرُ فَلَمَّا أَصْبَحَ أَتَی النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ ذَلِکَ لَہُ فَقَالَ تِلْکَ السَّکِینَۃُ تَنَزَّلَتْ بِالْقُرْآنِ‘‘۔
حدیث 5:
’’ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ أَنَّ أُسَیْدَ بْنَ حُضَیْرٍ قَالَ بَیْنَمَا ہُوَ یَقْرَأُ مِنْ اللَّیْلِ سُورَۃَ الْبَقَرَۃِ وَفَرَسُہُ مَرْبُوطَۃٌ عِنْدَہُ إِذْ جَالَتِ الْفَرَسُ فَسَکَتَ فَسَکَتَتْ فَقَرَأَ فَجَالَتِ الْفَرَسُ فَسَکَتَ فَسَکَتَتْ الْفَرَسُ ثُمَّ قَرَأَ فَجَالَتِ الْفَرَسُ فَانْصَرَفَ وَکَانَ ابْنُہُ یَحْیَی قَرِیبًا مِنْہَا فَأَشْفَقَ أَنْ تُصِیبَہُ فَلَمَّا اَخَّرَہُ رَفَعَ رَأْسَہُ إِلَی السَّمَاءِ فَإِذَا مِثْلُ الظُّلَّۃِ فِیہَا أَمْثَالُ الْمَصَابِیح فَلَمَّا أَصْبَحَ حَدَّثَ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اقْرَأْ یَا ابْنَ حُضَیْرٍ اقْرَأْ یَا ابْنَ حُضَیْرٍ قَالَ فَأَشْفَقْتُ یَا رَسُولَ اللّٰہ أَنْ تَطَأَ یَحْیَی وَکَانَ مِنْہَا قَرِیبًا فَرَفَعْتُ رَأْسِی فَانْصَرَفْتُ إِلَیْہِ وَرَفَعْتُ رَأْسِی إِلَی السَّمَاءِ فَإِذَا مِثْلُ الظُّلَّۃِ فِیہَا أَمْثَالُ الْمَصَابِیحِ فَخَرَجَت حَتَّی لَا أَرَاہَا قَالَ وَتَدْرِی مَا ذَاکَ قَالَ لَا قَالَ تِلْکَ الْمَلَاءِکَۃُ دَنَتْ لِصَوْتِکَ وَلَوْ قَرَأْتَ لَأَصْبَحَت یَنْظُرُ النَّاسُ إِلَیْہَا لَا تَتَوَارَی مِنْہُمْ‘‘۔
حدیث 6:
’’عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِأُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ کَیْفَ تَقْرَأُ فِی الصَّلَاۃِ فَقَرَأَ أُمَّ الْقُرْآنِ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ مَا أُنْزِلَتْ فِی التَّوْرَاۃِ وَلَا فِی الْإِنْجِیلِ وَلَا فِی الزَّبُورِ وَلَا فِی الْقُرْآنِ مِثْلُہَا‘‘۔
حدیث 7:
’’عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِکُلِّ شَیْئٍ قَلْبًا وَقَلْبُ الْقُرْآنِ یس وَمَنْ قَرَأَ یس کَتَبَ اللّٰہ لَہُ بِقِرَاءَ تِہَا قِرَاءَ ۃَ الْقُرْآنِ عَشْرَ مَرَّاتٍ‘‘۔
حدیث 8:
’’ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِی رَبَاحٍ قَالَ بَلَغَنِی أَنَّ رَسُولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قَرَأَ یس فِی صَدْرِ النَّہَارِ قُضِیَتْ حَوَاءِجُہُ‘‘۔
حدیث 9:
’’عَنْ مَعْقِلِ بْنِ یَسَارٍ الْمُزَنِیِّ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قَرَأَ یس اِبْتِغَاءَ وَجْہِ اللّٰہ تَعَالَی غُفِرَ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ فَاقْرَءُ وْہَا عَنْدَ مَوْتَاکُمْ‘‘۔
حدیث 10:
’’ عَنْ عَلِیٍّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ لِکُلِّ شَیْئٍ عَرُوْسٌ وَعَرُوْسُ الْقُرْآنِ الرَّحْمٰنُ‘‘۔
حدیث 11:
’’عَنْ أَبِی الدَّرْدَاءقَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَیَعْجِزُ أَحَدُکُمْ أَنْ یَقْرَأَ فِی لَیْلَۃٍ ثُلُثَ الْقُرْآنِ قَالُوا وَکَیْفَ یَقْرَأْ ثُلُثَ الْقُرْآنِ قَالَ قُلْ ہُوَ اللّٰہ أَحَدٌ یَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ‘‘۔
حدیث 12:
’’ عَنْ أَبِی مُوسَی الْأَشْعَرِیِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ تَعَاہَدُوا الْقُرْآنَ فَوَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَہُوَ أَشَدُّ تَفَصِّیًا مِنَ الْإِبِلِ فِی عُقُلِہَا‘‘۔ (بخاری، مسلم)
حدیث 13:
’’ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ اِمْرَئٍ یَقْرَأُ الْقُرْآنَ ثُمَّ یَنْسَاہُ إِلَّا لَقِیَ اللّٰہ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ أَجْذَمَ‘‘۔
حدیث 1:
’’ عن عثمان قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیرکم من تعلم القرآن وعلمہ‘‘۔
حدیث 2:
’’عن معاذن الجہنی قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من قرا القرآن وعمل بما فیہ البس والداہ تاجا یوم القیامۃ ضوء ہ احسن من ضوء الشمس فی بیوت الدنیا لو کانت فیکم فما ظنکم بالذی عمل بہذا‘‘۔
حدیث 3:
’’ عن ابن مسعود قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من قرا حرفا من کتاب اللہ فلہ بہ حسنۃ والحسنۃ بعشر امثالہا لا اقول الم حرف الف حرف ولام حرف ومیم حرف‘‘ ۔
حدیث 4:
’’ عن البراء قال کان رجل یقرا سورۃ الکہف وإلی جانبہ حصان مربوط بشطنین فتغشتہ سحابۃ فجعلت تدنو وتدنو وجعل فرسہ ینفر فلما اصبح اتی النبی صلی اللہ علیہ وسلم فذکر ذلک لہ فقال تلک السکینۃ تنزلت بالقرآن‘‘۔
حدیث 5:
’’ عن ابی سعید الخدری ان اسید بن حضیر قال بینما ہو یقرا من اللیل سورۃ البقرۃ وفرسہ مربوطۃ عندہ إذ جالت الفرس فسکت فسکتت فقرا فجالت الفرس فسکت فسکتت الفرس ثم قرا فجالت الفرس فانصرف وکان ابنہ یحیی قریبا منہا فاشفق ان تصیبہ فلما اخرہ رفع راسہ إلی السماء فإذا مثل الظلۃ فیہا امثال المصابیح فلما اصبح حدث النبی صلی اللہ علیہ وسلم فقال اقرا یا ابن حضیر اقرا یا ابن حضیر قال فاشفقت یا رسول اللہ ان تطا یحیی وکان منہا قریبا فرفعت راسی فانصرفت إلیہ ورفعت راسی إلی السماء فإذا مثل الظلۃ فیہا امثال المصابیح فخرجت حتی لا اراہا قال وتدری ما ذاک قال لا قال تلک الملاءکۃ دنت لصوتک ولو قرات لاصبحت ینظر الناس إلیہا لا تتواری منہم‘‘۔
حدیث 6:
’’عن ابی ہریرۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لابی بن کعب کیف تقرا فی الصلاۃ فقرا ام القرآن فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم والذی نفسی بیدہ ما انزلت فی التوراۃ ولا فی الإنجیل ولا فی الزبور ولا فی القران مثلہا‘‘۔
حدیث 7:
’’عن انس قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إن لکل شیئ قلبا وقلب القرآن یس ومن قرا یس کتب اللہ لہ بقراء تہا قراء ۃ القرآن عشر مرات‘‘۔
حدیث 8:
’’ عن عطاء بن ابی رباح قال بلغنی ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال من قرا یس فی صدر النہار قضیت حواءجہ‘‘۔
حدیث 9:
’’عن معقل بن یسار المزنی ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال من قرا یس ابتغاء وجہ اللہ تعالی غفر لہ ما تقدم من ذنبہ فاقرء وہا عند موتاکم‘‘۔
حدیث 10:
’’ عن علی قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول لکل شیئ عروس وعروس القرآن الرحمن‘‘۔
حدیث 11:
’’عن ابی الدرداءقال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایعجز احدکم ان یقرا فی لیلۃ ثلث القرآن قالوا وکیف یقرا ثلث القرآن قال قل ہو اللہ احد یعدل ثلث القرآن‘‘۔
حدیث 12:
’’ عن ابی موسی الاشعری قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تعاہدوا القرآن فوالذی نفسی بیدہ لہو اشد تفصیا من الإبل فی عقلہا‘‘۔ (بخاری، مسلم)
حدیث 13:
’’ عن سعد بن عبادۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ما من امرئ یقرا القرآن ثم ینساہ إلا لقی اللہ یوم القیامۃ اجذم‘‘۔
حدیث ترجمہ
ترجمہ حدیث 1:حضرت عثمانرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ حضورﷺنے فرمایا کہ تم میں بہترین شخص وہ ہے جس نے قرآن کو سیکھا اور دوسروں کو سکھایا۔ (بخاری)ترجمہ حدیث 2:حضر ت معا ذ جہنیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ رسولِ کریمﷺنے فرمایا کہ جو شخص قرآن کو پڑھے اور اس پر عمل کرے تو قیامت کے دن اس کے ماں اور باپ کو ایسا تاج پہنایا جائے گا کہ اس کی روشنی دُنیا کے سورج کی روشنی سے بڑھ کرہوگی جب کہ سورج کو اتنا قریب فرض کر لیا جائے کہ گویا تمہارے گھروں میں اتر آیا ہے پھر تم سمجھ سکتے ہو کہ جب ماں باپ کا یہ مر تبہ ہوگا تو اس شخص کا کیا درجہ ہوگا جس نے قرآن کریم پر عمل کیا۔ (احمد)ترجمہ حدیث 3:حضرت ابنِ مسعودرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ حضورﷺنے فرمایا کہ جو شخص کتاباللّٰہمیں سے ایک حرف پڑھے تو اس کو ہر حرف کے بدلے ایک نیکی ملے گی ا ور ہر نیکی دس نیکیوں کے برابر ہوگی۔ میںآلمّکو ایک حرف نہیں کہتا بلکہ الف ایک حرف ہے ، لام ایک حرف ہے اور میم ایک حرف ہے ۔ (ترمذی، دارمی)
قرآن میں کل ۳۲۱۲۶۷۰ حروف ہیں تو پورے قرآن کی تلاوت سے ۳۲۱۲۶۷۰ نیکیاں ملیں گی۔ترجمہ حدیث 4:حضرت براءرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا کہ ایک شخص سورۂ کہف پڑھ رہا تھا اورا س کے قریب ایک جانب دو رسیوں سے گھوڑا بندھا ہوا تھا اس گھوڑے پر ایک ابر چھا گیا اور گھوڑے سے قریب ہوا پھراور قریب ہوا۔ اور گھوڑے نے اس کو دیکھ کر اچھلناکودنا شروع کیا جب صبح ہوئی تو اس نے حضورعلیہ الصلوۃ والسلامکی خدمت میں حاضر ہو کر واقعہ بیان کیا آپ نے فرمایا یہ سکینہ یعنی رحمت تھی جو قرآن پڑھنے کے سبب نازل ہوئی۔ (بخاری، مسلم)ترجمہ حدیث 5:حضرت ابو سعید خدریرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ اسید بن حضیر نے بیان کیا ہے کہ میں رات کو سورۂ بقرہ پڑھ رہا تھا اور میرا گھوڑا پاس بندھا ہوا تھا یکایک گھوڑا کودنے اُچھلنے لگا میں پڑھتے پڑھتے خاموش ہوگیا تو گھوڑا بھی ٹھہر گیا میں نے پھر پڑھنا شروع کیا گھوڑا پھر اسی طرح اچھلنے کودنے لگا آخر میں نے پڑھنا بند کردیا اور میرا بیٹا یحییٰ گھوڑے کے قریب سورہا تھا مجھ کو اندیشہ ہوا کہ کہیں گھوڑا اس کو تکلیف نہ پہنچادے اس خیال سے یحیی کو ہٹا کرجب آسمان کی طرف سر اٹھایا تو اچانک دیکھا کہ کوئی چیز سائبان کی طرح ہے جس میں چراغوں جیسی چمکتی ہوئی چیزیں ہیں۔ جب صبح ہوئی تو اس واقعہ کو میں نے حضور علیہ الصلو ۃ والسلام سے بیان کیاآپ نے فرمایا اے ابن حضیر تلاوت کرتے رہو۔ میں نے عرض کی یارسول اﷲ! میرا بیٹا یحییٰ قریب تھا مجھ کو اندیشہ ہوا کہ کہیں گھوڑا اس کو کچل نہ دے ۔ اس لیے میں یحییٰ کی طرف چلا گیا اور آسمان کی طرف سر اٹھایا تو کوئی چیز سائبان کی طرح نظر آئی جس میں چراغوں کی طرح چیزیں تھیں۔ پھر میں نے باہر نکل کر دیکھا توکچھ بھی نہ تھا۔ حضورﷺنے فرمایا تم جانتے ہو وہ کیا تھا؟ میں نے عرض کیا نہیں آپ نے فرمایا وہ فرشتے تھے جو تیری قرات کو سننے آئے تھے ۔ اگر تو برابر پڑھتا رہتا تو صبح کو لوگ فرشتوں کو دیکھتے اور فرشتے ان کی نظروں سے نہ چھپتے ۔ (بخاری، مسلم)ترجمہ حدیث 6:حضرت ابوہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ رسولِ کریمﷺنے حضرت اُبی بن کعبرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے دریافت فرمایا کہ تم نماز میں کیا پڑھتے ہو تو انہوں نے سورۂ فاتحہ کی تلاوت کی۔ تو حضورﷺنے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے کہ توراۃ، انجیل اور زبور ( یہاں تک کہ) قرآن میں اس کے مثل ( کوئی دوسری سورۃ) نہیں نازل ہوئی۔ (ترمذی)ترجمہ حدیث 7:حضرت انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ حضورﷺنے فرمایا کہ ہر چیز کا دل ہے اور قرآن کا دل سورۂ یس ہے ۔ پس جو شخص سورۂ یس کو پڑھے اس کے لیے دس قرآن پڑھنے کا ثواب لکھا جاتا ہے ۔ (ترمذی، دارمی)ترجمہ حدیث 8:حضرت عطاء بن رباحرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ مجھ کو معلوم ہوا کہ رسولاللّٰہصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے فرمایا دن کے شروع حصہ میں جو شخص سورۂ یس کو پڑھے تو اس کی حاجتیں پوری کردی جاتی ہیں۔ (دارمی)ترجمہ حدیث 9:حضرت معقل بن یسار مزنیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ نبی کریمعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْمنے فرمایا کہ جس شخص نے محض خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے سورۂ یس کو پڑھا تو اس کے اگلے گناہ معاف کیے جاتے ہیں توا س سورۃکو تم لوگ اپنے مُردوں کے پاس پڑھا کرو۔ (بیہقی)ترجمہ حدیث 10:حضرت علیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ میں نے حضورﷺکو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ہر چیز کی ایک زینت ہے اور قرآن پاک کی زینت سورۂ رحمن ہے ۔ (بیہقی)ترجمہ حدیث 11:حضرت ابودرداءرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ حضورﷺنے فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص رات کے وقت تہائی قرآن نہیں پڑ سکتا۔ صحابہ نے عرض کیا یارسولاللّٰہ! تہائی قرآن کیسے پڑھا جائے ؟ آپ نے فرمایا ( پوری سورۂ )قُل ھُوَ اللّٰہأَحَدتہائی قرآن کے برابر ہے ۔ (مسلم، بخاری عن ابی سعدرضی اللّٰہ عنہ)ترجمہ حدیث 12:حضرت ابو موسی اشعر یرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ رسولِ کریمعلیہ الصلاۃ والتسلیمنے فرمایا کہ قرآن کے ساتھ اعتناکرو۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے اپنی رسی سے اونٹ نکل جانے کی بہ نسبت قرآن سینہ سے جلد نکل جاتا ہے ۔ترجمہ حدیث 13:حضرت سعد بن عبادہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمانے کہا کہ حضورﷺنے فرمایا کہ جو شخص قرآن مجید پڑھے اور پھر اس کو بھول جائے وہ قیامت کے دن خدا سے اس حال میں ملے گا کہ اس کے اعضاء جذام( ) کے سبب گل گئے ہوں گے ۔ (ابوداود، دارمی)
شرح حدیث
اِنتباہ :(۱)…بیرونِ نماز کسی سورت کے شروع سے تلاوت کی ابتداء کرتے وقتأَعُوْذُ بِاللّٰہمِنَ الشَّیطَانِ الرَّجِیْمپڑھنا مستحب اور بسماللّٰہپڑھنا سنت ہے اور درمیان سورت سے تلاوت کی ابتداء کرتے وقتأَعُوْذُ بِاللّٰہاوربِسْمِ اللّٰہپڑھنا مستحب ہے ۔ ([1]) (بہار شریعت)
(۲)…سورۂ توبہ کی ابتداء میںأَعُوْذُ بِاﷲپڑھنے کا نیا طریقہ جو آج کل کے حافظوں نے نکالا ہے بے اصل ہے ۔ اور یہ جو مشہور ہے کہ سورۂ توبہ کے کسی حصہ سے تلاوت کی ابتداء کرتے وقتبِسْمِ اللّٰہنہ پڑھے یہ محض غلط ہے ۔ ([2]) (بہار شریعت، جلد سوم ، ص ۳۰۹)
(۳)…بعض جگہ ’’لَقَدْ جَاء کُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِکُمْ‘‘ سے خارج نماز تلاوت کی ابتداء کرتے ہیں مگر اس کے شروع میںبِسْمِ اللّٰہنہیں پڑھتے ۔ حالانکہ اس آیت کے شروع میں بھیاَعُوْذُاوربِسْمِ اللّٰہپڑھنا مستحب ہے اسی طرحقُلمیں پنج آیت پڑھتے وقت ’’وَإِلٰھُکُمْ إِلٰہُ وَّاحِدٌ‘‘یا’’إِنَّ رَحْمَۃَ اللّٰہقَرِیْبٌ‘‘یا ’’مَاکَانَ مُحَمَّدٌ‘‘ سے تلاوت کی ابتداء کرتے ہیں تو تعوذ و تسمیہ نہیں پڑھتے ایسا ہرگز نہ چاہیے ۔
(۴)…مجمع میں سب لوگ بلند آواز سے قرآن پڑھیں یہ حرام ہے اکثر تیجوں میں سب بلند آواز سے پڑھتے ہیں۔ یہ حرام ہے اگر چند شخص پڑھنے والے ہوں تو حکم ہے کہ آہستہ پڑھیں۔ ([3])(بہار شریعت جلد سوم ص۳۱۰)
اور درمختار مع ردالمحتار جلد اول ص:۳۸۳ میں ہے :’’یَجِبُ الاسْتِمَاعُ لِلْقِرَاءَ ۃِ مُطْلَقًا لِأَنَّ الْعِبْرَۃَ لِعُمُومِ اللَّفْظِ‘‘۔ ([4])
(۵)…پورے قرآن مجید کا حفظ کرنا فرض کفایہ ہے اور سورۂ فاتحہ اور ایک دوسری چھوٹی سورت یا اس کی مثل مثلاً تین چھوٹی آیتیں یا ایک بڑی آیت کا حفظ کرنا واجب عین ہے ۔ ([5]) (بہار شریعت ، جلد سوم ، ص ۳۰۵)
اور درمختار میں ہے : ’’حِفْظُ جَمِیعِ الْقُرْآنِ فَرْضُ کِفَایَۃٍ وَحِفْظُ فَاتِحَۃِ الْکِتَابِ وَسُورَۃٍ وَاجِبٌ عَلَی کُلِّ مُسْلِمٍ‘‘ملخصاً۔ ([6])
(۶)…ث س ش ص،ت ط،ذ ز ض ظ،ا ء ع،ح ہ،ق ک،د ض،ج ز، ان حرفوں میں صحیح امتیاز رکھیں ورنہ معنی فاسد ہونے کی صورت میں نماز نہ ہوگی۔ ([7])(بہار شریعت)
(۷)…جو لوگح،ط،ع،صوغیرہ کے صحیح تلفظ پر قدرت نہ رکھتے ہوں انہیں لازم ہے کہ تصحیح حرو ف کے لیے حتی الامکان کوشش جاری رکھیں ورنہ نماز نہ ہوگی۔
جیسا کہ فتاویٰ رضویہ، جلد سوم، ص: ۹۵، اور شامی جلد اول ص:۴۰۹ میں ہے :’’مَنْ لَا یَقْدِرُ عَلَی التَّلَفُّظِ بِحَرْفٍ مِنَ الْحُرُوفِ کَالرَّہْمَنِ الرَّہِیمِ وَالشَّیْتَانِ الرَّجِیمِ،نَأْبُدُ وَإِیَّاکَ نَسْتَءِینُ،السِّرَاتَ،أَنْأَمْتَ،فَکُلُّ ذَلِکَ حُکْمُہُ مَا مَرَّ مِنْ بَذْلِ الْجہْدِ دَاءِمًا وَإِلَّا فَلا تَصِحُّ الصَّلَاۃُ بِہِ‘‘ملخصاً۔ ([8])
(۸)…دیہاتوں میں مکتب کے اکثر مدرسین کو دیکھا گیا ہے کہ وہ پورے قرآن میںذ ز ظکوج،قکوک،شکوساورغکوگپڑھاتے ہیں یہ سخت گناہ ہے ۔ اور بعض تو بلا وضو قرآن مجید کو ہاتھ لگاتے ہیں جو سخت ناجائز و حرام ہے ۔کَمَا قَالَ اللّٰہ تَعَالَی:{لَّا یَمَسُّهٗۤ اِلَّا الْمُطَهَّرُوْنَ}(پارہ۲۷،سورہ واقعہ)۔
(۹)…آج کل اکثر حافظ اس طرح قرآن مجید پڑھتے ہیں کہیَعْلَمُوْنَ تَعْلَمُوْنَکے سوا کسی لفظ کا پتہ نہیں چلتا۔ نہ تصحیح حروف ہوتی ہے ۔ بلکہ جلدی میں لفظ کے لفظ کھا جاتے ہیں۔ اور اس پر فخر ہوتا ہے کہ فلاں اس قدر جلد پڑھتا ہے حالانکہ اس طرح قرآن مجید پڑھنا سخت حرام ہے ۔ ([9])(بہار شریعت ، جلد سوم ، ص ۳۰۶)
(۱۰)…اوقات مکروہ یعنی طلوع و غروب کے وقت اور دوپہر میں تلاوت قرآن مجید بلا کراہت جائز ہے لیکن نہ کرے تو بہتر ہے ۔ بہار شر یعت جلد سوم ص:۲۳۰ میں ہے :’’ ان اوقات میں تلاوتِ قرآن مجید بہتر نہیں۔ بہتر یہی ہے کہ ذکر و درود شریف میں مشغول رہے ۔ ‘‘ ([10])
اور بحرالرائق جلد اول ص:۲۵۱ میں ’’البغیہ‘‘کا یہ قول:’’الصَّلاۃُ عَـلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی الْأَوْقَاتِ الَّتِی تُکْرَہُ فِیہَا الصَّلَاۃُ وَالدُّعَاءُ وَالتَّسْبِیحُ أَفْضَلُ مِنْ قِرَاء ۃِ الْقُرْآنِ‘‘نقل کرکے لکھتے ہیں: ’’وَلَعَلَّہُ لِأَنَّ الْقِرَاءَ ۃَ رُکْنُ الصَّلَاۃِ وَہِیَ مَکْرُوہَۃٌ فَالْأَوْلَی تَرْکُ مَا کَانَ رُکْنًا لَہَا‘‘۔ ([11])
اور ردالمحتارجلد اول ص:۲۶۲ میں صاحب بحر کے قول ’’فَالْأَوْلَی‘‘ کے تحت ہے :’’فَالْأَوْلَی أَيْ فَالْأَفْضَلُ لِیُوَافِقَ کَلامَ الْبُغْیَۃِ فَإِنَّ مفَادَہُ أَنَّہُ لَا کَرَاہَۃَ أَصْلًا لِأَنَّ تَرْکَ الْفَاضِلِ لَا کَرَاہَۃَ فِیہِ‘‘۔ ([12])مغز قرآن،جان ایمان،روح دیں ہست حب رحمۃ للعلمین------------------
∞[1] ’’بہار شریعت‘‘، ج۱، ص ۵۵۰.[2] ’’بہار شریعت‘‘، ج۱، ص ۵۵۱.[3] ’’بہار شریعت‘‘، ج۱، ص ۵۵۲.[4] ’’الدر المختار ورد المحتار‘‘،کتاب الصلاۃ،فروع فی القراء ۃ خارج الصلاۃ،ج۲،ص۳۲۸.[5] ’’بہار شریعت‘‘، ج۱، ص ۵۴۵۔ ۵۴۶، ’’الدر المختار‘‘،کتاب الصلاۃ،فصل فی القراء ۃ،ج۲،ص۳۱۵.[6] ’’الدر المختار‘‘،کتاب الصلاۃ،مطلب فی الفرق بین فرض العین وفرض الکفایۃ،ج۲،ص۳۱۵.[7] ’’بہار شریعت‘‘، ج۱، ص ۵۵۷.[8] ’’رد المحتار‘‘،کتاب الصلاۃ،باب الإمامۃ،ج۲،ص۳۹۶، ’’الفتاوی الرضویۃ‘‘،ج۶،ص۲۵۵.[9] ’’بہار شریعت‘‘، ج۱، ص ۵۴۷.[10] ’’بہار شریعت‘‘، ج۱، ص ۴۵۵، ’’الدر المختار‘‘،کتاب الصلاۃ،ج۲،ص۴۴.[11] ’’البحر الرائق‘‘،کتاب الصلاۃ،ج۱،ص۴۳۷.[12] ’’رد المحتار‘‘،کتاب الصلاۃ،مطلب یشترط العلم بدخول الوقت،ج۲،ص۴۴.
ماخذ و مراجع
کتاب: اَنْوارُ الحَدِیْثْ جلد: 1 , حدیث نمبر: 48