- ہوم
- کتابیں
- اَنْوارُ الحَدِیْثْ
- کتاب الصلوٰۃ
- حدیث نمبر 19
قراۃ خلف الامام - اَنْوارُ الحَدِیْثْ - حدیث نمبر: 19
کتاب الصلوٰۃ
حدیث مبارکہ
حدیث نمبر1:
’’عَنْ عَطَاء بْنِ یَسَارٍ أَنَّہُ سَأَلَ زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ عَنْ الْقِرَاء ۃِ مَعَ الْإِمَامِ فَقَالَ لَا قِرَاء ۃَ مَعَ الْإِمَامِ فِی شَیْئٍ‘‘ .
حدیث نمبر2:
’’عَنْ أَبِی مُوسَی الْأَشْعَرِیِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّیْتُمْ فَأَقِیْمُوْا صُفُوْفَکُمْ ثُمَّ لْیَؤُمَّکُمْ أَحَدُکُمْ فَإِذَا کَبَّرَ فَکَبِّرُوْا وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا‘‘۔
حدیث نمبر3:
’’عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ صَلَّی خَلْفَ الإِمَامِ فَإِنَّ قِرَاءَ ۃَ الْإِمَامِ لَہُ قِرَاء ۃٌ ‘‘۔
حدیث نمبر4:
’’عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِیُؤْتَمَّ بِہِ فَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا ‘‘۔
حدیث نمبر1:
’’عن عطاء بن یسار انہ سال زید بن ثابت عن القراء ۃ مع الإمام فقال لا قراء ۃ مع الإمام فی شیئ‘‘ .
حدیث نمبر2:
’’عن ابی موسی الاشعری قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إذا صلیتم فاقیموا صفوفکم ثم لیؤمکم احدکم فإذا کبر فکبروا وإذا قرا فانصتوا‘‘۔
حدیث نمبر3:
’’عن جابر بن عبد اللہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من صلی خلف الإمام فإن قراء ۃ الإمام لہ قراء ۃ ‘‘۔
حدیث نمبر4:
’’عن ابی ہریرۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إنما جعل الإمام لیؤتم بہ فإذا قرا فانصتوا ‘‘۔
حدیث ترجمہ
ترجمہ حدیث نمبر1:حضرت عطاء بن یساررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت زید بن ثابترَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے امام کے ساتھ قراء ت کرنے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ امام کے ساتھ کسی بھی نماز میں قراء ت جائز نہیں خواہ سری ہو یا جہری ۔ (مسلم جلد اول ص۲۱۵)ترجمہ حدیث نمبر2:حضرت ابو موسیٰ اشعریرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ رسولِ کریمعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْمنے فرمایا کہ جب تم نماز پڑھو تو اپنی صفیں سیدھی کرو پھر تم میں کوئی امامت کرے تو جب وہ تکبیر کہے تم بھی تکبیر کہو اور جب وہ قراء ت کرے تم چپ رہو۔ (مسلم)ترجمہ حدیث نمبر3:حضرت جابر بن عبداللّٰہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ رسولِ کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا کہ جو شخص امام کے پیچھے نمازپڑھے تو امام کی تلاوت مقتدی ہی کی تلاوت ہے ۔ (موطا امام محمد، ص ۹۹)ترجمہ حدیث نمبر4:حضرت ابوہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ رسولِ کریمﷺنے فرمایا کہ امام صرف اس لیے مقرر کیا گیا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے تو جب وہ تلاوت کرے تو تم خاموش رہو۔ (طحاوی ص ۱۰۶)
شرح حدیث
شرح حدیث نمبر3:’’قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مَنِیعٍ وَابْنُ الْھُمامِ ھَذَا الْإِسْنَادُ صَحِیْحٌ عَلَی شَرْطِ الشَّیْخَینِ‘‘
حضرت محمد بن منیع اور امام بن الہمام نے فرمایا کہ یہ اسناد مسلم اور بخاری کی شرط پر صحیح ہے ۔عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ مَنْ صَلَّی خَلْفَ الإِمَامِ کَفَتْہُ قِرَاء تُہ۔ (1)
حضرت ابن عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُما نے فرمایا کہ جو شخص امام کے پیچھے نماز پڑھے تو امام کی تلاوت اس کے لیے کافی ہے ۔ (موطاامام محمد، ص۹۷)
------------------
∞[1] ’’مؤطا‘‘للإمام مالک بروایۃ إمام محمد،کتاب الصلاۃ،الحدیث:۱۱۵،ج۱،ص۴۱۳.شرح حدیث نمبر4:مسلم شریف جلد اول ص۱۷۵ میں ہے :
’’فَقَالَ لَہُ أَبُو بَکْرٍ فَحَدِیثُ أَبِی ہُرَیْرَۃَ فَقَالَ ہُوَ صَحِیحٌ یَعْنِی وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا‘‘۔ (1)
یعنی ابوبکر نے سلیمان سے پوچھا کہ ابوہریرہ کی حدیث کیسی ہے تو انہوں نے فرمایا کہ صحیح ہے یعنی یہ حدیث کہ جب امام تلاوت کرے تو تم خاموش رہو۔اِنتباہ :صاحبِ ہدایہ نے امام کے پیچھے قرات نہ کرنے پر صحابہ کا اجماع نقل کیا ہے جیسا کہ ہدایہ جلد اول ص۸۲ میں ہے :
’ ’لَا یَقْرَأُ الْمُؤْتَمُّ خَلْفَ الْإِمَام وَعَلَیْہِ إجْمَاعُ الصَّحَابَۃِ‘‘۔ (2)
یعنی مقتدی امام کے پیچھے قراء ت نہ کرے اور اسی پر صحابہ کا اجماع ہے ۔
اور عنایہ میں اسی کے تحت ہے :
’’اَلْمُرَادَ بِہِ إجْمَاعُ أَکْثَرِ الصَّحَابَۃِ،فَإِنَّہُ رُوِیَ عَنْ ثَمَانِینَ نَفَرًا مِنْ کِبَارِ الصَّحَابَۃِ مَنْعَ الْمُقْتَدِی عَنْ الْقِرَاءَ ۃِ خَلْفَ الْإِمَامِ.وَقَالَ الشَّعْبِیُّ أَدْرَکْتُ سَبْعِیْنَ بَدْرِیًّا کُلُّہُمْ یَمْنَعُونَ الْمُقْتَدِی عَنْ الْقِرَاءَ ۃِ خَلْفَ الْإِمَامِ،وَقِیلَ الْمُرَادُ بِہِ إجْمَاعُ مُجْتَہِدِی الصَّحَابَۃِ وَکِبَارِہِمْ،وَقَدْ رُوِیَ عَنْ عَبْدِ اللّٰہ بْنِ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ کَانَ عَشَرَۃٌمِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَنْہَوْنَ عَنْ الْقِرَاءَ ۃِ خَلْفَ الْإِمَامِ أَشَدَّ النَّہْیِ أَبُو بَکْرٍن الصِّدِّیق وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ وَعَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ وَسَعْدُ بْنُ أَبِی وَقَّاصٍ وَعَبْدُ اللّٰہ بْنُ مَسْعُودٍ وَزَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَعَبْدُ اللّٰہ بْنُ عُمَرَ وَعَبْدُ اللّٰہ بْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُم‘‘۔ (3)
یعنی ہدایہ کے قولإِجْمَاعُ الصَّحَابَۃِکا مطلب یہ ہے کہ اکثر صحابہ کا اجماع ہے اس لیے کہ امام کے پیچھے قراء ت کر نے سے مقتدی کا منع کیا جانا بڑے بڑے اسی صحابہ کرام سے مروی ہے ۔ اور امام شعبیرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِنے فرمایا کہ میں نے جنگ بدر میں شریک ہونے والے ستر صحابہ کرام سے ملاقات کی وہ سب کے سب امام کے پیچھے قراء ت کرنے سے مقتدی کو منع فرماتے تھے اور بعض لوگوں نے کہا کہ اجماع صحابہ کا مطلب مجتہدین صحابہ و کبار صحابہ کا اجماع ہے ۔ اوربے شک حضرت عبداللّٰہبیان کرتے ہیں کہ میرے والد حضر ت زید بن اسلمرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا کہ نبی کریمعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْمکے صحابہ کرام میں سے دس حضرات یعنی حضرت ابوبکر صدیق ، حضرت عمر بن خطاب، حضرت عثمان بن عفان، حضرت علی بن ابو طالب ، حضرت عبدالرحمن بن عوف، حضرت سعد بن وقاص، حضرت عبداللّٰہبن مسعود، حضرت زید بن ثابت ، حضر ت عبداللّٰہبن عمر اور حضرت عبداللّٰہبن عباسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُماجمعین یہ سب کے سب امام کے پیچھے قراء ت کرنے سے سختی کے ساتھ منع فرماتے تھے ۔ اورکفایہ میں ہے :
’’مَنع الْمُقْتَدِی عَنِ القراءَ ۃِ مَاثورٌ عَنْ ثَمَانینَ نفراً مِن کِباَر الصَّحَابَۃِ مِنْھُمْ المُرْتَضی وَالْعَبَادِلَۃ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُم‘‘۔ (4)
یعنی بڑے بڑے اسی صحابہ کے بارے میں روایت آئی ہے کہ وہ مقتدی کو قر اء ت سے روکتے تھے ۔ ان میں حضرت علی مرتضٰی، حضرت عبداللّٰہبن عباس، حضرت عبداللّٰہبن عمر اورحضرت عبداللّٰہبن مسعودبھی ہیں۔
اور درمختارمیں ہے :
’’الْمُؤْتَمُّ لَا یَقْرَأُ مُطْلَقًا فَإِنْ قَرَأَ کُرِہَ تَحْرِیمًا‘‘ ۔ (5)
یعنی مقتدی سورۂ فاتحہ یا کسی دوسری سورت کی قراء ت نہیں کرے گا۔ اگر اس نے قراء ت کی تو مکروہ تحریمی کا مرتکب ہوگا۔
------------------
∞[1] ’’صحیح مسلم‘‘،کتاب الصلاۃ،باب التشھد فی الصلاۃ،الحدیث:۶۳۔ (۴۰۴)ص۲۱۵.[2] ’’الہدایۃ‘‘،کتاب الصلاۃ،باب صفۃ الصلاۃ،فصل فی القراء ۃ،ج۱،ص۵۶.[3] ’’العنایۃ شرح الہدایۃ‘‘،کتاب الصلاۃ،فصل فی القراء ۃ،ج۱،ص۲۹۴.[4] ’’الکفایۃ‘‘،کتاب الصلاۃ،فصل فی القراء ۃ،ج۱،ص۲۹۷.[5] ’’الدر المختار‘‘،کتاب الصلاۃ،فصل فی القراء ۃ،ج۱،ص۳۲۶.
ماخذ و مراجع
کتاب: اَنْوارُ الحَدِیْثْ جلد: 1 , حدیث نمبر: 19