Main Icon

حوض کوثر اور شفاعت کا بیان - اَنْوارُ الحَدِیْثْ - حدیث نمبر: 9

کتاب الایمان

حدیث مبارکہ

حدیث1:
عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَیْنَا أَنَا أَسِیرُ فِی الْجَنَّۃِ إِذَا أَنَا بِنَہَرٍ حَافَتَاہُ قِبَابُ الدُّرِّ الْمُجَوَّفِ قُلْتُ مَا ہَذَا یَا جِبْرِیلُ قَالَ ہَذَا الْکَوْثَرُ الَّذِی أَعْطَاکَ رَبُّکَ فَإِذَا طِینُہُ مِسْکٌ أَذْفَرُ۔
حدیث2:
عَنْ عَبْدِ اللّٰہ بْنُ عَمْرٍوقَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَوْضِی مَسِیرَۃُ شَہْرٍ وَزَوَایَاہُ سَوَاء ٌ ومَاؤُہُ أَبْیَضُ مِنْ اللَّبَنِ وَرِیحُہُ أَطْیَبُ مِنْ الْمِسْکِ وَکِیزَانُہُ کَنُجُومِ السَّمَاء مَنْ یَشْرَبُ مِنْہَا فلَا یَظْمَأُ أَبَدًا۔
حدیث3:
عَنْ أَنَسٍ قَالَ سَأَلْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ یَشْفَعَ لِی یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَقَالَ أَنَا فَاعِلٌ قُلْتُ یَا رَسُولَ اللّٰہ فَأَیْنَ أَطْلُبُکَ قَالَ اُطْلُبْنِی أَوَّلَ مَا تَطْلُبُنِی عَلَی الصِّرَاطِ قُلْتُ فَإِنْ لَمْ أَلْقَکَ عَلَی الصِّرَاطِ قَالَ فَاطْلُبْنِی عِنْدَ الْمِیزَانِ قُلْتُ فَإِنْ لَمْ أَلْقَکَ عِنْدَ الْمِیزَانِ قَالَ فَاطْلُبْنِی عِنْدَ الْحَوْضِ فَإِنِّی لَا أُخْطِیُٔ ہَذِہِ الثَّلَاثَ الْمَوَاطِنَ۔
حدیث4:
عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ شَفَاعَتِی لِأَہْلِ الْکَبَاءِرِ مِنْ أُمَّتِی۔
حدیث5:
عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَتَانِی آتٍ مِنْ عِنْدِ رَبِّی فَخَیَّرَنِی بَیْنَ أَنْ یَدْخُلَ نِصْفُ أُمَّتِی الْجَنَّۃَ وَبَیْنَ الشَّفَاعَۃِ فَاخْتَرْتُ الشَّفَاعَۃَ وَہِیَ لِمَنْ مَاتَ لَا یُشْرِکُ بِاللّٰہ شَیْءًا۔
حدیث6:
عَنْ عِمْرَانَ بْن حُصَیْنٍ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُم ا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَخْرُجُ قَوْمٌ مِنْ أُمَّتِیْ مِنَ النَّارِ بِشَفَاعَتِیْ یُسَمَّوْنَ الْجَہَنَّمِیِّیْنَ۔
حدیث7:
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَشْفَعُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ثَلَاثَۃٌ الْأَنْبِیَاءُ ثُمَّ الْعُلَمَاءُ ثُمَّ الشُّہَدَاءُ۔
حدیث8:
عَنْ أَبِی سَعِیدٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ مِنْ أُمَّتِی مَنْ یَشْفَعُ لِلْفِءَامِ وَمِنْہُمْ مَنْ یَشْفَعُ لِلْقَبِیلَۃِ وَمِنْہُمْ مَنْ یَشْفَعُ لِلْعُصْبَۃِ وَمِنْہُمْ مَنْ یَشْفَعُ لِلرَّجُلِ حَتَّی یَدْخُلُوا الْجَنَّۃَ۔
حدیث9:
عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَرِدُ النَّاسُ النَّارَ ثُمَّ یَصْدُرُونَ مِنْہَا بِأَعْمَالِہِمْ فَأَوَّلُہُمْ کَلَمْحِ الْبَرْقِ ثُمَّ کَالرِّیحِ ثُمَّ کَحُضْرِ الْفَرَسِ ثُمَّ کَالرَّاکِبِ فِی رَحْلِہِ ثُمَّ کَشَدِّ الرَّجُلِ ثُمَّ کَمَشْیِہِ۔

حدیث1:
عن انس قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بینا انا اسیر فی الجنۃ إذا انا بنہر حافتاہ قباب الدر المجوف قلت ما ہذا یا جبریل قال ہذا الکوثر الذی اعطاک ربک فإذا طینہ مسک اذفر۔
حدیث2:
عن عبد اللہ بن عمروقال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حوضی مسیرۃ شہر وزوایاہ سواء وماؤہ ابیض من اللبن وریحہ اطیب من المسک وکیزانہ کنجوم السماء من یشرب منہا فلا یظما ابدا۔
حدیث3:
عن انس قال سالت النبی صلی اللہ علیہ وسلم ان یشفع لی یوم القیامۃ فقال انا فاعل قلت یا رسول اللہ فاین اطلبک قال اطلبنی اول ما تطلبنی علی الصراط قلت فإن لم القک علی الصراط قال فاطلبنی عند المیزان قلت فإن لم القک عند المیزان قال فاطلبنی عند الحوض فإنی لا اخطی ہذہ الثلاث المواطن۔
حدیث4:
عن انس ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال شفاعتی لاہل الکباءر من امتی۔
حدیث5:
عن عوف بن مالک قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اتانی آت من عند ربی فخیرنی بین ان یدخل نصف امتی الجنۃ وبین الشفاعۃ فاخترت الشفاعۃ وہی لمن مات لا یشرک باللہ شیءا۔
حدیث6:
عن عمران بن حصین رضی اللہ عنہم ا قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یخرج قوم من امتی من النار بشفاعتی یسمون الجہنمیین۔
حدیث7:
عن عثمان بن عفان قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یشفع یوم القیامۃ ثلاثۃ الانبیاء ثم العلماء ثم الشہداء۔
حدیث8:
عن ابی سعید ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال إن من امتی من یشفع للفءام ومنہم من یشفع للقبیلۃ ومنہم من یشفع للعصبۃ ومنہم من یشفع للرجل حتی یدخلوا الجنۃ۔
حدیث9:
عن ابن مسعود قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یرد الناس النار ثم یصدرون منہا باعمالہم فاولہم کلمح البرق ثم کالریح ثم کحضر الفرس ثم کالراکب فی رحلہ ثم کشد الرجل ثم کمشیہ۔

حدیث ترجمہ

ترجمہ حدیث1:حضرت انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ رسولِ کریمعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْمنے فرمایا کہ ( معراج کی رات میں) جب میں جنت کی سیر کررہا تھا تو میرا گزر ایک نہر پر ہوا جس کے دونوں طرف مُجوّف یعنی خولدار موتی کے گنبد تھے ۔ میں نے پوچھا جبریل یہ کیا ہے ؟ ا نہوں نے کہا یہ وہ کوثر ہے جو آپ کے رب نے آپ کو عطا فرمایا ہے میں نے دیکھا کہ اس کی مٹی نہایت خوشبودار خالص مشک کی ہے ۔ (بخاری، مشکوۃ)ترجمہ حدیث2:حضرت عبداللّٰہبن عمر ورَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمانے کہا کہ سرکار ِ اقدسصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا کہ میرے حوض (کوثر)کی مسافت ایک مہینہ (کا راستہ) ہے وہ مربع ہے یعنی اس کے چاروں کونے برابر ہیں۔ اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور مشک سے زیادہ خوشبودار ہے ۔ اس کے کوزے چمک اور زیادتی میں آسمان کے ستاروں کے مثل ہیں جو شخص اس میں سے پئے گا پھر کبھی پیاسا نہ ہوگا۔ (بخاری، مسلم)ترجمہ حدیث3:حضرت انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا کہ میں نے حضورِ اقدسصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے درخواست کی کہ حضور قیامت کے دن میری سفارش فرمائی جائے ۔ سرکار نے فرمایا میں کروں گا۔ میں نے عرض کیا یارسولاللّٰہ! میں حضور کو کہاں تلاش کروں گا۔ سرکار نے فرمایا پہلے مجھ کو پل صراط پر تلاش کرنا میں نے عرض کیا اگر حضور پل صراط پر نہ ملیں فرمایا تو میزان پر ۔ میں نے عرض کیا اگر حضور میزان پر بھی نہ ملیں فرمایا تو پھر حوضِ کوثر پر، میں ان تین جگہوں کو نہیں چھوڑوں گا ( یعنی ان مقامات میں سے کسی ایک جگہ ضرور ملوں گا)۔ (ترمذی ، مشکوۃترجمہ حدیث4:حضرت انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ نبی کریمعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْمنے فرمایا کہ میری شفاعت ثابت ہے میری امت کے کبیرہ گناہ کرنے والوں کے لیے ۔ (ترمذی، ابو داود، مشکوۃ)ترجمہ حدیث5:حضرتِ عوف بن مالکرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ رسولِ کریمنے فرمایا کہ میر ے پاس خدائے تعالیٰ کی طرف سے ایک فرشتہ آیا تو اس نے مجھے اختیار دیا کہ یا تو میری آدھی امت جنت میں داخل ہو یا میں شفاعت کو اختیار کروں تو میں نے شفاعت کو منظور کیا ، میری شفاعت ہر اس شخص کے لیے ہوگی جو اس حال میں مرے کہ اس نے کسی کو خدائے تعالیٰ کا شریک نہ مانا ہو۔ (ترمذی، مشکوۃ)ترجمہ حدیث6:حضرت عمران بن حصینرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ سر کار ِاقدسصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ میری امت کی ایک جماعت میری شفاعت کی بدولت نارِ دوزخ سے نکالی جائے گی جس کا نام جہنمی پڑا ہواتھا۔ (بخاری، مشکوۃ)ترجمہ حدیث7:حضرت عثمان بن عفانرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ رسولِ کریم علیہ ا لصلوۃوالتسلیم نے فرمایا کہ قیامت کے دن تین قسم کے لوگ شفاعت کریں گے پہلے انبیائے کرامعلیہم السلامپھر علمائے دین۔ پھر شہدائے اسلام۔ ( ترمذی، مشکوۃ)ترجمہ حدیث8:حضرت ابوسعیدرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ رسولِ کریمعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْمنے فرمایا کہ میری امت میں سے بعض لوگ کئی جماعت کی شفاعت کریں گے اور بعض لوگ ایک قبیلہ کی ، اور بعض لوگ دس سے چالیس کی شفاعت کریں گے اور بعض لوگ صرف ایک آدمی کی۔ یہاں تک کہ میری کل امت جنت میں داخل ہوجائے گی۔ (ترمذی، مشکوۃ)ترجمہ حدیث9:حضرت ابن مسعودرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ رسولِ کریمنے فرمایا کہ لوگ جہنم کی آگ کو (پل صراط سے گزر کر) عبور کریں گے ۔ پھر اپنے اعمال صالحہ کے مطابق جہنم(کی لپیٹ وغیرہ) سے نجات پائیں گے تو ان میں سے جو سب سے بہتر ہوں گے وہ بجلی چمکنے کے مانند ( پل صراط سے ) گزر جائیں گے ۔ پھر ہوا کے مثل پھر دوڑنے والے گھوڑے کی طرح، پھر اونٹ سوار کے مانند پھر دوڑنے والے آدمی کی طرح پھر پیدل چلنے کے مثل ۔ (ترمذی، دارمی، ابوداود)

شرح حدیث

شرح حدیث7:حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی بخاریرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِاس حدیث کے تحت فرماتے ہیں کہ:’’تخصیص شفاعت بہ ایں سہ گروہ بجہت زیادت فضل و کرامت ایشان ست والا ہمہ اہلِ خیراز مسلماناں را ثابت ست‘‘۔ (1)
یعنی ان تین گروہ کے ساتھ شفاعت کی تخصیص ان کے فضل و بزرگی کی زیادتی کے سبب ہے ورنہ ہر اہلِ خیر مسلماناں ( مثلاً سچا حاجی، باعمل حافظ) کے لیے ( بھی شفاعت کا حق) ثابت ہے (اشعۃ اللمعات، جلد چہارم، ص۴۰۸)
------------------
∞[1]
اشعۃ اللمعات،کتاب الفتن،باب الحوض والشفاعۃ،الفصل الثالث،ج۴،ص۴۳۲.انتباہ:
(۱)…قیامت قائم ہونا حق ہے اس کا انکار کرنے والا کافر ہے ۔ (1) (بہار شریعت)
(۲)…قیامت کے دن لوگ اپنی اپنی قبروں سے ننگے بدن بغیر ختنہ شدہ اٹھیں گے ، کوئی پیدل ہوگا کوئی سوار اور کافر منہ کے بل چلتے ہوئے میدانِ حشر کو جائیں گے کسی کو فرشتے گھسیٹ کر لے جائیں گے ۔ میدانِ حشر ملک شام کی سرزمین پر قائم ہوگا ا س دن زمین تانبے کی ہوگی ۔ سورج صرف ایک میل کے فاصلے پر ہوگا۔ ابھی چار ہزار برس کی راہ کے فاصلہ پر ہے اور اس کی پیٹھ دنیا کی طرف ہے قیامت کے دن اس کا منہ ا س طرف ہوگا گرمی اور تپش سے بھیجے کھولتے ہوں گے ۔ پسینہ اس کثرت سے نکلے گا کہ اوپر چڑھے گا کسی کے ٹخنوں تک ہوگا۔ کسی کے گھٹنوں تک ، کسی کے کمر ، کسی کے سینہ، کسی کے گلے تک اور کافر کے تو منہ تک چڑھ کر مثل لگام کے جکڑ جائے گا جس میں وہ ڈبکیاں کھائے گا اور گرمی کی حالت میں پیاس کی جو کیفیت ہوگی وہ محتاج بیان نہیں ، زبانیں سوکھ کر کانٹا ہوجائیں گی اور بعضوں کی زبانیں منہ سے باہر نکل آئیں گی۔ ان مصیبتوں کے باوجود کوئی کسی کا پرسانِ حال نہ ہوگا۔ بھائی سے بھائی بھاگے گا ماں باپ اولاد سے پیچھا چھڑائیں گے ۔ ہر ایک اپنی اپنی مصیبت میں گرفتار ہوگا کوئی کسی کا مددگار نہ ہوگا۔ قیامت کا دن جو کہ پچاس ہزار برس کا ہوگا اس پریشانی کی حالت میں قریب آدھے کے گزر جائے گا اب اہلِ محشر مشورہ کریں گے کہ اپنا کوئی سفارشی ڈھونڈنا چاہیے جو ہم کو ان مصیبتوں سے رہائی دلائے لوگ گرتے پڑتے حضرت آدمعلیہ السلامکے پاس حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے کہ اے حضرت آدم !آپ ابوالبشر ہیں خدائے تعالیٰ نے آپ کو اپنے دستِ قدرت سے بنایا فرشتوں سے آپ کو سجدہ کرایا۔ ہم لوگ سخت پریشانی میں مبتلا ہیں آپ ہماری شفاعت کیجیے کہ خدائے تعالیٰ ہمیں اس سے نجات بخشے حضرت آدمفرمائیں گے ۔ یہ میرا مر تبہ نہیں تم کسی اور کے پاس جاؤ۔ لوگ حضرتِ نوحکی خدمت میں حاضر ہوں گے اور ان کے فضائل بیان کرکے عرض کریں گے کہ آپ اپنے رب کے حضور ہماری شفاعت کیجیے ۔ یہاں سے بھی وہی جواب ملے گا کہ میں اس لائق نہیں تم کسی اور کے پاس جاؤ ۔ مختصر یہ کہ لوگ حضرت ابراہیم، حضرت موسی وغیرہ جلیل القدر انبیاء کرامعلیہم السلامکی بارگاہ میں حاضر ہو کر شفاعت کے لیے گریہ وزاری کریں گے مگر ہر جگہ سے یہی جواب ملے گا کہ یہ میرا رتبہ نہیں تم کسی اور کے پاس جاؤ۔ یہاں تک کہ لوگ حضرت عیسیعلیہ السلامکے پاس حاضر ہوں گے وہ بھی یہی فرمائیں گے کہ میں اس لائق نہیں تم کسی اور کے پاس جاؤ ، لوگ عرض کریں گے آپ ہمیں کس کے پاس بھیجتے ہیں۔ فرمائیں گے تم ان کے حضور حاضر ہو جن کے ہاتھ پر فتح رکھی گئی جو آج بے خوف ہیں اور وہ تمام اولاد آدم کے سردار ہیں تم محمدصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں حاضر ہو وہ خاتم النبین ہیں۔ وہی آج تمہاری شفاعت فرمائیں گے اب لوگ پھرتے پھراتے ٹھوکریں کھاتے روتے چلاتے دہائی دیتے ہوئے شفیع المذنبین رحمۃ للعالمین جناب احمد مجتبی محمد مصطفیصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی بارگاہِ بے کس پناہ میں حاضرہو کر شفاعت کے لیے عرض کریں گے ۔ حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمارشاد فرمائیں گے ۔أَنَا لھَایعنی شفاعت کے لیے میں ہوں۔ یہ فرما کر بارگاہِ الہٰی میں سجدہ کریں گے ۔ ارشاد ہوگا:یَا مُحَمَّدُ اِرْفَعْ رَأْسَکَ وَقُلْ تُسْمَعْ وَسَلْ تُعْطَہ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ۔ (2)
یعنی اے محمد!اپنا سر اٹھاؤ اور کہو تمہاری بات سنی جائے گی اور جو مانگو گے ملے گا اور شفاعت کرو تمہاری شفاعت مقبول ہوگی۔ اب شفاعت کا سلسلہ شروع ہوجائے گا یہاں تک کہ جس کے دل میں رائی کے دانہ سے بھی کم ایمان ہوگا سرکار ِ اقدس
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَاس کی بھی شفاعت فرمائیں گے ۔أَللَّہُمَّ ارْزُقْنَا وَوَالِدَیْنَا وَأَسَاتِذَتَنَا وَمَشَایِخَنَا وَتَلاَمِذَتَنَا وَأَحْبَابَنَا وَجَمِیْعَ أَھْلِ السُّنَّۃِ شَفَاعَۃَ حَبِیْبِکَ الْمُصْطَفَے وَنَبِیِّکَ الْمُجْتَبیَ عَلَیْہِ التحیَّۃُ وَالثَّنَاء۔
(۳)…شفاعت حق ہے اس کا انکار کرنا بدمذہبی و گمراہی ہے جیسا کہ حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی بخاری
رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں کہ’’اِنکارِ شفاعت بدعت و ضلالت ست چنانکہ خوارج وبعض معتزلہ بداں رفتہ اند۔ (3) (اشعۃ اللمعات ، جلد چہارم ، ص ۴۰۸)
اور حضرت مّلا علی قاری
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ البَارِیفرماتے ہیں کہ:
’’
فِی شَرحِ مسلم للنووی قَالَ الْقَاضِی عَیَاض رَحمہ اللّٰہ تَعَالَی مَذْہَبُ أَھلِ السُّنَّۃِ جَوَازُ الشَّفَاعۃِ عَقلاً وَوُجُوبُھَا سَمعًا لِصَریحِ قَولہ تَعَالی{یَوْمَىٕذٍ لَّا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ وَ رَضِیَ لَهٗ قَوْلًا}وَقَد جَاء تِ الْآ ثَار الَّتِی بَلَغتْ بِمَجمُوعِھَا التَّواترَ لِصحَّۃِ الشَّفَاعَۃِ فِی الآخِرَۃِ وَأَجْمَع السلفُ الصَّالِحُونَوَمَنْ بَعد ھُم مِنْ أَھلِ السنَّۃِ عَلَیْھَا‘‘(4)
یعنی امام نووی کی کتاب شرح مسلم میں ہے کہ امام قاضی عیاض
رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِنے فرمایا کہ اہلِ سنت و جماعت کا مذہب یہ ہے کہ عقلاً شفاعت جائز ہے اور اس کا وجوب سماعی ہے اس لیے کہ خدائے تعالیٰ نے کھلم کھلا ارشاد فرمایا کہ {یَوْمَىٕذٍ لَّا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ وَ رَضِیَ لَهٗ قَوْلًا}(سورۃ طہ، آیۃ ۱۰۹) یعنی اس دن کسی کی شفاعت کام نہ دے گی مگر اس شخص کی جسے رحمن نے (شفاعت کرنے کا) اذن دے دیا ہو اوراس کی بات پسند فرمائی ہو۔
اور ( اس آیت کریمہ کے علاوہ بہت سی) حدیثیں وارد ہیں۔ جن کا مجموعہ آخرت میں شفاعت کی صحت پر حد تواتر کو پہنچ چکا ہے ۔ شفاعت کے حق ہونے پر سلف صالحین اور ان کے بعد اہلِ سنت و جماعت کا اجماع ہے ۔
(مرقاۃ، جلد پنجم، ص ۲۷۷)
(۴)…شفاعت کی چند قسمیں(5)ہیں جیسا کہ حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی بخاری
رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِنے فرمایا کہ:
’’
نوع اول شفاعت عظمٰی ست کہ عام ست مر تمامہ خلائق را و مخصوصست بہ پیغمبر ما صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کہ ہیچ کس را از انبیاء صلوات اللّٰہ تعالی وسلامہ علیہم مجال جرات وا قدام براں نباشد وآں برائے اراحت وتخلیص از طول وقوف در عرصات وتعجیل حساب و حکم کردگار تعالی وتقدس وبرآوردن ازاں شدت ومحنت دوم از برائے درآوردن قومے در بہشت بغیر حساب و ثبوت آں نیز وارد شدہ برائے پیغمبر ما ونزد بعضے مخصوص بحضرت او ست سوم در اقوامے کہ حسنات وسیئات ایشاں برابر باشد وبامدادِ شفاعت بہ بہشت درآیند چہارم قومے کہ مستحق و مستوجب دوزخ شدہ باشند پس شفاعت کند وایشاں را بہ بہشت در آرد پنجم برائے رفع درجات و زیادت کرامات ششم در گناہ گاراں کہ بدوزخ درآمدہ باشند بہ شفاعت بر آیند وایں شفاعت مشترک ست میاں سائر انبیاء وملائکہ وعلماء وشہداء۔ہفتم در استفتاح جنت ہشتم درتخفیف عذاب از انہا کہ مستحق عذاب مخلد شدہ باشند نہم برائے اہلِ مدینہ خاصہ دہم برائے زیارت کنندگان قبر شریف بروجہ امتیاز واختصاص‘‘۔ (6)یعنی شفاعت کی پہلی قسم شفاعت عظمیٰ ہے جو کہ تمام مخلوقات کے لیے عام ہے اور ہمارے پیغمبرصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے ساتھ خاص ہے یعنی انبیائے کرامعلیہم الصلوۃ والسلاممیں سے کسی اور نبی کو اس پرجرأت اور پیش قدمی کی مجال نہ ہوگی اور یہ شفاعت لوگوں کو آر ام پہنچانے ، میدانِ حشر میں دیر تک ٹھہرنے سے چھٹکارا دلانے ،اللّٰہتبارک و تعالیٰ کے فیصلہ اور حساب کے جلدی کرنے اور قیامت کے دن کی سختی و پریشانی سے نکالنے کے لیے ہوگی۔ دوسری قسم کی شفاعت ایک قوم کو بے حساب جنت میں داخل کرنے کے لیے ہوگی اور یہ شفاعت بھی ہمارے پیغمبر سرکارِ اقدسصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے لیے ثابت ہے ۔ اور بعض لوگوں کے نزدیک یہ شفاعت حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَہی کے ساتھ خاص ہے ۔ تیسری قسم کی شفاعت ان لوگوں کے بار ے میں ہوگی کہ جن کی نیکیاں اور برائیاں برابر ہوں گی۔ اور شفاعت کی امداد سے جنت میں داخل ہوں گے ۔ چوتھی قسم کی شفاعت ان لوگوں کے لیے ہوگی جو کہ دوزخ کے مستحق اور حق دار ہوچکے ہوں گے ۔ تو حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَشفاعت فرما کر ان کو جنت میں لاویں گے ۔ پانچویں قسم کی شفاعت مرتبے کی بلندی اور بزرگی کی زیادتی کے لیے ہوگی۔ چھٹی قسم کی شفاعت ان گنہگاروں کے بارے میں ہوگی جو کہ جہنم میں پہنچ چکے ہوں گے اور شفاعت کی وجہ سے نکل آئیں گے اور اس شفاعت میں دیگر انبیائے کرامعلیہم السلام، فرشتے ، علماء اور شہداء بھی شریک ہوں گے ۔ ساتویں قسم کی شفاعت جنت کھولنے کے بارے میں ہوگی۔ آٹھویں قسم کی شفاعت ان لوگوں کے عذاب کی تخفیف کے بارے میں ہوگی جو کہ دائمی عذاب کے مستحق ہوں گے ۔ نویں قسم کی شفاعت خاص کر مدینہ منورہ والوں اور سرکارِ اقدس کے روضئہ انور کی زیارت کرنے والوں کے لیے اختصاص و امتیاز کے طریقہ پر ہوگی۔ (اشعۃ اللمعات، جلد چہارم، ص۳۸۲)
(۵)…حوض کوثر جو کہ حضور
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو مرحمت ہوا حق ہے ۔ (7)(بہار شریعت)
(۶)…قیامت کے دن ہر شخص کو اس کی نیکیوں کا نامہ اعمال داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا۔ اور برائیوں کا بائیں ہاتھ میں۔ اور کافر کا نامۂ اعمال سینہ توڑ کر اس کابایاں ہاتھ اس کے پس پشت نکال کرپیٹھ کے پیچھے دیا جائے گا۔ (8)
(بہار شریعت)
(۷)…حساب حق ہے اور اس کا منکر کافر ہے ۔ (9)
(بہار شریعت)
(۸)…میزان حق ہے اس پر لوگوں کے نیک و بداعمال تو لے جائیں گے نیکی یا بدی کا پلہ بھاری ہونے کا یہ مطلب ہے کہ اُوپر اٹھے یعنی دنیا کے جیسا معاملہ نہیں ہوگا کہ جو بھاری ہوتا ہے نیچے جھکتا ہے ۔ (10)
(بہار شریعت)
(۹)… حضورِا قدس
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو خدائے تعالیٰ مقامِ محمود عطا فرمائے گا کہ تمام اولین و آخرین آپ کی تعریف کریں گے ۔ (11)
(۱۰)…سرکارِ اقدس
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو ایک جھنڈا مرحمت ہوگا جس کا نام لواء الحمد ہے ۔ حضرت آدمسے لے کر قیامت تک کے سب مومنین اسی جھنڈے کے نیچے ہوں گے ۔ (12)
------------------
∞[1] ’’بہارِ شریعت‘‘، ج۱، ص ۱۲۹.
[2] ’’بہار شریعت‘‘، ج۱، ص۱۳۰۔ ۱۳۹.[3] ’’اشعۃ اللمعات‘‘،کتاب الفتن،باب الحوض والشفاعۃ،الفصل الثالث،ج۴،ص۴۳۲.[4] ’’مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح‘‘،کتاب صفۃ القیامۃ والجنۃ والنار،باب الحوض والشفاعۃ،الحدیث:۵۵۹۸،ج۹،ص۵۶۴.[5] حضرت ملا علی قاریعلیہ رحمۃاللّٰہ الباریفرماتے ہیں’’اَلشَّفَاعَۃُ خَمْسَۃُ أَقْسامٍ(أَوَّلھَا)مُخْتَصَّۃٌ بِنَبیِّنَا صلی اللّٰہ علیہ وسلم وَھِیَ الارَاحَۃُ مِنْ ہَوْلِ الْمَوْقِفِ وَتَعجِیْلُ الْحِسَابِ(الثَّانِیَۃ)فِی إِدْخَال قَومِنِ الْجَنَّۃَ بِغَیْر حِسَابٍ وَھَذِہِ أَیضًا وَرَدَتْ فِی نَبِیِّنَا صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ (الثالثۃ)اَلشَّفَاعَۃُ لِقَومٍ اِسْتوْجَبُوْا النَّارَ فَیشْفَعُ فِیْھِمْ نَبِیُّنَا صلی اللّٰہ علیہ وسلم وَمَنْ شَاء اللّٰہ تَعَالی(الرابعۃ)فِیْمَن دَخَلَ النَّارَ مِن الْمُذْنِبِیْنَ فَقَدْ جَاءَ تِ الْآحَادِیْثُ بإخْرَاجِھِم مِنَ النَّارِ بِشَفَاعَۃِ نَبِیِّنَا وَالْمَلَاءِکَۃِ وَإِخْوَانِھِم مِنَ الْمُومِنِیْنَ ثُمَّ یُخْرِجُ اللّٰہ تَعَالی کُلَّ مَنْ قَالَ لَا إِلَہَ إِلاَّ اللّٰہ(الخامسۃ)اَلشَّفَاعَۃُ فِی زِیَادَۃ الدَّرَجَاتِ فِی الْجَنَّۃ لأَھْلِھَا وَھَذِہِ لَا تُنْکَرُھَا أَیضًا۔ (مرقاۃ،جلد پنجم،ص۲۷۸)(مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح،کتاب صفۃ القیامۃ إلخ،الحدیث:۵۵۹۸،ج۹،ص۵۶۴)[6] ’’اشعۃ اللمعات‘‘،کتاب الفتن،باب الحوض والشفاعۃ،الفصل الأول، ج۴، ص۴۰۴.[7] ’’بہار شریعت‘‘، ج۱، ص۱۴۵.[8] ’’بہار شریعت‘‘، ج۱، ص۱۴۴.[9] ’’بہارِ شریعت‘‘، ج۱، ص۱۴۱.[10] ’’بہارِ شریعت‘‘، ج۱، ص۱۴۶.[11] ’’بہارِ شریعت‘‘، ج۱، ص۱۴۶.[12] ’’بہارِ شریعت‘‘، ج۱، ص۱۴۷.

ماخذ و مراجع

کتاب: اَنْوارُ الحَدِیْثْ جلد: 1 , حدیث نمبر: 9