- ہوم
- کتابیں
- اَنْوارُ الحَدِیْثْ
- کتاب النکاح
- حدیث نمبر 58
نکاح کا بیان - اَنْوارُ الحَدِیْثْ - حدیث نمبر: 58
کتاب النکاح
حدیث مبارکہ
حدیث 1:
’’عَنْ عَبْدِ اللّٰہ بْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْکُمُ الْبَاءَ ۃَ فَلْیَتَزَوَّجْ فَإِنَّہُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ وَمَنْ لَمْ یَسْتَطِعْ فَعَلَیْہِ بِالصَّوْمِ فَإِنَّہُ لَہُ وِجَاء ٌ‘‘۔
حدیث 2:
’’عَنْ عَبْدِ اللّٰہ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الدُّنْیَا کُلُّہَا مَتَاعٌ وَخَیْرُ مَتَاعِ الدُّنْیَا الْمَرْأَۃُ الصَّالِحَۃُ‘‘۔
حدیث 3:
’’عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمْ تَرَ لِلْمُتَحَابَّیْنِ مِثْلَ النِّکَاحِ‘‘۔
حدیث 1:
’’عن عبد اللہ بن مسعود قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا معشر الشباب من استطاع منکم الباء ۃ فلیتزوج فإنہ اغض للبصر واحصن للفرج ومن لم یستطع فعلیہ بالصوم فإنہ لہ وجاء ‘‘۔
حدیث 2:
’’عن عبد اللہ بن عمرو قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الدنیا کلہا متاع وخیر متاع الدنیا المراۃ الصالحۃ‘‘۔
حدیث 3:
’’عن ابن عباس قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لم تر للمتحابین مثل النکاح‘‘۔
حدیث ترجمہ
ترجمہ حدیث 1:حضرت عبداللّٰہبن مسعودرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ حضورﷺنے فرمایا کہ اے نوجوانو! تم میں سے جو شخص نکاح کی استطاعت رکھتا ہے وہ نکاح کرے کہ یہ ( اجنبی عور ت کی طرف سے )نگاہ کو روکنے والا، شرمگاہ کی حفاظت کرنے والا ہے اور جس میں نکاح کی استطاعت نہ ہو وہ روزے رکھے اس لیے کہ روزہ شہوت کو توڑ تا ہے ۔ (بخاری ، مسلم)ترجمہ حدیث 2:حضرت عبداللّٰہبن عمرورَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ رسولِ کریمعلیہ الصلاۃ والتسلیمنے فرمایا کہ ساری دنیا ایک متاع زندگی ہے اور دنیا کی بہترین متا ع نیک عورت ہے ۔ (مسلم)ترجمہ حدیث 3:حضرت ابن عباسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُما نے کہا کہ حضورﷺنے فرمایا کہ رشتہ نکاح کے سوا (اور کوئی رشتہ)دیکھنے میں نہیں آیا جو دو اجنبی آدمیوں کے درمیان اتنی گہری محبت پیدا کردے ۔ (ابن ماجہ)
شرح حدیث
انتباہ:(۱)…جو شخص مہرو نفقہ کی قدرت رکھتا ہو اس کے نکاح کرنے کی تفصیل یہ ہے کہ اگر اسے یقین ہو کہ بحالتِ تجرد وہ زنا کی معصیت میںمبتلا ہوجائے گا تو نکاح کرنا فرض ہے اور اگر اس کا یقین نہیں بلکہ صرف اندیشہ ہے تو نکاح کرنا واجب ہے اور شہوت کا بہت زیادہ غلبہ نہ ہو تو نکاح کرنا سنت مؤکدہ ہے اور اگر اس بات کا اندیشہ ہے کہ نکاح کرے گا تو نان و نفقہ نہ دے سکے گا یا نکاح کے بعد جو فرائض متعلقہ ہیں انہیں پورا نہ کرسکے گا تو نکاح کرنا مکروہ ہے اور اگر ان باتوں کا اندیشہ ہی نہیں بلکہ یقین ہو تو نکاح کر نا حرام ہے ۔ ([1])(درمختار، رد المحتار، بہار شریعت)
(۲)…بعض لوگ بیوہ عورتوں کا نکاح کرنا خاندان کے لیے عار سمجھتے ہیں یہ سخت ناجائز و گناہ ہے ۔
(۳)…مرتد و مرتدہ کا نکاح کسی سے صحیح نہیں ہوسکتا نہ مسلمان سے نہ کافر سے نہ مرتدہ و مرتد سے ۔ ([2])
(بہار شریعت بحوالہ درمختار)
اور جیسا کہ فتاویٰ عالمگیری جلد اول مصری ص: ۲۶۳میں ہے :
’’لَا یَجُوزُ لِلْمُرْتَدِّ أَنْ یَتَزَوَّجَ مُرْتَدَّۃً وَلَا مُسْلِمَۃً وَلَا کَافِرَۃً أَصْلِیَّۃً وَکَذَلِکَ لَا یَجُوزُ نِکَاحُ الْمُرْتَدَّۃِ مَعَ أَحَدٍ،کَذَا فِی الْمَبْسُوطِ‘‘ ۔ ([3])
یعنی مرتدہ مسلمہ اور کافرہ اصلیہ سے مرتد کا نکاح کرنا جائز نہیں۔ اور ایسا ہی مر تدہ کا نکاح کسی سے جائز نہیں ہے ۔ ایسا ہی مبسوط میں ہے ۔
(۴)…وہابیوں، دیوبندیوں ، رافضیوں ، نیچریوں، وغیرہ بددینوں کے ساتھ رشتہ نکاح قائم کرنا اہل سنت کے لیے ہر گز جائز نہیں۔
(۵)…پورے ہندوستان میں عام طور پر جو رائج ہے کہ عورت یا ولی سے ایک شخص اذن لے کرآتا ہے جسے وکیل کہتے ہیں وہ نکاح پڑھانے والے سے کہہ دیتا ہے کہ میں فلاں کا وکیل ہوں آپ کو اجازت دیتا ہوں کہ نکاح پڑھا دیجئے ۔ یہ طریقہ محض غلط ہے ۔ وکیل کو یہ اختیار نہیں کہ اس کام کے لیے دوسرے کو وکیل بنادے اگر ایسا کیا گیا تو نکاح فضولی ہوا ( عورت کی) اجازت پر موقوف رہے گا اجازت سے پہلے مرد و عورت ہر ایک کو توڑ دینے کا اختیار حاصل ہے ۔ لہذا یوں چاہیے کہ جو نکاح پڑھائے وہ خود عورت یا اس کے ولی کا وکیل بنے ۔ ([4])(بہار شریعت)
یا پھر عورت کا وکیل اس بات کی بھی اجازت حاصل کرے کہ وہ نکاح پڑھانے کے لیے دوسرے کو وکیل بناسکتا ہے ۔
(۶)…بعض لوگ ایجاب و قبول کے الفاظ بہت آہستہ بولتے ہیں اگر اس قدر آہستہ بولے کہ حاضرین میں سے دوآدمیوں نے بھی ایجاب و قبول کے الفاظ نہ سنے تو نکاح نہ ہوا۔
(۷)…نکاح سے پہلے لڑکی اور لڑکا کو کلمۂ طیبہ اور ایمان مجمل و مفصل پڑھانا جیسا کہ رائج ہے بہتر ہے ۔
(۸)…خطبۂ نکاح ایجاب و قبول سے پہلے پڑھنا مستحب ہے ۔
٭…٭…٭…٭خطبۂ نکاحاَلْحَمْدُ لِلَّہِ نَحْمَدُہُ وَنَسْتَعِینُہُ وَنَسْتَغْفِرُہُ وَنُؤْمِنُ بِہِ وَنَتَوَکَّلُ عَلَیْہِ وَنَعُوذُ بِاللّٰہ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا وَمِنْ سَیِّءَاتِ أَعْمَالِنَا مَنْ یَہْدِہِ اللّٰہ فَلَا مُضِلَّ لَہُ وَمَنْ یُضْلِلْہُ فَلَا ہَادِیَ لَہُ،وَأَشْہَدُ أَنْ لَا إلَہَ إلَّا اللّٰہ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ،وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ۔أَعُوذُ بِاللّٰہ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیمِ بِسْمِ اللّٰہ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ۔یَا أَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّکُمُ الَّذِی خَلَقَکُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَۃٍ وَخَلَقَ مِنْہَا زَوْجَہَا وَبَثَّ مِنْہُمَا رِجَالًا کَثِیرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُوا اللّٰہ الَّذِی تَسَاءَ لُونَ بِہِ وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللّٰہ کَانَ عَلَیْکُمْ رَقِیبًا۔یَأَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہ حَقَّ تُقَاتِہِ وَلَا تَمُوتُنَّ إلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ۔یَأَ یُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِیدًا۔یُصْلِحْ لَکُمْ أَعْمَالَکُمْ وَیَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوبَکُمْ وَمَنْ یُطِعِ اللّٰہ وَرَسُولَہُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیمًا۔صَدَقَ اللّٰہ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ۔وَصَدَقَ رَسُوْلُہُ النَّبِیُّ الْکَرِیْمُ۔وَنَحْنُ عَلَی ذَلِکَ مِنَ الشَّاھِدِیْنَ وَالْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَلَمِیْنَ۔
٭…٭…٭…٭دعا بعد نکاحأَللَّہُمَّ اَلِّفْ بَیْنَہُمَا کَمَا اَلَّفْتَ بَیْنَ سَیِّدِنَا آدَمَ وَحَوَّآء عَلَی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِمَا الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ۔أَللَّہُمَّ اَلِّفْْ بَیْنَہُمَا کَمَا اَلَّفْتَ بَیْنَ سَیِّدِنَا اِبْرَاھِیْمَ وَسَارَۃَ عَلَی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِمَا الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ۔أَللَّہُمَّ اَلِّفْ بَیْنَہُمَا کَمَا اَلَّفْتَ بَیْنَ سَیِّدِنَا یُوْسُفَ وَزُلَیْخَآ عَلَی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِمَا الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ۔أَللَّہُمَّ اَلِّفْ بَیْنَہُمَا کَمَا اَلَّفْتَ بَیْنَ سَیِّدِنَا سُلَیْمَانَ وَبِلْقِیْسَ عَلَی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِمَا الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ۔أَللَّہُمَّ اَلِّفْْ بَیْنَہُمَا کَمَا اَلَّفْتَ بَیْنَ سَیِّدِنَا مُوْسَی وَصَفُوْرَاءَ عَلَی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِمَا الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ۔أَللَّہُمَّ اَلِّفْ بَیْنَہُمَا کَمَا اَلَّفْتَ بَیْنَ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ وَخَدِیْجَۃِ الْکُبْرَی رَضِیَ اللّٰہ تَعَالَی عَنْہَا۔أَللَّہُمَّ اَلِّفْ بَیْنَہُمَا کَمَا اَلَّفْتَ بَیْنَ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ وَعَاءِشَۃَ الصِّدِّیْقَۃِ وَسَاءِر أُمَّھَاتِ الْمُؤْمِنِیْنَ رَضِیَ اللّٰہ تَعَالَی عَنْہُنَّ۔أَللَّہُمَّ اَلِّفْ بَیْنَہُمَا کَمَا اَلَّفْتَ بَیْنَ سَیِّدِنَا عَلِيِّ الْمُرْتَضَی وَفَاطِمَۃَ الزَّھْرَاءَ رَضِیَ اللّٰہ تَعَالَی عَنْہُمَا۔آمِیْنَ۔آمِیْنَ۔آمِیْنَ۔بِرَحْمَتِکَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ۔
------------------
∞[1] ’’بہارِ شریعت‘‘، ج۲، ص ۴۔ ۵، ’’الدر المختار ورد المحتار‘‘،کتاب النکاح،ج۴،ص۷۲۔ ۷۳.[2] ’’بہارِ شریعت‘‘، ج۲، ص ۳۱.[3] ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب النکاح،القسم السا بع المحرمات بالشرک،ج۱،ص۲۸۲.[4] ’’بہارِ شریعت‘‘، ج۲، ص ۱۵.
ماخذ و مراجع
کتاب: اَنْوارُ الحَدِیْثْ جلد: 1 , حدیث نمبر: 58