- ہوم
- کتابیں
- اَنْوارُ الحَدِیْثْ
- کتاب الایمان
- حدیث نمبر 4
سنت اور بدعت - اَنْوارُ الحَدِیْثْ - حدیث نمبر: 4
کتاب الایمان
حدیث مبارکہ
حدیث 1:
’’عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالَی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ تَمَسَّکَ بِسُنَّتِیْ عِنْدَ فَسَادِ أُمّتِیْ فَلَہُ أَجْرُ مِءَۃِ شَھِیْدٍ۔
حدیث 2:
’’عَنْ بِلالِ بْنِ حَارِ ثِ الْمُزَنِیِّ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالَی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ أَحْیَی سُنَّۃً مِّنْ سُنَّتِیْ قَدْ اُمِیْتَتْ بَعْدِیْ فَإِنَّ لَہُ مِنَ الْأَجْرِمِثْلَ أُجُوْرِ مَنْ عَمِلَ بِھَا مِنْ غَیْرِ أَنْ یَنْقُصَ مِنْ أُجُوْرِھِمْ شَیْئاً وَمَنِ ابْتَدَعَ بِدْعَۃً ضَلَالَۃً لَایَرْضَاہُ اللّٰہ وَرَسُوْلُہُ کَانَ عَلَیْہِ مِنَ الْاِثْمِ مِثْلُ آثَامِ مَنْ عَمِلَ بِھَا لَا یَنْقُصُ ذَلِکَ مِنْ أَوْزَارِھِمْ شَیْئاً۔ (ترمذی، مشکوۃ)
حدیث 3:
’’عَنْ جَرِیْرٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالَی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ سَنَّ فِی الْإِسْلَامِ سُنَّۃً حَسَنَۃً فَلَہُ أَجْرُھَا وَأَجْرُمَنْ عَمِلَ بِھَا مِنْ بَعْدِہِ مِنْ غَیْرِ أَنْ یَّنْقُصَ مِنْ أُجُوْرِھِمْ شَیْئٌ، وَمَنْ سَنَّ فِی الْإِسْلَامِ سَنَّۃً سَیِّءَۃً کَانَ عَلَیْہِ وِزْرُھَا وَوِزْرُمَنْ عَمِلَ بِھَا مِنْ بَعْدِہِ مِنْ غَیْرِ أَنْ یَّنْقُصَ مِنْ أَوْزَارِہِمْ شَیْئٌ۔ (مسلم، مشکوۃ)
حدیث 4:
’’عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالَی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَمَّا بَعْدُ فَاِنَّ خَیْرَ الْحَدِیْثِ کِتَابُ اللّٰہ وَخَیْرُالْھُدَی ھُدَی مُحَمَّدٍ وَشَرّالْاُمُوْرِ مُحْدَثَا تُھَا، وَکُلُّ بِدْعَۃٍ ضَلَالَۃٌ۔ (مسلم، مشکوۃ)
حدیث 1:
’’عن ابی ھریرۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم من تمسک بسنتی عند فساد امتی فلہ اجر مءۃ شھید۔
حدیث 2:
’’عن بلال بن حار ث المزنی قال قال رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم من احیی سنۃ من سنتی قد امیتت بعدی فإن لہ من الاجرمثل اجور من عمل بھا من غیر ان ینقص من اجورھم شیئا ومن ابتدع بدعۃ ضلالۃ لایرضاہ اللہ ورسولہ کان علیہ من الاثم مثل اثام من عمل بھا لا ینقص ذلک من اوزارھم شیئا۔ (ترمذی، مشکوۃ)
حدیث 3:
’’عن جریر قال قال رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم من سن فی الإسلام سنۃ حسنۃ فلہ اجرھا واجرمن عمل بھا من بعدہ من غیر ان ینقص من اجورھم شیئ، ومن سن فی الإسلام سنۃ سیءۃ کان علیہ وزرھا ووزرمن عمل بھا من بعدہ من غیر ان ینقص من اوزارہم شیئ۔ (مسلم، مشکوۃ)
حدیث 4:
’’عن جابر قال قال رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اما بعد فان خیر الحدیث کتاب اللہ وخیرالھدی ھدی محمد وشرالامور محدثا تھا، وکل بدعۃ ضلالۃ۔ (مسلم، مشکوۃ)
حدیث ترجمہ
ترجمہ حدیث1:حضرت ابوہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ رسول کریمعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْمنے فرمایا کہ جو شخص میری امت میں (عملی یا اعتقادی) خرابی پیدا ہونے کے وقت میری سنت پر عمل کرے گا اس کو سو شہیدوں کا ثواب ملے گا۔ (مشکوۃ)ترجمہ حدیث2:حضرت بلال بن حارث مزنیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے انہوں نے کہا کہ سرکارِ اقدسصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَنے فرمایا کہ جس نے میری کسی ایسی سنت کو ( لوگوں میں) رائج کیا جس کا چلن ختم ہوگیا ہو تو جتنے لوگ اس پر عمل کریں گے ان سب کے برابر رائج کرنے والے کو ثواب ملے گا اور عمل کرنے والوں کے ثواب میں کچھ کمی نہ ہوگی۔ اور جس نے کوئی ایسی نئی بات نکالی جو سیّئہ ہے جسےاللّٰہو رسول ( جل جلالہ وصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) پسند نہیں فرماتے تو جتنے لوگ اس پر عمل کریں گے ان سب کے برابر نکالنے والے پر گناہ ہوگا اور عمل کرنے والوں کے گناہوں میں کچھ کمی نہ ہوگی۔ترجمہ حدیث3:حضرت جریررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ رسول ِکریمعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْمنے فرمایا کہ جو اسلام میں کسی اچھے طریقہ کو رائج کرے گا تواس کو اپنے رائج کرنے کا بھی ثواب ملے گا اور ان لوگوں کے عمل کرنے کا بھی جو اس کے بعد ا س طریقہ پر عمل کرتے رہیں گے اور عمل کرنے والوں کے ثواب میں کوئی کمی بھی نہ ہوگی۔ اور جو مذہبِ اسلام میں کسی برے طریقہ کو رائج کرے گا تو اس شخص پر اس کے رائج کرنے کا بھی گناہ ہوگا ، اور ان لوگوں کے عمل کرنے کا بھی گناہ ہوگا جو اس کے بعد اس طریقہ پر عمل کرتے رہیں گے اور عمل کرنے والوں کے گناہ میں کوئی کمی نہ ہوگی۔ترجمہ حدیث4:حضرت جابررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ سر کار ِاقدسصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے (غالباً ایک خطبہ میں) فرمایا۔ بعد حمد الہٰی کے معلوم ہونا چاہیے کہ سب سے بہتر کلام کتاباللّٰہہے اور بہترین راستہ محمد (صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) کا راستہ ہے اور بدترین چیزوں میں وہ ہے جسے نیانکالا گیا اور ہر بدعت گمراہی ہے ۔
شرح حدیث
شرح حدیث:حضرت مُلّا علی قاریعلیہ رحمۃ اللّٰہ الباریاس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں کہ :قَالَ النَّووی البِدعۃُ کلّ شی ئٍ عمل علی غیر مثال سبق،وفی الشرع إحدَاثُ ما لم یَکنْ فی عھدِ رسولِ اللّٰہ صلَّی اللّٰہ تعالی علیہ وسلَّم وقولہ کُلُّ بِدْعَۃٍ ضَلَالَۃٌ عامٌ مخصوصٌ قال الشیخُ عزّالدین بن عبد السلام فِی آخرِ’’کتابِ القواعد‘‘اَلبدعَۃُ إِمّا وَاجبۃٌ کتعلّمِ النحوِ لِفَھم کلام اللّٰہ ورسولِہِ وکتدویْنِ أُصُولِ الْفقۃ والکَلام فِی الجَرح والتَّعدیلِ وَإِمّا مُحرَّمۃٌ کمذہب الجبریَّۃِ والقَدریَّۃ وَالمرجئیَّۃ والمجسِّمۃ والردُّ علی ھؤلاء من البِدَعِ الواجبۃ لأنَّ حفظَ الشَّریْعۃِ مِن ھذہ البِدَعِ فرضُ کفایۃٍ وَإِمَّا مَندُوبَۃٌ کَإِحْدَاث الربطِ والمدارسِ وکلّ احسان لَمْ یَعْھَد فِی الصَّدر الْأوَّل وَکالتَّرَاویح أَیْ بِالجَمَاعَۃِ الْعَامَّۃِ والکلامِ فِی دقائق الصوفیَّۃِ۔وَإِمَّا مَکْرُوْھَۃٌ کَزَخرَفۃ المَسَاجدِ وتزویق المصاحفِ یعنی عند الشافعیَّۃ وإما عِندَ الحنفیَّۃِ فمباحٌ وَإِمَّا مُبَاحَۃٌ کَالمُصَافَحَۃِ عَقیبَ الصُّبْح وَالْعصرِأَیْ عندَ الشَافعِیَّۃِ أَیضاً وَإِلَّا فَعِند الحَنفِیَّۃِ مکروہ وَالتَّوسعُ فِی لذَائذِ المآکلِ وَالمشارِبِ وَالمَسَاکِینِ وَتوسِیع الأَکمَامِ وَقَدْ اختلف فِی کراھَۃ بعض ذلک أَیْ کَمَا قَدَّمْنا قَالَ الشَّافعی رَحِمَہ اللّٰہ مَا أحدث ممَّا یخَالفُ الکتاب أَوِالسنَّۃ أَوِالأثر أَوِالاجْمَاع فھو ضَلالۃٌ وَمَا أحدَثَ من الخیر ممَّا لَایخالف شیئاً مِنْ ذَلِکَ فَلیس بمذمومٍ۔ (1)
یعنی امام نوویرحمۃ اللّٰہ علیہنے فرمایا کہ ایسا کام جس کی مثال زمانہ سابق میں نہ ہو ( لغت میں) اس کو بدعت کہتے ہیں۔ اور شرع میں بدعت یہ ہے کہ کسی ایسی چیز کا ایجاد کرنا جو رسولاللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلمکے ظاہری زمانہ میں نہ تھی۔ اور حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا قول’’کُلُّ بِدْعَۃٍ ضَلَالَۃٌ‘‘ عام مخصوص ہے ۔ ( یعنی بدعت سے مراد بدعت سیّئہ ہے ) حضرت شیخ عزالدین بن عبدالسلام نے ’’کتاب القواعد‘‘ کے آخر میں فرمایا کہ بدعت یا تو واجب ہے جیسےاللّٰہاور اس کے رسول کے کلام کو سمجھنے کے لیے علمِ نحو سیکھنا اور جیسے اصولِ فقہ اور اسماء الرجال کے فن کو مرتب کرنا۔ اور بدعت یا تو حرام ہے جیسے جبریہ، قدریہ، مرجئہ اور مجسمہ کا مذہب، اور ان بدمذہبوں کا رد کرنا بدعتِ واجبہ سے ہے اس لیے کہ ان کے عقائدِ باطلہ سے شریعت کی حفاظت فرض کفایہ ہے اور بدعت یا تو مستحب ہے جیسے مسافر خانوں اور مدرسوں کی تعمیر اور ہر وہ نیک کام جس کا رواج ابتدائی زمانہ میں نہیں تھا اور جماعت کے ساتھ تراویح اور صوفیائے کرام کے دقیق اور باریک مسائل میں گفتگو ۔ اور بدعت یا تو مکروہ ہے جیسے شافعیہ کے نزدیک قرآن مجید کی تزئین اور مساجدکا نقش و نگار اور یہ حنفیہ کے نزدیک بلا کراہت جائز ہے ۔ اوربدعت یاتومباح ہے جیسے شافعیہ کے نزدیک صبح اور عصر کی نماز کے بعدمصافحہ کرنا ورنہ حنفیہ کے نزدیک مکروہ ہے ( تحقیق یہ ہے کہ بلا کراہت جائز ہے اسی کتاب میں مصافحہ کا بیان دیکھیے ) اور لذیذکھانے پینے اور رہنے کی جگہوں میں کشادگی اختیارکرنا اور کُرتے کی آستینوں کو لمبی رکھنا۔ اس میں سے بعض کی کراہت میں لوگوں نے اختلاف کیاہے جیسا کہ ہم نے پہلے بیان کیا امام شافعی رحمۃاللّٰہ تعالیٰ علیہنے فرمایا کہ ایسی چیز ایجاد کرنا جو قرآن مجید، حدیث شریف ، آثارِ صحابہ یا اجماع کے خلاف ہو تو وہ گمراہی ہے اور ایسی اچھی بات ایجاد کرنا جو ان میں سے کسی کے مخالف نہ ہو تو وہ بری نہیں ہے ۔ (مرقاۃ شرح مشکوۃ ، جلد اول، ص ۱۷۹)اور حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی بخاریرحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہاسی حدیث کے تحت فرماتے ہیں:
’’بدانکہ ہر چہ پیدا شدہ بعد از پیغمبر صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم بدعت ست ازانچہ موافق اصول وقواعد سنت اوست وقیاس کردہ شدہ برآں آں را بدعت حسنہ گویند۔وآنچہ مخالف آں باشد بدعتِ ضلالت گویند وکلیت’’کُلُّ بِدْعَۃٍ ضَلَالَۃٌ‘‘محمول بر این ست۔وبعض بدعتہا ست کہ واجب ست چنانچہ تعلم وتعلیم صرف ونحو کہ بداں معرفت آیات واحادیث حاصل گردد وحفظ غرائب کتاب وسنت و دیگر چیز ہائیکہ حفظِ دین وملت برآں موقوف بود۔وبعض مستحسن و مستحب مثل بنائے رباطہا و مدرسہا و بعض مکروہ مانند نقش ونگارکردن مساجد ومصاحف بقول بعض۔وبعض مباح مثل فراخی در طعامہائے لذیذہ ولباسہائے فاخرہ بشرطیکہ حلال باشند وباعث طغیان وتکبر ومفاخرت نہ شوند ومباحات دیگر کہ در زمان آں حضرت صلی اللّٰہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نبودند چنانکہ بیری وغربال ومانند آں۔وبعض حرام چنانکہ مذہب اہل بدع واہوا برخلاف سنت و جماعت و آنچہ خلفائے راشدین کردہ باشند اگرچہ بآں معنی کہ در زمان آنحضرت صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم نبودہ بدعت ست ولیکن قسم بدعت حسنہ خواہد بود بلکہ درحقیقت سنت ست‘‘۔ (2)
یعنی جاننا چاہیے کہ وہ چیز جو حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے ظاہری زمانہ کے بعد ہوئی بدعت ہے ۔ لیکن ان میں سے جو کچھ حضور کی سنت کے اصول و قواعد کے مطابق ہے اور اسی پر قیاس کیا گیا ہے اس کو بدعت حسنہ کہتے ہیں اور ان میں جو چیز سنت کے مخالف ہو اسے بدعت ضلالت کہتے ہیں اور’’کُلُّ بِدْعَۃٍ ضَلالَۃٌ‘‘( ہر بدعت گمراہی ہے ) کی کلیت بدعت کی اسی قسم پر محمول ہے یعنی ہر بدعت سے مراد صرف وہی بدعت ہے جو سنت نبوی کی مخالف ہو۔ اور بعض بدعتیں واجب ہیں جیسے کہ علم صرف و نحو کا سیکھنا سکھانا کہ اس سے آیا ت و احادیث کریمہ کے مفاہیم و مطالب کی معرفت حاصل ہوتی ہے اور قرآن و حدیث کے غرائب کا محفوظ کرنا اور دوسری چیزیں کہ دین و ملت کی حفاظت ان پر موقوف ہے ۔ اور بعض بدعتیں مستحسن و مستحب ہیں۔ جیسے سرائے اور مدرسوں کی تعمیر۔ اور بعض بدعتیں مکروہ ہیں جیسے کہ بعض کے قول پر قرآن مجید اور مسجدوں میں نقش و نگار کرنا۔ اور بعض بدعتیں مباح ہیں جیسے کہ عمدہ کپڑوں اور اچھے کھانوں کی زیادتی بشرطیکہ حلال ہوں اور غرور و نخوت کا باعث نہ ہوں اور دوسری مباح چیزیں جو حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے ظاہری زمانہ میں نہ تھیں جیسے بیری اور چھلنی وغیرہ۔ اور بعض بدعتیں حرام ہیں جیسے کہ اہلِ سنت و جماعت کے خلاف نئے عقیدوں اور نفسانی خواہشات والوں کے مذاہب ۔ اور جو بات خلفائے راشدینرضوان اللّٰہ تعالیٰ علیہم اجمعیننے کی ہے اگرچہ اس معنی میں کہ حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے زمانہ میں نہیں تھی بدعت ہے لیکن بدعتِ حسنہ کے اقسام میں سے ہے بلکہ حقیقت میں سنت ہے ۔ (اشعۃ اللمعات ، جلد اول ص ۱۲۸)اور شامی جلد اول ص:۳۹۳ میں ہے :
’’قَدْ تَکُونُ(أَیْ اَلْبِدْعَۃُ)وَاجِبَۃً،کَنَصْبِ الْأَدِلَّۃِ لِلرَّدِّ عَلَی أَہْلِ الْفِرَقِ الضَّالَّۃِ،وَتَعَلُّمِ النَّحْوِ الْمُفْہِمِ لِلْکِتَابِ وَالسُّنَّۃِ وَمَنْدُوبَۃً کَإِحْدَاثِ نَحْوِ رِبَاطٍ وَمَدْرَسَۃٍ وَکُلِّ إحْسَانٍ لَمْ یَکُنْ فِی الصَّدْرِ الْأَوَّلِ،وَمَکْرُوہَۃ کَزَخْرَفَۃِ الْمَسَاجِدِ وَمُبَاحَۃ کَالتَّوَسُّعِ بِلَذِیذِ الْمَآکِلِ وَالْمَشَارِبِ وَالثِّیَابِ کَمَا فِی شَرْحِ الْجَامِعِ الصَّغِیرِ لِلْمُنَاوِیِّ عَنْ تَہْذِیبِ النَّوَوِیِّ،وَبِمِثْلِہِ فِی الطَّرِیقَۃِ الْمُحَمَّدِیَّۃِ لِلْبِرْکِلِیِّ اہـ‘‘۔ (3)
یعنی بدعت کبھی واجب ہوتی ہے جیسے گمراہ فرقے والوں پر رد کے دلائل قائم کرنا اور علم نحو کا سیکھنا جو قرآن و حدیث سمجھنے میں معاون ہوتا ہے ۔ اور بدعت کبھی مستحب ہوتی ہے جیسے مدرسوں اور مسافر خانوں کو تعمیر کرنا اور ہر وہ نیک کام کرنا جو ابتدائی زمانہ میں نہیں تھا۔ اور بدعت کبھی مکروہ ہوتی ہے ۔ جیسے مسجدوں کو آراستہ و مزین کرنا۔ اور بدعت کبھی مباح ہوتی ہے جیسے لذیذ کھانے پینے اور کپڑے میں کشادگی اختیار کر نا جیسا کہ’’ مناوی‘‘ کی شرح جامع صغیر میں تہذیب النووی سے منقول ہے اور اسی کے مثل برکلی کی کتاب ’’طریقہ محمدیہ ‘‘میں ہے ۔------------------
∞[1] ’’مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح‘‘،کتاب الإیمان،الحدیث:۱۴۱،ج۱،ص۳۶۸.
∞[2] ’’اشعۃ اللمعات‘‘،کتاب الإیمان،باب الاعتصام با لکتاب والسنۃ،ج۱،ص۱۳۵.
∞[3] ’’رد المحتار‘‘،کتاب الصلاۃ،باب الإمامۃ،ج۲،ص۳۵۶.
ماخذ و مراجع
کتاب: اَنْوارُ الحَدِیْثْ جلد: 1 , حدیث نمبر: 4