Main Icon

تقدیر کا بیان - اَنْوارُ الحَدِیْثْ - حدیث نمبر: 6

کتاب الایمان

حدیث مبارکہ

حدیث 1:
’’عَنْ عَبْدِاللّٰہ بْنِ عَمَرٍو قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالَی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَتَبَ اللّٰہ مَقَادِیْرَ الْخَلَاءِقِ قَبْلَ أَنْ یَّخْلُقَ السَّمَوَتِ وَالْأَرْضَ بِخَمْسِیْنَ أَلْفَ سَنَۃٍ۔
حدیث 2:
’’عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالَی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَوَّلَ مَا خَلَقَ اللّٰہ الْقَلَمَ فَقَالَ لَہُ أُکْتُبْ قَالَ مَا أَکْتُبُ؟ قَالَ أُکْتُبِ الْقَدَرَ فَکَتَبَ مَا کَانَ وَمَا ھُوَ کَاءِنٌ إِلَی الْأَبَدِ۔
حدیث 3:
’’عَنْ مَطْرِبْنِ عُکَامِسٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالَی عَلَیْہِ وَسَلَّم إِذَا قَضَی اللّٰہ لِعَبْدٍ أَنْ یَّمُوْتَ بِأَرْضٍ جَعَلَ لَہُ إِلَیْھَا حَاجَۃً۔
حدیث 4:
’’عَنْ أَبِیْ خُزَامَۃَ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ قُلْتُ یَارَسُوْلَ اللّٰہ أَرَأَیْتَ رُقًی نَسْتَرْقِیْھَا وَدَوَاءً نَتَدَاوَی بِہِ وَتُقَاۃً نَتَّقِیْھَا ھَلْ تَرُدَّ مِنْ قَدَرِ اللّٰہ شَیْئاً قَالَ ھِیَ مِنْ قَدَرِ اللّٰہ۔
حدیث 5:
’’عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہ تَعَالَی عَنْہُ قَالَ خَرَجَ عَلَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالَی عَلَیْہِ وَسَلَّم وَنَحْنُ نَتَنَازَعُ فِی الْقَدَرِ فَغَضِبَ حَتَّی اِحْمَرَّ وَجْھُہُ حَتَّی کَأَنَّمَا فُقِیءَ فِیْ وَجْنَتَیْہِ الرُّمَّانُ فَقَالَ أَبِھَذَا أُمِرْتُمْ أَمْ بِھَذَا أُرْسِلْتُ إِلَیْکُمْ إِنَّمَا ھَلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ حِیْنَ تَنَازَعُوْا فِیْ ھَذَا الْأَمْرِ عَزَمْتُ عَلَیْکُمْ أَنْ لاَّ تَنَازَعُوْا فِیْہِ۔

حدیث 1:
’’عن عبداللہ بن عمرو قال قال رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کتب اللہ مقادیر الخلاءق قبل ان یخلق السموت والارض بخمسین الف سنۃ۔
حدیث 2:
’’عن عبادۃ بن الصامت قال قال رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم إن اول ما خلق اللہ القلم فقال لہ اکتب قال ما اکتب؟ قال اکتب القدر فکتب ما کان وما ھو کاءن إلی الابد۔
حدیث 3:
’’عن مطربن عکامس قال قال رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم إذا قضی اللہ لعبد ان یموت بارض جعل لہ إلیھا حاجۃ۔
حدیث 4:
’’عن ابی خزامۃ عن ابیہ قال قلت یارسول اللہ ارایت رقی نسترقیھا ودواء نتداوی بہ وتقاۃ نتقیھا ھل ترد من قدر اللہ شیئا قال ھی من قدر اللہ۔
حدیث 5:
’’عن ابی ھریرۃ رضی اللہ تعالی عنہ قال خرج علینا رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ونحن نتنازع فی القدر فغضب حتی احمر وجھہ حتی کانما فقیء فی وجنتیہ الرمان فقال ابھذا امرتم ام بھذا ارسلت إلیکم إنما ھلک من کان قبلکم حین تنازعوا فی ھذا الامر عزمت علیکم ان لا تنازعوا فیہ۔

حدیث ترجمہ

ترجمہ حدیث1:حضرت عبداللّٰہبن عمر ورَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُما نے کہا کہ رسولِ کریمعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْمنے فرمایا کہ خدائے تعالیٰ نے آسمان و زمین کی پیدائش سے پچاس ہزار برس قبل مخلوقات کی تقدیروں کو لکھا ( لوحِ محفوظ میں ثبت فرمادیا)۔ (مسلم ، مشکوۃ)ترجمہ حدیث2:حضرت عبادہ بن صامترَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ سر کارِ اقدسصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا کہ (حقیقت محمدیہ علی صاحبہاالصلوۃوالتحیۃکے بعد) سب سے پہلے جو چیز خدا نے پیدا کی وہ قلم ہے ۔ خدائے تعالیٰ نے اس سے فرمایا لکھ۔ قلم نے عر ض کیا، کیا لکھوں؟ فر مایا تقدیر ۔ تو قلم نے لکھا جو کچھ ہوچکا تھا اور جو اَبدتک ہونے والا تھا۔ (ترمذی، مشکوۃ)ترجمہ حدیث3:حضرت مطربن عُکامسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ رسولعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْمنے فرمایا کہ جب خدائے تعالیٰ کسی شخص کی موت کسی زمین پر مقدر کردیتا ہے تو اس ز مین کی طرف اس کی حاجت پیدا کردیتا ہے ۔ (ترمذی، مشکوۃ)ترجمہ حدیث4:حضرت ابو خزامہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُاپنے باپ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ میں نے عرض کیا یارسولاللّٰہ! کیا فرماتے ہیں آپ منتر کے بارے میں جسے ہم پڑھتے ہیں ، اور دوا کے بارے میں جسے ہم استعمال کرتے ہیں، اور بچاؤ کے بارے میں جسے ہم ( جنگ وغیرہ میں) اختیار کرتے ہیں۔ کیا یہ چیزیں خدائے تعالیٰ کی قضا و قدر کو بدل دیتی ہیں؟ فرمایا کہ یہ چیزیں بھی خدائے تعالیٰ کی قضاء و قدر سے ہیں۔ ( ترمذی، ابن ماجہ، مشکوۃ)ترجمہ حدیث5:حضرت ابوہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا کہ ہم لوگ تقدیر کے مسئلہ میں بحث کررہے تھے کہ رسولِ خداصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَتشریف لے آئے تو شدتِ غضب سے آپ کا چہرہ سرخ ہوگیا کہ گویا انار کے دانے آپ کے عارضِ اقدس پر نچوڑ دیئے گئے ہوں۔ پھر فرمایا کیا تم کو اسی کا حکم دیا گیا ہے ؟کیا میں تمہاری طرف اسی چیز کے ساتھ بھیجا گیا ہوں۔ تم سے پہلے قومیں ہلاک نہیں ہوئی مگر جب کہ قضا و قدر کے مسئلہ میں انہوں نے مباحثہ کیا۔ میں تمہیں قسم دیتا ہوں اور مکرر قسم دیتا ہوں کہ آئندہ اس مسئلہ میں بحث نہ کرنا۔ (ترمذی، مشکوۃ)

شرح حدیث

شرح حدیث:مُلّا علی قاری علیہ رحمۃاللّٰہالبار ی اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں کہ:
’’
فَالأَوَّلِیَّۃُ إِضَافِیَّۃٌ وَالأَوّلُ الْحقِیْقیُّ ھُوَالنُّورُ الْمُحَمَّدِیّ‘‘۔ (1)
یعنی قلم کی اولیت اضافی ہے اور اوّلِ حقیقی نورِ محمدی ہے ۔ (مرقاۃ شرح مشکوۃ جلد اول ص۱۳۹)
------------------
∞[1] ’’
مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح‘‘،کتاب الإیمان،الحدیث:۹۴،ج۱،ص۲۸۹.انتباہ :(۱)… تقدیر حق ہے اس کا انکار کرنے والا گمراہ ، بدمذہب، اہلِ سنّت و جماعت سے خارج ہے ۔(۲)… خدائے تعالیٰ نے ہر بھلائی برائی اپنے علم ازلی کے موافق مقدر فرمادی ہے ۔ جیسا ہونے والا تھا اور جو جیسا کرنے والا تھا اپنے علم ازلی سے جان کر لکھ لیا۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ جیسا اس نے لکھ دیا ویسا ہم کو کرنا پڑتا ہے بلکہ جیسا ہم کرنے والے تھے ویسا اس نے لکھ دیا۔ زید کے ذمہ برائی لکھی اس لیے کہ زید برائی کرنے والا تھا۔ اگر زید بھلائی کرنے والا ہوتا تو خدائے تعالیٰ بھلائی لکھتا۔ خلاصہ یہ کہ خدائے تعالیٰ کے علم یا اس کے لکھ دینے نے کسی شخص کو کسی کام کے کرنے پر مجبور نہیں کردیا ۔ (1) (بہار شریعت)اور جیسا کہ حضرت مُلّا علی قاریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ البَارِیشرح فقہ اکبرص:۴۹میں فرماتے ہیں کہ :کَتَبَ اللّٰہ فِیْ حَقِّ کُلِّ شَیئٍ بِأَنَّہُ سَیَکُوْنُ کَذَا کَذَا وَلَمْ یَکْتُبْ بِأَنَّہُ لِیَکُنْ کَذَا کَذَا۔ (2)(۳)… قضا کی تین قسمیں ۔ قضائے مبرم حقیقی ، قضائے معلق محض، قضائے معلق شبیہ بہ مبرم۔
------------------
∞[1] ’’ بہارِ شریعت‘‘، ج۱، ص۱۱
.
∞[2] ’’
شرح الفقہ الأکبر‘‘،باب القضاء والقدر إلخ،ص۴۱.قضائے مبرم حقیقی:وہ قضاہے کہ علمِ الہٰی میں بھی کسی چیز پر معلق نہیں۔ اس قضا کی تبدیلی ناممکن ہے اولیاء کی اس قضا تک رسائی نہیں بلکہ انبیائے کرام ورُسل عظام بھی اگر اتفاقاًاس کے بارے میں کچھ عرض کرنا چاہیں تو انہیں اس خیال سے روک دیا جاتا ہے ۔ جیسا کہ حضرت ابراہیم خلیلاللّٰہعلٰی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلامنے حضرت لوطعلیہ السلامکی قوم پر عذاب روکنے کے لیے بہت کوشش فرمائی یہاں تک کہ اپنے رب سے جھگڑنے لگے جیسا کہ خدائے تعالیٰ نے فرمایا:
{
یُجَادِلُنَا فِیْ قَوْمِ لُوْطٍؕ(۷۴)} (پارہ۱۲رکوع۷)
یعنی ابراہیم قوم لوط کے بارے میں ہم سے جھگڑنے لگے ۔
لیکن چونکہ قوم لوط پر عذاب ہونا قضائے مبرم حقیقی تھا اس لیے حکم ہوا :
{یٰۤاِبْرٰهِیْمُ اَعْرِضْ عَنْ هٰذَاۚ-اِنَّهٗ قَدْ جَآءَ اَمْرُ رَبِّكَۚ-وَ اِنَّهُمْ اٰتِیْهِمْ عَذَابٌ غَیْرُ مَرْدُوْدٍ(۷۶)}(پارہ۱۲رکوع۷)
یعنی اے ابراہیم! اس خیال میں نہ پڑو بے شک تیرے رب کا حکم آچکا اور بے شک ان پر عذاب آئے گا۔ پھیرا نہ جائے گا۔
قضائے معلّق محض:و ہ قضا ہے کہ فرشتوں کے صحیفوں میں کسی چیز مثلاً صدقہ یا دَوا وغیرہ پر معلق ہونا ظاہر کردیا گیا ہو۔ اس قضا تک اکثر اولیائے کرام کی رسائی ہوتی ہے ان کی دعا اور توجہ سے یہ قضا ٹل جاتی ہے ۔قضائے معلق شبیہ بہ مبرم:وہ قضا ہے کہ علم الہٰی میں وہ کسی چیز پر معلق ہے لیکن فرشتوں کے صحیفوں میں اس کا معلق ہونا مذکور نہیں۔ اس قضا تک خاص اکابر کی رسائی ہوتی ہے ۔ حضرت سیدنا غوث اعظمرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُاسی کے بارے میں فرماتے ہیں کہ میں قضائے مبرم کررد کردیتا ہوں اور اسی قضا کے بارے میں حدیث شریف میں ارشاد ہوا کہ:
’’
إِنَّ الدُّعَاء یَرُدُّ الْقضَاءبَعْدَ مَا أُبْرِ مَ‘‘ یعنی بے شک دعا قضائے مبرم کو ٹال دیتی ہے ۔(۴)… قضا و قدر کے مسائل عام لوگ نہیں سمجھ سکتے اس میں زیادہ غور و فکر کرنا دین و ایمان کے تباہ ہونے کا سبب ہے ۔ حضرت ابوبکر صدیق و عمر فاروقرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُماجیسے جلیل القدر صحابہ بھی اس مسئلہ میں بحث کرنے سے منع فرمائے گئے تو پھر ہم لوگ کس گنتی میں ہیں۔ اتنا سمجھ لینا چاہیے کہاللّٰہتعالیٰ نے آدمی کو پتھر اور دیگر جمادات کے مثل بے حس و حرکت نہیں پیدا کیا بلکہ اس کو ایک قسم کا اختیار دیا ہے کہ ایک کام چاہے کرے نہ کرے اور اس کے ساتھ عقل بھی دی ہے کہ بھلے بُرے نفع نقصان کو پہچان سکے اور ہر قسم کے سامان اور اسباب مہیا کردیئے کہ جب آدمی کوئی کام کرنا چاہتاہے تو اسی قسم کے سامان مہیا ہوجاتے ہیں اور اسی وجہ سے اس پر مواخذہ ہے اپنے کو بالکل مجبور یا بالکل مختار سمجھنا دونوں گمراہی ہیں۔ (1) (بہار شریعت)
------------------
∞[1] ’’ بہار شریعت ‘‘، ج۱، ص ۱۸
.

ماخذ و مراجع

کتاب: اَنْوارُ الحَدِیْثْ جلد: 1 , حدیث نمبر: 6