- ہوم
- کتابیں
- اَنْوارُ الحَدِیْثْ
- کتاب الایمان
- حدیث نمبر 8
قیامت کا بیان - اَنْوارُ الحَدِیْثْ - حدیث نمبر: 8
کتاب الایمان
حدیث مبارکہ
حدیث1:
عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَۃِ أَنْ یُرْفَعَ الْعِلْمُ وَیَکْثُرَ الْجَہْلُ وَیَکْثُرَ الزِّنَا وَیَکْثُرَ شُرْبُ الْخَمْرِ وَیَقِلَّ الرِّجَالُ وَیَکْثُرَ النِّسَاءُ حَتَّی یَکُونَ لِخَمْسِینَ امْرَأَۃَنِ الْقَیِّمُ الْوَاحِدُ۔
حدیث2:
عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِذَا اتّخِذَ الْفَیْءُ دُوَلًا، وَالْاَمَانَۃُ مَغْنَماً، وَالزَّکَاۃُ مَغْرَماً، وَتُعُلِّمَ لِغَیْرِ الدِّیْنِ، وَأَطَاعَ الرَّجُلُ اِمْرَاَتَہُ، وَعَقَّ أُمَّہُ، وَأَدْنَی صَدِیْقَہُ وَأَقْصَی أَبَاہُ، وَظَھَرَتِ الْأَصْوَاتُ فِی الْمَسَاجِدِ، وَسَادَ الْقَبِیْلَۃ فَاسِقُھُمْ، وَکَانَ زَعِیْمُ الْقَوْمِ أَرْذَلَھُمْ، وَأُکْرِمَ الرَّجُلُ مَخَافَۃَ شَرِّہِ، وَظَھَرَتِ الْقَیْنَاتُ وَالْمَعَازِفُ، وَشُرِبَتِ الْخُمُوْرُ، وَلَعَنَ آخِرُ ھَذِہِ الْأُمَّۃِ أَوَّلَھَا فَارتَقِبُوْا عَنْدَ ذَلِکَ رِیْحاً حَمْرَاءَ وَزَلْزَلَۃً وَخَسْفاً وَّمَسْخاً وَقَذْفاً، وَآیَاتٍ تَتَابَعُ کَنِظَامٍ بَالٍ قُطِعَ سِلْکُہُ فَتَتَابَعُ۔
حدیث3:
عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا تَقُومُ السَّاعَۃُ حَتَّی یَتَقَارَبَ الزَّمَانُ فَتَکُونُ السَّنَۃُ کَالشَّہْرِ وَالشَّہْرُ کَالْجُمُعَۃِ وَتَکُونُ الْجُمُعَۃُ کَالْیَوْمِ وَیَکُونُ الْیَوْمُ کَالسَّاعَۃِ وَتَکُونُ السَّاعَۃُ کَالضَّرَمَۃِ بِالنَّارِ۔
حدیث4:
عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ أَسِیدٍ الْغِفَارِیِّ قَالَ اطَّلَعَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَیْنَا وَنَحْنُ نَتَذَاکَرُ فَقَالَ مَا تَذْکُرُونَ قَالُوا نَذْکُرُ السَّاعَۃَ قَالَ إِنَّہَا لَنْ تَقُومَ حَتَّی تَرَوْا قَبْلَہَا عَشْرَ آیَاتٍ فَذَکَرَ الدُّخَانَ وَالدَّجَّالَ وَالدَّابَّۃَ وَطُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِہَا وَنُزُولَ عِیسَی ابْنِ مَرْیَمَ وَیَأَجُوجَ وَمَأْجُوجَ وَثَلَاثَۃَ خُسُوفٍ خَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ وَخَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ وَخَسْفٌ بِجَزِیرَۃِ الْعَرَبِ وَآخِرُ ذَلِکَ نَارٌ تَخْرُجُ مِنْ الْیَمَنِ تَطْرُدُ النَّاسَ إِلَی مَحْشَرِہِمْ وَفِی رِوَایَۃٍ نَارٌ تَخْرُجُ مِنْ قَعْرِ عَدَنَ تَسُوقُ النَّاسَ إِلَی الْمَحْشَرِ وَفِی رِوَایَۃٍ فِی الْعَاشِرَۃِ وَرِیْحٌ تَلْقِی النَّاسَ فِی الْبَحْرِ۔
حدیث5:
عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃ( ) قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الدَّجَّالُ أَعْوَرُ الْعَیْنِ الْیُسْرَی جُفَالُ الشَّعَرِ مَعَہُ جَنَّتُہُ وَنَارُہُ فَنَارُہُ جَنَّۃٌ وجَنَّتُہُ نَارٌ۔
حدیث6:
عَنْ أَبِی سَعِیدِنِ الْخُدْرِیِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَلْمَھْدِیُّ مِنِّیْ أَجْلَی الْجَبْھَۃِ أَقْنَی الْاَنْفِ یَمْلَأُ الْأَرْضَ قِسْطاً وَعَدْلًا کَمَا مُلِءَتْ ظُلْمًا وَجَوْرًا یَمْلِکُ سَبْعَ سِنِیْنَ۔
حدیث7:
عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَقُومُ السَّاعَۃُ حَتَّی لَا یُقَالَ فِی الْأَرْضِ اللّٰہ اللّٰہ۔
حدیث1:
عن انس رضی اللہ عنہ قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول إن من اشراط الساعۃ ان یرفع العلم ویکثر الجہل ویکثر الزنا ویکثر شرب الخمر ویقل الرجال ویکثر النساء حتی یکون لخمسین امراۃن القیم الواحد۔
حدیث2:
عن ابی ھریرۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إذا اتخذ الفیء دولا، والامانۃ مغنما، والزکاۃ مغرما، وتعلم لغیر الدین، واطاع الرجل امراتہ، وعق امہ، وادنی صدیقہ واقصی اباہ، وظھرت الاصوات فی المساجد، وساد القبیلۃ فاسقھم، وکان زعیم القوم ارذلھم، واکرم الرجل مخافۃ شرہ، وظھرت القینات والمعازف، وشربت الخمور، ولعن اخر ھذہ الامۃ اولھا فارتقبوا عند ذلک ریحا حمراء وزلزلۃ وخسفا ومسخا وقذفا، وایات تتابع کنظام بال قطع سلکہ فتتابع۔
حدیث3:
عن انس قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لا تقوم الساعۃ حتی یتقارب الزمان فتکون السنۃ کالشہر والشہر کالجمعۃ وتکون الجمعۃ کالیوم ویکون الیوم کالساعۃ وتکون الساعۃ کالضرمۃ بالنار۔
حدیث4:
عن حذیفۃ بن اسید الغفاری قال اطلع النبی صلی اللہ علیہ وسلم علینا ونحن نتذاکر فقال ما تذکرون قالوا نذکر الساعۃ قال إنہا لن تقوم حتی تروا قبلہا عشر آیات فذکر الدخان والدجال والدابۃ وطلوع الشمس من مغربہا ونزول عیسی ابن مریم ویاجوج وماجوج وثلاثۃ خسوف خسف بالمشرق وخسف بالمغرب وخسف بجزیرۃ العرب وآخر ذلک نار تخرج من الیمن تطرد الناس إلی محشرہم وفی روایۃ نار تخرج من قعر عدن تسوق الناس إلی المحشر وفی روایۃ فی العاشرۃ وریح تلقی الناس فی البحر۔
حدیث5:
عن ابی ھریرۃ( ) قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الدجال اعور العین الیسری جفال الشعر معہ جنتہ ونارہ فنارہ جنۃ وجنتہ نار۔
حدیث6:
عن ابی سعیدن الخدری قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم المھدی منی اجلی الجبھۃ اقنی الانف یملا الارض قسطا وعدلا کما ملءت ظلما وجورا یملک سبع سنین۔
حدیث7:
عن انس ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال لا تقوم الساعۃ حتی لا یقال فی الارض اللہ اللہ۔
حدیث ترجمہ
ترجمہ حدیث1:حضرت انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ میں نے رسولِ کریمعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْمکو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کی نشانیاں یہ ہیں کہ علم اُٹھالیا جائے گا۔ جہالت زیادہ ہوگی، زنا کاری اور شراب خوری کی کثرت ہوگی۔ مردوں کی تعداد کم ہوگی۔ عورتوں کی تعداد بڑھ جائے گی۔ یہاں تک کہ ایک مرد کی سرپرستی میں پچاس عورتیں ہوں گی۔ترجمہ حدیث2:حضرت ابوہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ سرکار اقدسصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ جب غنیمت (صرف امرا کی) دولت ٹھہرائی جائے ، امانت کو مالِ غنیمت اور زکوۃ کو تاوان سمجھا جائے ۔ جب کہ علم کو دین کے لیے نہ حاصل کیا جائے ۔ مرد اپنی عورت کی اطاعت اور ماں کی نافرمانی کرے گا جب کہ آدمی اپنے دوست سے قریب ہوگا اور اپنے باپ کودور کرے گا۔ جب مسجدوں میں شور مچایا جائے گا ، قوم کا سردار ان کا فاسق ہوگا۔ اور جب قوم کا لیڈر ان میں کا کمینہ آدمی ہوگا اور آدمی کی عزت ان کی برائیوں سے بچنے کے لیے کی جائے گی۔ جب گانے والی عورتیں اور(قسم قسم)کے باجے ظاہر ہوں گے (علانیہ) شراب پی جائے گی اور جب امت کے پچھلے لوگ اگلوں کو برا کہیں گے تو اس وقت تم ان چیزوں کا انتظار کرنا۔ سرخ آندھی، زلزلہ ، زمین میں دھنسنا، صورتیں مسخ کرنا، پتھروںکا برسنا اور ( قیامت کی بڑی بڑی ) نشانیوں کا پے درپے ظاہر ہونا کہ گویا وہ موتیوں کی ٹوٹی ہوئی لڑی ہے جس سے لگاتا ر موتی گررہے ہیں۔ (ترمذی، مشکوۃ)ترجمہ حدیث3:حضرت انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ رسول کریمعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْمنے فرمایا کہ قیامت قائم نہ ہوگی جب تک کہ زمانہ ایک دوسرے کے قریب نہ ہوگا۔ (یعنی زمانہ کے حصہ جلد جلد گزر نے لگیں گے ) سال مہینہ کے برابر ہوجائے گا۔ مہینہ ہفتہ کے برابر۔ ہفتہ ایک دن کے برابر اور اس وقت ایک دن ایک ساعت کے برابر ہوگا اور ساعت آگ کا ایک شعلہ ( اٹھ کر ختم ہوجانے ) کے برابرہوگی۔ (ترمذی، مشکوۃ)ترجمہ حدیث4:حضرت حذیفہ بن اسید غفار یرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا کہ ہم لوگوں کی گفتگو پر حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّممطلع ہوئے تو فرمایا تم لوگ کیا بات کررہے ہو؟ لوگوں نے کہا کہ ہم قیامت کا ذکر کررہے ہیں۔ حضورصلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلمنے فرمایا کہ اس وقت تک قیامت نہ آئے گی جب تک کہ تم ان نشانیوں کو نہ دیکھ لو گے ۔ پھر ان نشانیوں کا ذکر کیا اور فرمایا دھواں، دجال ، دابۃ الار ض ۔ پچھم سے سورج کا نکلنا، عیسی ابن مریم کا نازل ہونا۔ یاجوج و ماجوج، تین مقامات پر زمین کا دھنسنا ، ایک مشرق میں دوسرے مغرب میں اور تیسرے جزیرئہ عرب میں۔ اور ان کا دسواں وہ آگ ہے جو یمن سے نکلے گی اور لوگوں کو گھیر کر محشر یعنی ملک شام کی طرف لے جائے گی۔ اور ایک روایت میں ہے کہ وہ آگ عدن کے علاقے سے نکلے گی اور لوگوں کو گھیر کر محشر کی طرف لے جائے گی اور ایک روایت میں دسویں نشانی ایک ہوا بیان کی گئی ہے جو لوگوں کو دریا میں پھینک دے گی۔ (مسلم، مشکوۃ)ترجمہ حدیث5:حضرت ابوہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ رسول کریمعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْمنے فرمایا کہ دجال بائیں آنکھ کا کانا ہوگا بہت کثرت سے بال ہوں گے ۔ اس کے ساتھ جنت اور دوزخ ہوگی۔ اس کی جہنم (حقیقت میں)
جنت ہوگی اور جنت (حقیقت میں ) جہنم ہوگی۔ (مسلم ، مشکوۃ)ترجمہ حدیث6:حضرت ابوسعید خدریرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ سرکار ِ اقدسصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ مہدی میری اولادمیں سے ہے ۔ روشن و کشادہ پیشانی، بلند ناک، وہ زمین کو اس طرح عدل و انصاف سے بھردے گا جس طرح پہلے ظلم و ستم سے بھری تھی۔ اور وہ سات برس تک زمین کا مالک رہے گا۔ (ابو داود، مشکوۃ)ترجمہ حدیث7:حضرت انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ رسولِ کریمعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْمنے فرمایا کہ قیامت اس وقت آئے گی جب زمین پر کوئیاللّٰہ اللّٰہکہنے والا نہیں رہ جائے گا۔ (ابو داود، مشکوۃ)
شرح حدیث
انتباہ:(۱)…قیامت کی چند نشانیاں جو احادیث مذکورہ میں بیان کی گئیں ہیں ان میں سے کچھ ظاہر ہوچکیں اور جو باقی ہیں وہ بھی یقیناً ظاہر ہوں گی۔ دجال کا فتنہ بہت سخت ہوگا ، وہ خدائی کا دعویٰ کرے گا جو اس پر ایمان لائے گا۔ اسے اپنی جنت میں( جو حقیقت میںدوزخ ہوگی) ڈالے گا اور جو انکار کرے گا اسے دوزخ میں ( جو در حقیقت جنت ہوگی) ڈالے گا۔ مردے جِلائے گا زمین سے سبزہ اُگائے گا اور آسمان سے پانی برسائے گا اسی قسم کے بہت شعبدے دکھائے گا جو حقیقت میں سب جادو کے کرشمے ہوں گے ۔ اس کی پیشانی پرک، ف، ر لکھا ہوگا (یعنی کافر) جس کو ہر مسلمان پڑھے گا مگر کافر کو نظر نہ آئے گا۔ (1)(بہار شریعت)
(۲)…حضرت امام مہدیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکے ظاہر ہونے کا مختصر واقعہ یہ ہے کہ رمضان شریف کا مہینہ ہوگا۔ ابدال کعبہ کے طواف میں مصروف ہوں گے اور حضرت امام مہدی بھی وہاں ہوں گے ۔ اولیائے کرام انہیں پہچانیں گے ان سے بیعت کی درخواست کریں گے وہ انکار فرمائیں گے تو غیب سے آواز آئے گی ’’ھَذَا خَلِیْفَۃُ اللّٰہ الْمَھْدِیُّ فَاسْمَعُوْا لَہُ وَأَطِیْعُوہُ‘‘یعنی یہاللّٰہکا خلیفہ مہدی ہے اس کی بات سنو اور اس کا حکم مانو۔ سب لوگ ان کے ہاتھ پر بیعت کریں گے ، پھر وہاں سے سب کو اپنے ہمراہ لے کر آپ ملک شام چلے جائیں گے ۔ (2) (بہار شریعت)
(۳)…حضرت عیسیعلیہ السلامجامع مسجد دمشق کے شرقی منارہ پر آسمان سے اُتریں گے ، فجر کی نماز کا وقت ہوگا۔ حضرت امام مہدیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُوہاں موجود ہوںگے ۔ حضرت عیسیﷺانہیں امامت کا حکم دیں گے اور ان کے پیچھے نماز پڑھیں گے ۔ اس وقت دجال لعین ملک شام میں ہوگا۔ حضرت عیسیﷺکی سانس کی خوشبو سے پگھلنا شروع ہوگا۔ وہ بھاگے گا آپ اس کا پیچھا کریں گے اور اس کی پیٹھ میں نیزہ مار کر جہنم میں پہنچا دیں گے پھر بحکم الہٰی تمام مسلمانوں کو لے کر کوہِ طور پر چلے جائیں گے ۔ (3)(۲∞)(بہار شریعت)
(۴)…جب حضرت عیسیﷺمسلمانوں کے ساتھ پہاڑ پرمحصور ہوں گے تو یاجوج و ماجوج کا خروج ہوگا۔ یہ دنیا بھر میں فساد اور قتل و غارت کریں گے پھر آسمان کی طرف تیر پھینکیں گے ۔ خدا تعالیٰ کی قدرت سے ان کے تیر اوپر سے خون آلود گریں گے وہ خوش ہوں گے ۔ وہ لوگ اپنی انہی حرکتوں میں مشغول ہوں گے کہ حضرت عیسیﷺان کی ہلاکت کے لیے دعا کریں گے ۔ خدائے تعالیٰ ان کی گردنوں میں ایک قسم کے کیڑے پیدا کردے گا ایک دم میں وہ سب کے سب مرجائیں گے ۔ اب حضرت عیسیﷺتمام مسلمانوں کے ہمراہ پہاڑ سے اُتریں گے ۔ دنیا بھر میں اس وقت صرف ایک دین۔ دین اسلام اور ایک مذہب ، مذہب اہلِ سنت و جماعت ہوگا۔ چالیس برس تک آپ اقامت فرمائیں گے ۔ نکاح کریں گے اولاد ہوگی اور بعد وفات سرکار دوعالمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے روضئہ انور میں دفن ہوں گے ۔ (4)(بہار شریعت)
(۵)… دابۃ الارض ایک جانور ہوگا جس کے ہاتھ میں حضرت موسیﷺکا عصا اور حضرت سلیمانﷺکی انگوٹھی ہو گی۔ عصا سے ہر مسلمان کی پیشانی پر ایک نورانی نشان بنائے گا اور انگوٹھی سے ہر کافر کی پیشانی پر ایک سیاہ داغ لگائے گا جو کبھی نہ مٹے گا جو کافر ہے ہرگز ایمان نہ لائے گا اور جو مسلمان ہے زندگی بھر اپنے ایمان پر قائم رہے گا ۔ (5) (بہار شریعت)
(۶)…حضرت عیسیﷺکی وفات کے ایک زمانہ کے بعد جب قیامت کو صرف چالیس برس رہ جائیں گے تو ایک خوشبودار ٹھنڈی ہوا چلے گی جو لوگوں کی بغلوں کے نیچے سے گزرے گی جس کا اثر یہ ہوگا کہ مسلمانوں کی روح قبض ہوجائے گیاللّٰہکہنے والا کوئی نہ بچے گا۔ کافر ہی کافر دنیا میں رہ جائیں گے ۔ چالیس برس تک ان کے ہاں کوئی اولاد نہ ہوگی۔ یعنی چالیس برس سے کم عمر کا کوئی نہ ہوگا اب انہیں پر قیامت قائم ہوگی۔ حضرت اسرافیلﷺصور پھونکیں گے سب مرجائیں گے ۔ آسمان، پہاڑ ، زمین یہاں تک کہ صور و اسرافیل اور تمام فرشتے فنا ہوجائیں گے سوائے اس واحد حقیقی کے کوئی نہ ہوگا۔ وہ فرمائے گا۔لِمَنِ الْمُلْکُ الْیَوْمَیعنی آج کس کی بادشاہت ہے ۔ مگر ہے کون جو جواب دے پھر خود ہی فرمائے گا۔لِلَّہِ الْوَاحِدِ الْقَہَّارِیعنی صرفاللّٰہواحد قہار کی سلطنت ہے ۔ پھر جباللّٰہتعالیٰ چاہے گا ، اسرافیل کو زندہ فرمائے گا۔ اور صور کو پیدا کرکے دوبارہ پھونکنے کا حکم دے گا۔ صور پھونکتے ہی تمام اولین و آخرین ملائکہ اور انس وجن وغیرہ سب موجود ہوجائیں گے ۔ سب سے پہلے حضور ِاقدسصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمقبرِ انور سے یوں باہر تشریف لائیں گے کہ ان کے داہنے دستِ مبارک میں حضرت صدیق اکبر کا ہاتھ ہوگا اور بائیں دستِ مبارک میں حضرت فاروقِ اعظمرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُما کا ہا تھ ہوگا۔ پھر مکہ معظمہ اور مدینہ طیبہ کے مقابر میں جتنے مسلمان دفن ہیں سب کو اپنے ہمراہ لے کر میدانِ حشر میں تشریف لے جائیں گے ۔
------------------
∞[1] ’’بہار شریعت‘‘، ج۱، ص ۱۲۰.[2] ’’بہارِ شریعت‘‘، ج۱، ص ۱۲۴.[3] ’’بہار شریعت‘‘، ج۱، ص ۱۲۲.[4] ’’بہارِ شریعت‘‘، ج۱، ص ۱۲۴.[5] ’’بہارِ شریعت‘‘، ج۱، ص ۱۲۶.
ماخذ و مراجع
کتاب: اَنْوارُ الحَدِیْثْ جلد: 1 , حدیث نمبر: 8