- ہوم
- کتابیں
- اَنْوارُ الحَدِیْثْ
- کتاب الصلوٰۃ
- حدیث نمبر 24
مسجد کا بیان - اَنْوارُ الحَدِیْثْ - حدیث نمبر: 24
کتاب الصلوٰۃ
حدیث مبارکہ
حدیث 1:
’’عَنْ عُثْمَانَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ بَنَی لِلَّہِ مَسْجِدًا بَنَی اللّٰہ لَہُ بَیْتًا فِی الْجَنَّۃِ ‘‘ ۔
حدیث 2:
’’عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَحَبُّ الْبِلَادِ إِلَی اللّٰہ مَسَاجِدُہَا وَأَبْغَضُ الْبِلَادِ إِلَی اللّٰہ أَسْوَاقُہَا‘‘۔
حدیث 3:
’’ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُوْنٍ قَالَ یَارَسُوْلَ اللّٰہاِئْذَنْ لَنَا فِی التَّرَھُّبِ فَقَالَ اِنَّ تَرَھُّبَ اُمَّتِیْ الْجُلُوْسُ فِی الْمَسَاجِدِ اِنْتِظَارَ الصَّلَاۃِ‘‘ ۔
حدیث 4:
’’ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ قُرَّۃَ عَنْ أَبِیہِ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَہَی عَنْ ہَاتَیْنِ الشَّجَرَتَیْنِ یَعْنِی الْبَصَلَ وَالثَّوْمَ وَقَالَ مَنْ أَکَلَہُمَا فَلا یَقْربَنَّ مَسْجِدَنَا وَقَالَ إِنْ کُنْتُمْ لَابُدَّ آکلیہِمَا فَأَمِیتُوہُمَا طَبْخًا‘‘۔
حدیث 5:
’’ عَنِ الْحَسَنِ مُرْسَلاً قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَاْتِیْ عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ یَکُوْنُ حَدِ یْثُھُمْ فِیْ مَسَاجِدِ ھِمْ فِیْ أَمْرِ دُنْیَاھُمْ فَلاَ تُجَالِسُوْھُمْ فَلَیْسَ لِلَّہِ فِیْھِمْ حَاجَۃٌ‘‘ ۔
حدیث 1:
’’عن عثمان قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من بنی للہ مسجدا بنی اللہ لہ بیتا فی الجنۃ ‘‘ ۔
حدیث 2:
’’عن ابی ہریرۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احب البلاد إلی اللہ مساجدہا وابغض البلاد إلی اللہ اسواقہا‘‘۔
حدیث 3:
’’ عن عثمان بن مظعون قال یارسول اللہائذن لنا فی الترھب فقال ان ترھب امتی الجلوس فی المساجد انتظار الصلاۃ‘‘ ۔
حدیث 4:
’’ عن معاویۃ بن قرۃ عن ابیہ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہی عن ہاتین الشجرتین یعنی البصل والثوم وقال من اکلہما فلا یقربن مسجدنا وقال إن کنتم لابد آکلیہما فامیتوہما طبخا‘‘۔
حدیث 5:
’’ عن الحسن مرسلا قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یاتی علی الناس زمان یکون حد یثھم فی مساجد ھم فی امر دنیاھم فلا تجالسوھم فلیس للہ فیھم حاجۃ‘‘ ۔
حدیث ترجمہ
ترجمہ حدیث1:حضرت عثمانرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ رسولِ کریمعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْمنے فرمایا کہ جو شخص خدائے تعالیٰ (کی خوشنودی) کے لیے مسجد بنائے گا تو خدائے تعالیٰ اس کے صلے میں جنت میں گھر بنائے گا۔ (بخاری، مسلم)ترجمہ حدیث2:حضرت ابوہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ حضورﷺنے فرمایا کہ خدائے تعالیٰ کے نزدیک تمام آبادیوں میں محبوب ترین جگہیں اس کی مسجد یں ہیں اور بدترین مقامات بازار ہیں۔ (مسلم)ترجمہ حدیث3:حضرت عثمان بن مظعونرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ میں نے حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے عرض کیا یارسولاللّٰہمجھے تارک الدنیا ہونے کی اجازت مرحمت فرمائیے ۔ حضور نے فرمایا کہ میری اُمت کے لیے ترکِ دنیا یہی ہے کہ وہ مسجدوں میں بیٹھ کر نماز کا انتظار کرے ۔ (شرح السنۃ، مشکوۃ)ترجمہ حدیث4:حضرت معاویہ بن قرّۃرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمااپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسولِ کریمعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْمنے ان دو سبزیوں کے کھانے سے منع فرمایا یعنی پیاز اور لہسن سے اور فرمایا کہ اِنہیں کھا کر کوئی شخص ہماری مسجدوں کے قریب ہر گز نہ آئے ، اور فرمایا کہ اگر کھانا ہی چاہتے ہو تو پکا کر ان کی بُو دُور کرلیا کرو۔ (ابو داود)ترجمہ حدیث5:حضرت حسن بصریرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے بطریق مرسل روایت ہے کہ حضورﷺنے فرمایا کہ ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ لوگ مسجدوں کے اندر دُنیا کی باتیں کریں گے تو اس وقت تم ان لوگوں کے پاس نہ بیٹھنا خدائے تعالیٰ کو ان لوگوں کی کچھ پروا نہیں۔ (بیہقی)
شرح حدیث
شرح حدیث4:حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلویرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں کہ:
’’ہر چہ بوی ناخوش دارد از ماکولات وغیر ماکولات دریں حکم داخل ست‘‘۔ ([1])(اشعۃ اللمعات،جلد اول ص۳۲۸)
یعنی ہر وہ چیز کہ جس کی بُو ناپسند ہو اس حکم میں داخل ہے خواہ وہ کھانے والی چیزوں میں سے ہو یا نہ ہو۔
------------------
∞[1] ’’اشعۃ اللمعات‘‘،کتاب الصلاۃ،باب المساجد ومواضع الصلاۃ،ج۱،ص۳۵۲.شرح حدیث5:حضرت شیخ محققرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِاس حدیث کے تحت فرماتے ہیں کہ:
’’کنایت است از بیزاری حق از ایشان‘‘۔ ([1])(اشعۃ اللمعات،جلد اول ص۳۳۹)یعنی مطلب یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ ان لوگوں سے بیزار ہے ۔انتباہ:
(۱)…مسجد میں کچا لہسن اور پیاز کھانا یا کھا کر جانا جائز نہیں، جب تک کہ بُو باقی ہو اور یہی حکم ہر اس چیز کا ہے جس میں بُو ہو۔ جیسے بیڑی، سگریٹ پی کر یا مولی کھا کر جانا ، نیز جس کو گندہ د ہنی کی بیماری ہو یا کوئی بدبو دار دوا لگائی ہو تو جب تک بُو منقطع نہ ہو ان سب کو مسجد میں آنے کی ممانعت ہے ۔ اسی طرح مسجد میں ایسی ماچس اور دِیا سلائی جلانا کہ جس کے رگڑنے میں بُو اڑتی ہو منع ہے ۔ ([2])(درمختار، رد المحتار، بہار شریعت)
(۲)…مسجد میں مٹی کا تیل جلانا حرام ہے مگر جب کہ اس کی بُو بالکل دُور کر دی جائے ۔ ([3]) (فتاوی رضویہ، جلد سوم ، ص ۵۹۸)
(۳)…مسجد سے متصل کوئی مکان مسجد سے بلند ہو تو حرج نہیں اس لیے کہ مسجد ان ظاہری دیواروں کا نام نہیں بلکہ اس جگہ کے محاذ میں ساتوں آسمان تک سب مسجد ہے ۔
درمختار میں ہے : ’’أَنَّہُ مَسْجِدٌ إلَی عَنَانِ السَّمَاء‘‘۔ ([4])ردالمحتارمیں ہے : ’’وَکَذَا إلَی تَحْتِ الثَّرَی کَمَا فِی الْبِیرِیِّ عَنْ الْإِسْبِیجَابِیِّ‘ ‘۔ ([5])
(۴)…مسجد میں داخل ہوتے وقت پہلے داہنا قدم اندر رکھے اور یہ دعا پڑھے ۔
’’أَللَّھُمَّ افتح لِی أَبْوابَ رَحْمَتِکَ‘‘ یعنی اےاللّٰہتو اپنی رحمت کے دروازے میرے لیے کھول دے ۔
(۵)…مسجد سے نکلتے وقت پہلے بایاں قدم باہر رکھے اور یہ دُعا پڑ ھے ۔
’’أَللَّھُمْ إِنِّی أَسْءَلُکَ مِنْ فَضْلِک‘‘ یعنی اےاللّٰہمیں تجھ سے تیرے فضل کا سوال کرتا ہوں۔
------------------
∞[1] ’’اشعۃ اللمعات‘‘،کتاب الصلاۃ،باب المساجد ومواضع الصلاۃ،الفصل الثالث،ج۱،ص۳۶۴.[2] ’’بہار شریعت‘‘، ج۱، ص ۶۴۸، ’’الدر المختار ورد المحتار‘‘،کتاب الصلاۃ،باب ما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیھا،مطلب فی الغرس فی المسجد،ج۲،ص۵۲۵.[3] ’’الفتاوی الرضویۃ‘‘،ج۸،ص۱۰۳.[4] ’’الدر المختار‘‘،کتاب الصلاۃ،باب ما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیھا،ج۲،ص۵۱۶.[5] ’’رد المحتار‘‘،کتاب الصلاۃ،باب ما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیھا،مطلب فی أحکام المسجد،ج۲،ص۵۱۷.
ماخذ و مراجع
کتاب: اَنْوارُ الحَدِیْثْ جلد: 1 , حدیث نمبر: 24