- ہوم
- کتابیں
- اَنْوارُ الحَدِیْثْ
- کتاب الطہارۃ
- حدیث نمبر 15
غسل کا بیان - اَنْوارُ الحَدِیْثْ - حدیث نمبر: 15
کتاب الطہارۃ
حدیث مبارکہ
حدیث 1:
عَنْ عَاءِشَۃَ قَالَتْ سُءِلَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ الرَّجُلِ یَجِدُ الْبَلَلَ وَلَا یَذْکُرُ احْتِلَامًا قَالَ یَغْتَسِلُ وَعَنْ الرَّجُلِ یَرَی أَنَّہُ قَدْ احْتَلَمَ وَلَا یَجِدُ بَلَلًا قَالَ لَا غُسْلَ عَلَیْہِ قَالَتْ أُمُّ سُلَیْمٍ ہَلْ عَلَی الْمَرْأَۃِ تَرَی ذَلِکَ غُسْلٌ قَالَ نَعَمْ إِنَّ النِّسَاءَ شَقَاءِقُ الرِّجَالِ۔
حدیث 2:
عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِذَا جَلَسَ أَحَدُکُمْ بَیْنَ شُعَبِہَا الْأَرْبَعِ ثُمَّ جَہَدَہَا فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ وَإِنْ لَمْ ینزِلْ۔
حدیث 3:
عَنْ عَائشَۃَ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہَا قَالَتْ کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِذَا کَانَ جُنُبًا فَأَرَادَ أَنْ یَأْکُلَ أَوْ یَنَامَ تَوَضَّأَ وُضُو ء ہُ لِلصَّلَاۃِ۔
حدیث 4:
عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ تَحْتَ کُلِّ شَعْرَۃٍ جَنَابَۃٌ فَاغْسِلُوا الشَّعْرَ وَأَنْقُوا الْبَشَرَۃَ۔
حدیث 5:
عَنْ عَائشَۃَ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہَا قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِذَا اغْتَسَلَ مِنْ الْجَنَابَۃِ بَدَأَ فَغَسَلَ یَدَیْہِ ثُمَّ یَتَوَضَّأُ کَمَا یَتَوَضَّأُ لِلصَّلَاۃِ ثُمَّ یُدْخِلُ أَصَابِعَہُ فِی الْمَاءِ فَیُخَلِّلُ بِہَا أُصُولَ شَعْرِہِ ثُمَّ یَصُبُّ عَلَی رَأْسِہِ ثَلاثَ غُرَفَاتٍ بِیَدَیْہِ ثُمَّ یُفِیضُ الْمَاء عَلَی جِلْدِہِ کُلِّہِ وَفِیْ رِوَایَۃِ الْمُسْلِمِ یَبْدَأُ فَیَغْسِلُ یَدَیْہِ قَبْلَ أَنْ یُدْخِلَھُمَا الْإِنَاء ثُمَّ یُفْرِغُ بِیَمِینِہِ عَلَی شِمَالِہِ فَیَغْسِلُ فَرْجَہُ ثُمَّ یَتَوَضَّأُ۔
حدیث 1:
عن عاءشۃ قالت سءل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن الرجل یجد البلل ولا یذکر احتلاما قال یغتسل وعن الرجل یری انہ قد احتلم ولا یجد بللا قال لا غسل علیہ قالت ام سلیم ہل علی المراۃ تری ذلک غسل قال نعم إن النساء شقاءق الرجال۔
حدیث 2:
عن ابی ہریرۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إذا جلس احدکم بین شعبہا الاربع ثم جہدہا فقد وجب الغسل وإن لم ینزل۔
حدیث 3:
عن عائشۃ رضی اللہ عنہا قالت کان النبی صلی اللہ علیہ وسلم إذا کان جنبا فاراد ان یاکل او ینام توضا وضو ء ہ للصلاۃ۔
حدیث 4:
عن ابی ہریرۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تحت کل شعرۃ جنابۃ فاغسلوا الشعر وانقوا البشرۃ۔
حدیث 5:
عن عائشۃ رضی اللہ عنہا قالت کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إذا اغتسل من الجنابۃ بدا فغسل یدیہ ثم یتوضا کما یتوضا للصلاۃ ثم یدخل اصابعہ فی الماء فیخلل بہا اصول شعرہ ثم یصب علی راسہ ثلاث غرفات بیدیہ ثم یفیض الماء علی جلدہ کلہ وفی روایۃ المسلم یبدا فیغسل یدیہ قبل ان یدخلھما الإناء ثم یفرغ بیمینہ علی شمالہ فیغسل فرجہ ثم یتوضا۔
حدیث ترجمہ
ترجمہ حدیث 1:حضرت عائشہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہانے فرمایا کہ رسولِ کریمعلیہ الصلاۃ والتسلیمسے اس مرد کے بارے میں دریافت کیا گیا کہ جو تری پائے اور احتلام یاد نہ ہو۔ فرمایا غسل کرے اور اس شخص کے بارے میںپوچھا گیا جسے خواب کا یقین ہے اور تری نہیں پاتا فرمایا اس پر غسل نہیں۔ حضرت اُمّ سلیمرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُا نے عرض کیا۔ کیا عورت اس کو دیکھے تو اس پر غسل ہے ؟فرمایا ہاں، عورتیں مردوں کی مثل ہیں۔ (ترمذی، ابوداود)ترجمہ حدیث 2:حضرت ابوہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ حضورﷺنے فرمایا کہ جب تمہیں کوئی عورت کی چاروں شاخوں یعنی ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان بیٹھے پھر کوشش یعنی ہم بستری کرے تو غسل واجب ہوگیا اگرچہ منی نہ نکلے ۔ (بخاری، مسلم)ترجمہ حدیث 3:حضرت عائشہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُا نے فرمایا کہ نبی کر یمعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْمجب جنب ہوتے پھر کچھ کھانے یا سونے کا ارادہ فرماتے تو وضو کرلیتے جس طرح کہ نماز کے لیے وضو کیا جاتا ہے ۔ (بخاری، مسلم)ترجمہ حدیث 4:حضرت ابوہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ رسولِ کریمعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْمنے فرمایا کہ ہر بال کے نیچے جنابت کا اثر ہے اس لیے ہر بال دھوؤ اور بدن کو صاف ستھرا کرو۔ (ابوداود، ترمذی)ترجمہ حدیث 5:حضرت عائشہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُا نے فرمایا کہ رسولِ کریمعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْمجب جنابت کا غسل فرماتے تو ابتدا ء یوں کرتے کہ پہلے ہاتھ دھوتے پھر نماز کے جیسا وضو کرتے پھر انگلیاں پانی میں ڈال کر اِن سے بالوں کی جڑیں تر فرماتے پھر سر پر دونوں ہاتھ سے تین چلو پانی ڈالتے پھر تمام بدن پر پانی بہاتے اور امام مسلم کی روایت میں ہے کہ حضور (جب غسل) شر وع فرماتے تو ہاتھوں کو بر تن میں داخل کرنے سے پہلے دھولیتے پھر داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالتے بعد ہ اپنی شر مگاہ دھوتے پھر وضو فرماتے ۔ (بخاری، مسلم)
شرح حدیث
شرح حدیث 4:مُّلا علی قاریعلیہ رحمۃ الباریاس حدیث کے تحت فرماتے ہیں کہ:
’’فَلَوْبَقِیَت شَعرۃٌ وَاحِدَۃٌ لَمْ یَصِل إِلَیْہَا الْمَاءُ بَقِیَتْ جَنَابَتُہُ‘‘۔ (1)
یعنی اگر ایک بال بھی پانی پہنچنے سے رہ گیا تو اس کی جنابت باقی رہے گی۔ (مرقاۃ، جلد اول ، ص۳۲۷)
------------------
∞[1] ’’مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح‘‘،کتاب الطھارۃ،الحدیث:۴۴۳،ج۲،ص۱۴۶.انتباہ:
(۱)… غسل کا طر یقہ یہ ہے کہ پہلے دونوں ہاتھ گٹوں تک تین مرتبہ دھوئے پھر استنجاء کی جگہ دھوئے اس کے بعد بدن پر اگر کہیں نجاست یعنی پیشاب یا پاخانہ یا منی وغیرہ ہو تو اسے دور کرے پھر نماز جیسا وضو کرے مگر پاؤں نہ دھوئے ۔ ہاں اگر چوکی یا پتھر وغیرہ اونچی چیز پر نہاتا ہو تو پاؤں بھی دھولے ۔ اس کے بعد بدن پر تیل کی طرح پانی چپڑے ۔ پھر تین مرتبہ داہنے مونڈھے پر پانی بہائے ۔ اور پھر تین مرتبہ بائیں مونڈھے پر ، پھر سر پر اور تمام بدن پر تین بار پانی بہائے ۔ تمام بدن پر ہاتھ پھیرے اور ملے ۔ پھر غسل کرنے کی جگہ سے الگ ہٹ جائے ۔ اگر وضو کرنے میں پاؤں نہیں دھویا تھا تو اب دھولے اور فوراً کپڑا پہن لے ۔
(۲)…پردے کی جگہ میں ننگے بدن غسل کرنا جائز ہے ہاں عورتوں کو زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے ۔ (1)(بہار شریعت)
(۳)… لوگوں کے سامنے ران اور گھٹنا کھول کر نہانا یا اتنا باریک کپڑا پہن کر نہانا کہ بدن جھلکے سخت ناجائز وحرام ہے ۔ (عامہ کتب)
(۴)… منی کا اپنی جگہ سے شہوت کے ساتھ جدا ہو کر عضو سے نکلنا، احتلام ہونا، حشفہ کا داخل ہونا، حیض سے فارغ ہونا ، نفاس کا ختم ہونا۔ ان تمام صورتوں میں غسل کرنا فرض ہے ۔ اور جمعہ، عید، بقرعید، عرفہ کے دن اور احرام باندھتے وقت نہانا سنت ہے ۔ (2)(بہار شریعت)
------------------
∞[1] ’’بہارِ شریعت‘‘، ج۱، ص۳۲۰.[2] ’’بہار شر یعت‘‘، ج۱، ص ۳۲۱۔ ۳۲۴.
ماخذ و مراجع
کتاب: اَنْوارُ الحَدِیْثْ جلد: 1 , حدیث نمبر: 15