- ہوم
- کتابیں
- اَنْوارُ الحَدِیْثْ
- کتاب الصلوٰۃ
- حدیث نمبر 23
جماعت کا بیان - اَنْوارُ الحَدِیْثْ - حدیث نمبر: 23
کتاب الصلوٰۃ
حدیث مبارکہ
حدیث1:
’’عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَلاۃُ الْجَمَاعَۃِ تَفْضُلُ صَلاۃَ الْفَذِّ بِسَبْعٍ وَعِشْرِینَ دَرَجَۃً‘‘۔
حدیث2:
’’ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَیْسَ صَلاۃٌ أَثْقَل عَلَی الْمُنَافِقِینَ مِنَ الْفَجْرِ وَالْعِشَاءِ وَلَوْ یَعْلَمُونَ مَا فِیہِمَا لَأَتَوْہُمَا وَلَوْ حَبْوًا‘‘۔
حدیث3:
’’ عَنْ عُثْمَانَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ صَلَّی الْعِشَاءَ فِی جَمَاعَۃٍ فَکَأَنَّمَا قَامَ نِصْفَ اللَّیْلِ وَمَنْ صَلَّی الصُّبْحَ فِی جَمَاعَۃٍ فَکَأَنَّمَا صَلَّی اللَّیْلَ کُلَّہُ‘‘ ۔
حدیث4:
’’ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَقَدْ ہَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِحَطَبٍ فَیُحْطَبَ ثُمَّ آمُرَ بِالصَّلَاۃِ فَیُؤَذَّنَ لَہَا ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا فَیَؤُمَّ النَّاسَ ثُمَّ أُخَالِفَ إِلَی رِجَالٍ وَفِیْ رِوَایَۃٍ لَا یَشْہَدُونَ الصَّلاۃَ فَأُحَرِّقَ عَلَیْہِمْ بُیُوتَہُمْ‘‘۔
حدیث5:
’’ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْلَا مَا فِی الْبُیُوتِ مِنَ النِّسَاءِ وَالذُّرِّیَّۃِ أَقَمْتُ صَلاۃَ الْعِشَاءِ وَأَمَرْتُ فِتْیَانِی یُحْرِقُونَ مَا فِی الْبُیُوتِ بِالنَّارِ‘‘ ۔
حدیث6:
’’ عَنْ أَبِی الدَّرْدَاءِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ ثَلاثَۃٍ فِی قَرْیَۃٍ وَلَا بَدْوٍ لَا تُقَامُ فِیہِمُ الصَّلَاۃُ إِلَّا قَدْ اسْتَحْوَذَ عَلَیْہِمُ الشَّیْطَانُ فَعَلَیْکَ بِالْجَمَاعَۃِ‘‘۔
حدیث1:
’’عن ابن عمر قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلاۃ الجماعۃ تفضل صلاۃ الفذ بسبع وعشرین درجۃ‘‘۔
حدیث2:
’’ عن ابی ہریرۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لیس صلاۃ اثقل علی المنافقین من الفجر والعشاء ولو یعلمون ما فیہما لاتوہما ولو حبوا‘‘۔
حدیث3:
’’ عن عثمان قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من صلی العشاء فی جماعۃ فکانما قام نصف اللیل ومن صلی الصبح فی جماعۃ فکانما صلی اللیل کلہ‘‘ ۔
حدیث4:
’’ عن ابی ہریرۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم والذی نفسی بیدہ لقد ہممت ان آمر بحطب فیحطب ثم آمر بالصلاۃ فیؤذن لہا ثم آمر رجلا فیؤم الناس ثم اخالف إلی رجال وفی روایۃ لا یشہدون الصلاۃ فاحرق علیہم بیوتہم‘‘۔
حدیث5:
’’ عن ابی ہریرۃ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال لولا ما فی البیوت من النساء والذریۃ اقمت صلاۃ العشاء وامرت فتیانی یحرقون ما فی البیوت بالنار‘‘ ۔
حدیث6:
’’ عن ابی الدرداء قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ما من ثلاثۃ فی قریۃ ولا بدو لا تقام فیہم الصلاۃ إلا قد استحوذ علیہم الشیطان فعلیک بالجماعۃ‘‘۔
حدیث ترجمہ
ترجمہ حدیث 1:حضرت ابن عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُما نے کہا کہ رسولِ کریمعلیہ الصلاۃ والتسلیمنے فرمایا کہ نماز باجماعت کا ثواب تنہا پڑھنے کے مقابلے میں ستائیس درجہ زیادہ ہے ۔ (بخاری، مسلم)ترجمہ حدیث 2:حضرت ابوہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ حضورعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْمنے فرمایا کہ منافقوں پر فجر اور عشاء کی نماز وں سے زیادہ کوئی نماز بھاری نہیں۔ اگر لوگ جانتے کہ ان دونوں نمازوں میں کیا اجر و ثواب ہے تو گھسٹتے ہوئے چل کر ان میں شریک ہوتے ۔ (بخاری، مسلم)ترجمہ حدیث 3:حضرت عثمانرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ رسولِ کریمعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْمنے فرمایا کہ جس نے عشاء کی نماز جماعت سے پڑھی تو گویا وہ آدھی رات تک عبادت میں کھڑا رہا اور جس نے فجر کی نماز جماعت سے ادا کی تو گویا اس نے ساری رات نماز پڑھی۔ (مسلم)ترجمہ حدیث 4:حضرت ابوہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ سرکارِ اقدسصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے کہ میرا جی چاہتا ہے کہ میں لکڑیاں جمع کرنے کا حکم دوں جب لکڑیاں جمع ہوجائیں تو نماز کا حکم دوں کہ اس کی اذان دی جائے پھر کسی کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے ، پھر میں ان لوگوں کی طرف جاؤں جو نماز میں حاضر نہیں ہوتے یہاں تک کہ ان کے گھروں کو جلادوں۔ (بخاری، مسلم)ترجمہ حدیث 5:حضرت ابوہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے رو ایت ہے کہ نبی کریمعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْمنے فرمایا کہ اگر گھروں میں عورتیں اور بچے نہ ہوتے تو میں عشاء کی نماز قائم کر تا اور اپنے جوانوں کو حکم دیتا کہ جو کچھ (بے نمازیوں کے ) گھروں میں ہے آگ سے جلادیں۔ (احمد)ترجمہ حدیث 6:حضرت ابوالدرداءرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ رسولِ کریمعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْمنے فرمایا کہ جس آبادی یا جنگل میں تین آدمی ہوں اور ان میں نماز جماعت سے نہ قائم کی جائے تو شیطان ان پر غالب آجاتا ہے ۔ لہذا جماعت کو لازم جانو۔ (احمد، ابوداود)
شرح حدیث
انتباہ :عاقل، بالغ قادر پر جماعت واجب ہے ، بلا عذر ایک بار بھی چھوڑنے والا گنہ گار مستحق سزا ہے اور کئی بار ترک کرے توفاسق ، مردود الشہادۃ ہے ۔ اس کو سخت سزا دی جائے گی۔ اگر پڑوسیوں نے سکوت کیا(یعنی جماعت میں شریک ہونے کی تاکید نہیں کی اور خاموش رہے ) وہ بھی گنہ گار ہوں گے ۔ ([1]) (بہار شریعت، جلد سوم ص ۳۳۷)
اور تنویر الابصار و درمختار میں ہے :قِیلَ وَاجِبَۃٌ وَعَلَیْہِ الْعَامَّۃُ أَيْ عَامَّۃُ مَشَایِخِنَا وَبِہِ جَزَمَ فِی التُّحْفَۃِ وَغَیْرِہَا قَالَ فِی الْبَحْرِ وَہُوَ الرَّاجِحُ عِنْدَ أَہْلِ الْمَذْہَبِ۔ ([2])
اور طحطاوی، ص:۱۷۱ میں ہے : ’’فِی البدَائعِ عَامۃ المَشَایخ عَلَی الْوجُوبِ وَبِہِ جزمَ فِی التُّحْفَۃِ وَغَیرِھَا وَفِی جَامِع الْفقہِ أعدل الأَقْوَال وَأَقْوَاھَا الوُجُوب‘‘۔ ([3])
اورفتاویٰ عالمگیری جلد اول مصری ص:۷۷ میں ہے :’’وَفِی الْغَایَۃِ قَالَ عَامَّۃُ مَشَایِخِنَا إنَّہَا وَاجِبَۃٌ وَفِی الْمُفِیدِ وَتَسْمِیَتُہَا سُنَّۃً لِوُجُوبِہَا بِالسُّنَّۃِ‘‘۔ ([4])
اور اشعۃ اللمعات جلد اول ص:۴۵۸میں ہے :شیخ ابن ہمام نقل کر دہ کہ اکثر مشائخ ما برین اندکہ جماعت واجب ست وتسمیۂ او بسنت بجہت آن ست کہ ثبوت وجوب آن بہ سنت است۔ ([5])
یعنی شیخ ابن ہمامرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِنے نقل فرمایا کہ ہمارے کثیر مشائخ کا مذہب یہ ہے کہ جماعت واجب ہے اور اس کا نام سنت اس وجہ سے ہے کہ اس کا وجوب سنت سے ثابت ہے ۔
------------------
∞[1] ’’بہار شریعت‘‘، ج۱، ص ۵۸۲، ’’الدر المختار ورد المحتار‘‘،کتاب الصلاۃ،ج۲،ص۳۴۰.[2] ’’الدر المختار‘‘،کتاب الصلاۃ،باب الإمامۃ،ج۲،ص۳۴۵.[3] ’’حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح‘‘،کتاب الصلاۃ،باب الإمامۃ،ص۲۸۶.[4] ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الصلاۃ،الباب الخامس،الفصل الأول فی الجماعۃ،ج۱،ص۸۲.[5] ’’اشعۃ اللمعات‘‘،کتاب الصلاۃ،باب الجماعۃ وفضلھا،الفصل الأول،ج۱،ص۴۹۲.
ماخذ و مراجع
کتاب: اَنْوارُ الحَدِیْثْ جلد: 1 , حدیث نمبر: 23