Main Icon

تراویح کا بیان - اَنْوارُ الحَدِیْثْ - حدیث نمبر: 18

کتاب الصلوٰۃ

حدیث مبارکہ

حدیث 1:
عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِیمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ۔
حدیث 2:
عَنْ سَاءِبِ بْنِ یَزِیْدَ قَالَ کُنَّا نَقُوْمُ فِیْ زَمَان عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بِعِشْرِیْنَ رَکْعَۃً وَالْوِتْرِ۔
حدیث3:
عَنْ یَزِیْدَ بْنِ رُوْمَانَ أَنَّہُ قَالَ کَانَ النَّاسُ یَقُوْمُوْنَ فِی زَمَانِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِی رَمَضَانَ بِثَلاثٍ وَعِشْرِینَ رَکْعَۃً۔

حدیث 1:
عن ابی ہریرۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من قام رمضان إیمانا واحتسابا غفر لہ ما تقدم من ذنبہ۔
حدیث 2:
عن ساءب بن یزید قال کنا نقوم فی زمان عمر بن الخطاب بعشرین رکعۃ والوتر۔
حدیث3:
عن یزید بن رومان انہ قال کان الناس یقومون فی زمان عمر بن الخطاب فی رمضان بثلاث وعشرین رکعۃ۔

حدیث ترجمہ

ترجمہ حدیث 1:حضرت ابوہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ رسولِ کریمعلیہ الصلاۃ والتسلیمنے فرمایا کہ جو شخص صدق دل اور اعتقاد ِ صحیح کے ساتھ رمضان میں قیام کرے یعنی تراویح پڑھے تو اس کے اگلے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔ (مسلم)ترجمہ حدیث 2:حضرت سائب بن یزیدرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا کہ ہم صحابہ کرام حضرت عمر فاروق اعظمرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکے زمانہ میں بیس رکعت ( تراویح) اور وتر پڑھتے تھے ۔ (بیہقی)ترجمہ حدیث 3:حضرت یزید بن رومانرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا کہ حضرت عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکے زمانے میں لوگ تئیس رکعت پڑھتے تھے ( یعنی بیس رکعت تراویح اور تین رکعت وتر) (امام مالک)

شرح حدیث

شرح حدیث 2:اس حدیث کے بارے میں مرقاۃ شرح مشکوۃ جلد دوم ص:۱۷۵ میں ہے ’’قَالَ النَّووِی فِی الْخُلَاصَۃِ إِسْنَادُہُ صَحِیْحٌ‘‘یعنی امام نووی نے خلاصہ میں فرمایا کہ اِس روایت کی اسناد صحیح ہے ۔ (1)
------------------
∞[1] ’’
مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح‘‘باب قیام شھر رمضان،الحدیث:۱۳۰۳،ج۳،ص۳۸۲.بیس رکعت پر صحابہ کا اجماع ہےملک العلماء حضرت علامہ علاء الدین ابوبکربن مسعود کاسانیرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِتحریر فرماتے ہیں کہ :
’’
رُوِیَ أَنَّ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ جَمَعَ أَصْحَابَ رَسُولِ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی شَہْرِ رَمَضَانَ عَلَی أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ فَصَلَّی بِہِمْ فِی کُلِّ لَیْلَۃٍ عِشْرِینَ رَکْعَۃً،وَلَمْ یُنْکِرْعَلَیْہِ أَحَدٌ فَیَکُونُ إجْمَاعًا مِنْہُمْ عَلَی ذَلِک‘‘(1)
یعنی مروی ہے کہ حضرت عمر فاروقِ اعظم
رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے رمضان کے مہینہ میں صحابہ کرام کو حضرت اُبی بن کعبرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُپر جمع فرمایا تو وہ روزانہ صحابہ کرام کو بیس رکعت پڑھاتے تھے اور ان میں سے کسی نے مخالفت نہیں کی تو بیس رکعت پر صحابہ کا اجماع ہوگیا۔ (بدائع الصنائع ، جلد اول ، ص۲۸۸)
اور عمدۃ القاری شرح بخاری جلد پنجم ص:۳۵۵میں ہے :
’’
قَالَ ابْنُ عَبْدِالبرِ وَھُوَ قَوْلُ جُمْھورِ الْعُلَمَاء وَبِہِ قَالَ الْکُوْفِیُوْنَ وَالشَّافِعِیُّ وَأَکْثَر الفُقَھَاءِ وَھُوَالصَّحِیْحُ عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ مِنْ غَیْرِ خِلَافٍ مِنَ الصَّحَابَۃِ‘‘(2)
یعنی علامہ ابن عبدالبر نے فرمایا کہ ( بیس رکعت تراویح) جمہور علماء کا قول ہے ۔ علمائے کوفہ ، امام شافعی اور اکثر فقہاء یہی فرماتے ہیں اور یہی صحیح ہے ۔ ابی بن کعب سے منقول ہے اس میں صحابہ کا اختلاف نہیں۔
اور علامہ ابنِ حجر نے فرمایا ’’
إِجْمَاعُ الصَّحَابَۃِ عَلَی أَنَّ التَّرَاوِیْحَ عِشْرُوْنَ رَکْعَۃً‘‘ یعنی صحابۂ کرام کا اس بات پر اجماع ہے کہ تراویح بیس رکعت ہے ۔ اور مراقی الفلاح شرح نور الایضاح میں ہے :وَہِیَ عِشْرُوْنَ رَکْعَۃً بِإِجْمَاعِ الصَّحَابَۃِ۔ (3)
یعنی تراویح بیس رکعت ہے اِس لیے کہ اس پر صحابہ کرام کا اجماع ہے ۔
اور مولانا عبدالحی صاحب فرنگی محلی عمدۃ الرعایۃ حاشیہ شرح وقایہ جلد اول ص:۱۷۵ میں لکھتے ہیں:
’’
ثَبَتَ اِھْتِمَامُ الصَّحَابَۃِ عَلَی عِشْرِیْنَ فِی عَھْدِ عُمَرَ وَعُثْمَانَ وَعَلِیٍّ فَمنْ بَعْدَھُمْ أَخْرَجَہُ مَالِکٌ وَابْنُ سَعْدٍ وَالْبَیْھَقِی وَغُیْرُھُمْ‘‘۔ (4)
یعنی حضرت عمر، حضرت عثمان اور حضرت علی
رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمکے زمانے میں اور ان کے بعد بھی صحابہ کرام کا بیس رکعت تراویح پر اہتمام ثابت ہے اس مضمون کی حدیث کو امام مالک، ابن سعد، اور امام بیہقی وغیرہم نے تخریج کی ہے ۔
اور مُلا علی قاری
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ البَارِیتحریر فرماتے ہیں۔أَجْمَعَ الصَّحَابَۃُ عَلَی أَنَّ التَّرَاوِیْحَ عِشْرُوْنَ رَکْعَۃًیعنی صحابہ کرام کا اس بات پر اجماع ہے کہ تراویح بیس رکعت ہے ۔ (5) (مرقاۃ، جلد دوم، ص۱۷۵)
٭…٭…٭…٭
بیس رکعت جمہور کا قول ہے اور اسی پرعمل ہےامام ترمذیرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں:
’’
أَکْثَرُ أَہْلِ الْعِلْمِ عَلَی مَا رُوِیَ عَنْ عَلِیٍّ وَعُمَرَوَغَیْرِہِمَا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عِشْرِینَ رَکْعَۃً وَہُوَ قَوْلُ سُفْیَانَ الثَّوْرِیِّ وَابْنِ الْمُبَارَکِ وَالشَّافِعِیِّ و قَالَ الشَّافِعِیُّ ہَکَذَا أَدْرَکْتُ بِبَلَدِنَا بِمَکَّۃَ یُصَلُّونَ عِشْرِینَ رَکْعَۃً‘‘۔ (6)
یعنی کثیر علماء کا اسی پر عمل ہے جو حضرت مولیٰ علی حضرت فاروق اعظم اور دیگر صحابہ
رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمسے بیس رکعت تراویح منقول ہے ۔ اور سفیان ثوری ، ابن مبار ک اور امام شافعیرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِم بھی یہی فرماتے ہیں کہ ( تراویح بیس رکعت ہے ) اور امام شافعیرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِنے فرمایا کہ ہم نے اپنے شہر مکہ شریف میں لوگوں کو بیس رکعت تراویح پڑھتے ہوئے پایا ہے ۔ (ترمذی، باب قیام شھر رمضان، ص ۹۵)
اور مُلّا علی قاری
رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِشرح نقایہ میں تحریر فرماتے ہیں:فَصَارَ إِجْمَاعاً لِمَا رَوَی الْبَیْہَقِی بِإِسْنَادٍ صَحِیْحٍ کَانُوْا یُقِیْمُونَ عَلَی عَھْدِ عُمَرَ بِعِشْرِیْنَ رَکْعَۃً وَعَلَی عَھْدِ عُثْمَانَ وَعَلِیٍّ۔ (7)
یعنی بیس رکعت تراویح پر مسلمانوں کا اتفاق ہے ۔ اس لیے کہ امام بیہقی نے صحیح اسناد سے روایت کی ہے کہ حضرت عمر فاروق اعظم ، حضرت عثمانِ غنی اور حضرت مولیٰ علی
رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمکے مقدس زمانوں میں صحابہ کرام اور تابعین عظام بیس رکعت تراویح پڑھا کرتے تھے ۔ اور طحطاوی علی مراقی الفلاح ص:۲۲۴میں ہے :
’’
ثَبَتَ الْعِشْرُوْنَ بِمُوَاظَبَۃِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِیْنَ مَاعَدَا الصدیق رضی اللّٰہ تعالَی عنہم‘‘۔ (8)
یعنی حضرت ابوبکر صدیق
رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکے علاوہ دیگر خلفائے راشدین رضواناللّٰہتعالیٰ علیہم اجمعین کی مداومت سے بیس رکعت تراویح ثابت ہے ۔
اور علامہ ابن عابدین شامی
رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِتحریر فرماتے ہیں:
’’
وَہِیَ عِشْرُونَ رَکْعَۃً ہُوَ قَوْلُ الْجُمْہُورِ وَعَلَیْہِ عَمَلُ النَّاسِ شَرْقًا وَغَرْبًا‘‘۔ (9)
یعنی تراویح بیس رکعت ہے یہی جمہور علماء کا قول ہے اور مشرق و مغرب ساری دنیا کے مسلمانوں کا اسی پر عمل ہے ۔ (شامی، جلد اول، مصری ص۱۹۵)
اور شیخ زین الدین ابن نجیم
رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِتحریر فرماتے ہیں:
’’
ہُوَ قَوْلُ الْجُمْہُورِ لِمَا فِی الْمُوَطَّإِ عَنْ یَزِیدَ بْنِ رُومَانَ قَالَ کَانَ النَّاسُ یَقُومُونَ فِی زَمَنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بِثَلَاثٍ وَعِشْرِینَ رَکْعَۃً وَعَلَیْہِ عَمل النَّاسُ شَرْقًا وَغَرْبًا‘‘۔ (10)
یعنی بیس رکعت تراویح جمہور علماء کا قول ہے اس لیے کہ مؤطا امام مالک میں حضرت یزید بن رومان رضی ا للہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ حضرت عمر فاروق اعظم
رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکے زمانہ میں صحابہ کرام تئیس رکعت پڑھتے تھے ۔ ( یعنی بیس رکعت تراویح اور تین رکعت وتر) اور اِسی پر ساری دنیاکے مسلمانوں کا عمل ہے ۔ (بحرالرائق، جلد دوم ، ص ۶۶) اور عنایہ شرح ہدایہ میں ہے :
’’
کَانَ النَّاسُ یُصَلُّونَہَا فُرَادَی إلَی زَمَنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ،فَقَالَ عُمَرُ إنِّی أَرَی أَنْ أَجْمَعَ النَّاسَ عَلَی إمَامٍ وَاحِدٍ،فَجَمَعَہُمْ عَلَی أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ فَصَلَّی بِہِمْ خَمْسَ تَرْوِیحَاتٍ عِشْرِینَ رَکْعَۃً‘‘۔ (11)
یعنی حضرت عمر
رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکے شروع زمانہ خلافت تک صحابہ کرام تراویح الگ الگ پڑھتے تھے بعد ہ حضرت عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا کہ ایک امام پر صحابۂ کرام کو جمع کرنا بہتر سمجھتا ہوں۔ پھر انہوں نے حضرت اُبی بن کعبرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُپر صحابہ کرام کو جمع فرمایا۔ حضرت اُبی نے لوگوں کو پانچ ترویحہ بیس رکعت پڑھائی۔ اور کفایہ میں ہے :
’’
کَانَتْ جُمْلَتُھَا عِشْرِیْنَ رَکْعَۃً وَھَذَا عِنْدَنَا وَعِنْدَالشَّافِعی‘‘.(12)
یعنی تراویح کل بیس رکعت ہے ۔ اور یہ ہمارا مسلک ہے ۔ اور یہی مسلک امام شافعی
رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِکا بھی ہے ۔
اور بدائع الصنائع جلد اول ص:۲۸۸ میں ہے :
’’
أَمَّا قَدْرُہَا فَعِشْرُونَ رَکْعَۃً فِی عَشْرِ تَسْلِیمَاتٍ،فِی خَمْسِ تَرْوِیحَاتٍ کُلُّ تَسْلِیمَتَیْنِ تَرْوِیحَۃٌ وَہَذَا قَوْلُ عَامَّۃِ الْعُلَمَاء‘‘(13)
یعنی تراویح کی تعداد بیس رکعت ہے ۔ پانچ ترویحہ دس سلام کے ساتھ ، ہر دو سلام ایک ترویحہ ہے ۔ اور یہی عام علماء کا قول ہے ۔
اور امام غزالی
رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِتحریر فرماتے ہیںوَھِیَ عِشْرُونَ رَکْعَۃًیعنی تراویح بیس رکعت ہے ۔ (14) (احیاء العلوم، جلد اول ص ۲۰۱)
اور شرح وقایہ جلد اول ص:۱۷۵میں ہے ’’
سُنَّ التَّرَاوِیْحُ عِشرُوْنَ رَکْعَۃً‘‘ یعنی تراویح بیس رکعت مسنون ہے ۔ (15)اور فتاوی عالمگیری جلد اول مصری ص ۱۰۸ میں ہے ۔
’’
وَہِیَ خَمْسُ تَرْوِیحَاتٍ کُلُّ تَرْوِیحَۃٍ أَرْبَعُ رَکَعَاتٍ بِتَسْلِیمَتَیْنِ کَذَا فِی السِّرَاجِیَّۃ‘‘(16)
یعنی تراویح پانچ ترویحہ ہے ، ہر ترویحہ چار رکعت کا دو سلام کے ساتھ، ایسا ہی سراجیہ میں ہے ۔
اور حضرت شاہ ولی
اللّٰہصاحب محدث دہلویرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں۔
’’
عَدَدُہُ عِشْرُوْنَ رَکْعَۃً‘‘(17)یعنی تراویح کی تعداد بیس رکعت ہے ۔ (حجۃاللّٰہالبالغہ ، جلد دوم، ص ۱۸)
٭…٭…٭…٭
بیس رکعت تراویح کی حکمتبیس رکعت تراویح کی حکمت یہ ہے کہ رات اور دن میں کل بیس رکعت فرض وواجب ہیں، سترہ ر کعت فرض اور تین رکعت وتر اور رمضان میں بیس رکعت تراویح مقرر کی گئیں تاکہ فرض وواجب کے مدارج اور بڑھ جائیں اور ان کی خوب تکمیل ہوجائے ۔
جیسا کہ بحرالرائق جلد دوم ص:۶۷ پر ہے :
’’
ذَکَرَ الْعَلَّامَۃُ الْحَلَبِیُّ أَنَّ الْحِکْمَۃَ فِی کَوْنِہَا عِشْرِینَ أَنَّ السُّنَنَ شُرِعَتْ مُکَمِّلَاتٍ لِلْوَاجِبَاتِ وَہِیَ عِشْرُونَ بِالْوِتْرِ فَکَانَتْ التَّرَاوِیحُ کَذَلِکَ لِتَقَعَ الْمُسَاوَاۃُ بَیْنَ الْمُکَمِّلِ وَالْمُکَمَّل‘‘ ۔ (18)
یعنی علامہ حلبی
رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِنے ذکر فرمایا کہ تراویح کے بیس رکعات ہونے میں حکمت یہ ہے کہ واجب اور فرض جو دن رات میں کل بیس رکعت ہیں انہیں کی تکمیل کے لیے سنتیں مشروع ہوئی ہیں تو تراویح بھی بیس رکعت ہوئی تاکہ مکمل کرنے والی تراویح اور جن کی تکمیل ہوگی یعنی فرض وواجب دونوں برابر ہوجائیں۔
اور مراقی الفلاح کے قول
وَھِیَ عِشْرُونَ رَکْعَۃًکے تحت علامہ طحطاویرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِتحریر فرماتے ہیں:
’’
اَلْحکمَۃُ فِی تَقدِیرِھَا بِھذَا الْعدَدِ مُسَاوَاۃ المُکَمِّلِ وَھِیَ السنن للمکمَّل وَھِیَ الْفَراءِضُ الْاِعتقَادِیّۃ وَالْعَمَلِیَّۃ‘‘ ۔ (19)
یعنی بیس رکعت تراویح مقرر کرنے میں حکمت یہ ہے کہ مکمل کرنے والی سنتوں کی رکعات اور جن کی تکمیل ہوتی ہے یعنی فرض وواجب کی رکعات کی تعداد برابر ہوجائیں۔
اور درمختار مع شامی جلد اول ص:۴۹۵میں ہے :
’’
وَہِیَ عِشْرُونَ رَکْعَۃًحِکْمَتُہُ مُسَاوَاۃُ الْمُکَمِّلِ لِلْمُکَمَّلِ‘‘۔ (20)
یعنی تراویح بیس رکعت ہے اور بیس رکعت تراویح میں حکمت یہ ہے کہ مکمِّل مکمَّل کے برابر ہو۔
اور درمختار کی اسی عبارت کے تحت شامی میں نہر سے منقول ہے :
’’
لَا یَخْفَی أَنَّ الرَّوَاتِبَ وَإِنْ کَمُلَتْ أَیْضًا إلَّا أَنَّ ہَذَا الشَّہْر لِمَزِیدِ کَمَالِہِ زِیدَ فِیہِ ہَذَا الْمُکَمِّلُ فَتَکْمُلُ‘‘۔ (21)
یعنی واضح ہو کہ فرائض اگرچہ پہلے سے بھی مکمل ہیں لیکن ماہِ رمضان میں اس کے کمال کی زیادتی کے سبب یہ مکمل یعنی بیس رکعت تراویح بڑھا دی گئی تو وہ خوب کامل ہوگئے ۔
------------------
∞[1] ’’
بدائع الصنائع‘‘،کتاب الصلاۃ،فصل فی مقدار التراویح،ج۱،ص۶۴۴.[2] ’’عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری‘‘،کتاب التراویح،باب فضل من قام رمضان،ج۸،ص۲۴۶.[3] ’’مراقی الفلاح شرح نور الایضاح‘‘،کتاب الصلاۃ،فصل فی صلاۃ التراویح،ص:۲۴۴.[4] ’’عمدۃ الرعایۃ حاشیۃ شرح الوقایۃ‘‘،باب بیان سنیۃ التراویح وتعداد رکعتھا،ص۲۰۷.[5] ’’مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح‘‘،کتاب الصلاۃ،باب قیام شھر رمضان،الحدیث:۱۳۰۳،ج۳،ص۳۸۲.[6] ’’سنن الترمذی‘‘،کتاب الصوم،باب ما جاء فی قیام شھر رمضان،ج۲،ص۲۱۵.[7] ’’فتح باب العنایۃ بشرح النقایۃ‘‘،کتاب الصلاۃ،ج۱،ص۳۴۲۔[8] ’’حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح‘‘،باب الوتر،فصل فی صلاۃ التراویح،ص۴۱۱.[9] ’’رد المحتار‘‘،کتاب الصلاۃ،باب الوتر والنوافل،مبحث صلاۃ التراویح،ج۲،ص۳۹۹.[10] ’’البحر الرائق‘‘،کتاب الصلاۃ،باب الوتر والنوافل،ج۲،ص۱۱۷.[11] ’’العنایۃ شرح الہدایۃ‘‘،کتاب الصلاۃ،فصل فی قیام شھر رمضان،ج۱،ص۴۰۸.[12] ’’الکفایۃ‘‘،کتاب الصلاۃ،فصل فی قیام شھر رمضان،ج۱،ص۴۰۷.[13] ’’بدائع الصنائع‘‘،کتاب الصلاۃ،فصل فی مقدار التراویح،ج۱،ص۶۴۴.[14] ’’إحیاء علوم الدین‘‘کتاب إسرار الصلاۃ ومھماتھا،القسم الثالث،ج۱،ص۲۷۱.[15] ’’شرح الوقایۃ‘‘،کتاب الصلاۃ،باب سنیۃ التراویح وتعداد رکعتھا،ص۲۰۷.[16] ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،الباب التاسع فی النوافل،فصل فی التراویح،ج۱،ص۱۱۵.[17] ’’حجۃ اللّٰہ البالغۃ‘‘،حصہ دوم،ص۱۸.[18] ’’البحر الرائق‘‘،کتاب الصلاۃ،باب الوتر والنوافل،ج۲،ص۱۱۷.[19] ’’حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح‘‘،باب الوتر،فصل فی صلاۃ التراویح،ص۴۱۴.[20] ’’الدر المختار ورد المحتار‘‘،کتاب الصلاۃ،باب الوتر إلخ،مبحث صلاۃ التراویح،ج۲،ص۵۹۹.[21] ’’رد المحتار‘‘،کتاب الصلاۃ،باب الوتر والنوافل،مبحث صلاۃ التراویح،ج۲،ص۵۹۹.

ماخذ و مراجع

کتاب: اَنْوارُ الحَدِیْثْ جلد: 1 , حدیث نمبر: 18