- ہوم
- کتابیں
- اَنْوارُ الحَدِیْثْ
- کتاب البیوع
- حدیث نمبر 53
اچھا تاجر کا بیان - اَنْوارُ الحَدِیْثْ - حدیث نمبر: 53
کتاب البیوع
حدیث مبارکہ
حدیث 1:
’’عَنْ أَبِی سَعِیدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ التَّاجِرُ الصَّدُوقُ الْأَمِینُ مَعَ النَّبِیِّینَ وَالصِّدِّیقِینَ وَالشُّہَدَاء‘‘۔ (ترمذی)
حدیث 2:
’’ عَنْ عُبَیْدِ بْنِ رِفَاعَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ التُّجَّارُ یُحْشَرُوْنَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فُجَّارًا إِلَّا مَنِ اتَّقَی وَبَرَّ وَصَدَقَ‘‘۔
حدیث 3:
’’عَنْ وَاثِلَۃَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ مَنْ بَاعَ عَیْبًا لَمْ یُبَیِّنْہُ لَمْ یَزَلْ فِی مَقْتِ اللّٰہ وَلَمْ تَزَلَ الْمَلاءِکَۃُ تَلْعَنُہُ‘‘۔
حدیث 1:
’’عن ابی سعید قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم التاجر الصدوق الامین مع النبیین والصدیقین والشہداء‘‘۔ (ترمذی)
حدیث 2:
’’ عن عبید بن رفاعۃ عن ابیہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال التجار یحشرون یوم القیامۃ فجارا إلا من اتقی وبر وصدق‘‘۔
حدیث 3:
’’عن واثلۃ بن الاسقع قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول من باع عیبا لم یبینہ لم یزل فی مقت اللہ ولم تزل الملاءکۃ تلعنہ‘‘۔
حدیث ترجمہ
ترجمہ ضدیث 1:حضرت ابو سعیدرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ سرکارِ اقدسصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ بہت سچے اور دیانت دار تاجر ( کا حشر) نبیوں، صدیقوں اور شہیدوں کے ساتھ ہوگا۔ (علیہم السلامورَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُم)ترجمہ ضدیث 2:حضرت عبید بن رفاعہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُاپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ حضورﷺنے فرمایا کہ قیامت کے دن (بددیانت) تاجروں کا حشر نافرمانوں کے ساتھ ہوگا مگر جو تاجر خدائے تعالی سے ڈرتے ہوئے حرام سے بچے ، جھوٹی قسم نہ کھائے اور سچ بولے ( تو اس کا حشر فاجروں کے ساتھ نہیں ہوگا) (ترمذی، ابن ماجہ)ترجمہ ضدیث 3:حضرت واثلہ بن اسقعرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا کہ میں نے حضورﷺکو فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص عیب دار چیز بیچے اور اس کے عیب کو ظاہر نہ کرے وہ ہمیشہاللّٰہتعالیٰ کے غضب میں رہے گا۔ اور فرشتے اس پر لعنت کرتے رہیں گے ۔ (ابن ماجہ)
شرح حدیث
انتباہ:(۱)… مردار کی چربی کو بیچنا یا اس سے کسی قسم کا نفع اٹھانا جائز نہیں۔ نہ اسے چراغ میں جلاسکتے ہیں۔ نہ چمڑا پکانے کے کام میں لاسکتے ہیں۔ ([1])(شامی جلد۴، ص ۱۲۰، بہار شریعت، جلد ۱۱، ص ۵۷۸)
(۲)…مردار کے چمڑے کو بھی بیچنا باطل ہے ۔ جو پکایا ہوا نہ ہو اور دباغت کرلی ہو تو بیچنا جائز ہے اور اس کو کام میں لانا بھی جائز ہے ۔ ([2])(درمختار، بہار شریعت)
دباغت کی تین صورتیں ہیں ، کھارے نمک وغیرہ کسی دوا سے پکایا جائے یا فقط دھوپ یا ہوا میں سکھا لیا جائے کہ تمام رطوبت خشک ہو کر بدبو جاتی رہے ۔ ([3])(بہار شریعت)
(۳)…کافر حربی کے ہاتھ مردار کی چربی اور چمڑا بیچنا جائز ہے ۔ ([4])(بہار شریعت بحوالہ رد المحتار)
(۴)…بعض لوگ گائے بکری بٹائی پر دیتے ہیں کہ جتنے بچے پیدا ہوں گے دونوں نصف نصف لیں گے یہ اجارہ فاسد اور ناجائز ہے ۔ بچے اسی کے ہیں جس کی گائے اور بکری ہے دوسرے کو صرف اس کے کام کی واجبی اجرت ملے گی۔ ([5])(بہار شریعت، ج ۱۴، ص ۲۲۱۹)
اور جیسا کہ شامی جلد سوم ص:۳۶۱میں ہے :’’إذَا دَفَعَ الْبَقَرَۃَ بِالْعَلَفِ لِیَکُونَ الْحَادِثُ بَیْنَہُمَا نِصْفَیْنِ فَمَا حَدَثَ فَہُوَ لِصَاحِبِ الْبَقَرَۃِ وَلِلْآخَرِ مِثْلُ عَلَفِہِ وَأَجْرُ مِثْلِہِ تَتَارْخَانِیَّۃٌ‘‘۔ ([6])
اسی طرح فتاویٰ عالمگیری جلد چہارم مصری ص:۴۳۰ میں بھی ہے ۔ ([7])
(۵)…کسی کو مرغی دی کہ جتنے انڈے دے گی دونوں نصف نصف تقسیم کرلیں گے یہ اجارہ بھی فاسد اور ناجائز ہے ۔ انڈے اسی کے ہیں جس کی مرغی ہے ۔ ([8])(فتاوی عالمگیری مصری، جلد ۴، ص ۴۳۰، بہار شریعت، جلد ۱۴، ص ۱۴۳)
(۶)…کسی چیز کی قیمت زیادہ مانگنا پھر اس سے کم مانگنا پھر اس سے کم پر دے دینا جائز ہے ۔ یہ جھوٹ میں داخل نہیں ہے ۔
(۷)…تالابوں، جھیلوں کا مچھلیوں کے شکار کے لیے ٹھیکہ دینا جیسا کہ ہندوستان میں رائج ہے ناجائز ہے ۔ ([9])(بہار شریعت، جلد ۱۱ ص۸۷)
اور جیسا کہ درمختار باب البیع الفاسدمیں ہے ۔ ’’وَلَمْ تَجُزْ إجَارَۃُ بِرْکَۃٍ لِیُصَادُ مِنْہَا السَّمَکُ‘‘۔ ([10])
------------------
∞[1] ’ ’’بہارِ شریعت‘‘، ج۲، ص ۷۰۸، ’’رد المحتار‘‘،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،ج۷،ص۲۶۷.[2] ’’بہارِ شریعت‘‘، ج۲، ص ۷۰۷، ’’الدر المختار‘‘،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،ج۷،ص۲۶۵.[3] ’’بہارِ شریعت‘‘، ج۱، ص۴۰۲، ’’الدر المختار ورد المحتار‘‘،کتاب الطہارۃ،ج۱،ص۳۹۳۔ ۳۹۵.[4] ’’بہارِ شریعت‘‘، ج۲، ص۷۷۵، ’’رد المحتار‘‘،کتاب البیوع،باب الربا،ج۷،ص۴۴۲.[5] ’’بہارِ شریعت‘‘، ج۳، ص۱۵۱، ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الشرکۃ،الباب الخامس فی الشرکۃ الفاسدۃ،ج۲،ص۳۳۵.[6] ’’رد المحتار‘‘،کتاب الشرکۃ،مطلب یرجح القیاس،ج۶،ص۴۹۹.[7] ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الشرکۃ،الباب الخامس فی الشرکۃ الفاسدۃ،ج۲،ص۳۳۵.[8] ’’بہارِ شریعت‘‘، ج۳، ص۱۵۱، ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الشرکۃ،الباب الخامس فی الشرکۃ الفاسدۃ،ج۲،ص۳۳۵.[9] ’’بہارِ شریعت‘‘، ج۲، ص۱۵۱، ’’الدر المختار‘‘،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،ج۷،ص۲۴۸.[10] ’’الدر المختار‘‘،کتاب البیوع،مطلب فی حکم إیجار البرک للاصطیاد،ج۷،ص۲۴۹.
ماخذ و مراجع
کتاب: اَنْوارُ الحَدِیْثْ جلد: 1 , حدیث نمبر: 53