- ہوم
- کتابیں
- اَنْوارُ الحَدِیْثْ
- کتاب الایمان
- حدیث نمبر 3
بد مذہب - اَنْوارُ الحَدِیْثْ - حدیث نمبر: 3
کتاب الایمان
حدیث مبارکہ
حدیث1:
’’عَنْ اِبْرَاہِیْمَ بْن مَیْسَرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ مَنْ وَقَّرَصَاحِبَ بِدْعَۃٍ فَقَدْ أَعَانَ عَلَی ھَدَمِ الْإِسْلَامِ‘‘۔
حدیث2:
’’عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَیْتُمْ صَاحِبَ بِدْعَۃٍ فَاکْفَہِرُّوْا فِی وَجْھِہِ فَإِنَّ اللّٰہ یَبْغُضُ کُلَّ مُبْتَدِعٍ‘‘۔ (ابن عساکر)
حدیث3:
’’عَنْ أَبِیْ أُمَامَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ أَہْلُ الْبِدَع کِلَابُ أَھْلِ النَّارِ‘‘۔
حدیث4:
’’عَنْ حُذِیْفَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ لَا یَقْبَلُ اللّٰہ لِصَاحِبِ بِدْعَۃٍ صَوْماً وَّلَا صَلَوۃً وَّلَا صَدَقَۃً وَّلَا حَجًّا وَّلَا عُمْرَۃً وَّلَا جِھَادًا وَّلَا صَرْفًا وَّلَا عَدْلًا یَّخْرُجُ مِنَ الْإِسْلَامِ کَمَا تَخْرُجُ الشَّعْرَۃُ مِنَ الْعَجِیْنِ‘‘۔ (ابن ماجہ)
حدیث5:
عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ إِنْ مَرِضُوْا فَلَا تَعُوْدُوْھُمْ وَإِنْ مَاتُوْا فَلا تَشْھَدُوْھُمْ وَإِنْ لَقِیْتُمُوْھُمْ فَلا تُسَلِّمُوْا عَلَیْھِمْ وَلَا تُجَالِسُوْھُمْ وَلَا تُشَارِبُوْھُمْ وَلَا تُوَاکِلُوْھُمْ وَلَا تُنَاکِحُوْھُمْ وَلَا تُصَلُّوْا عَلَیْھِمْ وَلَا تُصَلُّوْا مَعَھُمْ‘‘۔ (مسلم شریف)
حدیث1:
’’عن ابراہیم بن میسرۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم من وقرصاحب بدعۃ فقد اعان علی ھدم الإسلام‘‘۔
حدیث2:
’’عن انس قال قال رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم إذا رایتم صاحب بدعۃ فاکفہروا فی وجھہ فإن اللہ یبغض کل مبتدع‘‘۔ (ابن عساکر)
حدیث3:
’’عن ابی امامۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اہل البدع کلاب اھل النار‘‘۔
حدیث4:
’’عن حذیفۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم لا یقبل اللہ لصاحب بدعۃ صوما ولا صلوۃ ولا صدقۃ ولا حجا ولا عمرۃ ولا جھادا ولا صرفا ولا عدلا یخرج من الإسلام کما تخرج الشعرۃ من العجین‘‘۔ (ابن ماجہ)
حدیث5:
عن ابی ھریرۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم إن مرضوا فلا تعودوھم وإن ماتوا فلا تشھدوھم وإن لقیتموھم فلا تسلموا علیھم ولا تجالسوھم ولا تشاربوھم ولا تواکلوھم ولا تناکحوھم ولا تصلوا علیھم ولا تصلوا معھم‘‘۔ (مسلم شریف)
حدیث ترجمہ
ترجمہ حدیث 1:حضرت ابراہیم بن میسرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ رسول ِ کریمعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْمنے فرمایا کہ جس نے کسی بدمذہب کی تعظیم و توقیر کی تو اس نے اسلام کے ڈھانے پر مدد دی۔ (مشکوۃ)ترجمہ حدیث 2:حضرت انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے انہوں نے کہا کہ سر کار ِاقدسصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ جب تم کسی بدمذہب کو دیکھو تو اس کے سامنے ترشروئی سے پیش آؤ۔ اس لیے کہ خدا تعالیٰ ہر بدمذہب کو دشمن رکھتا ہے ۔ (ابن عساکر)ترجمہ حدیث 3:حضرت ابوامامہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ رسول کریمعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْمنے فرمایا کہ بدمذہب دوزخ والوں کے کتے ہیں۔ (دار قطنی)ترجمہ حدیث 4:حضرت حذیفہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول کریمعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْمنے فرمایا کہ خدائے تعالیٰ کسی بدمذہب کا نہ روزہ قبول کرتا ہے ، نہ نماز، نہ زکوۃ، نہ حج، نہ عمرہ، نہ جہاد، نہ نفل ، نہ فرض، بدمذہب دین اسلام سے ایسا نکل جاتا ہے جیسا کہ گوندھے ہوئے آٹے سے بال نکل جاتا ہے ۔ترجمہ حدیث 5:حضرت ابوہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ سر کار ِ اقدسصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا کہ بدمذہب اگر بیمار پڑیں تو ان کی عیادت نہ کرو، اگر مر جائیں تو ان کے جنازہ میں شریک نہ ہو، ان سے ملاقات ہو تو انہیں سلام نہ کرو، ان کے پاس نہ بیٹھو، ان کے ساتھ پانی نہ پیو۔ ان کے ساتھ کھانا نہ کھاؤ، ان کے ساتھ شادی بیاہ نہ کرو، ان کے جنازے کی نماز نہ پڑھو، اور نہ ان کے ساتھ نماز پڑھو۔ (مسلم شریف) اس حدیث کو ابوداؤد نے حضرت ابن عمر سے اور ابن ماجہ نے حضرت جابر سے اور عقیل و ابنِ حبان نے حضرت انس سے روایت کیا۔رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُم۔
شرح حدیث
شرح حدیث 1:حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی بخاریرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِاس حدیث شریف کے تحت فرماتے ہیں کہ:
’’در توقیر دے استخفاف و استہانت سنت ست وایں می کشد بویران کردن بنائے اسلام‘‘(1)
یعنی بدمذہب کی تعظیم وتوقیر میں سنت کی حقارت اور ذلت ہے ۔ اور سنت کی حقارت اسلام کی بنیاد ڈھانے تک پہنچا دیتی ہے ۔ (اشعۃ اللمعات جلد اول ص۱۴۷)
------------------
∞[1] ’’اشعۃ اللمعات‘‘،کتاب الإیمان،باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ، ج۱، ص۱۵۹.
ماخذ و مراجع
کتاب: اَنْوارُ الحَدِیْثْ جلد: 1 , حدیث نمبر: 3