- ہوم
- کتابیں
- اَنْوارُ الحَدِیْثْ
- کتاب الصلوٰۃ
- حدیث نمبر 17
نماز کا بیان - اَنْوارُ الحَدِیْثْ - حدیث نمبر: 17
کتاب الصلوٰۃ
حدیث مبارکہ
حدیث1:
عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَرَأَیْتُمْ لَوْ أَنَّ نَہْرًا بِبَابِ أَحَدِکُمْ یَغْتَسِلُ فِیْہِ کُلَّ یَوْمٍ خَمْسًا ہَلْ یَبْقَی مِنْ دَرَنِہِ شَیْء ٌ قَالُوا لَا یَبْقَی مِنْ دَرَنِہِ شَیْء ٌ قَالَ فَذَلِکَ مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ یَمْحُو اللّٰہ بِہِنَّ الْخَطَایَا۔
حدیث 2:
عَنْ أَبِی ذَرٍّ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خَرَجَ زَمَنَ الشِّتَاءِ وَالْوَرَقُ یَتَہَافَتُ فَأَخَذَ بِغُصْنَیْنِ مِنْ شَجَرَۃٍ قَالَ فَجَعَلَ ذَلِکَ الْوَرَقُ یَتَہَافَتُ قَالَ فَقَالَ یَا أَبَا ذَرٍّ قُلْتُ لَبَّیْکَ یَا رَسُولَ اللّٰہ قَالَ إِنَّ الْعَبْدَ الْمُسْلِمَ لَیُصَلِّ الصَّلَاۃَ یُرِیدُ بِہَا وَجْہَ اللّٰہ فَتَہَافَتُ عَنْہُ ذُنُوبُہُ کَمَا یَتَہَافَتُ ہَذَا الْوَرَقُ عَنْ ہَذِہِ الشَّجَرَۃِ۔
حدیث 3:
عَنْ سَلْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ مَنْ غَدَا إِلَی صَلَاۃِ الصُّبْحِ غَدَا بِرَایَۃِ الْإِیمَانِ وَمَنْ غَدَا إِلَی السُّوقِ غَدَا بِرَایَۃِ إِبْلِیسَ۔
حدیث 4:
عَنْ عَبْدِ اللّٰہ بْنِ عَمَرِو بْنِ الْعَاصِ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہُ ذَکَرَ الصَّلاَۃَ یَوْماً فَقَالَ: مَنْ حَافَظَ عَلَیْہَا کَانَتْ لَہُ نُوراً وَبُرْہَاناً وَنَجَاۃً یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، وَمَنْ لَمْ یُحَافِظْ عَلَیْہَا لَمْ تَکُنْ لَہُ نُوراً وَلَا بُرْہَاناً وَلَا نَجَاۃً، وَکَانَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مَعَ قَارُونَ وَفِرْعَوْنَ وَہَامَانَ وَأُبَیِّ بْنِ خَلَفٍ۔
حدیث5:
عَنْ عَلِیِّ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ یَا عَلِیُّ ثَلَاثٌ لَا تُؤَخِّرْہَا الصَّلَاۃُ إِذَا أَتَتْ وَالْجَنَازَۃُ إِذَا حَضَرَتْ وَالْأَیِّمُ إِذَا وَجَدْتَ لَھَا کُفْؤًا۔
حدیث 6:
عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ تِلْکَ صَلَاۃُ الْمُنَافِقِ یَجْلِسُ یَرْقُبُ الشَّمْسَ حَتَّی إِذَا اصْفَرَّتْ وَکَانَتْ بَیْنَ قَرْنِی الشَّیْطَانِ قَامَ فَنَقَرَ أَرْبَعًا لَا یَذْکُرُ اللّٰہ فِیہَا إِلَّا قَلِیلًا۔
حدیث 7:
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مُرُوْا أَوْلَادَکُمْ بِالصَّلَاۃِ وَھُمْ أَبْنَاءُ سَبْعِ سِنِیْنَ وَاضْرِبُوہُمْ عَلَیْہَا وَھُمْ أَبْنَاءُ عَشَرِ سِنِیْنَ وَفَرِّقُوا بَیْنَہُمْ فِی الْمَضَاجِعِ۔
حدیث1:
عن ابی ہریرۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارایتم لو ان نہرا بباب احدکم یغتسل فیہ کل یوم خمسا ہل یبقی من درنہ شیء قالوا لا یبقی من درنہ شیء قال فذلک مثل الصلوات الخمس یمحو اللہ بہن الخطایا۔
حدیث 2:
عن ابی ذر ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم خرج زمن الشتاء والورق یتہافت فاخذ بغصنین من شجرۃ قال فجعل ذلک الورق یتہافت قال فقال یا ابا ذر قلت لبیک یا رسول اللہ قال إن العبد المسلم لیصل الصلاۃ یرید بہا وجہ اللہ فتہافت عنہ ذنوبہ کما یتہافت ہذا الورق عن ہذہ الشجرۃ۔
حدیث 3:
عن سلمان قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول من غدا إلی صلاۃ الصبح غدا برایۃ الإیمان ومن غدا إلی السوق غدا برایۃ إبلیس۔
حدیث 4:
عن عبد اللہ بن عمرو بن العاص عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم انہ ذکر الصلاۃ یوما فقال: من حافظ علیہا کانت لہ نورا وبرہانا ونجاۃ یوم القیامۃ، ومن لم یحافظ علیہا لم تکن لہ نورا ولا برہانا ولا نجاۃ، وکان یوم القیامۃ مع قارون وفرعون وہامان وابی بن خلف۔
حدیث5:
عن علی ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال یا علی ثلاث لا تؤخرہا الصلاۃ إذا اتت والجنازۃ إذا حضرت والایم إذا وجدت لھا کفؤا۔
حدیث 6:
عن انس قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تلک صلاۃ المنافق یجلس یرقب الشمس حتی إذا اصفرت وکانت بین قرنی الشیطان قام فنقر اربعا لا یذکر اللہ فیہا إلا قلیلا۔
حدیث 7:
عن عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مروا اولادکم بالصلاۃ وھم ابناء سبع سنین واضربوہم علیہا وھم ابناء عشر سنین وفرقوا بینہم فی المضاجع۔
حدیث ترجمہ
ترجمہ حدیث 1:حضرت ابوہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ رسولِ کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ بتاؤ اگر تم لوگوں میں کسی کے دروازے پر نہر ہو اور وہ ا س میں روزانہ پانچ مرتبہ غسل کرتا ہو تو کیا ان کے بدن پر کچھ میل باقی رہ جائے گا۔ صحابہ کرام نے عرض کیا ایسی حالت میں اس کے بدن پر کچھ بھی میل باقی نہ رہے گا ۔
حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے فرمایا بس یہی کیفیت ہے پانچوں نمازوں کی،اللّٰہتعالیٰ ان کے سب گناہوں کو مٹا دیتا ہے ۔ (بخاری، مسلم)ترجمہ حدیث 2:حضرت ابو ذررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا کہ ایک روز سردی کے موسم میں جب کہ درختوں کے پتے گررہے تھے ۔ (یعنی پت جھڑ کا موسم تھا) حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمباہر تشریف لے گئے تو آپ نے ایک درخت کی دو ٹہنیاں پکڑیں ( اور انہیں ہلایا) تو ان شاخوں سے پتے گرنے لگے ۔ آپ نے فرمایا اے ابوذر! حضرت ابوذررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے عرض کیا حاضر ہوں یارسولاللّٰہ!آپ نے فرمایاجب مسلمانبندہ خالصاللّٰہتعالیٰ کے لیے نماز پڑھتا ہے تو اس کے گناہ اس طرح جھڑ جاتے ہیں جیسے کہ یہ پتے درخت سے جھڑ رہے ہیں۔ (احمد)ترجمہ حدیث 3:حضرت سلمانرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ میں نے رسولِ کریمعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْمکو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص فجر کی نماز کو گیا وہ ایمان کا جھنڈا لے کر گیا۔ اور صبح سویرے بازار کی طرف گیا وہ شیطان کا جھنڈا لے کر گیا۔ (ابن ماجہ)ترجمہ حدیث 4:حضرت عبداللّٰہبن عمرو بن العاصرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُما سے رو ایت ہے کہ نبی کریمصلی اللّٰہ تعالی علیہ وآلہ وسلمنے ایک روز نماز کا ذکر کیا تو فرمایا کہ جو شخص نماز کی پابندی کرے گا تو نماز اس کے لیے نور کا سبب ہوگی ۔ کمالِ ایمان کی دلیل ہوگی اور قیامت کے دن بخشش کا ذریعہ بنے گی۔ اور جو نماز کی پابندی نہیں کرے گا اِس کے لیے نہ تو نور کا سبب ہوگی نہ کمالِ ایمان کی دلیل ہوگی اور نہ بخشش کا ذریعہ اور وہ قیامت کے دن قارون فرعون ، ہامان اور اُبی بن خلف کے ہمراہ ہوگا۔ (احمد، دارمی، بیہقی)ترجمہ حدیث 5:حضرت علی کرماللّٰہتعالیٰ وجہہ نے کہا کہ حضورﷺنے مجھ سے فرمایا کہ اے علی تین کاموں میں دیر نہ کرنا۔ ایک تو نماز ادا کرنے میں جب وقت ہوجائے ، دوسرے جنازہ میں جب کہ وہ تیار ہو جائے ، تیسرے بیوہ کے نکاح میں جب کہ اس کا کفو مل جائے ۔ (ترمذی)ترجمہ حدیث 6:حضر ت انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ رسولِ کریمﷺنے فرمایا کہ یہ منافق کی نماز ہے کہ بیٹھے ہوئے سورج کا انتظار کرتا ہے یہاں تک کہ جب سورج پیلا پڑ جاتا ہے اور شیطان کی دونوں سینگوں کے بیچ میں آجاتا ہے تو کھڑا ہو کر چار چونچ مارلیتاہے ۔ نہیں ذکرکرتااس (تنگ وقت) میںاللّٰہتعالیٰ کا مگر بہت تھوڑا۔ (مسلم)ترجمہ حدیث 7:حضرت عمرو بن شعیبرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُما اپنے دادا سے روایت کر تے ہیں انہوں نے کہا کہ حضورﷺنے فرمایاکہ جب تمہارے بچے سات سال کے ہوجائیں تو ان کو نماز پڑھنے کا حکم دو اور جب دس سال کے ہوجائیں تو ان کو مار کر نماز پڑھاؤ۔ اور ان کے سونے کی جگہیں علیحدہ کرو۔ (ابوداود)
شرح حدیث
ضروری انتباہ :(۱)…آہستہ قرآن پڑھنے میں اِتنا ضروری ہے کہ خُود سُنے اگر حروف کی تصحیح کی مگر اِسقدر آہستہ پڑھا کہ خود نہ سُنا تو نماز نہ ہوئی۔ (1)اور فتاویٰ عالمگیری جلد اول مصری ص:۶۵میں ہے : ’’إِنْ صَحَّحَ الْحُرُوف بِلِسَانِہِ وَلَمْ یُسْمِعْ نَفْسَہُ لَا یَجُوزُ وَبِہِ أَخَذَ عَامَّۃُ الْمَشَایِخِ ہَکَذَا فِی الْمُحِیطِ وَہُوَ الْمُخْتَارُ ہَکَذَا فِی السِّرَاجِیَّۃِ وَہُوَ الصَّحِیحُ ہَکَذَا فِی النُّقَایَۃِ‘‘.(2)
(۲)…سجدہ میں پاؤں کی ایک انگلی کا پیٹ زمین سے لگنا شرط ہے اور ہر پاؤں کی تین تین انگلیوں کا پیٹ لگنا واجب ، تو اگر کسی نے اِس طرح سجدہ کیا کہ دونوں پاؤں زمین سے اُٹھے رہے تو نماز نہ ہوئی۔ (3)
(بہار شریعت، جلد سوم ص۲۷۹، فتاوی رضویہ ، جلد اول ، ص ۵۵۶)
اور اشعۃ اللمعات جلد اول ص:۳۹۴میں ہے کہ ’’اگر ہر دو پائے بردارد نماز فاسد ست واگر یکپائے بردارد مکروہ است‘‘.(4)
اور درمختار مع ردالمحتار جلد اول ص:۳۱۳ میں ہے ’’وَوَضْعُ إصْبَعٍ وَاحِدَۃٍ مِنْہُمَا شَرْطٌ‘‘۔ (5)
اور اِسی کتاب میں ص:۳۵۱ پر ہے ’’فِیہِ یُفْتَرَضُ وَضْعُ أَصَابِعِ الْقَدَمِ وَلَوْ وَاحِدَۃً نَحْوَ الْقِبْلَۃِ وَإِلَّا لَمْ تَجُزْ وَالنَّاسُ عَنْہُ غَافِلُونَ‘‘ (6)
اور کنزالدقائق میں ہے ’’وَوَجُہُ أَصَابِعِ رِجْلَیْہِ نَحْوَ الْقِبْلَۃِ‘‘ اسی کے تحت بحرالرائق جلد اول ص:۳۲۱میں ہے ’’نَصَّ صَاحِبُ الْہِدَایَۃِ فِی التَّجْنِیسِ عَلَی أَنَّہُ إنْ لَمْ یُوَجِّہِ الْأَصَابِعَ نَحْوَہَا فَإِنَّہُ مَکْرُوہٌ‘‘(7)
(۳)…اکثر عورتیں اپنی نادانی سے فرض واجب سب نمازیں بغیر عذر بیٹھ کر پڑھتی ہیں۔ ان کی نماز نہیں ہوتی اِس لیے کہ مردوں کی طرح عورتوں پر بھی کھڑے ہوکر نماز پڑھنا فرض ہے ۔ اگر کسی بیماری یا بڑھاپے کی وجہ سے کمزور ہوگئی ہیں لیکن خادمہ یا لاٹھی یا دیوار پر ٹیک لگا کر کھڑی ہوسکتی ہیں تو فرض ہے کہ کھڑی ہو کر پڑھیں یہاں تک کہ اگر کچھ دیر ہی کے لیے کھڑی ہوسکتی ہیں۔ اگرچہ اتنا ہی کہ کھڑی ہو کراللّٰہاکبر کہہ لیں تو فرض ہے کہ کھڑی ہو کر اتنا کہہ لیں پھر بیٹھ جائیں۔ (8) (بہار شریعت، جلد سوم ، ص ۳۷۷، بحوالہ غنیۃ)
اور فتاویٰ رضویہ جلدسوم، ص:۵۲ ، میں تنویر الابصار و درمختارسے ہے : ’’إِنْ قَدَرَ عَلَی بَعْضِ الْقِیَامِ وَلَوْ مُتَّکِءًا عَلَی عَصًا أَوْ حَاءِطٍ قَامَ لُزُومًا بِقَدْرِ مَا یَقْدِرُ وَلَوْ قَدْرَ آیَۃٍ أَوْ تَکْبِیرَۃٍ عَلَی الْمَذْہَبِ‘‘ ۔
آج کل عموماً مرد بھی ذرا سی تکلیف پر بیٹھ کرنماز پڑھنا شروع کر دیتے ہیں۔ حالانکہ دیر تک کھڑے ہو کر ادھر ادھر کی باتیں کرلیا کرتے ہیں اِن کی نماز نہیں ہوتی اِس لیے کہ قیام کے بارے میں عورت مرد کا حکم ایک ہے ۔
(۴)… عورت نے اِتنا باریک دوپٹہ اوڑھ کر نماز پڑھی کہ جس سے بال کی سیاہی چمکتی ہے تو نماز نہ ہوگی۔ جب تک کہ اس پر کوئی ایسی چیز نہ اوڑھے کہ جس سے بال کا رنگ چھپ جائے ۔ (9)(بہار شریعت، جلد سوم، ص۲۵۱)
اور فتاویٰ عالمگیری جلد اول مصری ص:۵۴میں ہے : ’’اَلثَّوْبُ الرَّقِیقُ الَّذِی یَصِفُ مَا تَحْتَہُ لَا تَجُوزُ الصَّلَاۃُ فِیہِ کَذَا فِی التَّبْیِینِ‘‘ ۔ (10)
------------------
∞[1] ’’بہارِ شر یعت‘‘، ج۱، ص۵۱۱.’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،الباب الرابع فی صفۃ الصلاۃ،ج۱،ص۶۹.[2] ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الصلاۃ،الباب الرابع،ج۱،ص۶۹.[3] ’’بہارِ شریعت‘‘، ج۱، ص۵۱۳، ’’الدر المختار‘‘،ج۲،ص۱۶۷۔ ۲۴۹۔ ۲۵۱، ’’الفتاوی الرضویۃ‘‘،ج۷،ص۳۷۶.[4] ’’اشعۃ اللمعات‘‘،کتاب الصلاۃ،باب السجود وفضلہ،الفصل الأول،ج۱،ص۴۲۲.[5] ’’الدر المختار وردالمحتار‘‘،کتاب الصلاۃ،باب صفۃ الصلاۃ،ج۲،ص۱۶۷.[6] ’’الدر المختار وردالمحتار‘‘،باب صفۃ الصلاۃ،مطلب فی إطالۃ الرکوع للجائی،ج۲ص۲۴۹.[7] ’’الدر’’کنز الدقائق‘‘،کتاب الصلاۃ،باب صفۃ الصلاۃ،ص۲۵، ’’البحر الرائق‘‘،کتاب الصلاۃ،باب صفۃ الصلاۃ،ج۱،ص۵۶۰.المختار وردالمحتار‘‘،باب صفۃ الصلاۃ،مطلب فی إطالۃ الرکوع للجائی،ج۲ص۲۴۹.[8] ’’بہارِ شریعت‘‘، ج۱، ص ۵۱۱، ’’غنیۃ المتملی‘‘،فرائض الصلاۃ،ص۲۶۱۔ ۲۶۷.[9] ’’بہارِ شریعت‘‘، ج۱، ص ۴۸۱.’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،الباب الثالث فی شروط الصلاۃ،ج۱،ص۵۸،موضحا.[10] ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الصلاۃ،الباب الثالث،الفصل الأول فی الطہارۃ وسترالعورۃ،ج۱،ص۵۸.
ماخذ و مراجع
کتاب: اَنْوارُ الحَدِیْثْ جلد: 1 , حدیث نمبر: 17