Main Icon

جنازہ کا بیان - اَنْوارُ الحَدِیْثْ - حدیث نمبر: 34

کتاب الجنائز

حدیث مبارکہ

حدیث 1:
’’عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَسْرِعُوا بِالْجِنَازَۃِ فَإِنْ تَکُ صَالِحَۃً فَخَیْرٌ تُقَدِّمُونَہَاإِلَیْہِ وَإِنْ تَکُ سِوَی ذَلِکَ فَشَرٌّ تَضَعُونَہُ عَنْ رِقَابِکُمْ‘‘
حدیث 2:
’’عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنِ اتَّبَعَ جَنَازَۃَ مُسْلِمٍ إِیمَانًا وَاحْتِسَابًا وَکَانَ مَعَہُ حَتَّی یُصَلّی عَلَیْہَا وَیَفْرُغَ مِنْ دَفْنِہَا فَإِنَّہ یَرْجِعُ مِنْ الْأَجْرِ بِقِیرَاطَیْنِ کُلّ قِیرَاطٍ مِثْلُ أُحُدٍ وَمَنْ صَلَّی عَلَیْہَا ثُمَّ رَجَعَ قَبْلَ أَنْ تُدْفَنَ فَإِنَّہُ یَرْجِعُ بِقِیرَاطٍ‘‘.
حدیث 3:
’’عَنْ أَنَسٍ قَالَ مَرُّوا بِجَنَازَۃٍ فَأَثْنَوْا عَلَیْہَا خَیْرًا فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَجَبَتْ ثُمَّ مَرُّوا بِأُخْرَی فَأَثْنَوْا عَلَیْہَا شَرًّا فَقَالَ وَجَبَتْ فَقَالَ عُمَرُ مَا وَجَبَتْ فَقَالَ ہَذَا أَثْنَیْتُمْ عَلَیْہِ خَیْرًا فَوَجَبَتْ لَہُ الْجَنَّۃُ وَہَذَا أَثْنَیْتُمْ عَلَیْہِ شَرًّا فَوَجَبَتْ لَہُ النَّارُ أَنْتُمْ شُہَدَاءُ اللّٰہ فِی الْأَرْضِ‘‘۔
حدیث 4:
’’عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا تَسُبُّوا الْأَمْوَاتَ‘‘۔
حدیث 5:
’’عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اذْکُرُوا مَحَاسِنَ مَوْتَاکُمْ وَکُفُّوا عَنْ مَسَاوِیہِمْ‘‘۔
حدیث 6:
’’ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیْرِیْنَ قَالَ إِنَّ جَنَازَۃً مَرَّتْ بِالْحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ وَابْنِ عَبَّاسٍ فَقَامَ الْحَسَنُ وَلَمْ یَقُمْ اِبْنُ عَبَّاسٍ فَقَالَ الْحَسَنُ أَلَیْسَ قَدْ قَامَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِجَنَازَۃِ یَہُودِیٍّ قَالَ نَعَمْ ثُمَّ جَلَسَ‘‘۔

حدیث 1:
’’عن ابی ہریرۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسرعوا بالجنازۃ فإن تک صالحۃ فخیر تقدمونہاإلیہ وإن تک سوی ذلک فشر تضعونہ عن رقابکم‘‘
حدیث 2:
’’عن ابی ہریرۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من اتبع جنازۃ مسلم إیمانا واحتسابا وکان معہ حتی یصلی علیہا ویفرغ من دفنہا فإنہ یرجع من الاجر بقیراطین کل قیراط مثل احد ومن صلی علیہا ثم رجع قبل ان تدفن فإنہ یرجع بقیراط‘‘.
حدیث 3:
’’عن انس قال مروا بجنازۃ فاثنوا علیہا خیرا فقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم وجبت ثم مروا باخری فاثنوا علیہا شرا فقال وجبت فقال عمر ما وجبت فقال ہذا اثنیتم علیہ خیرا فوجبت لہ الجنۃ وہذا اثنیتم علیہ شرا فوجبت لہ النار انتم شہداء اللہ فی الارض‘‘۔
حدیث 4:
’’عن عائشۃ قالت قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لا تسبوا الاموات‘‘۔
حدیث 5:
’’عن ابن عمر قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذکروا محاسن موتاکم وکفوا عن مساویہم‘‘۔
حدیث 6:
’’ عن محمد بن سیرین قال إن جنازۃ مرت بالحسن بن علی وابن عباس فقام الحسن ولم یقم ابن عباس فقال الحسن الیس قد قام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لجنازۃ یہودی قال نعم ثم جلس‘‘۔

حدیث ترجمہ

ترجمہ حدیث 1:حضرت ابوہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ رسولِ کریمعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْمنے فرمایا کہ جنازہ کے لے جانے میں جلدی کرو اس لیے کہ اگر وہ نیک آدمی کا جنازہ ہے تواسے خیرکی(منزل)کی طرف جلد پہنچانا چاہیے اور اگر بد کار کا جنازہ ہے تو بُرے کو اپنی گردنوں سے جلد اُتار دینا چاہیے ۔ (بخاری، مسلم)ترجمہ حدیث 2:حضرت ابوہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ حضورنے فرمایا کہ جو شخص ایمان کا تقاضا سمجھ کر اور حصولِ ثواب کی نیت سے کسی مسلمان کے جنازہ کے ساتھ ساتھ چلے یہاں تک کہ اس کی نماز پڑھے اور اس کے دفن سے فارغ ہو تو وہ دو قیراط ثواب لے کر واپس لوٹتا ہے ۔ جس میں سے ہرقیراط اُحد (پہاڑ) کے برابر ہے اور جو شخص صرف جنازہ کی نماز پڑھ کر واپس آجائے اور دفن میں شریک نہ ہو تو وہ ایک قیراط کا ثواب لے کر واپس ہوتا ہے ۔ (بخاری، مسلم)ترجمہ حدیث 3:حضرت انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا کہ چند صحابہ کرام ایک جنازہ کے قریب سے گزرے تو خیر کے ساتھ اس کا ذکر کیا اس پر حضورنے ارشاد فرمایا کہ واجب ہوگئی پھر لوگوں کا دوسرے جنازہ پر گزر ہوا تو برائی کے ساتھ اس کا ذکر کیا اس پر حضور نے ارشاد فرمایا واجب ہوگئی۔ حضرت فاروقِ اعظم رضی ا للہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا ( یارسولاللّٰہ) کیا چیز واجب ہوگئی ، فرمایا جس میت کا تم لوگوں نے بھلائی کے ساتھ ذکر کیا اس کے لیے جنت واجب ہوگئی اور جس کی تم لوگوں نے برائی کی اس کے لیے دوزخ واجب ہوگئی تم لوگ زمین پر خدائے تعالیٰ کے گواہ ہو۔ (بخاری، مسلم)ترجمہ حدیث 4:حضرت عائشہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُا نے کہا کہ رسولِ کریمعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْمنے فرمایا کہ مُردوں کو گالی نہ دو۔ (بخاری)ترجمہ حدیث 5:حضرتِ ابن عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُما نے کہا کہ حضورنے فرمایا کہ اپنے مُردوں کی نیکیوں کا چرچا کرو اور ان کی برائیوں سے چشم پوشی کرو۔ (ابوداود، ترمذی)ترجمہ حدیث 6:حضرت محمد بن سیرینرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ ایک جنازہ حضرت امام حسن بن علی و ابن عباسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمکے قریب سے گزرا تو حضرت امام حسن کھڑے ہو گئے اور حضرت ابن عباس نہیں کھڑے ہوئے ۔ حضرت امام حسن نے حضرت ابن عباس سے فرمایا کیا حضورایک یہودی کاجنازہ دیکھ کر کھڑے نہیں ہوئے تھے ؟ حضرت ابن عباس نے کہا ہاں لیکن پھر اس کے بعد بیٹھے رہتے تھے ( اور کھڑے نہ ہوتے تھے )۔ (نسائی)

شرح حدیث

شرح حدیث 3:حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلویرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِاس حدیث شریف کے تحت فرماتے ہیں کہ:
’’
مراد ثنائے اہلِ خیر وصلاح وصدق وتقوی بے مدخلیت غرض نفسانی ست کہ آن علامت بودن مردست از اہل جنت والا اگر بعضے از فساقِ وفجار بغرضے از اغراض یکے از اہل فسق بستایند یا یکے صالحے رانکوہش کنند قطع بداں نتواں کرد۔ ([1])
یعنی اہلِ خیر و صلاح اور صدق وتقویٰ والوں کی ایسی تعریف مراد ہے جس میں نفسانی غرض شامل نہ ہو اس لیے کہ ایسی ہی تعریف آدمی کے جنتی ہونے کی نشانی ہے ورنہ اگر بعض فاسق وفاجر کسی غرض سے کسی فاسق کی تعریف کریں یا کسی نیک صالح آدمی کی برائی کریں تو اس کی وجہ سے ( جنتی یا جہنمی ہونے کا) یقین نہیں کرسکتے ۔ (اشعۃ اللمعات، جلد اول، ص۶۸۲)
------------------
∞[1] ’’
اشعۃ اللمعات‘‘،کتاب الجنائز،باب المشی بالجنازۃ والصلاۃ علیھا،الفصل الأول،ج۱،ص۷۲۷.شرح حدیث 5:حضرت عبدالحق محدث دہلویرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِاس حدیث شریف کے تحت فرماتے ہیں کہ:ایں مخصوص ست بمسلماناں وصالحان وآنکہ آشکارا فسق نکنند وظلم نہ کنند۔ ([1])(اشعۃ اللمعات جلد،اول)
یعنی یہ حکم ان نیک مسلمانوں کے ساتھ مخصوص ہے جو علانیہ فسق و ظلم نہیں کر تے ہیں۔
------------------
∞[1] ’’
اشعۃ اللمعات‘‘،کتاب الجنائز،باب المشی بالجنازۃ والصلاۃ علیھا،الفصل الثانی،ج۱،ص۷۳۲.شرح حدیث 6:اشعۃ اللمعات ترجمۂ مشکوۃ میں اس حدیث کے تحت ہے کہ:
’’
پس حکم سابق منسوخ شد وایں نسخ درجنازہ یہود باشد یا مطلق واللّٰہ اعلم وظاہر ثانی ست‘‘۔ ([1])
یعنی تو پہلا حکم منسوخ ہوگیا اور یہ منسوخ ہونا صرف یہودی جنازہ کے بارے میں ہے یا ہر ایک کے لیے ، خدائے تعالیٰ بہتر جانتا ہے لیکن ظاہر یہ ہے کہ سب کے لیے ہے ۔
فتاویٰ عالمگیری جلد اول مصری ص:۱۵۲ میں ہے :
’’
لَا یَقُومُ لِلْجَنَازَۃِ إلَّا أَنْ یُـرِیـدَ أَنْ یَشْہَدَہَا‘‘۔ ([2])
یعنی جنازہ کے لیے نہ کھڑا ہو لیکن اس میں شرکت کا ارادہ ہو تو کھڑا ہوسکتا ہے ۔
اور طحطاوی ص:۳۶۷میں ہے :
’’
فَھُوَمَکْرُوْہٌ کَمَا فِی القُھُستَانِی‘‘([3])
یعنی جنازہ دیکھ کر کھڑا ہونا مکروہ ہے جیسا کہ قہستانی میں ہے ۔
------------------
∞[1] ’’
اشعۃ اللمعات‘‘،کتاب الجنائز،باب المشی بالجنازۃ والصلاۃ علیھا،ج۱،ص۷۳۴.[2] ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الصلاۃ،الفصل الرابع فی حمل الجنازۃ،ج۱،ص۱۶۲.[3] ’’حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح‘‘،باب احکام الجنائز،فصل فی حملھا ودفنھا،ص۶۰۷.

ماخذ و مراجع

کتاب: اَنْوارُ الحَدِیْثْ جلد: 1 , حدیث نمبر: 34