- ہوم
- کتابیں
- اَنْوارُ الحَدِیْثْ
- کتاب الایمان
- حدیث نمبر 5
علم و علماء کرام - اَنْوارُ الحَدِیْثْ - حدیث نمبر: 5
کتاب الایمان
حدیث مبارکہ
حدیث1:
’’عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالَی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِیْضَۃٌ عَلَی کُلِّ مُسْلِمٍ وَوَاضِعُ الْعِلْمِ عِنْدَغَیْرِ أَھْلِہِ کَمُقَلِّدِ الْخَنَازِیْرِ الْجَوْھَرَ وَاللُّؤْلُؤَ وَالذَّھَبَ‘‘۔ (ابن ماجہ، مشکوۃ)
حدیث2:
’’عَنِ ابْنِ سِیْرِیْنَ قَالَ إِنَّ ھَذَا الْعِلْمَ دِیْنٌ فَانْظُرُوْا عَمَّنْ تَأْخُذُوْنَ دِیْنَکُمْ‘‘۔ (مسلم، مشکوۃ)
حدیث3:
’’عَنْ أَبِیْ أُمَامَۃَ الْبَاھِلِیِّ قَالَ ذُکِرَ لِرَسُوْلِ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالَی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَجُلَانِِ أَحَدُھُمَا عَابِدٌ وَّالْآخَرُعَالِمٌ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالَی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَضْلُ الْعَالِمِ عَلَی الْعَابِدِ کَفَضْلِیْ عَلَی أَدْنَاکُمْ ثُمَّ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالَی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللّٰہ وَمَلَءِکَتَہُ وَأَھْلَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ حَتَّی النَّمْلَۃَ فِیْ جُحْرِھَا وَحَتَّی الْحُوْتَ لَیُصَلُّوْنَ عَلَی مُعَلِّمِ النَّاسِ الْخَیْرَ۔ (ترمذی، مشکوۃ)
حدیث4:
’’عَنْ کَثِیْرِ بْنِ قَیْسٍ قَالَ کُنْتُ جَالِساً مَعْ أَبِی الدَّرْدَاءِ فِیْ مَسْجِدِ دِمَشْقَ فَجَاءَ ہُ رَجُلٌ فَقَالَ یَا أَبَا الدَّرْدَاءِ إِنِّیْ جِئْتُکَ مِنْ مَدِیْنَۃِ الرَّسُوْلِ صَلَّی اللّٰہ تَعَالَی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِحَدِیْثٍ بَلَغَنِیْ أَنَّکَ تُحَدِّثُہُ عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالَی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا جِئْتُ لِحَاجَۃٍ قَالَ فَإِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالَی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ مَنْ سَلَکَ طَرِیْقاً یَطْلُبُ فِیْہِ عِلْماً سَلَکَ اللّٰہ بِہِ طَرِیْقاً مِنْ طُرُقِ الْجَنَّۃِ وَإِنَّ الْمَلَءِکَۃَ لَتَضَعُ أَجْنِحَتَھَا رِضاً لِطَالِبِ الْعِلْمِ، وَإِنَّ الْعَالِمَ یَسْتَغْفِرُلَہُ مَنْ فِی السَّمَوَاتِ وَمَنْ فِی الْأَرْضِ وَالْحِیْتَانُ فِیْ جَوْفِ الْمَاءِ، وَإِنَّ فَضْلَ الْعَالِمِ عَلَی الْعَابِدِ کَفَضْلِ الْقَمَرِلَیْلَۃَ الْبَدْرِعَلَی سَاءِرِ الْکَوَاکِبِ، وَإِنَّ الْعُلَمَاء وَرَثَۃُ الأَنْبِیَاءِ وَإِنَّ الْأَنْبِیَاءَ لَمْ یُوَرِّثُوْا دِیْنَاراً وَلَا دِرْھَماً وَإِنَّمَا وَرَّثُوْا الْعِلْمَ فَمَنْ أَخَذَہُ أَخَذَ بِحَظٍّ وَافِرٍ‘‘۔ (ترمذی، أبو داود، مشکوۃ)
حدیث5:
’’عَنْ مُعَاوِیَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالَی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ یُّرِدِ اللّٰہ بِہِ خَیْرًا یُفَقِّھْہُ فِی الدِّیْنِ وَإِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ وَاللّٰہ یُعْطِیْ۔ (بخاری، مسلم، مشکوۃ)
حدیث6:
’’عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ تَدَارُسُ الْعِلْمِ سَاعَۃً مِّنَ اللَّیْلِ خَیْرٌ مِّنْ إِحْیَاءِھَا۔ (دارمی، مشکوۃ)
حدیث7:
’’عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالَی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقِیْہٌ وَاحِدٌ أَشَدُّ عَلَی الشَّیْطَانِ مِنْ أَلْفِ عَابِدٍ‘‘۔ (ترمذی، مشکوۃ)
حدیث8:
’’عَنْ أَبِی الدَّرْدَاءِ قَالَ سُءِلَ رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالَی عَلَیْہِ وَسَلَّم مَا حَدُّ الْعِلْمِ الَّذِیْ إِذَا بَلَغَہُ الرَّجُلُ کَانَ فَقِیْھاً فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالَی عَلَیْہِ وَسَلَّم مَنْ حَفِظَ عَلَی أُمَّتِیْ أَرْبَعِیْنَ حَدِیْثاً فِیْ أَمْرِ دِیْنِھَا بَعَثَہُ اللّٰہ فَقِیْھاً وَکُنْتُ لَہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ شَافِعاً وَّشَھِیْداً۔ (مشکوۃ)
حدیث9:
’’عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ فِیْمَا أَعْلَمُ عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالَی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ یَبْعَثُ لِھَذِہِ الْأُمَّۃِ عَلَی رَأسِ کُلِّ مِءَۃِ سَنَۃٍ مَنْ یُّجَدِّدُ لَھَا دِیْنَھَا۔
حدیث10:
’’عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالَی عَلَیْہِ وَسَلَّم مَنْ تَعَلَّمَ عِلْماً مِمَّا یُبْتَغَی بِہِ وَجْہُ اللّٰہ لَا یَتَعَلَّمُہُ إِلَّا لِیُصِیْبَ بِہِ عَرَضاً مِّنَ الدُّنْیَا لَمْ یَجِدْعَرْفَ الْجَنَّۃِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ یَعْنِیْ رِیْحَھَا۔
حدیث11:
’’عَنْ سُفْیَانَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ لِکَعْبٍ مَنْ أَرْبَابُ الْعِلْمِ قَالَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ بِمَا یَعْلَمُوْنَ قَالَ فَمَا أَخْرَجَ الْعِلْمَ مِنْ قُلُوْبِ الْعُلَمَاءِ قَالَ الطَّمَعُ۔
حدیث12:
’’عَنِ الْأَحْوَصِ بْنِ حَکِیْمٍ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالَی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَلاَ إِنَّ شَرَّ الشَّرِّ شِرَارُ الْعُلَمَاءِ وَإِنَّ خَیْرَ الْخَیْرِ خِیَارُ الْعُلَمَآء۔
حدیث13:
’’عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالَی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ أُفْتِیَ بِغَیْرِ عِلْمٍ کَانَ اِثْمُہُ عَلَی مَنْ أَفْتَاہُ وَمَنْ أَشَارَ عَلَی أَخِیْہِ بِأَمْرٍ یَعْلَمُ أَنَّ الرُّشْدَ فِیْ غَیْرِہِ فَقَدْ خَانَہُ۔
حدیث1:
’’عن انس قال قال رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم طلب العلم فریضۃ علی کل مسلم وواضع العلم عندغیر اھلہ کمقلد الخنازیر الجوھر واللولو والذھب‘‘۔ (ابن ماجہ، مشکوۃ)
حدیث2:
’’عن ابن سیرین قال إن ھذا العلم دین فانظروا عمن تاخذون دینکم‘‘۔ (مسلم، مشکوۃ)
حدیث3:
’’عن ابی امامۃ الباھلی قال ذکر لرسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم رجلان احدھما عابد والاخرعالم فقال رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فضل العالم علی العابد کفضلی علی ادناکم ثم قال رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم إن اللہ وملءکتہ واھل السموات والارض حتی النملۃ فی جحرھا وحتی الحوت لیصلون علی معلم الناس الخیر۔ (ترمذی، مشکوۃ)
حدیث4:
’’عن کثیر بن قیس قال کنت جالسا مع ابی الدرداء فی مسجد دمشق فجاء ہ رجل فقال یا ابا الدرداء إنی جئتک من مدینۃ الرسول صلی اللہ تعالی علیہ وسلم لحدیث بلغنی انک تحدثہ عن رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ما جئت لحاجۃ قال فإنی سمعت رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم یقول من سلک طریقا یطلب فیہ علما سلک اللہ بہ طریقا من طرق الجنۃ وإن الملءکۃ لتضع اجنحتھا رضا لطالب العلم، وإن العالم یستغفرلہ من فی السموات ومن فی الارض والحیتان فی جوف الماء، وإن فضل العالم علی العابد کفضل القمرلیلۃ البدرعلی ساءر الکواکب، وإن العلماء ورثۃ الانبیاء وإن الانبیاء لم یورثوا دینارا ولا درھما وإنما ورثوا العلم فمن اخذہ اخذ بحظ وافر‘‘۔ (ترمذی، ابو داود، مشکوۃ)
حدیث5:
’’عن معاویۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم من یرد اللہ بہ خیرا یفقھہ فی الدین وإنما انا قاسم واللہ یعطی۔ (بخاری، مسلم، مشکوۃ)
حدیث6:
’’عن ابن عباس قال تدارس العلم ساعۃ من اللیل خیر من إحیاءھا۔ (دارمی، مشکوۃ)
حدیث7:
’’عن ابن عباس قال قال رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فقیہ واحد اشد علی الشیطان من الف عابد‘‘۔ (ترمذی، مشکوۃ)
حدیث8:
’’عن ابی الدرداء قال سءل رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ما حد العلم الذی إذا بلغہ الرجل کان فقیھا فقال رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم من حفظ علی امتی اربعین حدیثا فی امر دینھا بعثہ اللہ فقیھا وکنت لہ یوم القیامۃ شافعا وشھیدا۔ (مشکوۃ)
حدیث9:
’’عن ابی ھریرۃ قال فیما اعلم عن رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم قال إن اللہ عزوجل یبعث لھذہ الامۃ علی راس کل مءۃ سنۃ من یجدد لھا دینھا۔
حدیث10:
’’عن ابی ھریرۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم من تعلم علما مما یبتغی بہ وجہ اللہ لا یتعلمہ إلا لیصیب بہ عرضا من الدنیا لم یجدعرف الجنۃ یوم القیامۃ یعنی ریحھا۔
حدیث11:
’’عن سفیان ان عمر بن الخطاب قال لکعب من ارباب العلم قال الذین یعملون بما یعلمون قال فما اخرج العلم من قلوب العلماء قال الطمع۔
حدیث12:
’’عن الاحوص بن حکیم عن ابیہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم الا إن شر الشر شرار العلماء وإن خیر الخیر خیار العلمآء۔
حدیث13:
’’عن ابی ھریرۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم من افتی بغیر علم کان اثمہ علی من افتاہ ومن اشار علی اخیہ بامر یعلم ان الرشد فی غیرہ فقد خانہ۔
حدیث ترجمہ
ترجمہ حدیث1:حضرت انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا کہ رسول کریمعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْمنے فرمایا کہ علم کا حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و ( عورت) پر فرض ہے اور نااہل کو علم سکھانے والا ایسا ہے جیسے خنزیر یعنی سور کے گلے میں جواہرات ، موتی اور سونے کا ہار پہنادیا ہو۔ترجمہ حدیث2:حضرت محمد بن سیرینرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ یہ علم(یعنی قرآن وحدیث کوجاننا)دین ہے لہذا تم دیکھ لو کہ اپنا دین کس سے حاصل کررہے ہو۔ترجمہ حدیث3:حضرت ابوا مامہ باہلیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول کریمعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْمکے سامنے د و آدمیوں کا ذکر کیا گیا۔ ایک ان میں سے عابد تھا دوسرا عالم۔ تو سر کارِ اقدسصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا کہ عابد پر عالم کی فضیلت ایسی ہے جیسے کہ میری فضیلت تمہارے ادنیٰ آدمی پر، پھر حضور نے فرمایا کہ لوگوں کو بھلائی سکھانے والے پر خدائے تعالیٰ رحمت نازل فرماتا ہے ۔ اوراس کے فرشتے نیز زمین و آسمان کے رہنے والے یہاںتک کہ چیونٹیاں اپنے سوراخوں میں اور مچھلیاں( پانی میں)اس کے لیے دعائے خیر کرتی ہیں۔ترجمہ حدیث4:حضرت کثیر بن قیسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا کہ میں حضرت ابوالدرداءرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکے ساتھ دمشق کی مسجد میں بیٹھا تھا تو ایک آدمی نے آکر کہا کہ اے ابوالدرداء بے شک میں رسولاللّٰہصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے شہر مدینہ طیبہ سے یہ سن کر آیا ہوں کہ آپ کے پاس کوئی حدیث ہے جسے آپ رسولاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے روایت کرتے ہیں ا ور میں کسی دوسرے کام کے لیے نہیں آیا ہوں۔ حضرت ابوالدرداء نے کہا کہ میں نے رسولِ کریمعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْمکو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص علمِ ( دین) حاصل کرنے کے لیے سفر کرتا ہے تو خدا تعالیٰ اسے جنت کے راستوں میں سے ایک راستہ پر چلاتا ہے اور طالبِ علم کی رضا حاصل کرنے کے لیے فرشتے اپنے پروں کوبچھا دیتے ہیں اور ہر وہ چیز جو آسمان و زمین میں ہے یہاں تک کہ مچھلیاں پانی کے اندر عالم کے لیے دعائے استغفار کرتی ہیں۔ اور عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جیسی چودھویں رات کے چاند کی فضیلت ستاروں پر۔ اور علماء انبیائے کرام کے وارث و جانشین ہیں۔ انبیائے کرام کا ترکہ دینار و درہم نہیں ہیں۔ انہوں نے وراثت میں صرف علم چھوڑا ہے تو جس نے اسے حاصل کیا اس نے پورا حصہ پایا۔ترجمہ حدیث5:حضرت معاویہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ رسولِ کریمعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْمنے فرمایا کہ خدائے تعالیٰ جس شخص کے ساتھ بھلائی چاہتا ہے تو اسے دین کی سمجھ عطا فرماتا ہے اور خدا دیتا ہے اور میں تقسیم کرتا ہوں۔ترجمہ حدیث6:حضرتِ ابن عباسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُما سے روایت ہے انہوں نے فر مایا کہ رات میں ایک گھڑی علمِ دین کا پڑھنا پڑھانارات بھر کی عبادت سے بہتر ہے ۔ترجمہ حدیث7:حضرت ابن عباسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُما نے کہا کہ رسولِ کریمعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْمنے فرمایا کہ ایک فقیہ یعنی ایک عالمِ دین شیطان پر ہزار عابدوں سے زیادہ بھاری ہے ۔ترجمہ حدیث8:حضرت ابوالدرداءرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسولِ کریمعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْمسے دریافت کیا گیا کہ اس علم کی حد کیا ہے کہ جسے آدمی حاصل کرلے تو فقیہ یعنی عالمِ دین ہوجائے تو سرکارِ اقدسصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا کہ جو شخص میری امت تک پہنچانے کے لیے دینی اُ مور کی چالیس حدیثیں یاد کرلے گا تو خدائے تعالیٰ اسے قیامت کے دن عالمِ دین کی حیثیت سے اٹھائے گا اور قیامت کے دن میں اس کی شفاعت کروں گا اور اس کے حق میں گواہ رہوں گا۔ترجمہ حدیث9:حضرت ابوہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسولِ کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے جو باتیں میں نے معلوم کی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ ہر صدی کے خاتمہ پر اس امت کے لیےاللّٰہتعالیٰ ایک ایسے شخص کو بھیجے گا جو اس کے لیے اس کے دین کو نکھارتا رہے گا۔ (ابو داود، مشکوۃ)نوٹ :باتفاق علمائے عرب و عجم چودھویں صدی کے مجدد اعلی حضرت امام احمد رضا بریلویرحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہہیں۔ترجمہ حدیث10:حضرت ابوہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ سرکارِ اقدسصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا کہ جس نے ایسے علم کو سیکھا جس کے ذریعے خدائے تعالیٰ کی خوشنودی طلب کی جاتی ہے ( مگر) اس نے صرف اس لیے سیکھا کہ اس علم سے متاعِ دنیا حاصل کرے تو قیامت کے دن اس کو جنت کی خوشبو تک میسر نہ ہوگی۔ (ابو داود ، مشکوۃ)ترجمہ حدیث11:حضرت سفیانرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطابرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے حضرت کعبرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے دریافت فرمایا کہ اہلِ علم کون لوگ ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ جو ا پنے علم کے موافق عمل کریں پھر آپ نے پوچھا کہ عالموں کے دلوں سے کون سی چیز علم ( کے انوار و برکات ) کو نکال لیتی ہے ؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ لالچ۔ (دارمی ، مشکوۃ)ترجمہ حدیث12:حضرت احوص بن حکیم اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ رسولِ کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا کہ آگاہ ہوجاؤ کہ بُروں میں سب سے بدترین علمائے سُو ہیں۔ اور اچھو ں میں سب سے بہتر علمائے حق ہیں۔ (دارمی ، مشکوۃ)ترجمہ حدیث13:حضرت ابوہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ سرکارِ اقدسصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا کہ جسے بغیر علم کے کوئی فتویٰ دیا گیا تو اس کا گناہ فتویٰ دینے والے پر ہوگا۔ اور جس نے جان بوجھ کر اپنے بھائی کو غلط مشورہ دیا تو اس نے اس کے ساتھ خیانت کی (ابوداود ، مشکوۃ)
شرح حدیث
شرح حدیث:حضرت ملا علی قاریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ البَارِیاس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں:
’’قَالَ الشُّرَّاحُ اَلْمُرَادُ بِالعلْمِ مَا لَا مندوحۃ لِلْعَبدِ من تعلّمہِ کَمعْرِفۃِ الصَّانِع وَالْعِلمُ بِوحْدَانیَّتِہ ونبوَّۃِ رَسُولِہ وکَیْفِیَۃِ الصَّلاۃ،فَإِنَّ تعلَّمہ فَرضُ عینٍ،وَأَمَّا بلوغُ رتبۃِ الاجتھَادِ وَالْفُتیا فَفَرضُ کِفَایَۃٍ‘‘ ۔ (1)
یعنی شارحینِ حدیث نے فرمایا کہ علم سے مراد وہ مذہبی علم ہے جس کا حاصل کرنا بندہ کے لیے ضروری ہے جیسے خدائے تعالیٰ کو پہچاننا، اس کی وحدانیت، اس کے رسول کی نبوت کی شناخت اور ضروری مسائل کے ساتھ نماز پڑھنے کے طریقے کو جاننا۔
اس لیے کہ ان چیزوں کا علم فرضِ عین ہے اور فتویٰ و اجتہاد کے رتبہ کو پہنچنا فرضِ کفایہ ہے ۔ (مرقاۃ شرح مشکوۃ، جلد اول ، ص۲۳۳)اور حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی بخاری رحمۃاللّٰہتعالیٰ علیہ اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں کہ:
’’مراد بعلم دریں جاعلمے ست کہ ضروری وقت مسلمان ست مثلاً چوں در اسلام در آمد واجب شد بروے معرفت صانع وصفات وے وعلم بہ نبوت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وآلہ وسلم وجز آں از انچہ صحیح نیست ایمان بے آں۔وچوں وقت نماز در آمد واجب شد آموختن علم باحکام صلاۃ وچوں رمضان آمد واجب گردید تعلم احکام صوم۔وہرگاہ مالک نصاب گردید واجب شد تعلیم احکام زکوۃ واگر پیش ازاں مرد وتعلم نہ کرد عاصی نہ باشد۔وچوں زن خواست علم حیض و نفاس و جُز آں ازانچہ متعلق باحکام زن وشوے ست واجب گردد وعلی ہذا القیاس‘‘۔ (2)
یعنی علم سے مراد اس حدیث میں وہ علم ہے کہ جو مسلمانوں کو وقت پر ضروری ہے ۔ مثلاً جب اسلام میں داخل ہوا تو اس پر خدائے تعالیٰ کی ذات و صفات کو پہچاننا اور رسولاللّٰہصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی نبوت کو جاننا واجب ہوگیا اور ہر اس چیز کا علم ضروری ہوگیا کہ جس کے بغیر ایمان صحیح نہیں ۔ اور جب نماز کا وقت آگیا تو اس پر نماز کے احکام کا جاننا واجب ہوگیا ۔ اور جب ماہ رمضان آگیا تو روزہ کے احکام کاسیکھنا ضروری ہو گیا۔ اور جب مالک ِنصاب ہوگیا تو زکوۃ کے مسائل کا جاننا واجب ہوگیا اور اگر مالک ِنصاب ہونے سے قبل مرگیا اور زکوۃ کے مسائل کو نہ سیکھا تو گنہگار نہ ہوا۔ اور جب عورت کو (عقد میں) لایا تو حیض و نفاس وغیرہ جتنے مسائل کا زن وشوہر سے تعلق ہے جاننا واجب ہوجاتا ہے ۔وعلی ھذا القیاس۔ (اشعۃ اللمعات، جلد اول ، ص ۱۶۱)
------------------
∞[1] ’’مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح‘‘،کتاب العلم،الفصل الثانی،الحدیث:۲۱۸،ج۱،ص۴۷۷.
∞[2] ’’اشعۃ اللمعات‘‘،کتاب العلم،الفصل الثانی،ج۱،ص۱۷۳.ضروری انتباہ :(۱)… حضور سید ِعالمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَاکثر رات بھر عبادت فرماتے ۔ یہاں تک پائے مبارک ورم کر جاتے اور صوم و صال یعنی پے درپے روزہ رکھتے ، رات میں افطار نہ فرماتے ، اور جو مال ملتا سب راہِ خدا عزوجل میں خرچ کر ڈالتے ۔ چٹائیوں پر آرام فرماتے ، جَو کی روٹی تناول فرماتے ، کبھی ایک دو مہینہ تک صرف کھجور اور پانی پر اکتفا فرماتے ، کبھی شکمِ اقدس پر پتھر باندھتے ، مگر ان باتوں کو اپنی کمزور و ناتوان امت پر کرم فرماتے ہوئے لازم نہیں فرمایا۔ یعنی حضور رحمتِ عالمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ان باتوں کا کسی مسلمان سے مطالبہ نہیں فرمایا چاہے وہ جاہل ہو یا عالم۔ مگر آج کل بعض جاہل جنہیں مذہب سے دور کا بھی واسطہ نہیں ان باتوں کا علماء سے مطالبہ کرتے ہیں اور ایسا نہ کرنے والوں کو نافرمان سمجھتے ہیں اور شرم نہیں کرتے کہ جن باتوں کو حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے لازم نہیں فرمایا تو ان بے عمل جاہلوں کو مطالبہ کرنے کا حق کہاں سے پہنچ گیا۔ خدائے تعالیٰ انہیں سمجھ عطا فرمائے ۔
(۲)…چٹائیوں پر سونے اور پیٹ پر پتھر باندھنے کا مطالبہ کرنے والے اسلام اور مسلمان دونوں کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ اسلام کو اس طرح کہ ایک ایسا غیر مسلم جو دائرہ اسلام میں آنا چاہتا ہے جب اس کو معلوم ہوگا کہ اسلام میں چٹائی پر سونا اور پیٹ پر پتھر باندھنا لازم ہے اور ایسا نہ کرنے والا گنہگار اور حضور پیغمبرِ اسلامصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکانافرمان ٹھہرایا جاتا ہے تو وہ اسلام کی طرف ہر گز نہیں آسکتا۔ اور علماء کو نافرمان و گنہ گار ٹھہرانے والا یہ گروہ مسلمانوں کو اس طرح نقصان پہنچانا چاہتا ہے کہ جب مسلمانوں کے دلوں میں یہ بات راسخ ہوجائے گی کہ علماء خود نافرمان ہیں تو پھروہ عالموں کی نصیحت ہر گز نہیں قبول کریں گے ۔ نماز و روزہ وغیرہ فرائض الٰہیہ کے قریب نہ آویں گے اور برائیوں میں مبتلا ہو کر مستحق عذابِ نار ہوں گے ۔
ماخذ و مراجع
کتاب: اَنْوارُ الحَدِیْثْ جلد: 1 , حدیث نمبر: 5