- ہوم
- کتابیں
- اَنْوارُ الحَدِیْثْ
- کتاب الایمان
- حدیث نمبر 11
دوزخ کا بیان - اَنْوارُ الحَدِیْثْ - حدیث نمبر: 11
کتاب الایمان
حدیث مبارکہ
حدیث 1:
عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنْ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ أُوقِدَ عَلَی النَّارِ أَلْفَ سَنَۃٍ حَتَّی احْمَرَّتْ ثُمَّ أُوقِدَ عَلَیْہَا أَلْفَ سَنَۃٍ حَتَّی ابْیَضَّتْ ثُمَّ أُوقِدَ عَلَیْہَا أَلْفَ سَنَۃٍ حَتَّی اسْوَدَّتْ فَہِیَ سَوْدَاءُ مُظْلِمَۃٌ۔
حدیث 2:
عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَہْوَنُ أَہْلِ النَّارِ عَذَابًا أَبُو طَالِبٍ وَہُوَ مُنْتَعِلٌ بِنَعْلَیْنِ یَغْلِی مِنْہُمَا دِمَاغُہُ۔
حدیث 3:
عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدَبٍ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ مِنْہُمْ مَنْ تَأْخُذُہُ النَّارُ إِلَی کَعْبَیْہِ وَمِنْہُمْ مَنْ تَأْخُذُہُ النَّارُ إِلَی رُکْبَتَیْہِ وَمِنْہُمْ مَنْ تَأْخُذُہُ النَّارُ إِلَی حُجْزَتِہِ وَمِنْہُمْ مَنْ تَأْخُذُہُ النَّارُ إِلَی تَرْقُوَتِہِ۔
حدیث 4:
عَنْ أَبِی سَعِیْدِنِ الْخُدْرِیِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَوْ أَنَّ دَلْوًا مِنْ غَسَّاقٍ یُہَرَاقُ فِی الدُّنْیَا لَأَنْتَنَ أَہْلَ الدُّنْیَا۔
حدیث 5:
عَنْ عَبْدِ اللّٰہ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْئٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِنَّ فِی النَّارِ حَیَّاتٍ کَأَمْثَالِِ الْبُخْتِ تَلْسَعُ إِحْدَاہُنَّ اللَّسْعَۃَ فَیَجِدُ حَمْوَتَہَا أَرْبَعِینَ خَرِیفًا وَإِنَّ فِی النَّارِ عَقَارِبَ کَأَمْثَالِ الْبِغَالِ الْمُوکَفَۃِ تَلْسَعُ إِحْدَاہُنَّ اللَّسْعَۃَ فَیَجِدُ حَمْوَتَہَا أَرْبَعِینَ خَرِیفًا۔
حدیث 6:
عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا یَدْخُلُ النَّارَ إِلَّا شَقِیٌّ قِیلَ یَا رَسُولَ اللّٰہ وَمَنْ الشَّقِیُّ؟ قَالَ مَنْ لَمْ یَعْمَلْ لِلَّہِ بِطَاعَۃٍ وَلَمْ یَتْرُکْ لَہُ مَعْصِیَۃً۔
حدیث 1:
عن ابی ہریرۃ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال اوقد علی النار الف سنۃ حتی احمرت ثم اوقد علیہا الف سنۃ حتی ابیضت ثم اوقد علیہا الف سنۃ حتی اسودت فہی سوداء مظلمۃ۔
حدیث 2:
عن ابن عباس قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اہون اہل النار عذابا ابو طالب وہو منتعل بنعلین یغلی منہما دماغہ۔
حدیث 3:
عن سمرۃ بن جندب ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال منہم من تاخذہ النار إلی کعبیہ ومنہم من تاخذہ النار إلی رکبتیہ ومنہم من تاخذہ النار إلی حجزتہ ومنہم من تاخذہ النار إلی ترقوتہ۔
حدیث 4:
عن ابی سعیدن الخدری قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لو ان دلوا من غساق یہراق فی الدنیا لانتن اہل الدنیا۔
حدیث 5:
عن عبد اللہ بن الحارث بن جزئ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إن فی النار حیات کامثال البخت تلسع إحداہن اللسعۃ فیجد حموتہا اربعین خریفا وإن فی النار عقارب کامثال البغال الموکفۃ تلسع إحداہن اللسعۃ فیجد حموتہا اربعین خریفا۔
حدیث 6:
عن ابی ہریرۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لا یدخل النار إلا شقی قیل یا رسول اللہ ومن الشقی؟ قال من لم یعمل للہ بطاعۃ ولم یترک لہ معصیۃ۔
حدیث ترجمہ
ترجمہ حدیث 1:حضرت ابوہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ نبی کریمعلیہ الصلاۃوالتسلیمنے فرمایا کہ جہنم کی آگ کو ایک ہزار برس جلایا گیا یہا ںتک کہ وہ سرخ ہوگئی ۔ پھر اس کو ایک ہزار برس تک جلایا گیا۔ یہاں تک کہ وہ سفید ہوگئی پھر اسے ایک ہزار برس اور جلایا گیا یہاں تک کہ وہ کالی سیاہ ہوگئی اب وہ سیاہ و تاریک ہے ۔ (ترمذی، مشکوۃ)ترجمہ حدیث 2:حضرت ابن عباسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُما نے کہا کہ رسولِ کریمﷺنے فرمایا کہ دوزخیوں میں سب سے ہلکا عذاب ابو طالب کو ہوگا۔ اس کو آگ کے جوتے پہنائے جائیں گے جن سے اس کا دماغ کھولنے لگے گا۔ ( بخاری، مشکوۃ)ترجمہ حدیث 3:حضرت سمرہ بن جندبرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ نبی کریمعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْمنے فرمایا کہ دوزخیوں میں بعض لوگ وہ ہوں گے جن کے ٹخنوں تک آگ ہوگی اور بعض لوگ وہ ہوں گے جن کے زانوں تک آگ کے شعلے پہنچیں گے اور بعض و ہ ہوں گے جن کے کمر تک ہوگی اور بعض لوگ وہ ہوں گے جن کے گلے تک آگ کے شعلے ہوں گے ۔ (مسلم ، مشکوۃ)ترجمہ حدیث 4:حضرت ابو سعید خدریرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ سرکار ِ اقدسصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا کہ اگر اس زرد پانی کا ایک ڈول جودوزخیوں کے زخموں سے جاری ہوگا دنیا میں ڈال دیا جائے تو دنیا والے بدبو دار ہوجائیں۔ (ترمذی، مشکوۃ)ترجمہ حدیث 5:حضرت عبداللّٰہبن حارث بن جزء نے کہا کہ رسولِ کریمعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْمنے فرمایا کہ دوزخ میں بختی اونٹ کے برابر سانپ ہیں۔ یہ سانپ ایک مرتبہ کسی کو کاٹے تو اس کا درد اور زہر چالیس برس تک رہے گا۔ اور دوزخ میں پالان باندھے ہوئے خچروں کے مثل بچھو ہیں تو ان کے ایک مر تبہ کاٹنے کا درد و زہر چالیس (۴۰) سال تک رہے گا۔ (احمد، مشکوۃ)ترجمہ حدیث 6:حضرت ابوہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ رسولِ کریمعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْمنے فرمایا کہ دوزخ میں صرف بدنصیب داخل ہوگا۔ پوچھا گیا یارسولاللّٰہ! بدنصیب کون ہے ؟ فرمایا بدنصیب وہ شخص ہے کہ جس نے خدائے تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اس کی اطاعت نہیں کی اوراللّٰہتعالیٰ کے لیے گناہ کو نہیں چھوڑا ۔ (ابن ماجہ، مشکوۃ)
شرح حدیث
انتباہ:(۱∞)… جنت و دوزخ حق ہیں۔ ان کا انکار کرنے والا کافر ہے ۔ (1)(بہار شریعت)
(۲∞)… دنیا کی آگ دوزخ کی آگ کے ستّر جزوں میں سے ایک جز ہے ۔ (2)(بہار شریعت)
(۳∞)…حضرت جبریلعلیہ السلامنے حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے قسم کھا کر عرض کیا کہ اگر جہنم کو سوئی کی نوک برابر کھول دیا جائے تو اس کی گرمی سے سب زمین والے مرجائیں۔ اور قسم کھا کر کہا کہ اگر جہنم کا کوئی داروغہ دنیا والوں پر ظاہر ہوجائے تو زمین کے رہنے والے سب کے سب ان کی ہیبت سے مرجائیں اور قسم کے ساتھ بیان کیا کہ اگر جہنمیوں کی زنجیر کی ایک کڑی دنیا کے پہاڑوں پر رکھ دی جائے تو کانپنے لگیں اور انہیں قرار نہ ہو یہاں تک کہ نیچے کی زمین تک دھنس جائیں۔ (3)(بہار شریعت)
(۴∞)… دوزخ کی گہرائی اتنی زیادہ ہے کہ اگر پتھر کی چٹان جہنم کے کنارے سے اس میں پھینکی جائے تو ستر برس میں بھی تہ تک نہ پہنچے گی۔ (4)(بہار شریعت)
(۵∞)…جہنمیوں کو تیل کی جلی ہوئی تلچھٹ کی مثل سخت کھولتا ہوا پانی پینے کو دِیا جائے گا کہ مُنہ کے قریب ہوتے ہی اس کی تیزی سے چہرے کی کھال گرجائے گی۔ سر پر گرم پانی بہایا جائے گا ۔ جہنمیوں کے بدن سے جو پیپ بہے گی وہ پلائی جائے گی خار دار تھوہڑ کھانے کو دیا جائے گا۔ وہ گلے میں جا کر پھندا ڈالے گا۔ اس کے اتارنے کے لیے پانی مانگیں گے تو ان کو ایسا کھولتا ہوا پانی دیا جائے گا کہ منہ کے قریب آتے ہی منہ کی ساری کھال اس میں گر پڑے گی۔ اور پیٹ میں جاتے ہی آنتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کردے گا تو وہ شوربے کی طرح بہہ کر قدموں کی طرف نکلیں گی۔ (5) (بہار شریعت)
(۶∞)…جہنم والے گدھے کی آواز کی طرح چلّا کر روئیں گے پہلے آنسو نکلیں گے جب آنسو ختم ہوجائیں گے تو خون روئیں گے ، روتے روتے گالوں میں خندقوں کی مثل گڑھے پڑ جائیں گے ، رونے کا خون اور پیپ اس قدر ہوگا کہ اس میں کشتیاں ڈالی جائیں تو چلنے لگیں۔العیاذ باللّٰہ۔
------------------
∞[1] ’’بہارِ شریعت ، ج۱، ص ۱۵۰.[2] ’’بہار شریعت، ج۱، ص ۱۶۴.[3] ’’بہارِ شریعت، ج۱، ص ۱۶۵.[4] ’’بہارِ شر یعت ، ج۱، ص ۱۶۶.[5] ’’بہارِ شریعت‘‘، ج۱، ص ۱۶۷.
ماخذ و مراجع
کتاب: اَنْوارُ الحَدِیْثْ جلد: 1 , حدیث نمبر: 11