- ہوم
- کتابیں
- اَنْوارُ الحَدِیْثْ
- کتاب الجنائز
- حدیث نمبر 33
غسل و کفن کا بیان - اَنْوارُ الحَدِیْثْ - حدیث نمبر: 33
کتاب الجنائز
حدیث مبارکہ
حدیث 1:
’’عَنْ أُمِّ عَطِیَّۃَ قَالَتْ دَخَلَ عَلَیْنَا رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَغْسِلُ ابْنَتَہُ فَقَالَ اغْسِلْنَہَا وِتْرًا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ سَبْعًا وَابْدَأْنَ بِمَیَامِنِہَا وَمَوَاضِعِ الْوُضُوءِ مِنْہَا‘‘۔
حدیث 2:
’’عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِذَا کَفَّنَ أَحَدُکُمْ أَخَاہُ فَلْیُحَسِّنْ کَفَنَہُ‘‘۔
حدیث3:
’’عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْبَسُوا مِنْ ثِیَابِکُمُ الْبَیَاضَ فَإِنَّہَا مِنْ خَیْرِ ثِیَابِکُمْ وَکَفِّنُوا فِیہَا مَوْتَاکُمْ ‘‘۔
حدیث 1:
’’عن ام عطیۃ قالت دخل علینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ونحن نغسل ابنتہ فقال اغسلنہا وترا ثلاثا او خمسا او سبعا وابدان بمیامنہا ومواضع الوضوء منہا‘‘۔
حدیث 2:
’’عن جابر قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إذا کفن احدکم اخاہ فلیحسن کفنہ‘‘۔
حدیث3:
’’عن ابن عباس قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم البسوا من ثیابکم البیاض فإنہا من خیر ثیابکم وکفنوا فیہا موتاکم ‘‘۔
حدیث ترجمہ
ترجمہ حدیث 1:حضرت اُم عطیہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُا کہتی ہیں کہ رسولِ کریمعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْمہمارے پاس تشریف لائے جب کہ ہم حضور کی صاحب زادی ( حضرت زینبرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُا) کو غسل دے رہے تھے ) تو حضور نے فرمایا اسے غسل دو طاق ، یعنی تین یا پانچ یا سات بار، اور غسل کا سلسلہ داہنی جانب سے اور وضو کے اعضاء سے شرو ع کریں۔ (بخاری)
میت کو غسل دینے میں کلی نہ کرائے اور نہ ناک میں پانی ڈالا جائے ۔ (بہار شریعت)ترجمہ حدیث 2:حضرت جابررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ حضورﷺنے فرمایا کہ جب کوئی اپنے بھائی کو کفن دے تو چاہیے کہ اچھا کفن دے ۔ (مسلم شریف)ترجمہ حدیث 3:حضرت ابنِ عباسر ضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما نے کہا کہ رسولِ کریمعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْمنے فرمایا کہ تم لوگ سفید کپڑے پہنا کر واس لیے کہ وہ عمدہ قسم کے کپڑے ہیں اور سفید کپڑوں میں اپنے مُردوں کو کفنایا کرو۔ (ابو داود، ترمذی)
شرح حدیث
شرح حدیث 2:حضرتِ شیخ عبدالحق محدث دہلویرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِاس حدیث کے تحت فرماتے ہیں کہ:
’’مراد بہ تحسین کفن آنست کہ تمام باشد ونظیف و سفید و بے اسراف و تبذیر،ونوو شستہ دراں،برابر ست اماآنچہ مُسرفان کنند بریا وتکبر حرام ومکروہ است اشد حرمت وکراہت‘‘۔ ([1])
یعنی اچھے کفن کا مطلب یہ ہے کہ کفن پورا ہو اور صاف ستھرا ہو و سفید ہو ا ور اس میں اسراف و بے جا خرچ نہ ہو۔ نیا کفن اور پرانا جو دھویا ہوا ہو دونوں کا حکم ایک ہے لیکن اسراف و فضول خرچی کرنے والے جو رِیا اور تکبّر سے کرتے ہیں وہ سخت مکروہ اور اشد حرام ہے ۔ (اشعۃ اللمعات، جلد اول، ص۶۷۲)
------------------
∞[1] ’’اشعۃ اللمعات‘‘،کتاب الجنائز،باب غسل المیت وتکفینہ،ج۱،ص۷۱۷.ضرور ی انتباہ:
(۱∞)…عوام میں جو مشہور ہے کہ شوہر عورت کے جنازہ کو نہ کاندھا دے سکتا ہے نہ قبر میں اُتار سکتا ہے نہ منہ دیکھ سکتا ہے ۔ یہ محض غلط ہے صرف نہلانے اور اس کے بدن کو بلا حائل ہاتھ لگانے کی ممانعت ہے ۔ ([1]) (بہار شریعت، جلد چہارم، ص ۵۱۹)
(۲∞)… میّت کے دونوں ہاتھ کروٹوں میں رکھیں سینہ پر نہ رکھیں کہ یہ کفّار کا طریقہ ہے ۔ درمختار مع ردالمحتار جلد اول ص:۶۰۰ میں ہے : ’’یُوضَعُ یَدَاہُ فِی جَانِبَیْہِ لَا عَلَی صَدْرِہِ لِأَنَّہُ مِنْ عَمَلِ الْکُفَّارِ‘‘۔ ([2])
(۳∞)… بعض جگہ میت کے دونوں ہاتھ ناف کے نیچے اس طرح رکھتے ہیں کہ’’ جیسے نماز کے قیام میں‘‘یہ بھی منع ہے ۔
(۴∞)… میت کا تہبند چوٹی سے قدم تک ہونا چاہیے یعنی لفافہ سے اتنا چھوٹا جو بندش کے لیے زیادہ تھا ۔ فتاویٰ عالمگیری جلد اول مصری ص:۱۵۰ ، ہدایہ جلد اول ص:۱۳۷، اور ردالمحتار جلد اول ص:۶۰۳ میں ہے : ’ ’اَلْإِزَارُ مِنَ الْقَرْنِ إلَی الْقَدَمِ‘ ‘یعنی تہبند کی مقدار چوٹی سے قدم تک ہے ۔ ([3])اسی طرح بہارِ شریعت میں ہے ۔ لہذا بعض لوگ جو ناف سے پنڈلی تک رکھتے ہیں یہ صحیح نہیں۔
(۵)…عورت کی اوڑھنی نصف پشت سے سینہ تک ہونا چاہیے جس کا اندازہ تین ہاتھ یعنی ڈیڑھ گز ہے ۔ اور عرض ایک کان کی لَو سے دوسرے کان کی لَو تک ہونا چاہیے ۔ اور جو لوگ زندگی کی طرح اوڑھنی رکھتے ہیں یہ بے جا اور خلافِ سنّت ہے ۔ ([4])(بہار شریعت)
(۶)… عورت کے لیے سینہ بند پستان سے ناف تک ہو اور بہتر یہ ہے کہ ران تک ہو۔ فتاویٰ عالمگیری میں ہے : ’ ’وَالْأَوْلَی أَنْ تَکُونَ الْخِرْقَۃُ مِنْ الثَّدْیَیْنِ إلَی الْفَخِذِ کَذَا فِی الْجَوْہَرَۃِ النَّیِّرَۃِ‘‘۔ ([5])
(۷)…سینہ بند لفافہ کے اوپر ہونا چاہیے ۔ فتاوی عالمگیری جلد اول ص:۱۵۱میں ہے : ’ ’ثُمَّ الْخِرْقَۃُ بَعْدَ ذَلِکَ تُرْبَطُ فَوْقَ الْأَکْفَانِ فَوْقَ الثَّدْیَیْنِ کَذَا فِی الْمُحِیطِ‘‘۔ ([6])
اور فتح القدیرمیں ہے : ’ ’فِی شَرْحِ الْکَنْزِ فَوْقَ الْأَکْفَانِِ‘‘ یعنی شرح کنزالدقائق میں سینہ بند کی جگہ سب کپڑوں کے اوپر مذکور ہے ۔ ([7])
لہذا سینہ بند کو سب کپڑوں سے پہلے لپیٹنے کا جو عام رواج ہے وہ غلط ہے ۔
------------------
∞[1] ’’بہارِ شریعت‘‘، ج۱، ص ۸۱۳.[2] ’’الدر المختار ورد المحتار‘‘،کتاب الصلاۃ،باب صلاۃ الجنائز،مطلب فی القراء ۃ إلخ،ج۳،ص۱۰۵.[3] ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الصلاۃ،الفصل الثالث،ج۱،ص۱۶۰، ’’الہدایۃ‘‘،باب الجنائز،فصل=فی التکفین،ج۱،ص۸۹، ’’رد المحتار‘‘،باب صلاۃ الجنازۃ،مطلب فی الکفن،ج۳،ص۱۱۲.[4] ’’بہارِ شریعت‘‘، ج۱، ص ۸۲۱ ، ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الصلاۃ،الباب الحادی والعشرون فی الجنائز،الفصل الثالث،ج۱،ص۱۶۱.[5] ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الصلاۃ،الفصل الثالث فی التکفین،ج۱،ص۱۶۰.[6] ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الصلاۃ،الفصل الثالث فی التکفین،ج۱،ص۱۶۱.[7] ’’فتح القدیر‘‘،باب الجنائز،فصل فی تکفینہ،ج۲،ص۱۱۸.
ماخذ و مراجع
کتاب: اَنْوارُ الحَدِیْثْ جلد: 1 , حدیث نمبر: 33