- ہوم
- کتابیں
- اَنْوارُ الحَدِیْثْ
- کتاب الجنائز
- حدیث نمبر 31
دعا تعویز کا بیان - اَنْوارُ الحَدِیْثْ - حدیث نمبر: 31
کتاب الجنائز
حدیث مبارکہ
حدیث1:
’’عَنْ عَاءِشَۃَ قَالَتْ أَمَرَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَرْ قی مِنَ الْعَیْنِ‘ ‘۔
حدیث2:
’’عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَأَی فِی بَیْتِہَا جَارِیَۃً فِی وَجْہِہَا سَفْعَۃٌ یَعْنِیْ صُفْرَۃً فَقَالَ اسْتَرْقُوا لَہَا فَإِنَّ بِہَا النَّظْرَۃَ‘‘۔
حدیث3:
’’عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِکِنِ الْأَشْجَعِیِّ قَالَ کُنَّا نَرْقی فِی الْجَاہِلِیَّۃِ فَقُلْنَا یَا رَسُولَ اللّٰہ کَیْفَ تَرَی فِی ذَلِکَ فَقَالَ اعْرِضُوا عَلَیَّ رُقَاکُمْ لَا بَأْسَ بِالرُّقَی مَا لَمْ یَکُنْ فِیہِ شِرْکٌ‘‘۔
حدیث1:
’’عن عاءشۃ قالت امر النبی صلی اللہ علیہ وسلم ان نستر قی من العین‘ ‘۔
حدیث2:
’’عن ام سلمۃ ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم رای فی بیتہا جاریۃ فی وجہہا سفعۃ یعنی صفرۃ فقال استرقوا لہا فإن بہا النظرۃ‘‘۔
حدیث3:
’’عن عوف بن مالکن الاشجعی قال کنا نرقی فی الجاہلیۃ فقلنا یا رسول اللہ کیف تری فی ذلک فقال اعرضوا علی رقاکم لا باس بالرقی ما لم یکن فیہ شرک‘‘۔
حدیث ترجمہ
ترجمہ حدیث1:حضرت عائشہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہانے کہا کہ نبی کریمعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْمنے حکم فرمایا ہے کہ ہم نظربد کے لیے دُعا تعویذ کرائیں۔ (بخاری، مسلم)ترجمہ حدیث2:حضرت اُم سلمہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہاسے روایت ہے کہ نبی کریمعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْمنے ان کے گھر میں ایک لڑکی کو دیکھا جس کا چہرہ زرد تھا حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے فرمایا اسے دُعا تعویذ کراؤ اسے نظر بدلگی ہے ۔ (بخاری، مسلم)ترجمہ حدیث3:حضرت عوف بن مالک اشجعیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا کہ ہم لوگ زمانہ جاہلیت میں جھاڑ پھونک کرتے تھے (اسلام لانے کے بعد) ہم نے عرض کیا یارسولاللّٰہ! ان منتروں کی بابت آپ کیا فرماتے ہیں؟ حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے فرمایا اپنے منتر مجھے سُناؤ ، ان منتروں میں کوئی حرج نہیں جب تک کہ ان میں شرک نہ ہو۔ (مسلم شریف)
شرح حدیث
شرح حدیث3:حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلویرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِاس حدیث کے تحت فرماتے ہیں:
’’یعنی اسمائے جن وشیاطین نباشد واز معانی آن کفر لازم نیاید ولہذا گفتہ اندکہ آنچہ معنی اومعلوم نہ باشد رُقیہ بآں نتواں کرد مگر آنکہ بہ نقل صحیح ازشارع آمدہ باشد‘‘([1])(اشعۃ اللمعات،جلد سوم ص۶۰۴)یعنی منتر میں جن و شیاطین کے نام نہ ہوں۔ اور اس منتر کے معانی سے کفر لازم نہ آتا ہو۔ ( تو اس کے پڑھنے میں کوئی حرج نہیں)اوراسی لیے علمائے سلف نے فرمایا ہے کہ جس منتر کا معنی معلوم نہ ہو اسے نہیں پڑھ سکتے ۔ لیکن جو شارععلیہ السلامسے صحیح طور پر منقول ہو (اسے پڑھ سکتے ہیں اگرچہ اس کا معنی معلوم نہ ہو)
------------------
∞[1] ’’اشعۃ اللمعات‘‘،کتاب الطب والرقی،الفصل الأول،ج۳،ص۶۴۶.
ماخذ و مراجع
کتاب: اَنْوارُ الحَدِیْثْ جلد: 1 , حدیث نمبر: 31