- ہوم
- کتابیں
- اَنْوارُ الحَدِیْثْ
- کتاب البیوع
- حدیث نمبر 52
حلال روزی کا بیان - اَنْوارُ الحَدِیْثْ - حدیث نمبر: 52
کتاب البیوع
حدیث مبارکہ
حدیث 1:
’’عَنْ عَبْدِ اللّٰہ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ طَلَبُ کَسَبِ الْحَلالِ فَرِیْضَۃٌ بَعْدَ الْفَرِیْضَۃِ‘‘۔
حدیث 2:
’’ عَنْ أَبِی بَکْرٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ جَسَدٌ غُذِّیَ بِالْحَرَامِ‘‘۔
حدیث 3:
’’عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَأْتِی عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ لَا یُبَالِی الْمَرْءُ مَا أَخَذَ مِنْہُ أَ مِنَ الْحَلالِ أَمْ مِنَ الْحَرَامِ‘‘۔
حدیث 1:
’’عن عبد اللہ بن مسعود قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم طلب کسب الحلال فریضۃ بعد الفریضۃ‘‘۔
حدیث 2:
’’ عن ابی بکر ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال لا یدخل الجنۃ جسد غذی بالحرام‘‘۔
حدیث 3:
’’عن ابی ہریرۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یاتی علی الناس زمان لا یبالی المرء ما اخذ منہ ا من الحلال ام من الحرام‘‘۔
حدیث ترجمہ
ترجمہ حدیث 1:حضرت عبداللّٰہبن مسعودرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ حضورﷺنے فرمایا کہ ( شریعت کے دیگر) فرائض کے بعد حلال روزی حاصل کرنا فرض ہے ۔ (بیہقی، مشکوۃ)ترجمہ حدیث 2:حضرت ابوبکررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ سرکارِ اقدسصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ جس بدن کو حرام غذا دی گئی وہ جنت میں داخل نہ ہوگا۔ (بیہقی، مشکوۃ)ترجمہ حدیث 3:حضرت ابوہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ رسولاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ لوگوں پر ایک زمانہ ایسا بھی آئے گا جب کہ کوئی اس بات کی پروا نہ کرے گا کہ اس نے جو مال حاصل کیا وہ حلال ہے یا حرام۔ (بخاری شریف)
شرح حدیث
انتباہ :(۱)…چکی والے گیہوں وغیرہ پیسنے کے بعد فی کلو تیس چالیس گرام آٹا ’’جرتی‘‘ کہہ کر نکال لیتے ہیں یہ ناجائز و حرام ہے اس لیے کہ اتنی مقدار میں آٹا نہیں جلتا۔ ثبوت یہ ہے کہ چکی والے کے پاس دس پانچ کلو آٹا روزانہ فاضل بچ جاتا ہے ۔
اور اگر چکی والے کچھ پیسا اور اپنے پیسے ہوئے میں سے کچھ آٹا اجرت ٹھہرادیں تویہ بھی ناجائز اس لیے کہ قفیز طحان ہے ۔ بہارِ شریعت جلدچہار دہم ص:۱۴۱ میں ہے ۔ اجارہ پر کام کرایا اور یہ قرار پایا کہ اسی میں سے اتنا تم اجرت لے لینا یہ اجارہ فاسد ہے مثلاً کپڑا بننے کے لیے سوت دیا اور کہہ دیا کہ آدھا کپڑا اجرت میں لے لینا یا غلہ اٹھا کر لاؤ اس میں سے دوسیر مزدوری لے لینا ، یا چکی چلانے کے لیے بیل لیے اور جو آٹا پیسا جائے گا اس میں سے اتنا اجرت میں دیا جائے گا ( یا کھیت کٹوایا اور اسی میں سے اجرت دینا طے کیا) یہ سب صورتیں ناجائز([1])ہیں۔ ملخصاً۔ ([2])
ہاں پیسہ اور کچھ گیہوں یا باجرہ وغیرہ اجرت مقرر کریں تو جائز ہے ۔ بہار ِ شریعت میں ہے کہ جائز ہونے کی صورت یہ ہے کہ جو کچھ اجرت میں دینا ہے اس کو پہلے ہی سے علیحدہ کردے کہ یہ تمہاری اجرت ہے ۔ مثلاً سوت کو دو حصہ کرکے ایک حصہ کی نسبت کہا کہ اس کا کپڑا بُن دو اور دوسرا دیا کہ یہ تمہاری مزدوری ہے یا غلّہ اٹھانے والے کو اسی غلہ میں سے نکال کر دے دیا کہ یہ تیری مزدوری ہے اور یہ غلہ فلاں جگہ پہنچادے ( جیسا کہ) بھاڑ والے پہلے ہی اپنی بھنائی نکال کر باقی کو بھونتے ہیں۔ ([3])
(۲)…بعض لوگ اس طرح کھیت کٹواتے ہیں کہ ہم فی بیگھہ یا ہر روز چار سیر دھان مزدوری دیں گے
مگر یہ نہیں ٹھہراتے کہ ہم تمہارے کام کیے ہوئے میں سے دیں گے ۔ اب خواہ اسی کام کیے ہوئے میں سے دیں کوئی حرج([4])نہیں۔
(۳)…کپڑا سلنے کے لیے دیا تو درزی نے اس میں سے کاٹ لیا۔ روئی کاتنے کے لیے دی تو کاتنے والے نے روئی نکال لی، کپڑا بننے کے لیے دیا تو بننے والے نے سوت نکال لیا اور بھرنے کے لیے دیاتو بھرنے والوں نے سوت نکال لیا یہ سب ناجائز و حرام ہے ۔
افسوس کہ یہ باتیں علانیہ کھلے طور پر مسلمانوں میں اس طرح رائج ہوگئی ہیں کہ اب لوگوں کو احساس ہی نہیں ہوتا کہ ہم حرام روزی سے اپنا پیٹ بھر کر اپنی عاقبت برباد کررہے ہیں بلکہ عوام تو عوام بعض خواص بھی اس طرح حر ام روزی حاصل کرنے میں بے باک نظر آتے ہیں۔اَلْعِیَاذُ بِاللّٰہ تَعَالَی۔
کرو مہر بانی تم اہل زمین پر
خدا مہربان ہوگا عرش بریں پر
-----------------
∞[1] درمختار میں ہے :’’لَوْ دَفَعَ غَزْلًا لِآخَرَ لِیَنْسِجَہُ لَہُ بِنِصْفِہِ أَوْ اسْتَأْجَرَ بَغْلًا لِیَحْمِلَ طَعَامَہُ بِبَعْضِہِ أَوْ ثَوْرًا لِیَطْحَنَ بُرَّہُ بِبَعْضِ دَقِیقِہِ فَسَدَتْ فِی الْکُلِّ لِأَنَّہُ اسْتَأْجَرَہُ بِجُزْئٍ مِنْ عَمَلِہِ وَالْأَصْلُ فِی ذَلِکَ نَہْیُہُ صلی اللّٰہ علیہ وسلم عَنْ قَفِیزِ الطَّحَّانِ‘‘۔ (’’الدر المختار‘‘،کتاب الاجارۃ،ج۹،ص۹۷)اور فتاوی عالمگیری جلد چہارم مصری ص:۴۲۹ میں ہے :’’لَا تَصِحُّ إجَارَۃُ الرَّحَی لِیَطْحَنَ بُرَّہُ بِبَعْضِ دَقِیقِہِ کَذَا فِی شَرْحِ أَبِی الْمَکَارِمِ‘‘۱۲منہ۔ (’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الاجارۃ،الباب الرابع عشر،ج۴،ص۴۴۵)[2] ’’بہارِ شریعت‘‘، ج۳، ص۱۴۹.[3] ’’بہارِ شریعت‘‘، ج۳، ص۱۴۹.[4] درمختار کتاب الاجارہ میں ہے :’’وَالْحِیلَۃُ أَنْ یَفْرِزَ الْأَجْرَ أَوَّلًا أَوْ یُسَمِّیَ قَفِیزًا بِلَا تَعْیِینٍ ثُمَّ یُعْطِیَہُ قَفِیزًا مِنْہُ فَیَجُوزُ‘‘۔ ۱۲منہ۔ (’’الدر المختار‘‘،کتاب الاجارۃ،ج۹،ص۹۷)
ماخذ و مراجع
کتاب: اَنْوارُ الحَدِیْثْ جلد: 1 , حدیث نمبر: 52