Main Icon

موت کا بیان - اَنْوارُ الحَدِیْثْ - حدیث نمبر: 32

کتاب الجنائز

حدیث مبارکہ

حدیث1:
’’عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَکْثِرُوا ذِکْرَ ہَاذِمِ اللَّذَّاتِ الْمَوْتِ‘‘۔
حدیث2:
’’عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا یَتَمَنَّی أَحَدُکُمْ الْمَوْتَ إِمَّا مُحْسِنًا فَلَعَلَّہُ أَنْ یَّزْدَادَ خَیْرًا وَإِمَّا مُسِیءًا فَلَعَلَّہُ یَسْتَعْتِبُ‘‘ ۔
حدیث3:
’’ عَنْ أَنَسٍ قَالَ دَخَلَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی شَابٍّ وَہُوَ فِی الْمَوْتِ فَقَالَ کَیْفَ تَجِدُکَ قَالَ أَرْجُو اللّٰہ یَا رَسُولَ اللّٰہ وَاِنِّی أَخَافُ ذُنُوبِی فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا یَجْتَمِعَانِ فِی قَلْبِ عَبْدٍ فِی مِثْلِ ہَذَا الْمَوْطِنِ إِلَّا أَعْطَاہُ اللّٰہ مَا یَرْجُو وَآمَنَہُ مِمَّا یَخَافُ‘‘
حدیث4:
’’ عَنْ مَعْقِلِ بْنِ یَسَارٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اقْرَء ُوا سُوْرَۃَ یس عَلَی مَوْتَاکُمْ‘‘۔
حدیث5:
’’عَنْ أَبِی سَعِیدٍ وَأَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَا قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَقِّنُوا مَوْتَاکُمْ لا إِلَہَ إِلَّا اللّٰہ‘‘۔

حدیث1:
’’عن ابی ہریرۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکثروا ذکر ہاذم اللذات الموت‘‘۔
حدیث2:
’’عن ابی ہریرۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لا یتمنی احدکم الموت إما محسنا فلعلہ ان یزداد خیرا وإما مسیءا فلعلہ یستعتب‘‘ ۔
حدیث3:
’’ عن انس قال دخل النبی صلی اللہ علیہ وسلم علی شاب وہو فی الموت فقال کیف تجدک قال ارجو اللہ یا رسول اللہ وانی اخاف ذنوبی فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لا یجتمعان فی قلب عبد فی مثل ہذا الموطن إلا اعطاہ اللہ ما یرجو وآمنہ مما یخاف‘‘
حدیث4:
’’ عن معقل بن یسار قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اقرء وا سورۃ یس علی موتاکم‘‘۔
حدیث5:
’’عن ابی سعید وابی ہریرۃ قالا قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لقنوا موتاکم لا إلہ إلا اللہ‘‘۔

حدیث ترجمہ

ترجمہ حدیث1:حضرت ابوہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ رسولِ کریمعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْمنے فرمایا کہ لذتوں کو ختم کردینے والی چیز ( موت) کو اکثر و بیشتر یاد کرو۔ (ترمذی، نسائی)ترجمہ حدیث2:حضرت ابوہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ حضورنے فرمایا کہ تم میں کوئی موت کی آرزو نہ کرے ( اس لیے کہ) وہ یا تو نیکو کار ہوگا تو ممکن ہے اس کے نیک عمل میں زیادتی ہوجائے اور یا بدکار ہوگا تو ہوسکتا ہے کہ آئندہ تو بہ کرکے خدائے تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرلے ۔ (بخاری شریف)ترجمہ حدیث3:حضرت انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا کہ نبی کریمعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْمایک جوان کے پاس تشریف لے گئے جو قریب المرگ تھا۔ حضور نے اس سے فرمایا کہ تو اپنے آپ کو کس حال میں پاتا ہے ؟ اس نے عرض کیا یارسولاللّٰہمیں خدائے تعالیٰ کی رحمت کا امیدوار ہوں اور اپنے گناہوں سے ڈرتا ہوں حضور نے فرمایا یہ دونوں ( یعنی خوف ورجا) اس موقع پر جس بندہ کے دل میں ہوں گے ۔ خدائے تعالیٰ اسے وہ چیز دے گا جس کی وہ امید رکھتا ہے اور اس چیز سے محفوظ رکھے گا جس سے وہ ڈرتا ہے ۔ (ترمذی، ابن ماجہ، مشکوۃ)ترجمہ حدیث4:حضرت معقل بن یساررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ رسولِ کریمعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْمنے فرمایا کہ اپنے مرنے والوں کے قریب سورہ ٔ یس شریف پڑھو۔ (احمد، ابوداود)ترجمہ حدیث5:حضرت ابو سعید اور حضرت ابوہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُما نے کہا کہ حضورعلیہ الصلوۃ والسلامنے فرمایا کہ اپنے مرنے والوں کو کلمہ طیبہ کی تلقین کر و۔ (مسلم)

شرح حدیث

شرح حدیث1:حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلویرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ’’باب تمنی الموت و ذکرہ‘‘میں فرماتے ہیں کہ:ذکر موت کنایت ست از خوف وخشیت حق وعمل بمقتضائے آں وتوبہ واستغفار وتقدیم وترجیح نفع درآخرت والا ذکر موت و یاد داشتن آں بے عمل چیزے نیست بلکہ تواند کہ سبب قساوت قلب گردد چنانکہ ذکر حق سبحانہ و تعالی بہ غفلت۔ (1)(اشعۃ اللمعات،جلد اول،ص۶۵۳)یعنی موت کو یاد کرنے کا مطلب یہ ہے کہ دل میں خدائے تعالیٰ کا خوف و خشیت ہو اور اسی کے حکم کے مطابق عمل ہو نیز توبہ و استغفار کرے ۔ اور آخرت کے نفع کو ( دنیا کے نفع پر) مقدم رکھے اور ترجیح دے ۔ ورنہ بغیر عمل کے صرف موت کا چرچا کرنا اور اس کو یاد رکھنا کوئی چیز نہیں ہے بلکہ (ایسا کرنا) دل کی قساوت اور سختی کا سبب ہو سکتا ہے ۔ جیسے کہ غفلت اور بے عملی کے ساتھ خدائے تعالیٰ کو( صرف زبانی طور پر) یاد کرنا ( قساوت قلبی کا سبب ہے )
------------------
∞[1] ’’
اشعۃ اللمعات‘‘،کتاب الجنائز،باب تمنی الموت وذکرہ،ج۱،ص۶۹۷.شرح حدیث2:حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلویرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں کہ:آر زوئے مرگ بجہت ضرر دنیا مانند مرض یا فقر یا مانندآں مکروہ است زیرا کہ آں علامت بے صبری وبستوہ آمدن از تقدیر الہی و ناراض بودن از آں است اما از جہت محبت وشوق بلقائے الہی تعالی وخلاص از تنگنائے ایں سرائے ومحنت آن ووصول بملک آخرت ونعیم آن نشان ایمان وکمال اوست و ہمچنیں مکروہ نیست از جہت خوف ضرر دینی۔ (1)
یعنی دنیوی نقصان جیسے بیماری یا غریبی وغیرہ کی وجہ سے موت کی تمنا کرنا مکروہ ہے اس لیے کہ یہ بے صبری او ر تقدیری الہٰی سے ملال وناراضگی کی نشانی ہے لیکن خدائے تعالیٰ کی محبت اور اس کی ملاقات کے شوق میں موت کی تمنا کرنا نیز اس دنیا کی تنگی اور پریشانی سے چھٹکارا حاصل کرنے اور ملک آخرت اور جنت میں پہنچنے کے لئے موت کی آرزو کرنا ایمان اور اس کے کمال کی نشانی ہے ۔ اسی طرح دینی ضرر کے خوف سے موت کی تمنا کرنا مکروہ نہیں ہے ۔ (اشعۃ اللمعات، جلد اول، ص ۶۵۳)
------------------
∞[1] ’’
اشعۃ اللمعات‘‘،کتاب الجنائز،باب تمنی الموت وذکرہ،ج۱،ص۶۹۷.شرح حدیث4:حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلویرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِاس حدیث کے تحت فرماتے ہیں کہ :ظاہر آنست کہ مراد مختصر باشد وعمل نیز ہم بریں ست واحتمال دارد کہ مراد بعد از موت درخانہ یا برسرِ قبر۔ (1)
یعنی ظاہر مراد یہ ہے کہ موت کے وقت سورۂ یس پڑھی جائے اور اسی پر عمل بھی ہے ۔ اور ہوسکتا ہے یہ مراد ہو کہ موت کے بعد گھر میں پڑھی جائے یا قبر کے سرہانے ۔ (اشعۃ اللمعات، جلد اول، ص ۲۶۲)
------------------
∞[1] ’’
اشعۃ اللمعات‘‘،کتاب الجنائز،باب ما یقول عند من حضرہ الموت،ج۱،ص۷۰۶.شرح حدیث5:تلقین کی صورت یہ ہے کہ موت کے وقت حاضرین بلند آواز سے کلمۂ طیبہ پڑھیں لیکن مرنے والے کو اس کے پڑھنے کا حکم نہ کریں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: اَنْوارُ الحَدِیْثْ جلد: 1 , حدیث نمبر: 32