- ہوم
- کتابیں
- اَنْوارُ الحَدِیْثْ
- کتاب البیوع
- حدیث نمبر 55
رہن اور بیع سلم کا بیان - اَنْوارُ الحَدِیْثْ - حدیث نمبر: 55
کتاب البیوع
حدیث مبارکہ
حدیث 1:
’’ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَدِمَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْمَدِینَۃَ وَہُمْ یُسْلِفُونَ فِی الثِّمَارِ السَّنَۃَ وَالسَّنَتَیْنِ وَالثَّلاثَ فَقَالَ مَنْ أَسْلَفَ فِی شَیْئٍ فَلْیُسْلِفْ فِی کَیْلٍ مَعْلُومٍ وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ إِلَی أَجَلٍ مَعْلُومٍ‘‘۔
حدیث 2:
’’ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیِّبِ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا یَغْلَقُ الرَّہْنُ الرَّھْنَ مِنْ صَاحِبِہِ الَّذِیْ رَھَنَہُ لَہُ غُنْمُہُ وَعَلَیْہِ غُرْمُہُ ‘‘۔
حدیث 1:
’’ عن ابن عباس قال قدم النبی صلی اللہ علیہ وسلم المدینۃ وہم یسلفون فی الثمار السنۃ والسنتین والثلاث فقال من اسلف فی شیئ فلیسلف فی کیل معلوم ووزن معلوم إلی اجل معلوم‘‘۔
حدیث 2:
’’ عن سعید بن المسیب ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال لا یغلق الرہن الرھن من صاحبہ الذی رھنہ لہ غنمہ وعلیہ غرمہ ‘‘۔
حدیث ترجمہ
ترجمہ حدیث 1:حضرت ابن عباسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمانے کہا کہ رسولِ کریمعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْممدینہ طیبہ میں تشریف لائے مدینہ کے لوگ پھلوں میں سال دو سال اور تین سال کی ( پیشگی) بیع کیا کرتے تھے ۔ حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ جو شخص اس طرح کی بیع کرے اسے چاہیے کہ معین پیما نہ معین وزن اور معین مدت کے ساتھ کرے ۔ (بخاری، مسلم)ترجمہ حدیث 2:حضرت سعید بن المسیبرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ سرکارِ دوعالمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ کسی چیز کو رہن کردینے سے رہن کرنے والے کی ملکیت ختم نہیں ہوجاتی اس کے منافع کا حق دار راہن([1])ہے اور ( چیز ضائع ہوجائے تو) مرتہن ([2])تاوان کا ذمہ دار ہے ۔ (مشکوۃ)
------------------
∞[1] راہن جو دوسرے کے پاس کوئی چیز رکھے ۔ ۱۲[2] مرتہن جس کے پاس کوئی چیز رہن رکھی جائے ۔ ۱۲
شرح حدیث
انتباہ :(۱)… بیع سلم یعنی ایسی خرید و فروخت کہ جس میں قیمت نقد اورمال ادھار ہو جائز ہے ۔ مثلاً زید نے فصل تیار ہونے سے پہلے بکر سے کہا کہ آپ سو روپیہ ہمیں دے دیجئے ہم فی روپیہ چار کلو گیہوں آپ کو فلاں تاریخ میں دے دیں گے ۔ تو خواہ اس وقت یا ادائیگی کے وقت بازار کا بھاؤ فی روپیہ تین کلو ہو زید پر فی روپیہ چار کلو گیہوں دینا واجب ہوگا اس لیے کہ یہ بیع شرعاً جائز ہے بہ شرطیکہ مسلم فیہ([1])کی جنس بیان کردی جائے کہ گیہوں دے گا یا جَو۔ اور اس کی نوع بیان کردی جائے کہ فلاں نام کا گیہوں دے گا اور یہ بھی بیان کرنا ضروری ہے کہ وہ گیہوں اعلیٰ ہوگا یا اوسط یا ادنیٰ ۔ نیز یہ بھی بتانا ضروری ہے کہ گیہوں کتنا دے گا؟ کس تاریخ میں دے گا اور کس جگہ دے گا اور بھی کچھ شرطیں ہیں جن کی تفصیلات بہارِ شریعت وغیرہ سے معلوم کریں۔
(۲)…کھیت رہن رکھنے کا جو عام رواج ہے کہ کسی شخص کو کچھ روپیہ دے کر اس کا کھیت اس شرط پر رہن رکھتے ہیں کہ ہم کھیت سے نفع حاصل کرتے رہیں گے اور گورنمنٹی لگان دیتے رہیں گے ۔ پھر جب تم روپیہ ادا کرو گے تو ہم کھیت واپس کردیں گے یہ ناجائز ہے ۔ اس لیے کہ قرض دے کر نفع حاصل کرنا سود ہے حرام ہے ۔
حدیث شریف میں ہے :
’’کُلُّ قَرْضٍ جَرّ نَفْعًا فَھُوَ رِبًا‘‘۔
یعنی قرض سے جو نفع حاصل ہو وہ سود ہے ۔
البتہ کافر حربی کا کھیت اس طرح لے سکتا ہے اس لیے کہ عقود فاسد ہ کے ذریعہ ان کا مال لینا جائز ہے ۔
(۳)…بعض لوگ کھیت اس طرح رہن رکھتے ہیں کہ مرتہن کھیت کو جوتے بوئے فائدہ حاصل کرے ۔ اور کھیت کا دس پانچ روپیہ سال کرایہ مقرر کردیتے ہیں اور طے یہ پاتا ہے کہ وہ رقم زرِ قرض سے مجرا ہوتی رہے گی جب کل رقم ادا ہوجائے گی تو کھیت واپس ہوجائے گا۔ اس صورت میں بظاہر کوئی قباحت نہیں معلوم ہوتی اگرچہ کرایہ واجبی اجرت سے کم طے پایا ہو اس لیے کہ یہ صورت اجارہ میں داخل ہے یعنی اتنے زمانہ کے لیے کھیت کرایہ پر دیا اور کرایہ پیشگی لے لیا۔ ([2]) (بہار شریعت، جلد ہفدہم ص ۳۹)
------------------
∞[1] مسلم فیہ۔ جس چیز کو فروخت کیا گیا ۱۲۔[2] ’’بہارِ شریعت‘‘، حصہ ہفدہم ، باب رہن کا بیان ، ص۳۹.
ماخذ و مراجع
کتاب: اَنْوارُ الحَدِیْثْ جلد: 1 , حدیث نمبر: 55