Main Icon

آمین بالسر - اَنْوارُ الحَدِیْثْ - حدیث نمبر: 20

کتاب الصلوٰۃ

حدیث مبارکہ

حدیث 1:
’’عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِذَا أَمَّنَ الْإِمَامُ فَأَمِّنُوا فَإِنَّہُ مَنْ وَافَقَ تَأْمِینُہُ تَأْمِینَ الْمَلَاءِکَۃِ غُفِرَ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ وَفِیْ رِوَایَۃٍ قَالَ إِذَا قَالَ الْإِمَامُ غَیْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَیْہِمْ وَلَا الضَّالِّینَ فَقُولُوا آمِینَ فَإِنَّہُ مَنْ وَافَقَ قَوْلُہُ قَوْلَ الْمَلَاءِکَۃِ غُفِرَ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ ھَذَا لَفْظُ الْبُخَاري وَلِمُسْلمٍ نَحْوہ‘‘۔

حدیث 1:
’’عن ابی ہریرۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إذا امن الإمام فامنوا فإنہ من وافق تامینہ تامین الملاءکۃ غفر لہ ما تقدم من ذنبہ متفق علیہ وفی روایۃ قال إذا قال الإمام غیر المغضوب علیہم ولا الضالین فقولوا آمین فإنہ من وافق قولہ قول الملاءکۃ غفر لہ ما تقدم من ذنبہ ھذا لفظ البخاري ولمسلم نحوہ‘‘۔

حدیث ترجمہ

ترجمہ حدیث1:حضرت ابوہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ رسولِ کریمعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْمنے فرمایا کہ جب امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو، اس لیے کہ جس کی آمین ملائکہ کی آمین کے موافق ہوگی تو اس کے پچھلے گناہ معاف کردیئے جائیں گے ۔ (بخاری، مسلم) اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا جب امامغَیْرِالْمَغضوبِ عَلَیھمِ ولا الضَّالِینکہے تو تم آمین کہو اس لیے کہ جس کا آمین کہنا فرشتوں کی آمین کہنے کے مطابق ہوگا تو اس کے گزشتہ گناہ بخش دیئے جائیں گے ۔ یہ الفاظ بخاری کے ہیں اور مسلم میں بھی اسی کے مثل ہے ۔ ( مشکوۃ)

شرح حدیث

اس حدیث شریف سے دو باتیں واضح طور پر معلوم ہوئیں:
٭…اوّل یہ کہ مقتدی امام کے پیچھے سورۂ فاتحہ نہ پڑھے اس لیے کہ اگر مقتدی کو سورۂ فاتحہ پڑھنے کا حکم ہوتا تو حضور
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَیوں فرماتے کہ جب تموَلَا الضَّآلِینکہو تو آمین کہو۔ معلوم ہوا کہ مقتدی صرف آمین کہے گا۔وَلَا الضَّآلِینکہنا امام کا کام ہے ۔
٭…دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ آمین آہستہ کہنا چاہیے کہ فرشتے بھی آہستہ آمین کہتے ہیں۔ اسی لیے ہم لوگ ان کے آمین کہنے کی آواز نہیں سُنتے ہیں۔ لہذا بلند آواز سے آمین کہنا فرشتوں کے آمین کہنے کی مخالفت کرنا ہے ۔
کنزالدقائق اور بحرالرائق جلد اول، ص۳۱۳ میں ہے :
أَمَّنَ الْإِمَامُ وَالْمَأْمُومُ سِرًّا۔ (1)
یعنی امام اور مقتدی دونوں آہستہ آمین کہیں ۔
اور درمختار میں ہے :
أَمَّنَ الْإِمَامُ سِرًّا کَمَأْمُومٍ وَمُنْفَرِدٍ۔ (2)
یعنی امام آہستہ آمین کہے جیسے کہ مقتدی اور منفرد۔
------------------
∞[1] ’’
البحر الرائق‘‘،کتاب الصلاۃ،باب صفۃ الصلاۃ،ج۱،ص۵۴۷.’’کنز الدقائق‘‘،کتاب الصلوۃ،ص۲۵۔[2] ’’الدر المختار‘‘،کتاب الصلاۃ،مطلب قراء ۃ البسلمۃ بین الفاتحۃ إلخ،ج۲،ص۲۳۸۔ ۲۳۹.

ماخذ و مراجع

کتاب: اَنْوارُ الحَدِیْثْ جلد: 1 , حدیث نمبر: 20