Main Icon

ایصال ثواب کا بیان - اَنْوارُ الحَدِیْثْ - حدیث نمبر: 39

کتاب الجنائز

حدیث مبارکہ

حدیث 1:
’’ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَۃَ قَالَ یَا رَسُولَ اللّٰہ إِنَّ أُمَّ سَعْدٍ مَاتَتْ فَأَیُّ الصَّدَقَۃِ أَفْضَلُ قَالَ الْمَاءُ فَحَفَرَ بِئْرًا وَقَالَ ہَذِہِ لِأُمِّ سَعْدٍ رَوَاہُ أَبُوداؤد وَالنِّسَائی‘‘۔ (مشکوۃ، ص۱۹۹)
حدیث 2:
’’ عَنْ عَائِشَۃَ أَنَّ رَجُلًا أَتَی النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ یَا رَسُولَ اللّٰہ إِنَّ أُمِّیَ افْتُلِتَتْ نَفْسُہَا وَلَمْ تُوصِ وَأَظُنُّہَا لَوْ تَکَلَّمَتْ تَصَدَّقَتْ أَفَلَہَا أَجْرٌ إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْہَا قَالَ نَعَمْ‘‘۔

حدیث 1:
’’ عن سعد بن عبادۃ قال یا رسول اللہ إن ام سعد ماتت فای الصدقۃ افضل قال الماء فحفر بئرا وقال ہذہ لام سعد رواہ ابوداؤد والنسائی‘‘۔ (مشکوۃ، ص۱۹۹)
حدیث 2:
’’ عن عائشۃ ان رجلا اتی النبی صلی اللہ علیہ وسلم فقال یا رسول اللہ إن امی افتلتت نفسہا ولم توص واظنہا لو تکلمت تصدقت افلہا اجر إن تصدقت عنہا قال نعم‘‘۔

حدیث ترجمہ

ترجمہ حدیث 1:حضرت سعد بن عبادہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ انہوں نے حضورعلیہ الصلوۃ والسلامسے عرض کیا کہ ام سعد یعنی میری ماں کا انتقال ہوگیا ہے ان کے لیے کون سا صدقہ افضل ہے ۔ سرکار ِ اقدس نے فرمایا پانی (بہترین صدقہ ہے تو حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے ارشاد کے مطابق) حضرت سعدرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کنواں کھدوایا ( اور اسے اپنی ماں کی طرف منسوب کرتے ہوئے ) کہا یہ کنواں سعد کی ماں کے لیے ہے ۔ (یعنی اس کا ثواب ان کی روح کو ملے )۔ (ابوداود، نسائی)ترجمہ حدیث 2:حضرت عائشہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُا سے روایت ہے کہ ایک شخص آئے اور انہوں نے عرض کیا یارسولاللّٰہ! میری ماں کا اچانک انتقال ہوگیا اور وہ کسی بات کی وصیت نہ کرسکی۔ میر ا گمان ہے کہ انتقال کے وقت اگر اسے کچھ کہنے سننے کا موقع ملتا تو وہ صدقہ ضرور دیتی تو اگر میں اس کی طرف سے صدقہ کروں تو کیا اس کی رُوح کو ثواب پہنچے گا ؟ سرکارِ اقدسصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا کہ ہاں پہنچے گا۔ (مسلم ، جلد اول ، ص ۳۲۴)

شرح حدیث

علامہ نوویرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِاس حدیث شریف کے تحت فرماتے ہیں کہ :
’’
فِی ھَذَا الْحَدِیْثِ أَنَّ الصَّدْقَۃَ عَنِ الْمَیِّتِ تَنْفَعُ الْمَیِّتَ وَیَصِلُ ثَوَابُھَا وَھُوَ کَذَلِکَ بِإِجْمَاعِ الْعُلَمَاء‘‘۔ ([1])(نووی شرح مسلم،جلد اول،ص۳۲۴)یعنی اس حدیث شریف سے ثابت ہوا کہ اگر میت کی طرف سے صدقہ کیا جائے تو میت کو اس کا فائدہ و ثواب پہنچتا ہے ۔ اسی پر علماء کا اتفاق ہے ۔
( ان احادیث کریمہ سے مندرجہ ذیل باتیں واضح طور پرمعلوم ہوئیں۔ )
(
۱∞)… میت کے ایصالِ ثواب کے لیے پانی بہترین صدقہ ہے کہ کنواں وغیرہ کھدوا کر اس کا ثواب میت کو بخش دیا جائے ۔
(
۲∞)…میت کو کسی کارِ خیر کا ثواب بخشنا بہتر ہے ۔ تفسیر عزیزی پارہ عم ص: ۱۱۳ میں ہے : ’’مردہ در آن حالت مانند غریقی ست کہ انتظار فریاد رسی می برد وصدقات وادعیہ وفاتحہ دریں وقت بسیار بکارمی آید وازیں جاست کہ طوائف بنی آدم تایکسال وعلی الخصوص تایک چلّہ بعد موت دریں نوع امداد کوشش تمام می نمایند‘‘۔ ([2])
(
۳∞)…ثواب بخشنے کے الفاظ زبان سے ادا کرنا صحابی کی سنت ہے ۔
(
۴∞)…کھانا یا شیرینی وغیرہ کو سامنے رکھ کر ایصالِ ثواب کرنا جائز ہے اس لیے کہ حضرت سعدرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے اشارئہ قریب کا لفظ استعمال کرتے ہوئے فرمایا’ ’ھٰذِہ لِاُمِّ سَعْدٍ‘‘ یہ کنواں سعد کی ماں کے لیے ہے ۔ یعنی اےاللّٰہتعالیٰ اس کنو ئیں کے پانی کا ثواب میری ماں کو عطا فرما۔ اس سے معلوم ہوا کہ کنواں ان کے سامنے تھا۔
(
۵∞)…غریب و مسکین کو کھانا وغیرہ دینے سے پہلے بھی ایصالِ ثواب کرنا جائز ہے ۔ جیسا کہ صحابی رسول نے کیا کہ کنواں تیار ہونے کے ساتھ ہی انہوں نے ایصالِ ثواب کیا حالانکہ لوگوں کے پانی استعمال کرنے کے بعد ثواب ملے گا۔ اسی طرح اگرچہ غریب و مسکین کو کھانا دینے پر ثواب مرتب ہوگا۔ لیکن اس ثواب کو پہلے ہی سے بخش دینا بھی جائز ہے ۔
(
۶∞)…کسی چیز پر میت کا نام آنے سے وہ چیز حرام نہ ہوگی مثلاً غوث پاک کا بکرا، اور غازی میاں کا مرغا وغیرہ اس لیے کہ ایک جلیل القدر صحابی نے اس کنوئیں کو اپنی مرحومہ ماں کے نام سے منسوب کیا تھا جو آج تک’’بیرأُمّ سعد‘‘ہی کے نام سے مشہور ہے ۔
------------------
∞[1] ’’
نووی شرح مسلم‘‘،کتاب الزکاۃ،باب وصول ثواب الصدقۃ عن المیت إلیہ،ج۴،ص۹۰.[2] ’’تفسیر عزیزی‘‘،پارہ عم،ص۱۱۳.

ماخذ و مراجع

کتاب: اَنْوارُ الحَدِیْثْ جلد: 1 , حدیث نمبر: 39