- ہوم
- کتابیں
- اَنْوارُ الحَدِیْثْ
- حدیث نمبر 98
ظلم و ستم - اَنْوارُ الحَدِیْثْ - حدیث نمبر: 98
حدیث مبارکہ
حدیث 1:
’’عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ الظُّلْمُ ظُلُمَاتٌ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ‘‘۔ (بخاری، مسلم)
حدیث 2:
’’ عَنْ أَوْسِ بْنِ شُرَحْبِیلَ أَنَّہُ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ مَنْ مَشَی مَعْ ظَالِمٍ لِیَقْوِیَہُ وَہُوَ یَعْلَمُ أَنَّہُ ظَالِمٌ فَقَدْ خَرَجَ مِنَ الَْإِسْلَامِ‘‘۔
حدیث 3:
’’ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ أَتَدْرُونَ مَا الْمُفْلِسُ قَالُوا الْمُفْلِسُ فِینَا مَنْ لَا دِرْہَمَ لَہُ وَلَا مَتَاعَ فَقَالَ إِنَّ الْمُفْلِسَ مِنْ أُمَّتِی مَنْ یَأْتِی یَوْمَ الْقِیَامَۃِ بِصَلَاۃٍ وَصِیَامٍ وَزَکَاۃٍ وَیَأْتِی قَدْ شَتَمَ ہَذَا وَقَذَفَ ہَذَا وَأَکَلَ مَالَ ہَذَا وَسَفَکَ دَمَ ہَذَا وَضَرَبَ ہَذَا فَیُعْطَی ہَذَا مِنْ حَسَنَاتِہِ وَہَذَا مِنْ حَسَنَاتِہِ فَإِنْ فَنِیَتْ حَسَنَاتُہُ قَبْلَ أَنْ یُقْضَی مَا عَلَیْہِ أُخِذَ مِنْ خَطَایَاہُمْ فَطُرِحَتْ عَلَیْہِ ثُمَّ طُرِحَ فِی النَّارِ‘‘۔
حدیث 1:
’’عن ابن عمر ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال الظلم ظلمات یوم القیامۃ‘‘۔ (بخاری، مسلم)
حدیث 2:
’’ عن اوس بن شرحبیل انہ سمع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول من مشی مع ظالم لیقویہ وہو یعلم انہ ظالم فقد خرج من الإسلام‘‘۔
حدیث 3:
’’ عن ابی ہریرۃ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال اتدرون ما المفلس قالوا المفلس فینا من لا درہم لہ ولا متاع فقال إن المفلس من امتی من یاتی یوم القیامۃ بصلاۃ وصیام وزکاۃ ویاتی قد شتم ہذا وقذف ہذا واکل مال ہذا وسفک دم ہذا وضرب ہذا فیعطی ہذا من حسناتہ وہذا من حسناتہ فإن فنیت حسناتہ قبل ان یقضی ما علیہ اخذ من خطایاہم فطرحت علیہ ثم طرح فی النار‘‘۔
حدیث ترجمہ
ترجمہ حدیث 1:حضرت ابن عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُما سے روایت ہے کہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا کہ ظلم قیامت کے دن تاریکیوں کا سبب ہوگا۔ (بخاری، مسلم)ترجمہ حدیث 2:حضرت اوس بن شرحبیل سے روایت ہے کہ انہوں نے حضورﷺکو فرماتے ہوئے سُنا کہ جو شخص ظالم کو تقویت دینے کے لیے اس کا ساتھ دے یہ جانتے ہوئے کہ وہ ظالم ہے تو وہ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے ۔ (بیہقی)ترجمہ حدیث 3:حضرت ابوہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضورﷺنے فرمایا کیا تمہیں معلوم ہے مفلس کون ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا ہم میں مفلس وہ شخص ہے جس کے پاس نہ پیسے ہوں نہ سامان ، حضور نے فرمایا میری امت میں دراصل مفلس وہ شخص ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ ، زکوۃ لے کر آئے اس حال میں کہ اس نے کسی کو گالی دی ہو، کسی پر تہمت لگائی ہو، کسی کا مال کھالیا ہو، کسی کا خون بہایا ہو اور کسی کو مارا ہو۔ تو اب انہیں راضی کرنے کے لیے اس شخص کی نیکیاں ان مظلوموں کے درمیان تقسیم کی جائیں گی ۔ پس اس کی نیکیاں ختم ہوجانے کے بعد بھی اگر لوگوں کے حقوق اس پر باقی رہ جائیں گے تو اب حق داروں کے گناہ لاددیئے جائیں گے یہاں تک کہ اسے دوزخ میں پھینک دیا جائے گا۔
شرح حدیث
انتباہ :بندوں پر دو قسم کے حقوق عائد ہوتے ہیں حقوقاللّٰہاور حقوق العباد، ان دونوں کی ادائیگی ضروری ہے لیکن ان میں حقوق العباد بہت اہم ہیں اس لیے کہ خدائے تعالی اپنے فضل و کرم سے اگر چاہے تو اپنے حقوق کو معاف فرمادے لیکن بندوں کے حقوق کواللّٰہتعالیٰ ہر گز نہیں معاف فرمائے گا۔ تاوقتیکہ وہ بندے نہ معاف کردیں کہ جن کے حقوق اس پر عائد ہوتے ہیں۔ لہذا حقوقاللّٰہکے ساتھ حقوق العباد ادا کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے ورنہ قیامت کے دن سخت عذاب میں گرفتار ہوگا۔
ماخذ و مراجع
کتاب: اَنْوارُ الحَدِیْثْ جلد: 1 , حدیث نمبر: 98