Main Icon

الحُبُّ فِی اللّٰہ وَالْبُغْضُ فِی اللّٰہ - اَنْوارُ الحَدِیْثْ - حدیث نمبر: 96

حدیث مبارکہ

حدیث 1:
’’عَنْ أَبِی ذَرٍّ قَالَ خَرَجَ عَلَیْنَا رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ أَتَدْرُونَ أَیُّ الْأَعْمَالِ أَحَبُّ إِلَی اللّٰہ تَعَالٰی قَالَ قَاءِلٌ الصَّلَاۃُ وَالزَّکَاۃُ وَقَالَ قَاءِلٌ الْجِہَادُ قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَحَبَّ الْأَعْمَالِ إِلَی اللّٰہ تَعَالٰی الْحُبُّ فِی اللّٰہ وَالْبُغْضُ فِی اللّٰہ‘‘۔
حدیث 2:
’’ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لأَبِیْ ذَرٍّ یَا أَبَا ذَرٍّ أَيُّ عُرَی الْإِیْمَانِ أَوْثَقُ؟ قَالَ اللّٰہوَرَسُوْلُہُ أَعْلَمُ قَالَ اَلْمُوَالَاۃُ فِی اللّٰہ وَالْحُبُّ فِی اللّٰہ وَالْبُغْضُ فِی اللّٰہ‘‘۔ (بیہقی)
حدیث 3:
’’عَنْ أَبِیْ رَزِیْنَ أَنَّہُ قَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَ لَا اَدُلُّکَ عَلَی مِلَاکِ ھَذَا الْأَمْرِ تُصِیْبُ بِہِ خَیْرَ الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ عَلَیْکَ بِمَجَالِسِ أَھْلِ الذِّکْرِ وَإِذَا خَلَوْتَ فَحَرِّکْ لِسَانَکَ مَاسْتَطَعْتَ بِذِکْرِ اللّٰہ وَاَحِبَّ فِی اللّٰہ وَاَبْغِضْ فِی اللّٰہ‘‘۔

حدیث 1:
’’عن ابی ذر قال خرج علینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال اتدرون ای الاعمال احب إلی اللہ تعالی قال قاءل الصلاۃ والزکاۃ وقال قاءل الجہاد قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم إن احب الاعمال إلی اللہ تعالی الحب فی اللہ والبغض فی اللہ‘‘۔
حدیث 2:
’’ عن ابن عباس قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لابی ذر یا ابا ذر اي عری الإیمان اوثق؟ قال اللہورسولہ اعلم قال الموالاۃ فی اللہ والحب فی اللہ والبغض فی اللہ‘‘۔ (بیہقی)
حدیث 3:
’’عن ابی رزین انہ قال لہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ا لا ادلک علی ملاک ھذا الامر تصیب بہ خیر الدنیا والاخرۃ علیک بمجالس اھل الذکر وإذا خلوت فحرک لسانک ماستطعت بذکر اللہ واحب فی اللہ وابغض فی اللہ‘‘۔

حدیث ترجمہ

ترجمہ حدیث 1:حضرت ابوذررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ حضورہم لوگوں کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ تم لوگ جانتے ہو کہ خدائے تعالیٰ کے نزدیک کون سا عمل سب سے پسندیدہ ہے ؟ کسی نے کہا نماز اور زکوۃ، کسی نے کہا جہاد ، حضور نے فرمایااللّٰہتعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل ’’الْحُبُّ فِی اللّٰہ وَالْبُغْضُ فِی اللّٰہ‘‘ہے یعنی خدا ہی کے لیے کسی سے محبت کرنا اور خدا ہی کے لیے کسی سے بیزار رہنا۔ (احمد، ابوداود)ترجمہ حدیث 2:حضرت ابن عباسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُما نے کہا کہ حضورنے ابوذر سے فرمایا کہ اے ابو ذر! ایمان کی کون سی گرہ زیادہ مضبوط ہے ؟ عرض کیااللّٰہو رسول کو اس کا بہتر علم ہے ۔ حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے فرمایااللّٰہتعالیٰ ہی کے لیے آپس میں دوستی رکھنا اوراللّٰہہی کے لیے کسی کو دوست بنانا اور کسی کو دشمن سمجھنا۔ (بیہقی)ترجمہ حدیث 3:حضرت ابور زینرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے رو ایت ہے کہ حضورعلیہ الصلوۃوالسلامنے ان سے فرمایا کیا میں تجھے دین کی وہ بنیاد نہ بتادوں جس کے ذریعے تو دنیا و آخرت کی بھلائی حاصل کرلے ۔ ( پہلی بات تو یہ ہے کہ) اہلِ ذکر یعنیاللّٰہوالوں کی مجلسوں میں بیٹھنا اپنے لیے لازم کرلے ۔ اور جب تنہائی میسر آئے تو جس قدر ممکن ہوسکے خدائے تعالیٰ کی یاد میں اپنی زبان ہلا اور خدائے تعالیٰ ہی کے لیے دوستی کر اور اسی کے لیے دشمنی کر ۔

شرح حدیث

شرح حدیث 1:حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلویرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِاس حدیث کے تحت فرماتے ہیں کہ:
’’
ایں جا اشکال می آرند کہ چوں روا باشد کہ حب فی اللّٰہ محبوب تر از صلاۃ وزکوۃ وجہاد باشد وحال آنکہ اینہا افضل اعمال اند علی الاطلاق۔جو ابش آنکہ ہر کہ محبت لِوَجْہِ اللّٰہدارد او محبت خواہد داشت انبیاء واولیاء وصالحاں از بندگانِ خدارا۔ولابد اتباع واطاعت خواہد کرد ایشاں را وکسیکہ دشمن داشت از برائے خدا دشمن خواہد داشت دشمنان دین را وبذل مجہود خواہد نمود در جہاد وقتال ایشاں۔پس دریں جاہمہ طاعات از نماز وزکوۃ وجہاد وجز آں در آمد وچیز ے بدر نہ رفت گویا فرمود اصل ومبنی و مدار اعمال وطاعاتحُبّ لِلَّہِ وَالْبُغْضُ لِلَّہِ است‘‘۔ ([1])
یعنی یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ
حُبُّ فی اللّٰہکا نماز ، زکوۃ اور جہاد سے زیادہ محبوب ہونا کیسے صحیح ہوگا؟ جب کہ یہ چیزیں علی الاطلاق تمام اعمال سے افضل ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جو شخص صرفاللّٰہتعالیٰ کے لیے محبت کرے گا وہ انبیائے کرام ، اولیائے عظام اوراللّٰہتعالیٰ کے نیک بندوں سے محبت کرے گا اور ان لوگوں کی پیروی و فرمانبرداری بھی ضرور کرے گا( اس لیے کہ محبت کے لیے اطاعت لازم ہے ) اور جو شخص کہ خدائے تعالیٰ کے لیے دشمنی کرے گا تو دین کے دشمنوں سے یقینا دشمنی کریگا۔ گویا حضور نے فرمایا کہ اعمال و طاعات کا مدار اور جڑ بنیادحُبُّ لِلَّہِاوربُغْضُ لِلَّہِہے ۔ (اشعۃ اللمعات، جلد چہارم ص ۱۳۸)
------------------
∞[1] ’’
اشعۃ اللمعات‘‘،کتاب الآداب،الفصل الثالث،ج۴،ص۱۴۹.

ماخذ و مراجع

کتاب: اَنْوارُ الحَدِیْثْ جلد: 1 , حدیث نمبر: 96