- ہوم
- کتابیں
- اَنْوارُ الحَدِیْثْ
- حدیث نمبر 95
بغض و حسد - اَنْوارُ الحَدِیْثْ - حدیث نمبر: 95
حدیث مبارکہ
حدیث 1:
’’ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ تُعْرَضُ أَعْمَالُ النَّاسِ فِی کُلِّ جُمُعَۃٍ مَرَّتَیْنِ یَوْمَ الاثْنَیْنِ وَیَوْمَ الْخَمِیسِ فَیُغْفَرُ لِکُلِّ عَبْدٍ مُؤْمِنٍ إِلَّا عَبْدًا بَیْنَہُ وَبَیْنَ أَخِیہِ شَحْنَاءُ فَیُقَالُ اتْرُکُوْا ہَذَیْنِ حَتَّی یَفِیْءَا‘‘۔
حدیث 2:
’’عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا یَحِلُّ لِمُؤْمِنٍ أَنْ یَہْجُرَ مُؤْمِنًا فَوْقَ ثَلاثٍ فَإِنْ مَرَّتْ بِہِ ثَلاثٌ فَلْیَلْقَہُ فَلْیُسَلِّمْ عَلَیْہِ فَإِنْ رَدَّ عَلَیْہِ السَّلَامَ فَقَدِ اشْتَرَکَا فِی الْأَجْرِ وَإِنْ لَمْ یَرُدَّ عَلَیْہِ فَقَدْ بَاء بِالْإِثْمِ وَخَرَجَ الْمُسَلِّمُ مِنَ الْہِجْرَۃِ‘‘۔
حدیث 3:
’’عَنِ الزُّبَیْرِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ دَبَّ إِلَیْکُمْ دَاءُ الْأُمَمِ قَبْلَکُمْ الْحَسَدُ وَالْبَغْضَاءُ ہِیَ الْحَالِقَۃُ لَا أَقُولُ تَحْلِقُ الشَّعَرَ وَلَکِنْ تَحْلِقُ الدِّینَ‘‘۔
حدیث 4:
’’عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ إِیَّاکُمْ وَالْحَسَدَ فَإِنَّ الْحَسَدَ یَأْکُلُ الْحَسَنَاتِ کَمَا تَأْکُلُ النَّارُ الْحَطَبَ‘‘۔
حدیث 1:
’’ عن ابی ہریرۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تعرض اعمال الناس فی کل جمعۃ مرتین یوم الاثنین ویوم الخمیس فیغفر لکل عبد مؤمن إلا عبدا بینہ وبین اخیہ شحناء فیقال اترکوا ہذین حتی یفیءا‘‘۔
حدیث 2:
’’عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لا یحل لمؤمن ان یہجر مؤمنا فوق ثلاث فإن مرت بہ ثلاث فلیلقہ فلیسلم علیہ فإن رد علیہ السلام فقد اشترکا فی الاجر وإن لم یرد علیہ فقد باء بالإثم وخرج المسلم من الہجرۃ‘‘۔
حدیث 3:
’’عن الزبیر قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دب إلیکم داء الامم قبلکم الحسد والبغضاء ہی الحالقۃ لا اقول تحلق الشعر ولکن تحلق الدین‘‘۔
حدیث 4:
’’عن ابی ہریرۃ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال إیاکم والحسد فإن الحسد یاکل الحسنات کما تاکل النار الحطب‘‘۔
حدیث ترجمہ
ترجمہ حدیث 1:حضرت ابوہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ حضورﷺنے فرمایا کہ بندوں کے اعمال ہر ہفتہ دو مرتبہ پیش کیے جاتے ہیں۔ پیر اور جمعرات کو ، پس ہر بندہ کی مغفرت ہوتی ہے سوا اس بندہ کے جو اپنے کسی مسلمان بھائی سے بغض و کینہ رکھتا ہے اس کے متعلق حکم دیا جاتا ہے کہ ان دونوں کو چھوڑے رہو (یعنی فرشتے ان کے گناہوں کو نہ مٹائیں) یہاں تک کہ وہ آپس کی عداوت سے باز آجائیں۔ (مسلم شریف)ترجمہ حدیث 2:حضرت ابوہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ حضورﷺنے فرمایا کہ کسی مسلمان کو جائز نہیں کہ وہ تین دن سے زیادہ کسی مسلمان کو عداوۃً چھوڑ رکھے اگر تین دن گزر جائیں تو اس کو چاہیے کہ اپنے بھائی سے مل کر سلام کرے اگر وہ سلام کا جواب دے دے تو(مصالحت کے )ثواب میں دونوںشریک ہیں اور اگر سلام کا جواب نہ دے تو جواب نہ دینے والا گنہگار ہوا۔ اور سلام کرنے والا ترک ِتعلقات کے گناہ سے بری ہوگیا۔ (ابوداود، مشکوۃ)ترجمہ حدیث 3:حضرت زبیررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ حضورﷺنے فرمایا کہ اگلی امتوں کی بیماری تمہاری طرف بھی آگئی وہ بیماری حسد و بغض ہے جو مونڈنے والی ہے ۔ میرا یہ مطلب نہیں کہ وہ بال مونڈتی ہے بلکہ وہ دین کو مونڈتی ہے ۔ (احمد، ترمذی)ترجمہ حدیث 4:حضرت ابوہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ حسد سے اپنے آپ کو بچاؤ اس لیے کہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکڑی کو ۔ (ابوداود)
شرح حدیث
فائدہ :کسی شخص میں کوئی خوبی دیکھ کر یہ آرزو کرنا کہ وہ خوبی اس سے زائل ہو کر میرے پاس آجائے اسے حسد کہتے ہیں۔ حسد کرنا حرام ہے ۔ ([1])
اور اگر یہ تمنا ہے کہ وہ خوبی مجھ میں بھی ہوجائے تو اسے رشک کہتے ہیں۔ یہ جائز ہے ۔
------------------
∞[1] ’’بہارِ شریعت‘‘، حصہ شانزدہم، (۱۶) ص۱۸۵.
ماخذ و مراجع
کتاب: اَنْوارُ الحَدِیْثْ جلد: 1 , حدیث نمبر: 95