- ہوم
- کتابیں
- اَنْوارُ الحَدِیْثْ
- حدیث نمبر 93
چغلی غیبت - اَنْوارُ الحَدِیْثْ - حدیث نمبر: 93
حدیث مبارکہ
حدیث 1:
’’ عَنْ حُذَیْفَۃَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ قَتَّاتٌ‘‘۔
حدیث 2:
’’عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ واَسْمَاء بِنْتِ یزیدَ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ شِرَارُ عِبَادِ اللّٰہ الْمَشَّاء وْنَ بِالنَّمِیمَۃِ الْمُفَرِّقُونَ بَیْنَ الْأَحِبَّۃِ‘‘۔
حدیث 3:
’’ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ أَتَدْرُونَ مَاالْغِیبَۃُ قَالُوا اللّٰہ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ قَالَ ذِکْرُکَ أَخَاکَ بِمَا یَکْرَہُ قِیلَ أَفَرَأَیْتَ إِنْ کَانَ فِی أَخِی مَا أَقُولُ قَالَ إِنْ کَانَ فِیہِ مَا تَقُولُ فَقَدِ اغْتَبْتَہُ وَإِنْ لَمْ یَکُنْ فِیہِ مَا تَقُوْلُ فَقَدْ بَہَتَّہُ‘‘۔
حدیث 4:
’’ عَنْ أَبِی سَعِیْدٍ وَ جَابِرٍ قَالَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَلْغِیْبَۃُ اَشَدُّ مِنَ الزِّنَا قَالُوْا یَارَسُوْلَ اللّٰہ وَکَیْفَ الْغِیْبَۃُ اَشَدُّ مِنَ الزِّنَا قَالَ اِنَّ الرَّجُلَ لَیَزْنِیْ فَیَتُوْبُ فَیَغْفِِرُ اللّٰہ لَہُ وَاِنَّ صَاحِبَ الْغِیْبَۃِ لَا یَغْفِرُلَہُ حَتَّی یَغْفِرَھَا لَہُ صَاحِبُہُ ‘‘۔
حدیث 5:
’’ عَنْ بَھْزِ بْنِ حَکِیْمٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَتَرْغَبُوْنَ عَنْ ذِکْْرِ الْفَاجِرِ مَتَی یَعْرِفُہُ النَّاسُ اُذْکُرُوْا الْفَاجِرَ بِمَا فِیْہِ یَحْذُرُہُ النَّاسُ‘‘۔
حدیث 1:
’’ عن حذیفۃ قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول لا یدخل الجنۃ قتات‘‘۔
حدیث 2:
’’عن عبد الرحمن بن غنم واسماء بنت یزید ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال شرار عباد اللہ المشاء ون بالنمیمۃ المفرقون بین الاحبۃ‘‘۔
حدیث 3:
’’ عن ابی ہریرۃ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال اتدرون ماالغیبۃ قالوا اللہ ورسولہ اعلم قال ذکرک اخاک بما یکرہ قیل افرایت إن کان فی اخی ما اقول قال إن کان فیہ ما تقول فقد اغتبتہ وإن لم یکن فیہ ما تقول فقد بہتہ‘‘۔
حدیث 4:
’’ عن ابی سعید و جابر قالا قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الغیبۃ اشد من الزنا قالوا یارسول اللہ وکیف الغیبۃ اشد من الزنا قال ان الرجل لیزنی فیتوب فیغفر اللہ لہ وان صاحب الغیبۃ لا یغفرلہ حتی یغفرھا لہ صاحبہ ‘‘۔
حدیث 5:
’’ عن بھز بن حکیم عن ابیہ عن جدہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اترغبون عن ذکر الفاجر متی یعرفہ الناس اذکروا الفاجر بما فیہ یحذرہ الناس‘‘۔
حدیث ترجمہ
ترجمہ حدیث 1:حضرت حذیفہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا کہ میں نے حضورﷺکو فرماتے ہوئے سنا کہ چغل خور جنت میں نہیں جائے گا۔ (بخاری، مسلم)ترجمہ حدیث 2:حضرت عبدالرحمن بن غنم اور اسماء بنت یزیدرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُما سے روایت ہے کہ حضورﷺنے فرمایا کہ خدائے تعالیٰ کے بدترین بندے وہ ہیں جو لوگوں میں چغلی کھاتے پھرتے ہیں اور دوستوں کے درمیان جدائی ڈالتے ہیں۔ (احمد، بیہقی)ترجمہ حدیث 3:حضرت ابوہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضورﷺنے فرمایا کہ تمہیں معلوم ہے غیبت کیا چیز ہے ؟ لوگوں نے عرض کیااللّٰہو رسول کو اس کا بہتر علم ہے ۔ ارشاد فرمایا غیبت یہ ہے کہ تو اپنے بھائی کے بارے میں ایسی بات کہے جو اسے بری لگے کسی نے عرض کیا اگر میرے بھائی میں وہ برائی موجود ہو تو کیا اس کوبھی غیبت کہاجائے گا؟ فرمایا جو کچھ تم کہتے ہو اگر اس میں موجود ہو جبھی تو غیبت ہے اور اگر تم ایسی بات کہو جو اس میں موجود نہ ہو تو یہ تو بہتان ہے ۔ (مسلم شریف)ترجمہ حدیث 4:حضرت ابوسعید و حضرت جابررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُما نے کہا کہ حضورﷺنے فرمایا کہ غیبت زنا سے بدتر ہے ۔ صحابہ نے عرض کیا یارسولاللّٰہ! غیبت زنا سے بدتر کیوں ہے ؟ فرمایا آدمی زنا کرتا ہے پھر توبہ کرتا ہے تواللّٰہتعالیٰ اس کو اپنے فضل سے معاف فرما دیتا ہے لیکن غیبت کرنے والے کواللّٰہتعالی معاف نہیں فرماتا جب تک کہ اس کو وہ شخص معاف نہ کردے جس کی غیبت کی گئی ہے ۔ (بیہقی، مشکوۃ)ترجمہ حدیث 5:حضرت بہز بن حکیمرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُاپنے باپ سے روایت کرتے ہیں اور وہ اپنے دادا سے کہ حضورﷺنے فرمایا کیا تم لوگ فاجر کو بُرا کہنے سے پرہیز کرتے ہو؟آخراسے لوگ کیونکرپہچانیں گے ۔ فاجر کی برائیاں بیان کیا کرو تاکہ لوگ اس سے بچیں۔ (سنن بیہقی)
شرح حدیث
انتباہ :(۱) …فاسق معلن یا بدمذہب کی برائی بیان کرنا جائز ہے بلکہ اگر لوگوں کو اس کے شر سے بچانا مقصود ہو تو ثواب ملنے کی امید ہے ۔ ([1]) (بہار شریعت بحوالہ رد المحتار)
(۲) …جو شخص علانیہ برا کام کرتا ہو اور اس کو اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ لوگ اسے کیا کہیں گے تو اس شخص کی اس بری حرکت کا بیان کرنا غیبت نہیں مگر اس کی دوسری باتیں جو ظاہر نہیں ہیں ان کو ذکر کرنا غیبت ہے ۔ ([2]) (بہار شریعت بحوالہ رد المحتار)
آج کل بہت سے وہابی اپنی وہابیت چھپاتے اور خود کو سنّی ظاہر کرتے ہیںا ور جب موقع پاتے ہیں تو بدمذہبی کی آہستہ آہستہ تبلیغ کرتے ہیں ان کی بدمذہبی کو ظاہر کرنا غیبت نہیں اس لیے کہ لوگوں کو ان کے مکرو شر سے بچانا ہے ۔ اور اگر وہ اپنی بدمذہبی کو نہیں چھپاتا بلکہ علانیہ ظاہر کرتا ہے جب بھی غیبت نہیں اس لیے کہ وہ علانیہ برائی کرنے والوں میں داخل ہے ۔ ([3])(بہار شریعت)
------------------
∞[1] ’’بہارِ شریعت‘‘، حصہ شانزدہم، (۱۶) ص۱۷۷، ’’رد المحتار‘‘،کتاب الحظر والإباحۃ،ج۹،ص۶۷۴.[2] ’’بہارِ شریعت‘‘، حصہ شانزدہم، (۱۶) ص۱۷۷، ’’رد المحتار‘‘،کتاب الحظر والإباحۃ،ج۹،ص۶۷۴.[3] ’’بہارِ شریعت‘‘، حصہ شانزدہم، (۱۶) ص۱۷۷، ’’رد المحتار‘‘،کتاب الحظر والإباحۃ،ج۹،ص۶۷۵.
ماخذ و مراجع
کتاب: اَنْوارُ الحَدِیْثْ جلد: 1 , حدیث نمبر: 93