Main Icon

اولاد کے حقوق - اَنْوارُ الحَدِیْثْ - حدیث نمبر: 89

حدیث مبارکہ

حدیث 1:
’’عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَأَنْ یُؤَدِّبَ الرَّجُلُ وَلَدَہُ خَیْرٌ لَہُ مِنْ أَنْ یَتَصَدَّقَ بِصَاعٍ‘‘۔
حدیث 2:
’’ عَنْ أَیُّوْبَ بْنِ مُوْسَی عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا نَحَلَ وَالِدٌ وَلَدَہُ مِنْ نُّحْلٍ أَفْضَلَ مِنْ أَدَبٍ حَسَنٍ‘‘۔
حدیث 3:
’’عَنْ أَنَسٍِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ عَالَ جَارِیَتَیْنِ حَتَّی تَبْلُغَا جَاءَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ أَنَا وَہُوَ ہَکَذَا وَضَمَّ أَصَابِعَہُ‘‘۔
حدیث 4:
’’عَنْ سُرَاقَۃَ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ أَلا أَدُلُّکُمْ عَلَی أَفْضَلِ الصَّدَقَۃِ ابْنَتُکَ مَرْدُودَۃً إِلَیْکَ لَیْسَ لَہَا کَاسِبٌ غَیْرُکَ‘‘۔
حدیث 5:
’’ عَنِ ابْنِ عَبََّاس قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ عَالَ ثَلاثَ بَنَاتٍ أَوْمِثْلَھُنَّ مِنَ الاخَوَاتِ فَأَدَّبَھُنَّ وَرَحِمَھُنَّ حَتَّی یُغْنِیَھُنَّ اللّٰہ أَوْجَبَ اللّٰہ لَہُ الجَنَّۃَ فََقَالَ رَجُلٌ أَوْاِثْنَتَیْنِ قاَلَ أَوْ اِثْنَتَیْنِ حَتَّی لَوْ قَالُوا أَوْ وَاحِدَۃً لَقَالَ وَاحِدَۃً ‘‘۔

حدیث 1:
’’عن جابر بن سمرۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لان یؤدب الرجل ولدہ خیر لہ من ان یتصدق بصاع‘‘۔
حدیث 2:
’’ عن ایوب بن موسی عن ابیہ عن جدہ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال لا نحل والد ولدہ من نحل افضل من ادب حسن‘‘۔
حدیث 3:
’’عن انس قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من عال جاریتین حتی تبلغا جاء یوم القیامۃ انا وہو ہکذا وضم اصابعہ‘‘۔
حدیث 4:
’’عن سراقۃ بن مالک ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال الا ادلکم علی افضل الصدقۃ ابنتک مردودۃ إلیک لیس لہا کاسب غیرک‘‘۔
حدیث 5:
’’ عن ابن عباس قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من عال ثلاث بنات اومثلھن من الاخوات فادبھن ورحمھن حتی یغنیھن اللہ اوجب اللہ لہ الجنۃ فقال رجل اواثنتین قال او اثنتین حتی لو قالوا او واحدۃ لقال واحدۃ ‘‘۔

حدیث ترجمہ

ترجمہ حدیث 1:حضرت جابر بن سمرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ حضورعلیہ الصلاۃوالسلامنے فرمایا کہ کوئی شخص اپنی اولاد کو ادب سکھائے تو اس کے لیے ایک صاع صدقہ کرنے سے بہتر ہے ۔ (ترمذی)ترجمہ حدیث 2:حضرت ایوب بن موسیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُاپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ حضورنے فرمایا کہ اولاد کے لیے باپ کا کوئی عطیہ اچھی تربیت سے بہتر نہیں ہے ۔ (بیہقی، مشکوۃ)ترجمہ حدیث 3:حضرت انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ حضورنے فرمایا کہ جس کی پرورش میں دو لڑکیاں بلوغ تک رہیں تو وہ قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ میں اور وہ بالکل پاس پاس ہوں گے ، یہ کہتے ہوئے حضور نے اپنی انگلیاں ملا کر فرمایا کہ اس طرح۔ (مسلم)ترجمہ حدیث 4:حضرت سراقہ بن مالکرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضورنے فرمایا کہ کیا میں تم کو یہ نہ بتادوں کہ افضل صدقہ کیا ہے ؟ اور وہ اپنی اس لڑکی پر صدقہ کرنا ہے جو تمہاری طرف (مطلقہ یا بیوہ ہونے کے سبب) واپس لوٹ آئی اور تمہارے سوا کوئی اس کا کفیل نہیں۔ (ابن ماجہ، مشکوۃ)ترجمہ حدیث 5:حضرت ابن عباسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمانے کہا کہ حضورنے فرمایا کہ جو شخص تین لڑکیوں یا تین بہنوں کی پرورش کرے پھر ان کو ادب سکھائے اور ان کے ساتھ مہربانی کرے یہاں تک کہ خدا ان کو مستغنی کردے (یعنی وہ بالغ ہوجائیں اور ان کا نکاح ہوجائے ) تو پرورش کرنے والے پراللّٰہتعالی جنت کو واجب کردے گا ایک شخص نے عرض کیا یارسولاللّٰہ! اور دو بیٹیوں یا دو بہنوں کی پرورش پر کیا ثواب ہے ؟ حضور نے فرمایا دو کا ثواب بھی یہی ہے (راوی کہتے ہیں) اگر صحابہ ایک بیٹی یا ایک بہن کے بارے میں دریافت کرتے تو ایک کی نسبت بھی حضور یہی فرماتے ۔ (شرح السنۃ، مشکوۃ)

شرح حدیث

انتباہ:بچہ کا اچھا سا نام رکھے بُرا نام نہ رکھے کہ بُرے نام کا برا اثر ہوگا تو تربیت قبول نہ کرے گا، ماں یا کسی نیک نمازی عورت سے دو سال تک دودھ پلوائے ، پاک کمائی سے ان کی پرورش کرے کہ ناپاک مال ناپاک عادتیں پیدا کرتا ہے ، کھیلنے کے لیے اچھی چیز جو شرعاً جائز ہو دیتا رہے ، بہلانے کے لیے ان سے جھوٹا وعدہ نہ کرے ، جب کچھ ہوشیار ہو تو کھانے پینے ، اٹھنے بیٹھنے ، چلنے پھرنے ، ماں باپ اور استاد وغیرہ کی تعظیم کا طریقہ بتائے ، نیک استاد کے پاس قرآن مجید پڑھائے ، اسلام و سنت سکھائے ، حضور سید عالمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی تعظیم و محبت ان کے دل میں ڈالے کہ یہی اصل ایمان ہے ۔ جب بچہ کی عمر سات برس ہوجائے تو نماز کی تاکید کرے اور جب دس برس کا ہوجائے تو نماز کے لیے سختی کرے اگر نہ پڑھے تو مار کر پڑھائے ۔ وضو ، غسل اور نماز وغیرہ کے مسائل بتائے ۔ لکھنے اور تیرنے کی تعلیم دے ۔ فنِ سپہ گری بھی سکھائے ۔ بری صحبت سے بچائے ۔ عشقیہ ناول اور افسانے وغیرہ ہر گز نہ پڑھنے دے ۔ جب جوان ہوجائے تو نیک شریف النسب لڑکی سے شادی کردے اور وراثت سے اسے ہر گز محروم نہ کرے ۔
اور لڑکیوں کو سینا پرونا ، کاتنا اور کھانا پکانا سکھائے ، سورۂ نور کی تعلیم دے اور لکھنا ہر گز نہ سکھائے کہ فتنہ کا احتمال غالب ہے ۔ بیٹوں سے زیادہ ان کی دلجوئی کرے ۔ نو برس کی عمر سے ان کی خاص نگہداشت شروع کرے ۔ شادی برات میں جہاں ناچ گانا ہو وہاں ہرگز نہ جانے دے ۔ ریڈیو سے بھی گانابجانا ہر گز نہ سننے دے جب بالغ ہوجائے تو نیک شریف النسب لڑکے کے ساتھ نکاح کردے ۔ فاسق و فاجر خصوصًا بدمذہب کے ساتھ ہر گز نکاح نہ کرے ۔ ([1])
------------------
∞[1]
ماخوذ از’’مشعلۃ الارشاد فی حقوق الأولاد‘‘مصنفہ اعلحضرت إمام أحمد رضا رضی اللّٰہ تعالی عنہ.(’’الفتاوی الرضویۃ‘‘،ج۲۴،ص۴۵۲)

ماخذ و مراجع

کتاب: اَنْوارُ الحَدِیْثْ جلد: 1 , حدیث نمبر: 89