- ہوم
- کتابیں
- اَنْوارُ الحَدِیْثْ
- حدیث نمبر 88
ماں باپ کے حقوق - اَنْوارُ الحَدِیْثْ - حدیث نمبر: 88
حدیث مبارکہ
حدیث 1:
’’عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَال قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَغِمَ أَنْفُہُ رَغِمَ أَنْفُہُ رَغِمَ أَنْفُہُ قِیلَ مَنْ یَا رَسُولَ اللّٰہ قَالَ مَنْ أَدْرَکَ وَالِدَیْہِ عِنْدَ الْکِبَرِ أَحَدَہُمَا أَوْ کِلَاہمَا ثُمَّ لَمْ یَدْخُلِ الْجَنَّۃَ‘‘۔
حدیث 2:
’’عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ جَاہِمَۃَ أَنَّ جَاہِمَۃَ جَاءَ إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ یَا رَسُولَ اللّٰہ أَرَدْتُ أَنْ أَغْزُوَ وَقَدْ جِئْتُ أَسْتَشِیرُکَ فَقَالَ ہَلْ لَکَ مِنْ أُمٍّ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَالْزَمْہَا فَإِنَّ الْجَنَّۃَ عِنْدَ رِجْلِہَا‘‘۔
حدیث 3:
’’ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ أَصْبَحَ مُطِیْعاً للَّہِ فِیْ وَالِدَیْہِ أَصْبَحَ لَہ بَابَانِِ مَفْتُوْحَانِِ مِنَ الْجَنَّۃِ وَاِنْ کَانَ وَاحِدًا فَوَاحِدًا وَمَنْ أَصْبَحَ عَاصِیًا للَّہِ فِیْ وَالِدَیْہِ أَصْبَحَ لَہ بَابَانِ مَفتُوْحَانِ مِنَ النَّارِ اِنْ کَانَ وَاحِدًا فَوَاحِدًا قَالَ رَجُلٌ وَإِنْ ظَلَمَاہُ قَالَ وَإِنْ ظَلَمَاہُ وَإِنْ ظَلَمَاہُ وَإِنْ ظَلَمَاہُ‘‘۔
حدیث 4:
’’عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ یَا رَسُولَ اللّٰہ مَا حَقُّ الْوَالِدَیْنِ عَلَی وَلَدِہِمَا قَالَ ہُمَا جَنَّتُکَ وَنَارُکَ‘‘۔ (ابن ماجہ)
حدیث 5:
’’عَنْ عَبْدِ اللّٰہ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رِضَی الرَّبِّ فِی رِضَی الْوَالِدِ وَسَخَطُ الرَّبِّ فِی سَخَطِ الْوَالِدِ‘‘۔
حدیث 6:
’’عَنْ عَبْدِ اللّٰہ بْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنَ الْکَبَاءِرِ شَتْمُ الرَّجُلِ وَالِدَیْہِ قَالُوا یَا رَسُولَ اللّٰہ وَہَلْ یَشْتِمُ الرَّجُلُ وَالِدَیْہِ قَالَ نَعَمْ یَسُبُّ أَبَا الرَّجُلِ فَیَسُبُّ أَبَاہُ وَیَسُبُّ أُمَّہُ فَیَسُبُّ أُمَّہُ‘‘۔
حدیث 7:
’’عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ زَارَ قَبْرَ أَبَوَیْہِ أَوْ أَحَدِہِمَا فِی کُلِّ جُمُعَۃٍ غَفَرَ اللّٰہ لَہُ وَکُتِبَ بَرًّا‘‘۔
حدیث 1:
’’عن ابی ہریرۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رغم انفہ رغم انفہ رغم انفہ قیل من یا رسول اللہ قال من ادرک والدیہ عند الکبر احدہما او کلاہما ثم لم یدخل الجنۃ‘‘۔
حدیث 2:
’’عن معاویۃ بن جاہمۃ ان جاہمۃ جاء إلی النبی صلی اللہ علیہ وسلم فقال یا رسول اللہ اردت ان اغزو وقد جئت استشیرک فقال ہل لک من ام قال نعم قال فالزمہا فإن الجنۃ عند رجلہا‘‘۔
حدیث 3:
’’ عن ابن عباس قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من اصبح مطیعا للہ فی والدیہ اصبح لہ بابان مفتوحان من الجنۃ وان کان واحدا فواحدا ومن اصبح عاصیا للہ فی والدیہ اصبح لہ بابان مفتوحان من النار ان کان واحدا فواحدا قال رجل وإن ظلماہ قال وإن ظلماہ وإن ظلماہ وإن ظلماہ‘‘۔
حدیث 4:
’’عن ابی امامۃ ان رجلا قال یا رسول اللہ ما حق الوالدین علی ولدہما قال ہما جنتک ونارک‘‘۔ (ابن ماجہ)
حدیث 5:
’’عن عبد اللہ بن عمرو قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رضی الرب فی رضی الوالد وسخط الرب فی سخط الوالد‘‘۔
حدیث 6:
’’عن عبد اللہ بن عمر قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من الکباءر شتم الرجل والدیہ قالوا یا رسول اللہ وہل یشتم الرجل والدیہ قال نعم یسب ابا الرجل فیسب اباہ ویسب امہ فیسب امہ‘‘۔
حدیث 7:
’’عن ابی ہریرۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من زار قبر ابویہ او احدہما فی کل جمعۃ غفر اللہ لہ وکتب برا‘‘۔
حدیث ترجمہ
ترجمہ حدیث 1:حضرت ابوہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ حضورﷺنے فرمایا کہ اس کی ناک غبار آلود ہو ، اس کی ناک خاک آلود ہو، اس کی ناک خاک آلود ہو( یعنی ذلیل و رسوا ہو) کسی نے عرض کیا یارسولاللّٰہوہ کون ہے ؟ حضور نے فرمایا کہ جس نے ماں باپ دونوں کو یا ایک کو پڑھاپے کے وقت میں پایا پھر ( ان کی خدمت کرکے ) جنت میں داخل نہ ہوا۔ (مسلم شریف)ترجمہ حدیث 2:حضرت معاویہ بن جاہمہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُما سے روایت ہے کہ ان کے والد جاہمہ حضورﷺکی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یارسولاللّٰہ! میرا ارادہ جہاد میں جانے کا ہے حضور سے مشورہ لینے کے لیے حاضر ہوا ہوں ارشاد فرمایاکیا تیری ماں ہے ؟ عرض کیا ہاں۔ فرمایا اس کی خدمت اپنے اوپر لازم کرلے کہ جنت ماں کے قدموں کے تلے ہے ۔ (احمد، نسائی، مشکوۃ)ترجمہ حدیث 3:حضرت ابن عباسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمانے کہا کہ حضورﷺنے فرمایا کہ جس نے اس حال میں صبح کی کہ ماں باپ کے بارے میںاللّٰہتعالیٰ کا فرماںبردار رہا توا س کے لیے صبح ہی کو جنت کے دو دروازے کھل جاتے ہیں اور اگر والدین میں سے ایک ہو تو ایک دروازہ کھلتا ہے اور جس نے اس حال میں صبح کی کہ والدین کے بارے میں خدائے تعالیٰ کا نافرمان بندہ رہا تو اس کے لیے صبح ہی کو جہنم کے دو دروازے کھل جاتے ہیں اور ایک ہو توایک دروازہ کھلتا ہے ایک شخص نے کہا اگر چہ ماں باپ اس پر ظلم کریں حضور نے فرمایا اگرچہ ظلم کریں اگرچہ ظلم کریں اگرچہ ظلم کریں۔ (بیہقی، مشکوۃ)ترجمہ حدیث 4:حضرت ابو امامہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا یارسولاللّٰہ! ماں باپ کا اولاد پر کیا حق ہے ؟فرمایا کہ وہ دونوں تیری جنت ودوزخ ہیں یعنی جو لوگ ان کو راضی رکھیں گے جنت پائیں گے اور جو ان کو ناراض رکھیں گے دوزخ کے مستحق ہوں گے ۔ (ابن ماجہ)ترجمہ حدیث 5:حضرت عبداللّٰہبن عمرورَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ حضورﷺنے فرمایا کہ پروردگار کی خوشنودی باپ کی خوشنودی میں ہے اور پروردگار کی ناراضگی باپ کی ناراضگی میں ہے ۔ (ترمذی)ترجمہ حدیث 6:حضرت عبداللّٰہبن عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ حضورﷺنے فرمایا کہ یہ بات کبیرہ گناہوں میں سے ہے کہ آدمی اپنے ماں باپ کو گالی دے لوگوں نے عرض کیا یارسولاللّٰہ! کیا کوئی اپنے ماں باپ کو بھی گالی دیتا ہے ؟فرمایا ہاں (اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ) یہ د وسرے کے باپ کو گالی دیتا ہے تووہ اس کے باپ کو گالی دیتا ہے اور یہ دوسرے کی ماں کو گالی دیتا ہے تو وہ اس کی ماں کو گالی دیتا ہے ۔ (بخاری، مسلم)ترجمہ حدیث 7:حضرت ابوہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ حضورﷺنے فرمایا کہ جو ماں باپ دونوں یا ان میں سے کسی ایک کی قبرپر ہر جمعہ کو زیارت کے لیے حاضر ہو تواللّٰہتعالیٰ اس کے گناہ بخش دے گا اور وہ ماں باپ کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے والا لکھا جائے گا۔
شرح حدیث
*****
ماخذ و مراجع
کتاب: اَنْوارُ الحَدِیْثْ جلد: 1 , حدیث نمبر: 88