- ہوم
- کتابیں
- اَنْوارُ الحَدِیْثْ
- حدیث نمبر 87
مصافحہ - اَنْوارُ الحَدِیْثْ - حدیث نمبر: 87
حدیث مبارکہ
حدیث 1:
’’عَنْ الْبَرَاء بْنِ عَازِبٍ قَال قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا بَیْنَ مُسْلِمَیْنِ یَلْتَقِیَانِ فَیَتَصَافَحَانِ إِلَّا غُفِرَ لَہُمَا قَبْلَ أَنْ یَتَفَرَّقَا‘‘۔
حدیث 2:
’’عَنْ عَطَاءِ الْخُرَاسَانِیِّ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ تَصَافَحُوا یَذْہَبُ الْغِلُّ‘‘۔
حدیث 3:
’’عَنْ زَارِعٍ وَکَانَ فِی وَفْدِ عَبْدِ الْقَیْسِ قَالَ لَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِینَۃَ فَجَعَلْنَا نَتَبَادَرُ مِنْ رَوَاحِلِنَا فَنُقَبِّلُ یَدَ رَسُوْلِ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَرِجْلَہُ‘‘۔
حدیث 1:
’’عن البراء بن عازب قال قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم ما بین مسلمین یلتقیان فیتصافحان إلا غفر لہما قبل ان یتفرقا‘‘۔
حدیث 2:
’’عن عطاء الخراسانی ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال تصافحوا یذہب الغل‘‘۔
حدیث 3:
’’عن زارع وکان فی وفد عبد القیس قال لما قدمنا المدینۃ فجعلنا نتبادر من رواحلنا فنقبل ید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ورجلہ‘‘۔
حدیث ترجمہ
ترجمہ حدیث 1:حضرت براء بن عازبرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکہتے ہیں کہ حضورﷺنے فرمایا کہ جب دو مسلمان آپس میں ملتے ہیں اور مصافحہ کرتے ہیں تو ان دونوں کے جدا ہونے سے پہلے ان کو بخش دیا جاتا ہے ۔ (ترمذی)ترجمہ حدیث 2:حضرت عطاء خراسانیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضورﷺنے فرمایا کہ آپس میں مصافحہ کیا کرو اس سے کینہ دور ہوگا۔ (ترمذی)ترجمہ حدیث 3:حضرت زارع جو ( وفد) عبدالقیس میں شامل تھے فرماتے ہیں کہ جب ہم مدینہ میں آئے تو ہم جلد جلد اپنی سواریوں سے اُتر پڑے اور ہم نے حضورﷺکے دست ِ مبارک اور پائے مبارک کو بوسہ دیا۔ (ابو داود، مشکوۃ)
شرح حدیث
انتباہ :(۱)…دینی پیشوا کا ہاتھ اور پاؤں چومنا جائز ہے ۔ حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلویرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِاشعۃ اللمعات، جلد چہارم، ص: ۲۱ پر فرماتے ہیں کہ:
’’بوسہ دادن دست عالم متورّع را جائز ست وبعضے گفتہ اند مستحب ست‘‘۔ ([1])
یعنی پرہیزگار عالم کا ہاتھ چومنا جائز ہے اور بعض علماء نے فرمایا کہ مستحب ہے ۔
اور وفد عبدالقیس کی حدیث کے تحت فرماتے ہیںکہ:
’’ازیں جا تجویز پائے بوس معلوم شد‘‘۔ ([2])یعنی اس حدیث شریف سے پاؤں چومنے کا جواز ثابت ہوا۔
اور درمختار بحث مصافحہ میں ہے کہ:
’’لَا بَأْسَ بِتَقْبِیلِ یَدِ الرَّجُلِ الْعَالِمِ وَالْمُتَوَرِّعِ عَلَی سَبِیلِ التَّبَرُّکِ‘‘۔ ([3])
یعنی برکت کے لیے عالم اور پرہیزگار آدمی کا ہاتھ چومنا جائز ہے ۔
(۲)…ہر نماز باجماعت کے بعد بھی مصافحہ کرنا جائز ہے ۔ درمختار کتاب الحظر والا باحۃ باب الاستبراء میں ہے :
’’تَجُوْزُ الْمَصَافَحَۃُ وَلَوْ بَعْدَ الْعَصْرِ وَقَوْلُہُمْ إنَّہُ بِدْعَۃٌ أَیْ مُبَاحَۃٌ حَسَنَۃٌ کَمَا أَفَادَہُ النَّوَوِیُّ فِی أَذْکَارِہِ ا ہـ ملخصاً‘‘۔ ([4])
یعنی بعد نماز عصر بھی مصافحہ کرنا جائز ہے اور فقہاء نے جو اُسے بدعت فرمایا تو وہ بدعت ِمباحہ حسنہ ہے ۔ جیسا کہ امام نووی نے اپنے اذکار میں فرمایا۔
اسی کے تحت رد المحتارمیں ہے :
’’قَالَ اعْلَمْ أَنَّ الْمُصَافَحَۃَ مُسْتَحَبَّۃٌ عِنْدَ کُلِّ لِقَاء،وَأَمَّا مَا اعْتَادَہُ النَّاسُ مِنَ الْمُصَافَحَۃِ بَعْدَ صَلَاۃِ الصُّبْحِ وَالْعَصْرِ،فَلَا أَصْلَ لَہُ فِی الشَّرْعِ عَلَی ہَذَا الْوَجْہِ وَلَکِنْ لَا بَأْسَ بِہِ قَالَ الشَّیْخُ أَبُو الْحَسَنِ الْبِکْرِیُّ وَتَقْیِیْدُہُ بِمَا بَعْدَ الصُّبْحِ وَالْعَصْرِ عَلَی عَادَۃٍ کَانَتْ فِی زَمَنِہِ،وَإِلَّا فَعَقِبَ الصَّلَوَاتِ کُلِّہَا کَذَلِکَ اہـ ملخصاً‘‘۔ ([5])
یعنی امام نووی نے فرمایا کہ ہر ملاقات کے وقت مصافحہ کرنا سنت ہے اور فجر و عصر کی نماز کے بعد جو مصافحہ کا رواج ہے اس کی شریعت میں کوئی اصل نہیں لیکن اس میں کوئی حرج بھی نہیں۔ شیخ ابوالحسن بکریرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِنے فرمایا کہ صبح و عصر کی قید فقط لوگوں کی عادت کی بنا پر ہے جو امام نووی کے زمانہ میں تھی ورنہ ہرنماز کے بعد مصافحہ کا یہی حکم ہے یعنی جائز ہے ۔ (شامی، جلد پنجم ص ۲۵۲)
(۳)…وہابی غیر مقلد دونوں ہاتھ سے مصافحہ کرنے کو ناجائز اور خلافِ حدیث بتاتے ہیں یہ ان کی جہالت ہے ۔ حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلویرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِاشعۃ اللمعات ترجمہ مشکوۃ، جلد چہارم ، ص۲۰ پر فرماتے ہیں:
’’مصافحہ سنت است نزد ملاقات وباید کہ بہر دو دست بود‘‘۔ ([6])
یعنی ملاقات کے وقت مصافحہ کرنا سنت ہے اور دونوں ہاتھ سے کرنا چاہیے ۔
اور احادیث کریمہ میں جو لفظ ’’ید‘‘ مستعمل ہے اس سے صرف ایک ہاتھ سے مصافحہ کا استدلال صحیح نہیں اس لیے کہ ایسی دو چیزیں جو ایک دوسرے کے ساتھ رہتی ہوں جیسے ہاتھ ، پاؤں ، آنکھ ، موزہ ، جوتا اور دستانہ وغیرہ اس میں واحد کا لفظ بول کر دونوں مرا دلیے جاتے ہیں، مثلاً زید نے ہاتھ سے پکڑ ا یعنی دونوں ہاتھ سے ، اور پاؤں سے چلا ، یعنی دونوں پاؤں سے اور آنکھ سے دیکھا۔ یعنی دونوں آنکھ سے اور کہا جاتا ہے زید نے جوتا پہنا یعنی دونوں جوتے ۔وَقِسْ عَلَی ھَذَا الْبَواقِی۔
یہ محاورہ ہند، ایران اور عرب میں سب جگہ مسلّم ہے ورنہ حدیث شریف’’أَطْیَبُ الْکَسْبِ عَمَلُ الرَّجُلِ بِیَدِہِ‘‘کا یہ مطلب ہوجائے گا کہ صرف ایک ہاتھ کی کمائی بہتر ہے دونوں ہاتھ کی کمائی بہتر نہیں۔ اور مشہور حدیث ’’اَلْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِہِ وَیَدِہِ‘‘کا یہ مطلب ماننا پڑے گا کہ کامل مسلمان وہ شخص ہے جس کے صرف ایک ہاتھ سے مسلمان امان میں رہیں اور دوسرے ہاتھ سے تکلیف میں۔مَنْ([7])شَاء التَّفْصِیْلَ لِھَذِہِ الْمَسْءَلَۃِ فَلْیُطَالِعْ’’صفَاءِحُ اللُّجَیْن فِیْ کَوْنِ التَّصَافُحِ بِکفی الیَدَیْن‘‘للإمام أحمد رضا رضی اللّٰہ تعالی عنہ------------------
∞[1] ’’اشعۃ اللمعات‘‘،کتاب الأداب،باب المصافحۃ والمعانقۃ،ج۴،ص۲۲.[2] ’’اشعۃ اللمعات‘‘،کتاب الأداب،باب المصافحۃ والمعانقۃ،الفصل الثانی،ج۴،ص۲۷.[3] ’’الدر المختار‘‘،کتاب الحظر والإباحۃ،باب الاستبراء وغیرہ،ج۹،ص۶۳۱.[4] ’’الدر المختار‘‘،کتاب الحظر والإباحۃ،باب الاستبراء وغیرہ،ج۹،ص۶۲۸.[5] ’’رد المحتار‘‘،کتاب الحظر والإباحۃ،باب الاستبراء وغیرہ،ج۹،ص۶۲۸.[6] ’’اشعۃ اللمعات‘‘،کتاب الآداب،باب المصافحۃ والمعانقۃ،ج۴،ص۲۲.[7] تفصیل کے لیے اعلی حضرت امام احمد رضا رضیاللّٰہتعالی عنہ کی کتاب ’’صفَاءِحُ اللُّجَیْن‘‘ ملاحظہ کیجیے ۔ ۱۲ منہ
ماخذ و مراجع
کتاب: اَنْوارُ الحَدِیْثْ جلد: 1 , حدیث نمبر: 87