- ہوم
- کتابیں
- اَنْوارُ الحَدِیْثْ
- حدیث نمبر 86
سلام - اَنْوارُ الحَدِیْثْ - حدیث نمبر: 86
حدیث مبارکہ
حدیث 1:
’’عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَوَلَا أَدُلُّکُمْ عَلَی شَیْئٍ إِذَا فَعَلْتُمُوہُ تَحَابَبْتُمْ أَفْشُوا السَّلَامَ بَیْنَکُمْ‘‘۔
حدیث 2:
’’ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَلسَّلَامُ قَبْلَ الْکَلَامِ‘‘۔
حدیث 3:
’’ عَنْ عَبْدِاللّٰہ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ اَلْبَادِیُ بِالسَّلَامِ بَرِیٌّ مِنَ الْکِبْرِ‘‘۔
حدیث 4:
’’ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا انْتَہَی أَحَدُکُمْ إِلَی مَجْلِسٍ فَلْیُسَلِّمْ فَإِنْ بَدَأَ لَہُ أَنْ یَجْلِسَ فَلْیَجْلِسْ ثُمَّ إِذَا قَامَ فَلْیُسَلِّمْ ‘‘۔
حدیث 5:
’’ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ یَا بُنَیَّ إِذَا دَخَلْتَ عَلَی أَہْلِکَ فَسَلِّمْ یَکُوْنُ بَرَکَۃً عَلَیْکَ وَعَلَی أَہْلِ بَیْتِکَ‘‘َ۔
حدیث 6:
’’عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لَیْسَ مِنَّا مَنْ تَشَبَّہَ بِغَیْرِنَا لَا تَشَبَّہُوْا بِالْیَہُودِ وَلَا بِالنَّصَارَی فَإِنَّ تَسْلِیمَ الْیَہُودِ الْإِشَارَۃُ بِالْأَصَابِعِ وَتَسْلِیمَ النَّصَارَی الْإِشَارَۃُ بِالْأَکُفِّ‘‘۔
حدیث 7:
’’ عَن جَابِرٍ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَاَل إِنْ لَقِیْتُمُوھُمْ فَلا تُسَلِّمُوا عَلَیْھِمْ‘‘۔
حدیث 1:
’’عن ابی ہریرۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اولا ادلکم علی شیئ إذا فعلتموہ تحاببتم افشوا السلام بینکم‘‘۔
حدیث 2:
’’ عن جابر قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم السلام قبل الکلام‘‘۔
حدیث 3:
’’ عن عبداللہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال البادی بالسلام بری من الکبر‘‘۔
حدیث 4:
’’ عن ابی ہریرۃ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال إذا انتہی احدکم إلی مجلس فلیسلم فإن بدا لہ ان یجلس فلیجلس ثم إذا قام فلیسلم ‘‘۔
حدیث 5:
’’ عن انس ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال یا بنی إذا دخلت علی اہلک فسلم یکون برکۃ علیک وعلی اہل بیتک‘‘۔
حدیث 6:
’’عن عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال لیس منا من تشبہ بغیرنا لا تشبہوا بالیہود ولا بالنصاری فإن تسلیم الیہود الإشارۃ بالاصابع وتسلیم النصاری الإشارۃ بالاکف‘‘۔
حدیث 7:
’’ عن جابر عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال إن لقیتموھم فلا تسلموا علیھم‘‘۔
حدیث ترجمہ
ترجمہ حدیث 1:حضرت ابوہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ حضورﷺنے فرمایا کہ کیا میں تم کو ایسی بات نہ بتاؤں کہ جب تم اس پر عمل کرو تو تمہارے درمیان محبت بڑھے اور وہ یہ ہے کہ آپس میں سلام کو رواج دو۔ (مسلم)ترجمہ حدیث 2:حضرت جابررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ حضورﷺنے فرمایا کہ کلام سے پہلے سلام کرنا چاہیے ۔ (ترمذی)ترجمہ حدیث 3:حضرت عبداللّٰہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضورﷺنے فرمایا کہ سلام میں پہل کرنے والا غرو ر و تکبر سے پاک ہے ۔ (بیہقی)ترجمہ حدیث 4:حضرت ابوہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضورﷺنے فرمایا کہ جب کوئی تم میں سے کسی مجلس میں پہنچے تو سلام کرے پھر اگر بیٹھنے کی ضرورت ہو تو بیٹھ جائے اور جب چلنے لگے تو دوبارہ سلام کرے ۔ (ترمذی)ترجمہ حدیث 5:حضرت انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضورﷺنے فرمایا کہ اے بیٹے ! جب تو گھر میں داخل ہو تو گھر والوں کو سلام کر کیونکہ تیرا سلام تیرے اور تیرے گھر والوں کے لیے برکت کا سبب ہوگا۔ (ترمذی)ترجمہ حدیث 6:حضرت عمرو بن شعیبرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُاپنے باپ سے اور وہ اپنے داداسے روایت کرتے ہیں کہ حضورﷺنے فرمایا کہ جوشخص (سلام کرنے میں) غیروں کی مشابہت اختیار کرے وہ ہم سے نہیں ہے ۔ یہود ونصاری کی مشابہت نہ کرو، یہودیوں کاسلام انگلیوں کے اشارہ سے ہے اور نصاری کا سلام ہتھیلیوں کے اشارہ سے ہے ۔ (ترمذی ، مشکوۃ)ترجمہ حدیث 7:حضرت جابررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضورﷺنے فرمایا کہ اگر تمہاری ملاقات بدمذہبوں سے ہو انہیں سلام نہ کرو۔ (ابن ماجہ)
شرح حدیث
انتباہ :(۱)…خط میں سلام لکھا ہوتا ہے اس کا بھی جواب دینا واجب ہے اس کی دو صورتیں ہیں۔ ایک تو یہ کہ زبان سے جواب دے ۔ دوسرے یہ کہ سلام کا جواب لکھ کر بھیج دے ۔ ([1])(بہار شریعت)
درمختار اور شامی جلد پنجم ص۲۷۵ میں ہے : ’’یَجِبُ رَدُّ جَوَابِ کِتَابِ التَّحِیَّۃِ‘‘۔ ([2])
(۲)…کسی نے خط میں لکھا کہ فلاں کو سلام کہو تو مکتوب الیہ پر اس سلام کا پہنچانا واجب نہیں اگر پہنچائے گا تو ثواب پائے گا۔
(۳)…کسی نے کہا کہ فلاں کو میرا سلام کہہ دینا اور اس نے وعدہ کرلیا تو سلام پہنچانا واجب ہے اگر نہیں پہنچائے گا تو گنہگار ہوگا۔ فتاویٰ عالمگیری باب السلام میں ہے :’’إِذَا أَمَرَ رَجُلًا أَنْ یَقْرَأَ سَلَامَہُ عَلَی فُلانٍ یَجِبُ عَلَیْہِ ذَلِکَ،کَذَا فِی الْغِیَاثِیَّۃِ‘‘۔ ([3])
شامی میں ہے :’’وَالظَّاہِرُ أَنَّ ہَذَا إذَا رَضِیَ بِتَحَمُّلِہَا‘‘۔ ([4])
(۴)…کسی نے سلام بھیجا تو اس طرح جواب دے کہ پہلے پہنچانے والے کو پھر اس کو جس نے سلام بھیجا ہے یعنی یوں کہے ۔ ’’عَلَیْکَ وَعَلَیْہِ السَّلَام‘‘۔ فتاوی عالمگیری جلد پنجم باب السلام میں ہے :’’مَنْ بَلَّغَ إنْسَانًا سَلَامًا مِنْ غَاءِبٍ کَانَ عَلَیْہِ أَنْ یَرُدَّ الْجَوَابَ عَلَی الْمُبَلِّغِ أَوَّلًا،ثُمَّ عَلَی ذَلِکَ الْغَاءِبِ،کَذَا فِی الذَّخِیرَۃِ‘‘۔ ([5])
شامی میں ہے :’’وَظَاہِرُہُ الْوُجُوبُ‘‘۔ ([6])
------------------
∞[1] ’’بہارِ شریعت‘‘، حصہ شانزدہم ، (۱۶) ص ۱۰۶، ’’الدر المختار ورد المحتار‘‘،ج۹،ص۳۸۵.[2] ’’الدر المختار ورد المحتار‘‘،کتاب الحظر والإباحۃ،فصل فی البیع،ج۹،ص۶۸۵.[3] ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الکراھیۃ،الباب السابع فی السلام وتشمیت العاطس،ج۵،ص۳۲۶.[4] ’’رد المحتار‘‘،کتاب الحظر والإباحۃ،فصل فی البیع،ج۹،ص۶۸۵.[5] ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الکراھیۃ،الباب السابع فی السلام وتشمیت العاطس،ج۵،ص۳۲۶.[6] ’’رد المحتار‘‘،کتاب الحظر والإباحۃ،فصل فی البیع،ج۹،ص۶۸۵.
ماخذ و مراجع
کتاب: اَنْوارُ الحَدِیْثْ جلد: 1 , حدیث نمبر: 86