- ہوم
- کتابیں
- اَنْوارُ الحَدِیْثْ
- حدیث نمبر 85
اجازت - اَنْوارُ الحَدِیْثْ - حدیث نمبر: 85
حدیث مبارکہ
حدیث 1:
’’عَنْ جَابِرٍ قَالَ أَتَیْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَدَقَقْتُ الْبَابَ فَقَالَ مَنْ ذَا؟ قُلْتُ أَنَا فَقَالَ أَنَا أَنَا‘‘۔
حدیث 2:
’’ عَنْ عَبْدِ اللّٰہ بْنِ بُسْرٍ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَی بَابَ قَوْمٍ لَمْ یَسْتَقْبِلِ الْبَابَ مِنْ تِلْقَاءِ وَجْہِہِ وَلَکِنْ مِنْ رُکْنِہِ الْأَیْمَنِ أَوْ الْأَیْسَر‘‘۔
حدیث 3:
’’عَنْ عَطَاءِ بْنِ یَسَارٍ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَسْتَأْذِنُ عَلَی أُمِّی؟ فَقَالَ نَعَمْ فَقَالَ الرَّجُلُ إِنِّی مَعَہَا فِی الْبَیْتِ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِسْتَأْذِنْ عَلَیْہَا فَقَالَ الرَّجُلُ إِنِّی خَادِمُہَا فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِسْتَأْذِنْ عَلَیْہَا أَتُحِبُّ أَنْ تَرَاہَا عُرْیَانَۃً؟ قَالَ لَا قَالَ فَاسْتَأْذِنْ عَلَیْہَا‘‘۔
حدیث 1:
’’عن جابر قال اتیت النبی صلی اللہ علیہ وسلم فدققت الباب فقال من ذا؟ قلت انا فقال انا انا‘‘۔
حدیث 2:
’’ عن عبد اللہ بن بسر قال کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إذا اتی باب قوم لم یستقبل الباب من تلقاء وجہہ ولکن من رکنہ الایمن او الایسر‘‘۔
حدیث 3:
’’عن عطاء بن یسار ان رجلا سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقال استاذن علی امی؟ فقال نعم فقال الرجل إنی معہا فی البیت فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم استاذن علیہا فقال الرجل إنی خادمہا فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم استاذن علیہا اتحب ان تراہا عریانۃ؟ قال لا قال فاستاذن علیہا‘‘۔
حدیث ترجمہ
ترجمہ حدیث 1:حضرت جابررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا کہ میں نے نبی کریمعلیہ الصلاۃ والتسلیمکے آستانۂ اقدس پر حاضر ہو کر دروازہ کھٹکھٹایا تو حضور نے فرمایا کون ہے ؟ میں نے عرض کی میں ہوں تو آپ نے فرمایا میں ( تو) میں بھی ہوں۔ (بخاری، مسلم)ترجمہ حدیث 2:حضرت عبداللّٰہبن بسررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا کہ رسولِ کریمﷺجب کسی کے دروازہ پر تشریف لے جاتے تو دروازہ کے سامنے نہیں کھڑے ہوتے تھے بلکہ داہنے یا بائیں دروازہ سے ہٹ کر کھڑے ہوتے تھے ۔ (ابوداود)ترجمہ حدیث 3:حضرت عطاء بن یساررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسولِ کریمعلیہ الصلاۃ والتسلیمسے پوچھا کہ کیا میں اپنی ماں کے پاس جاؤں تو اس سے بھی اجازت لوں؟ حضور نے فرمایا ہاں انہوں نے عرض کیا میں تو اس کے ساتھ اسی مکان میں رہتا ہوں۔ حضورﷺنے فرمایا اجازت لے کر اس کے پاس جاؤ۔ انہوں نے کہا میں اپنی ماں کا خادم ہوں۔ (یعنی بار بار آنا جانا ہوتا ہے پھر اجازت کی کیا ضرورت؟) رسولِ کریمعلیہ الصلاۃ والتسلیمنے فرمایاکہ اجازت لے کر جاؤ۔ کیا تم پسند کرتے ہو کہ اپنی ماں کو برہنہ دیکھو؟ عرض کیا نہیں۔ فرمایا تو اجازت حاصل کرلیا کرو۔ (مالک، مشکوۃ)
شرح حدیث
*****
ماخذ و مراجع
کتاب: اَنْوارُ الحَدِیْثْ جلد: 1 , حدیث نمبر: 85