- ہوم
- کتابیں
- اَنْوارُ الحَدِیْثْ
- حدیث نمبر 84
چھینک ، جماہی کا بیان - اَنْوارُ الحَدِیْثْ - حدیث نمبر: 84
حدیث مبارکہ
حدیث 1:
’’ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ إِذَا عَطَسَ غَطَّی وَجْہَہُ بِیَدِہِ أَوْ ثَوْبِہِ وَغَضَّ بِہَا صَوْتَہُ‘‘۔
حدیث 2:
’’ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِذَا عَطَسَ أَحَدُکُمْ فَلْیَقُلِ الْحَمْدُ لِلَّہِ وَلْیَقُلْ لَہُ أَخُوہُ أَوْ صَاحِبُہُ یَرْحَمُکَ اللّٰہ فَإِذَا قَالَ لَہُ یَرْحَمُکَ اللّٰہ فَلْیَقُلْ یَہْدِیکُمُ اللّٰہ وَیُصْلِحُ بَالَکُمْ‘‘۔
حدیث 3:
’’ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا تَثَاءَ بَ أَحَدُکُمْ فَلْیُمْسِکْ بِیَدِہِ عَلَی فَمِہِ فَإِنَّ الشَّیْطَانَ یَدْخُلُ‘‘۔
حدیث 1:
’’ عن ابی ہریرۃ ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم کان إذا عطس غطی وجہہ بیدہ او ثوبہ وغض بہا صوتہ‘‘۔
حدیث 2:
’’ عن ابی ہریرۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إذا عطس احدکم فلیقل الحمد للہ ولیقل لہ اخوہ او صاحبہ یرحمک اللہ فإذا قال لہ یرحمک اللہ فلیقل یہدیکم اللہ ویصلح بالکم‘‘۔
حدیث 3:
’’ عن ابی سعید الخدری ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال إذا تثاء ب احدکم فلیمسک بیدہ علی فمہ فإن الشیطان یدخل‘‘۔
حدیث ترجمہ
ترجمہ حدیث 1:حضرت ابوہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضورﷺکو جب چھینک آتی تو منہ کو ہاتھ یا کپڑے سے چھپالیتے اور آواز کو پست کرتے ۔ (ترمذی)ترجمہ حدیث 2:حضرت ابوہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ حضورﷺنے فرمایاکہ جب کسی کو چھینک آئے تواَلْحَمْدُ لِلَّہِکہے اور اس کا بھائی یا ساتھ والایَرْحَمُکَ اللّٰہکہے جبیَرْحَمُکَ اللّٰہکہہ لے تو چھینکنے والا اس کے جواب میں یہ کہےیَہْدِیکُمُ اللّٰہ وَیُصْلِحُ بَالَکُمْ۔ (بخاری)ترجمہ حدیث 3:حضرت ابوسعید خدریرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضورﷺنے فرمایا کہ جب کسی کو جماہی آئے تو اپنا ہاتھ منہ پر رکھ لے کیونکہ شیطان منہ میں گھس جاتا ہے ۔ (مسلم شریف)
شرح حدیث
انتباہ :(۱)… انبیائے کرامعلیہم الصلاۃ والسلامجماہی سے محفوظ ہیں اس لیے کہ اس میں شیطانی مداخلت ہے اس کے روکنے کی بہتر ترکیب یہ ہے کہ جب جماہی آنے والی ہو تو دل میں خیال کرے کہ انبیائے کرامعلیہم الصلاۃوالسلاماس سے محفوظ ہیں۔ فوراً رُک جائے گی۔ ([1])(بہار شریعت، شامی، جلد اول ص ۳۳۶)
(۲)…اگر چھینکنے والااَلحَمْدُ ﷲِکہے تو سننے والے پر فوراً اس طرح جواب دینا واجب ہے کہ وہ سُن لے ۔
(۳)…بعض لوگ چھینک کو بدفالی خیال کرتے ہیں مثلاً کسی کام کے لیے جارہا ہے اور کسی کو چھینک آگئی تو سمجھتے ہیں وہ کام انجام نہیں پائے گا۔ یہ جہالت ہے اس لیے کہ بدفالی کوئی چیز نہیں بلکہ ایسے موقع پر چھینک آنا اور اس پر ذکر الہٰی کرنا نیک فالی ہے ۔
------------------
∞[1] ’’بہارِ شریعت ‘‘، ج۱، ص ۶۲۷، ’’رد المحتار‘‘،کتاب الصلاۃ،باب صفۃ الصلاۃ،ج۲، ص۴۹۸.
ماخذ و مراجع
کتاب: اَنْوارُ الحَدِیْثْ جلد: 1 , حدیث نمبر: 84