Main Icon

فال گوئی کا بیان - اَنْوارُ الحَدِیْثْ - حدیث نمبر: 83

حدیث مبارکہ

حدیث 1:
’’ عَنْ حَفْصَۃَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ أَتَی عَرَّافًا فَسَأَلَہُ عَنْ شَیْئٍ لَمْ تُقْبَلْ لَہُ صَـلَاۃُ أَرْبَـعِیـنَ لَیْلَۃً‘‘۔
حدیث 2:
’’ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ أَتَی کَاہِنًا فَصَدَّقَہُ بِمَا یَقُولُ فَقَدْ بَرِءَ مِمَّا أُنْزِلَ عَلَی مُحَمَّدٍ‘‘۔
حدیث 3:
’’ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ سَأَلَ أُنَاسٌ رَسُولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنِ الکُہَّانِ فَقَالَ لَہُمْ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِنَّہُمْ لَیْسُوا بِشَیْئٍ قَالُوا یَا رَسُولَ اللّٰہ فَإِنَّہُمْ یُحَدِّثُونَ أَحْیَانًا بِالشَّیْءِ یَکُونُ حَقًّا فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ تِلْکَ الْکَلِمَۃُ مِنَ الْحَقِّ یَخْطَفُہَا الْجِنِّیُّ فَیَقُرُّہَا فِی أُذُنِ وَلِیِّہِ قَرَّ الدَّجَاجَۃِ فَیَخْلِطُونَ فِیہَا أَکْثَرَ مِنْ مِءَۃِ کَذبَۃٍ‘‘۔

حدیث 1:
’’ عن حفصۃ قالت قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من اتی عرافا فسالہ عن شیئ لم تقبل لہ صـلاۃ اربـعیـن لیلۃ‘‘۔
حدیث 2:
’’ عن ابی ھریرۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من اتی کاہنا فصدقہ بما یقول فقد برء مما انزل علی محمد‘‘۔
حدیث 3:
’’ عن عائشۃ قالت سال اناس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن الکہان فقال لہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إنہم لیسوا بشیئ قالوا یا رسول اللہ فإنہم یحدثون احیانا بالشیء یکون حقا فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تلک الکلمۃ من الحق یخطفہا الجنی فیقرہا فی اذن ولیہ قر الدجاجۃ فیخلطون فیہا اکثر من مءۃ کذبۃ‘‘۔

حدیث ترجمہ

ترجمہ حدیث 1:حضرت حفصہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہانے کہا کہ رسولِ کریمعلیہ الصلاۃ والتسلیمنے فرمایا کہ جو شخص کاہن اور نجومی کے پاس جا کر کچھ دریافت کرے اس کی چالیس دن کی نمازیں قبول نہیں کی جائیں گی۔ (مسلم شریف)ترجمہ حدیث 2:حضرت ابوہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ حضورنے فرمایا کہ جو شخص کاہن اور جوتشی کے پاس جائے اور اس کے بیان کو سچا جانے تو وہ قرآن اور دین اسلام سے الگ ہوگیا۔ (احمد، ابوداود)ترجمہ حدیث 3:حضرت عائشہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُا نے فرمایا کچھ لوگوں نے رسولِ کریمعلیہ الصلاۃ والتسلیمسے کاہنوں کی بابت پوچھا (کہ ان کی باتیں قابلِ اعتماد ہیں یا نہیں) حضور نے فرمایا وہ بالکل ( قابلِ اعتماد ) نہیں ہیں۔ لوگوں نے عرض کیا یارسولاللّٰہ! بعض وقت وہ ایسی خبر دیتے ہیں جو سچ ہوجاتی ہیں۔ حضور نے فرمایا وہ کلمۂ حق ہے جس کو ( فرشتوں سے ) شیطان اچک لیتا ہے ۔ اور ا پنے دوست کاہن کے کان میں اس طرح ڈال دیتا ہے جس طرح ایک مرغی دوسری مرغی کے کان میں آواز پہنچاتی ہے پھر وہ کاہن اس کلمۂ حق میں سو سے زیادہ جھوٹی باتیں ملادیتے ہیں۔ (بخاری، مسلم)

شرح حدیث

*****

ماخذ و مراجع

کتاب: اَنْوارُ الحَدِیْثْ جلد: 1 , حدیث نمبر: 83