- ہوم
- کتابیں
- اَنْوارُ الحَدِیْثْ
- حدیث نمبر 81
سونا، لیٹنا کا بیان - اَنْوارُ الحَدِیْثْ - حدیث نمبر: 81
حدیث مبارکہ
حدیث 1:
’’عَنْ جَابِرٍ قال نَھَی رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ یَرْفَعَ الرَّجُلُ إِحْدَی رِجْلَیْہِ عَلَی الْأُخْرَی وَہُوَ مُسْتَلْقٍ عَلَی ظَہْرِہِ‘‘۔
حدیث 2:
’’عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ رَأَی رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مُضْطَجِعًا عَلَی بَطْنِہِ فَقَالَ إِنَّ ہَذِہِ ضَجْعَۃٌ لَا یُحِبُّہَا اللّٰہ‘‘۔
حدیث 3:
’’عَنْ جَابِرٍ قَالَ نَہَی رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ یَنَامَ الرَّجُلُ عَلَی سَطْحٍ لَیْسَ بِمَحْجُورٍ عَلَیْہِ‘‘۔
حدیث 1:
’’عن جابر قال نھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان یرفع الرجل إحدی رجلیہ علی الاخری وہو مستلق علی ظہرہ‘‘۔
حدیث 2:
’’عن ابی ہریرۃ قال رای رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رجلا مضطجعا علی بطنہ فقال إن ہذہ ضجعۃ لا یحبہا اللہ‘‘۔
حدیث 3:
’’عن جابر قال نہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان ینام الرجل علی سطح لیس بمحجور علیہ‘‘۔
حدیث ترجمہ
ترجمہ حدیث 1:حضرت جابررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا کہ حضورﷺنے پاؤں پر پاؤں رکھنے سے منع فرمایا ہے جب کہ چت لیٹا ہو۔ (مسلم شریف)ترجمہ حدیث 2:حضرت ابوہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا کہ حضورﷺنے ایک شخص کو پیٹ کے بل لیٹے ہوئے دیکھا فرمایا اس طرح لیٹنے کواللّٰہتعالی پسند نہیں فرماتا ۔ (ترمذی)ترجمہ حدیث 3:حضرت جابر ر ضیاللّٰہتعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ حضورﷺنے ایسی چھت پر سونے سے منع فرمایا کہ جس پر گرنے سے کوئی روک نہ ہو۔ (ترمذی)
شرح حدیث
شرح حدیث 1:یہ ممانعت اس وقت ہے جب کہ ایک پاؤں کھڑا ہو کہ اس طرح بے ستری کا اندیشہ ہے اور اگر پاؤں کو پھیلا کر ایک کو دوسرے پر رکھے تو کوئی حرج نہیں ۔ ([1])(بہار شریعت)
------------------
∞[1] ’’بہارِ شریعت‘‘، حصہ شانزدہم ، (۱۶) ص ۷۷.انتباہ :(۱)…مستحب یہ ہے کہ باطہارت سوئے اور کچھ دیر د ہنی کروٹ پر داہنے ہاتھ کو رخسار کے نیچے رکھ کر قبلہ رو سوئے پھر اس کے بعد بائیں کروٹ پر ۔
(۲)…جب لڑکی اور لڑکے کی عمر دس سال ہو تو انہیں الگ الگ سلانا چاہیے ۔
(۳)…میاں بیوی جب ایک چار پائی پر سوئیں تو دس برس کے بچہ کو اپنے ساتھ نہ سلائیں۔
(۴)…دن کے ابتدائی حصہ میں سونا یا مغرب و عشاء کے درمیان سونا مکروہ ہے ۔ ([1])(بہار شریعت)
(۵)…ہندو پاکستان میں شمال یعنی اتر جانب پاؤں پھیلا کر سونا بلاشبہ جائز ہے اسے ناجائز سمجھنا غلطی ہے ۔
(۶)…جب سو کر اُٹھے تو یہ دعا پڑھے : ’’اَلْحَمْدُ ِللَّہِ الَّذِیْ أَحْیَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَإِلَیْہِ النُّشُوْر‘‘۔ ([2])(بہار شریعت)
------------------
∞[1] ’’بہارِ شریعت‘‘، حصہ شانزدہم ، (۱۶) ص۷۹.[2] ’’بہارِ شریعت‘‘، حصہ شانزدہم ، (۱۶) ص ۷۹.
ماخذ و مراجع
کتاب: اَنْوارُ الحَدِیْثْ جلد: 1 , حدیث نمبر: 81