Main Icon

ڈاڑھی ، مونچھ کا بیان - اَنْوارُ الحَدِیْثْ - حدیث نمبر: 79

حدیث مبارکہ

حدیث 1:
’’ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خَالِفُوا الْمُشْرِکِینَ أَوْفِرُوا اللِّحَی وَأَحْفُوا الشَّوَارِبَ وَفِیْ رِوَایَۃِ اَنْھِکُو الشَّوارِبَ واعفُوا اللِّحَی‘‘۔
حدیث 2:
’’عَنْ زَیْدِ بْنِ أَرْقَمَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ لَمْ یَأْخُذْ مِنْ شَارِبِہِ فَلَیْسَ مِنَّا‘‘۔
حدیث 3:
’’عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ جُزُّوا الشَّوَارِبَ وَأَرْخُوا اللِّحَی خَالِفُوا الْمَجُوسَ‘‘۔

حدیث 1:
’’ عن ابن عمر قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خالفوا المشرکین اوفروا اللحی واحفوا الشوارب وفی روایۃ انھکو الشوارب واعفوا اللحی‘‘۔
حدیث 2:
’’عن زید بن ارقم ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال من لم یاخذ من شاربہ فلیس منا‘‘۔
حدیث 3:
’’عن ابی ہریرۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جزوا الشوارب وارخوا اللحی خالفوا المجوس‘‘۔

حدیث ترجمہ

ترجمہ حدیث 1:حضرت ابن عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمانے کہا کہ حضورنے فرمایا کہ مشرکین کی مخالفت کرو (اس طرح کہ) داڑھیوں کو بڑھاؤ اور مونچھوں کو کتراؤ اور ایک روایت میں ہے مونچھوں کو خوب کم کرو اور داڑھیوں کو بڑھاؤ ۔ (بخاری ، مسلم)ترجمہ حدیث 2:حضرت زید بن ارقمرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضورنے فرمایا جو اپنی مونچھ نہ کاٹے وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔ ( یعنی ہمارے طریقے کے خلاف ہے )۔ (ترمذی، نسائی)ترجمہ حدیث 3:حضرت ابوہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ حضورنے فرمایا کہ مونچھیں کٹاؤ اور داڑھیاں بڑھاؤ ( اس طرح) مجوسیوں کی مخالفت کرو۔ (مسلم شریف)

شرح حدیث

ضروری انتباہ:(۱) …آج کل مسلمانوں نے داڑھی میں طرح طرح کا فیشن نکال رکھا ہے ۔ اکثر لوگ بالکل صفایا کرادیتے ہیں۔ کچھ لوگ صرف ٹھوڑی پر ذرا سی رکھتے ہیں۔ بعض لوگ ایک دو انگل داڑھی رکھتے ہیں اور اپنے کو متبع شریعت سمجھتے ہیں، حالانکہ داڑھی کا بالکل صفایا کرانے والے اور داڑھی کو ایک مشت سے کم رکھنے والے دونوں شریعت کی نظر میں یکساں ہیں۔ بہارِ شریعت جلد شانزدہم ص:۱۹۷ میں ہے ۔ داڑھی بڑھانا سنن انبیائے سابقین سے ہے ۔ مونڈانا یا ایک مشت سے کم کرانا حرام ہے ۔ ([1])
اور حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ
اللّٰہتعالی علیہ اشعۃ اللمعات جلد اول، ص: ۲۱۲ میں فرماتے ہیں کہ :
’’
حلق کردن لحیہ حرام ست وروش افرنج وہنود وجو القیان ست کہ ایشان را قلندریہ گویند وگذاشتن آن بقدر قبضہ واجب ست وآنکہ آں را سنت گویند بمعنی طریقہ مسلوک در دین ست،یا بجہت آنکہ ثبوت آں بسنت ست چنانکہ نماز عید راسنت گفتہ اند‘‘۔ ([2])
یعنی داڑھی منڈانا حرام ہے اور انگریزوں ، ہندؤوں اور قلندریوں کا طریقہ ہے ۔ اور داڑھی کو ایک مشت تک چھوڑ دینا واجب ہے اور جن فقہاء نے ایک مشت داڑھی رکھنے کو سنت قرار دیا تو وہ اس وجہ سے نہیں کہ ان کے نزدیک واجب نہیں بلکہ اس وجہ سے کہ یا تو یہاں سنت سے مراد دین کا چالو راستہ ہے یا اس وجہ سے کہ ایک مشت کا وجوب حدیث شریف سے ثابت ہے جیسا کہ نمازعید کو مسنون فرمایا ( حالانکہ نماز عید واجب ہے )۔
اور درمختار مع ردالمحتار جلد دوم ص۱۱۶، رد المحتار جلد دوم ص۱۱۷، بحرالرائق جلد دوم ص:۲۸۰، فتح القدیر جلد دوم ص:۲۷۰ اور طحطاوی ص:۴۱۱ میں ہے :
’’
وَاللَّفْظُ لِلطَّحْطَاوِی اَلأَخْذُ مِنَ اللِّحْیَۃِ وَہُوَ دُوْنَ ذَلِکَ(أَی الْقَدْرُ الْمَسْنُوْنُ وَھُوَ الْقَبْضَۃُ)کَمَا یَفْعَلُہُ بَعْضُ الْمَغَارِبَۃِ،وَمُخَنَّثَۃُ الرِّجَالِ لَمْ یُبِحْہُ أَحَدٌ،وَأَخْذُ کُلِّہَا فِعْلُ یَہُودِ الْہِنْدِ وَمَجُوسِ الْأَعَاجِمِ‘‘۔ ([3])
یعنی داڑھی جب کہ ایک مشت سے کم ہو تو اس کو کاٹنا جس طرح کہ بعض مغربی اور زنانے زنخے کرتے ہیں کسی کے نزدیک حلال نہیں ا ور کل داڑھی کا صفایا کرنا یہ کام تو ہندوستان کے یہودیوں اور ایران کے مجوسیوں کا ہے ۔
(۲) …حد شرع یعنی ایک مشت سے کچھ زائد داڑھی رکھنا جائز ہے لیکن ہمارے آئمہ و جمہور علماء کے نزدیک اس کا طول فاحش کہ جو حدِ تناسب سے خارج اور باعث انگشت نمائی ہو مکروہ وناپسندیدہ ہے ۔ ([4])
(لمعۃ الضحی)
------------------
∞[1] ’’بہارِ شریعت‘‘، حصہ شانزدہم ، (۱۶) ص ۲۲۸، ’’
الدر المختار‘‘،کتاب الحظر والإباحۃ،ج۹،ص۶۷۱.[2] ’’اشعۃ اللمعات‘‘،کتاب الطہارۃ،باب السواک،الفصل الأول،ج۱،ص۲۲۸.[3] ’’الدر المختار ورد المحتار‘‘،کتاب الصوم،مطلب فی الأخذ من اللحیۃ،ج۳،ص۴۵۶، ’’البحر الرائق‘‘،کتاب الصوم،باب ما یفسد الصوم وما لایفسدہ،ج۲،ص۴۹۰، ’’فتح القدیر‘‘،کتاب الصوم،باب ما یوجب القضاء والکفارۃ،ج۲،ص۳۵۲، ’’حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح‘‘،کتاب الصوم،باب مایفسد الصوم ویو جب القضاء،ص۶۸۱.[4] ’’الفتاوی الرضویۃ‘‘،ج۲۲،ص۶۵۵.

ماخذ و مراجع

کتاب: اَنْوارُ الحَدِیْثْ جلد: 1 , حدیث نمبر: 79